بچت اور سرمایہ کاری

درست نیت کے ساتھ، دولت سے پہلے خدا کو ترجیح دیتے ہوئے اور سخاوت کے ساتھ بچت اور سرمایہ کاری قابلِ قبول ہیں۔ کلامِ مقدس لالچ اور جلد دولتمند بننے سے خبردار کرتا ہے اور محنت، منصوبہ بندی اور خاندان کی کفالت پر زور دیتا ہے۔

کیا بچت/سرمایہ کاری کلامِ مقدس کے مطابق جائز ہے؟

وہ آیات جو بظاہر بچت کے خلاف لگتی ہیں

”اَپنے لیٔے زمین پر مال و زَر جمع نہ کرو جہاں کیڑا اَور زنگ لگ جاتا ہے اَور جہاں چور نقب لگا کر چُرا لیتے ہیں۔ لیکن اَپنے لیٔے آسمان میں خزانہ جمع کرو جہاں کیڑا اَور زنگ نہیں لگتے اَور نہ چور نقب لگا کر چُراتے ہیں۔ کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دِل بھی لگا رہے گا۔ (متّی 6:19-21)
”کویٔی خادِم دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سَکتا، یا تو وہ ایک سے نفرت کرےگا اَور دُوسرے سے مَحَبّت یا ایک سے وفا کرےگا اَور دُوسرے کو حقارت کی نظر سے دیکھے گا۔ تُم خُدا اَور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔ ”اِس لیٔے میں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہ تو اَپنی جان کی فکر کرو، تُم کیا کھاؤگے یا کیا پیوگے؛ اَور نہ اَپنے بَدن کی کہ کیا پہنوگے؟ کیا جان خُوراک سے اَور بَدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ ہَوا کے پرندوں کو دیکھو، جو نہ تو بوتے ہیں اَور نہ ہی فصل کو کاٹ کر کھتّوں میں جمع کرتے ہیں، پھر بھی تمہارا آسمانی باپ اُنہیں کھِلاتاہے۔ کیا تمہاری قدر و قیمت پرندوں سے بھی زِیادہ نہیں ہے؟ کیا تُم میں کویٔی اَیسا ہے جو فکر کرکے اَپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟ ”پوشاک کے لیٔے کیوں فکر کرتے ہو؟ جنگلی سوسن کے پھُولوں کو دیکھو وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں۔ تو بھی میں تُم سے کہتا ہُوں کہ بادشاہ شُلومونؔ بھی اَپنی ساری شان و شوکت کے باوُجُود اُن میں سے کسی کی طرح مُلبّس نہ تھے۔ پس جَب خُدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اَور کل تنور میں جھونکی جاتی ہے، اَیسی پوشاک پہناتاہے، تو اَے کم ایمان والو! کیا وہ تُمہیں بہتر پوشاک نہ پہنائے گا؟ لہٰذا فِکرمند ہوکر یہ نہ کہنا، ’ہم کیا کھایٔیں گے؟‘ یا ’کیا پیئیں گے؟‘ یا ’یہ کہ ہم کیا پہنیں گے؟‘ کیونکہ اِن چیزوں کی تلاش میں تو غَیریہُودی رہتے ہیں؛ اَور تمہارا آسمانی باپ تو جانتا ہی ہے کہ تُمہیں اِن سَب چیزوں کی ضروُرت ہے۔ لیکن پہلے تُم خُدا کی بادشاہی اَور راستبازی کی تلاش کرو تو یہ ساری چیزیں بھی تُمہیں مِل جایٔیں گی۔ (متّی 6:24-33)
اَور ایک آدمی یِسوعؔ کے پاس آیا اَور پُوچھنے لگا، ”اَے اُستاد محترم! میں کون سِی نیکی کروں کہ اَبدی کی زندگی حاصل کرلُوں؟“ یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”تُم مُجھ سے نیکی کے بارے میں کیوں پُوچھتے ہو؟ نیک تو صِرف ایک ہی ہے۔ لیکن اگر تُو زندگی میں داخل ہونا چاہتاہے تو حُکموں پر عَمل کر۔“ اُس نے پُوچھا، ”کون سے حُکموں پر؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ” ’یہ کہ خُون نہ کرنا، زنا نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھُوٹی گواہی نہ دینا، اَپنے باپ یا ماں کی عزّت کرنا،‘ اَور ’اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا۔‘“ اُس نوجوان نے آپ کو جَواب دیا، ”اِن سَب حُکموں پر تو میں عَمل کرتا آیا ہُوں، اَب مُجھ میں کِس چیز کی کمی ہے؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر تُو کامل ہونا چاہتاہے تو جا، اَپنا سَب کُچھ بیچ کر غریبوں کی مدد کر تو تُجھے آسمان میں خزانہ ملے گا اَور آکر میرے پیچھے ہولے۔“ (متّی 19:16-21)
اُنہیں یہ بھی ہدایت دی، ”اَپنے سفر کے لیٔے سِوائے لاٹھی کے اَور کُچھ نہ لینا، نہ روٹی نہ تھیلا، نہ کمربند میں پیسے۔ (مرقُس 6:8)
وہ کشتیوں کو کنارے لے آئے اَور سَب کُچھ چھوڑکر آپ کے پیچھے ہو لیٔے۔ (لُوقا 5:11)
تَب یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا: ”یہی وجہ ہے کہ میں تُم سے کہتا ہُوں، نہ تو اَپنی جان کی فکر کرو، کہ تُم کیا کھاؤگے؛ نہ اَپنے بَدن کی، کہ تُم کیا پہنوگے۔ کیونکہ جان خُوراک سے اَور بَدن پوشاک سے بڑھ کر ہے۔ کوّوں پر غور کرو جو نہ تو بوتے ہیں اَور نہ ہی فصل کو کاٹ کر کھتّوں میں جمع کرتے ہیں، نہ اُن کے پاس گودام ہوتاہے نہ کھتّا، تو بھی خُدا اُنہیں کھِلاتاہے۔ تُم تو پرندوں سے بھی زِیادہ قدر و قیمت والے ہو۔ تُم میں اَیسا کون ہے جو فکر کرکے اَپنی عمر میں گھڑی بھر کا بھی اِضافہ کر سکے؟ پس جَب تُم یہ چُھوٹی سِی بات بھی نہیں کر سکتے تو باقی چیزوں کی فکر کس لیٔے کرتے ہو۔ ”سوسن کے پھُولوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں؟ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں تو بھی میں تُم سے کہتا ہُوں کہ بادشاہ شُلومونؔ بھی اَپنی ساری شان و شوکت کے باوُجُود اُن میں سے کسی کی طرح مُلبّس نہ تھے۔ پس جَب خُدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اَور کل تنور میں جھونکی جاتی ہے، اَیسی پوشاک پہناتاہے، تو اَے کم ایمان والو! کیا وہ تُمہیں بہتر پوشاک نہ پہنائے گا؟ اَور اِس فکر میں مُبتلا مت رہو کہ تُم کیا کھاؤگے اَور کیا پیوگے۔ اِن چیزوں کے بارے میں فکر مت کرو۔ کیونکہ دُنیا کی ساری غَیرقومیں اِن چیزوں کی جُستُجو میں لگی رہتی ہیں لیکن تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تُمہیں اِن چیزوں کی ضروُرت ہے۔ بَلکہ پہلے خُدا کی بادشاہی کی تلاش کرو تو یہ چیزیں بھی تُمہیں دے دی جایٔیں گی۔ ”اَے چُھوٹے گلّے! ڈر مت! کیونکہ تمہارے آسمانی باپ کی خُوشی اِسی میں ہے کہ وہ تُمہیں بادشاہی عطا فرمائے۔ اَپنا مال و اَسباب بیچ کر خیرات کر دو اَور اَپنے لیٔے اَیسے بٹوے بناؤ جو پُرانے نہیں ہوتے اَور نہ پھٹتے ہیں یعنی آسمان پر خزانہ جمع کرو جو ختم نہیں ہوتا، جہاں چور نہیں پہُنچ سَکتا اَور جِس میں کیڑا نہیں لگتا۔ کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دِل بھی لگا رہے گا۔ (لُوقا 12:22-34)
کسی یہُودی حاکم نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”اَے نیک اُستاد! اَبدی زندگی کا وارِث بننے کے لیٔے میں کیا کروں؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تو مُجھے نیک کیوں کہتاہے؟ نیک صِرف ایک ہی ہے یعنی خُدا۔ تُم حُکموں کو تو جانتے ہو: ’تُم زنا نہ کرنا، خُون نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھُوٹی گواہی نہ دینا، اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا۔‘“ اُس نے کہا، ”اِن سَب پر تو میں لڑکپن سے، عَمل کرتا آ رہا ہُوں۔“ جَب یِسوعؔ نے یہ سُنا تو اُس سے کہا، ”ابھی تک تُجھ میں ایک بات کی کمی ہے۔ اَپنا سَب کُچھ بیچ دے اَور رقم غریبوں میں بانٹ دے، تو تُجھے آسمان پر خزانہ ملے گا۔ پھر آکر میرے پیچھے ہو لینا۔“ یہ بات سُن کر اُس پر بہت اُداسی چھاگئی، کیونکہ وہ کافی دولتمند تھا۔ یِسوعؔ نے اُسے دیکھ کر کہا، ”دولتمندوں کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کِتنا مُشکل ہے! بے شک، اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزر جانا کسی دولتمند کے خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے سے زِیادہ آسان ہے۔“ جنہوں نے یہ بات سُنی وہ پُوچھنے لگے، ”پھر کون نَجات پا سَکتا ہے؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو بات آدمیوں کے لیٔے ناممکن ہے وہ خُدا کے لیٔے ممکن ہے۔“ پطرس نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ کی پیروی کرنے کے لیٔے ہم تو اَپنا سَب کُچھ چھوڑکر چلے آئے ہیں!“ حُضُور نے اُن سے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اَیسا کویٔی نہیں جِس نے خُدا کی بادشاہی کی خاطِر اَپنے گھر یا بیوی یا بھائیوں یا بہنوں یا والدین یا بچّوں کو چھوڑ دیا ہے اَور وہ اِس دُنیا میں کیٔی گُنا زِیادہ نہ پایٔے اَور آنے والی دُنیا میں اَبدی زندگی۔“ (لُوقا 18:18-30)

ہم بچت اور سرمایہ کاری تبھی کر سکتے ہیں جب ہم دیتے بھی ہوں

ہُجوم میں سے کسی نے اُن سے کہا، ”اَے اُستاد، میرے بھایٔی کو حُکم دے کہ وہ مِیراث میں سے میرا حِصّہ میرے حوالے کر دے۔“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے اِنسان، کس نے مُجھے تمہارا مُنصِف یا ثالِثی مُقرّر کیا ہے؟“ اَور حُضُور نے اُن سے کہا، ”خبردار! ہر طرح کے لالچ سے دُور رہو؛ کسی کی زندگی کا اِنحصار اُس کے مال و دولت کی کثرت پر نہیں ہے۔“ تَب آپ نے اُنہیں یہ تمثیل سُنایٔی: ”کسی دولتمند کی زمین میں بڑی فصل ہویٔی۔ اَور وہ دِل ہی دِل میں سوچ کر کہنے لگا، ’میں کیا کروں؟ میرے پاس جگہ نہیں ہے جہاں میں اَپنی پیداوار جمع کر سکوں۔‘ ”پھر اُس نے کہا، ’میں ایک کام کروں گا کہ اَپنے کھتّے ڈھا کر نئے اَور بڑے کھتّے بناؤں گا اَور اُس میں اَپنا تمام اناج اَور مال و اَسباب بھر دُوں گا۔ پھر اَپنی جان سے کہُوں گا، ”اَے جان تیرے پاس کیٔی برسوں کے لیٔے مال جمع ہے۔ آرام سے رہ، کھا پی اَور عیش کر۔“ ‘ ”مگر خُدا نے اُس سے کہا، ’اَے نادان! اِسی رات تیری جان تُجھ سے طلب کرلی جائے گی۔ پس جو کُچھ تُونے جمع کیا ہے وہ کس کے کام آئے گا؟‘ ”چنانچہ جو اَپنے لیٔے تو خزانہ جمع کرتا ہے لیکن خُدا کی نظر میں دولتمند نہیں بنتا اُس کا بھی یہی حال ہوگا۔“ (لُوقا 12:13-21)

بچت اور سرمایہ کاری پر تمثیل

”آسمان کی بادشاہی اُس آدمی کی طرح بھی ہے، جو سفر پر روانہ ہونے کو تھا، اَور جاتے وقت اَپنے خادِموں کو بُلاکر اَپنا مال اُن کے حوالے کر دیا۔“ اُس نے ہر ایک کو اُس کی قابلیّت کے مُطابق دیا، ایک کو پانچ توڑے دئیے، دُوسرے کو دو اَور تیسرے کو ایک توڑا اَور پھر وہ سفر پر روانہ ہو گیا۔ جِس خادِم کو پانچ توڑے ملے تھے اُس نے فوراً جا کر کاروبار کیا اَور پانچ توڑے اَور کمائے۔ اِسی طرح جِس کو دو توڑے ملے تھے اُس نے بھی دو اَور کما لیٔے۔ لیکن جِس آدمی کو ایک توڑا مِلا تھا اُس نے جا کر زمین کھودی اَور اَپنے مالک کی رقم چھپادی۔ ”کافی عرصہ کے بعد اُن کا مالک واپس آیا اَور خادِموں سے حِساب لینے لگا۔ جسے پانچ توڑے ملے تھے وہ پانچ توڑے اَور لے کر حاضِر ہُوا۔ ’اَے مالک،‘ اُس نے کہا، ’تُونے مُجھے پانچ توڑے دئیے تھے۔ دیکھئے! مَیں نے پانچ اَور کما لیٔے۔‘ ”اُس کے مالک نے اُس سے کہا، ’اَے اَچھّے اَور وفادار خادِم، شاباش! تُونے تھوڑی سِی رقم کو وفاداری سے اِستعمال کیا ہے؛ مَیں تُجھے بہت سِی چیزوں کا مُختار بناؤں گا۔ آؤ اَور اَپنے مالک کی خُوشی میں شامل ہو!‘ ”اَور جسے دو توڑے ملے تھے وہ بھی حاضِر ہُوا اَور کہنے لگا، ’اَے مالک! آپ نے مُجھے دو توڑے دئیے تھے؛ دیکھئے! مَیں نے دو اَور کما لیٔے۔‘ ”اُس کے مالک نے اُس سے کہا، ’اَے اَچھّے اَور وفادار خادِم، شاباش! تُونے تھوڑی سِی رقم کو وفاداری سے اِستعمال کیا ہے؛ مَیں تُجھے بہت سِی چیزوں کا مُختار بناؤں گا۔ آؤ اَور اَپنے مالک کی خُوشی میں شامل ہو!‘ ”تَب جسے ایک توڑا مِلا تھا وہ بھی حاضِر ہُوا اَور کہنے لگا، ’اَے مالک! میں جانتا تھا کہ تُو سخت آدمی ہے، جہاں بویا نہیں وہاں سے بھی کاٹتا ہے اَور جہاں بِکھیرا نہیں وہاں سے جمع کرتا ہے۔ اِس لیٔے مَیں نے ڈر کے مارے آپ کے توڑے کو زمین میں گاڑ دیا تھا۔ دیکھئے، جو آپ کا تھا وہ مَیں آپ کو لَوٹا رہا ہوں۔‘ ”اُس کے مالک نے جَواب دیا، ’اَے شریر اَور سُست خادِم! اگر تُجھے مَعلُوم تھا کہ جہاں بویا نہیں، میں وہاں سے کاٹتا ہُوں اَور جہاں بِکھیرا نہیں وہاں سے جمع کرتا ہُوں؟ تو تُجھے چاہئے تھا کہ میری رقم ساہوکاروں کے حوالہ کرتا تاکہ میں واپس آکر اَپنی رقم سُود سمیت لے لیتا۔ ” ’اَب اَیسا کرو کہ اِس سے وہ توڑا لے لو اَور اُسے دے دو جِس کے پاس دس توڑے ہیں۔ (متّی 25:14-28)
یِسوعؔ نے فرمایا: ”ایک خاندانی اُمرا دُور کسی دُوسرے مُلک کو روانہ ہُوا تاکہ اُسے بادشاہ مُقرّر کیاجایٔے اَور پھر واپس آئے۔ اِس لیٔے اُس نے اَپنے خادِموں میں سے دس کو بُلایا اَور دسوں کو سونے کا ایک ایک سِکّہ دے کر کہا۔ ’میرے واپس آنے تک اِس رقم سے کاروبار کرنا۔‘ ”لیکن اُس کی رعِیّت اُس سے نفرت کرتی تھی لہٰذا اُنہُوں نے اُس کے پیچھے ایک وفد اِس پیغام کے ساتھ روانہ کیا، ’ہم نہیں چاہتے کہ یہ آدمی ہم پر حُکومت کرے۔‘ ”بادشاہ بننے کے بعد، جَب، وہ واپس آیا۔ تو اُس نے اَپنے خادِموں کو بُلایا جنہیں اُس نے کاروبار کے لیٔے رقم دی تھی تاکہ مَعلُوم کرے کہ ہر ایک نے کِتنا کِتنا کمایاہے۔ ”پہلا خادِم آیا تو اُس نے کہا، ’اَے مالک، مَیں نے ایک سِکّے سے دس سِکّے کمائے۔‘ ” ’شاباش، اَے نیک خادِم!‘ اُس نے جَواب دیا، ’کیونکہ تُونے تھوڑی سِی رقم کو بھی وفاداری سے اِستعمال کیا اِس لیٔے تُجھے، دس شہروں پر اِختیار عطا کیا جاتا ہے۔‘ ”دُوسرے خادِم نے آکر کہا، ’اَے مالک، مَیں نے تیرے سِکّہ سے پانچ اَور سِکّے کمائے۔‘ ”بادشاہ نے اُس سے بھی کہا، ’تُجھے بھی پانچ شہروں پر اِختیار عطا کیا جاتا ہے۔‘ ”تَب تیسرے خادِم نے آکر کہا، ’اَے مالک، یہ رہا تیرا سِکّہ؛ مَیں نے اِسے رُومال میں باندھ کر رکھ دیا تھا۔ کیونکہ تو سخت آدمی ہے اِس لیٔے مُجھے تیرا خوف تھا، تو جہاں پر رُوپیہ نہیں لگایا ہوتاہے وہاں سے بھی اُٹھا لیتا ہے اَور جہاں بویا نہیں وہاں سے بھی کاٹتا ہے۔‘ ”مالک نے اُس سے کہا، ’اَے شریر خادِم! میں تیری ہی باتوں سے تُجھے مُلزم ٹھہراتا ہُوں، جَب تو جانتا تھا، کہ میں سخت آدمی ہُوں، اَور جہاں پر رُوپیہ نہیں لگایا ہوتاہے وہاں سے بھی اُٹھا لیتا ہُوں، اَور جسے بویا نہیں ہوتا اُسے بھی کاٹ لیتا ہُوں؟ تو پھر تُونے میرا سِکّہ کسی ساہوکار کے پاس جمع کیوں نہیں کرایا، تاکہ میں واپس آکر اُس سے سُود سمیت وصول کر لیتا؟‘ ”تَب اُس نے اُن سے جو پاس کھڑے تھے کہا، ’اُس سے یہ سِکّہ لے لو اَور اُسے دے دو جِس کے پاس دس سِکّے ہیں۔‘ (لُوقا 19:12-24)

سرمایہ کاری کے مقاصد

قابلِ قبول سرمایہ کاری کے مقاصد

جو شخص اَپنے عزیزوں کی، اَور خاص کر اَپنے گھرانے کی خبرگیری نہیں کرتا، تو وہ ایمان کا مُنکر ہے اَور بےاِعتقادوں سے بھی بدتر ہے۔ (1 تِیمُتھِیُس 5:8)

میراث چھوڑنا

میراث چھوڑنا مناسب ہے

نیک آدمی اَپنے پوتوں کے لیٔے مِیراث چھوڑتا ہے، لیکن خطاکار کی دولت صادقوں کے لیٔے فراہم کی جاتی ہے۔ (امثال 13:22)
گھر اَور مال، ماں باپ سے مِیراث کے طور پر حاصل ہوتے ہیں، لیکن عقلمند بیوی یَاہوِہ کی طرف سے ملتی ہے۔ (امثال 19:14)
اُن دِنوں حِزقیاہؔ بیمار ہو گیا یہاں تک کہ مرنے کی نَوبَت آ گئی۔ تَب یَشعیاہ بِن آموصؔ نبی اُن سے مُلاقات کرنے آئے اَور حِزقیاہؔ سے فرمایا، ”یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ تُم اَپنے گھرانے کو سیدھا کرو کیونکہ تُم مرنے والے ہو اَور اِس بیماری سے شفایاب ہونا ممکن نہیں ہے۔“ (یَشعیاہ 38:1)
اَب مَیں تیسری بار تمہارے پاس آنے کی تیّاری کر رہا ہُوں، لیکن اِس بار بھی میں تُم پر بوجھ نہیں ڈالُوں گا، کیونکہ مُجھے تمہارے مال کی ضروُرت نہیں بَلکہ تمہاری ضروُرت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بچّوں کو ماں باپ کے لیٔے نہیں، بَلکہ ماں باپ کو بچّوں کے لیٔے مال جمع کرنا چاہئے۔ (2 کُرِنتھِیوں 12:14)

میراث کے بارے میں پرانے عہد نامے کے قوانین

اَور تُم اُنہیں مِیراث کے طور پر اَپنی اَولاد کے نام کر سکتے ہو؛ اَور یُوں اُنہیں عمر بھرکے لیٔے غُلام بنا سکتے ہو لیکن تُم اَپنے اِسرائیلی ہم وطنوں پر سختی سے حُکمرانی نہ کرنا۔ (اَحبار 25:46)
”اَور بنی اِسرائیل سے کہہ، ’اگر کویٔی آدمی مَر جائے اَور اُس کا کویٔی بیٹا نہ ہو تو اُس کی مِیراث اُس کی بیٹی کو دینا۔ اگر اُس کی کویٔی بیٹی بھی نہ ہو تو اُس کی مِیراث اُس کے بھائیوں کو دینا۔ اَور اگر اُس کے کویٔی بھایٔی بھی نہ ہوں تو اُس کی مِیراث اُس کے باپ کے بھائیوں کو دینا۔ اگر اُس کے باپ کے بھایٔی بھی نہ ہوں تو اُس برادری میں جو بھی اُس کا سَب سے قریبی رشتہ دار ہو اُسے اُس کی مِیراث دینا تاکہ وہ اُس کی مِلکیّت بَن جائے اَور یہ بنی اِسرائیل کے لیٔے آئین یَاہوِہ کے مَوشہ کو دئیے ہویٔے حُکم کے مُطابق شَرعی فرض ہوگا۔‘ “ (گِنتی 27:8-11)
اُنہُوں نے کہا، ”جَب یَاہوِہ نے ہمارے آقا کو یہ مُلک بنی اِسرائیل کو قُرعہ اَندازی کے ذریعہ بطور مِیراث دینے کا حُکم دیا تو اُنہُوں نے تُمہیں حُکم دیا تھا کہ ہمارے بھایٔی ضلافحادؔ کی مِیراث اُس کی بیٹیوں کو دی جائے۔ بالفرض وہ بنی اِسرائیل کے دُوسرے قبیلوں کے مَردوں سے بیاہ کر لیتی ہیں تو اُن کی مِیراث ہماری آبائی مِیراث سے نکل کر اُس قبیلہ کی مِیراث میں شامل کی جائے گی جِس سے وہ بیاہی جایٔیں گی اَور اِس طرح ہمیں دی ہُوئی مِیراث کا کچھ حِصّہ لے لیا جائے گا۔ اَور جَب بنی اِسرائیل کا یوویلؔ کا سال آئے گا تَب اُن کی مِیراث اُس قبیلہ کی مِیراث میں شامل کی جائے گی جِس میں وہ بیاہی جایٔیں گی اَور اُن کی جائداد ہمارے آباؤاَجداد کی قبائلی مِیراث سے نکل جائے گی۔“ تَب یَاہوِہ کے حُکم سے مَوشہ نے بنی اِسرائیل کو یہ ہدایت دی: ”یُوسیفؔ کی نَسل کے قبیلہ کے لوگ ٹھیک کہتے ہیں۔ ضلافحادؔ کی بیٹیوں کے حق میں یَاہوِہ کا حُکم یہ ہے، ’وہ جِس کسی کو چاہیں اُس سے بیاہ کر لیں لیکن وہ اَپنے آباؤاَجداد کے قبیلہ کی برادریوں میں ہی بیاہی جایٔیں۔‘ بنی اِسرائیل میں مِیراث ایک قبیلہ سے دُوسرے قبیلہ میں جانے نہ پایٔے اَور ہر اِسرائیلی اَپنا مُلک جسے اُس نے اَپنے آباؤاَجداد سے مِیراث میں پایا ہے اَپنے ہی قبضہ میں رکھے۔ ہر بیٹی جو بنی اِسرائیل کے کسی قبیلہ میں مِیراث پاتی ہے وہ اَپنے آبائی قبیلہ کے برادریوں میں ہی بیاہی جائے تاکہ ہر اِسرائیلی اَپنے آباؤاَجداد کی مِیراث پر قابض رہے۔ کویٔی مِیراث ایک قبیلہ سے دُوسرے قبیلہ میں جانے نہ پایٔے بَلکہ ہر اِسرائیلی قبیلہ اَپنی اَپنی مِیراث اَپنے قبضہ میں رکھے۔“ (گِنتی 36:2-9)
اُسے باقی سَب کاہِنوں کے برابر کا حِصّہ ملے خواہ اُسے اَپنے خاندانی مِیراث بیچنے سے رقم ہی کیوں نہ مِلا ہو۔ (اِستِثنا 18:8)
اگر کسی مَرد کی دو بیویاں ہوں، اَور وہ ایک سے مَحَبّت کرتا ہو اَور دُوسری سے نہیں، اَور دونوں سے اُس کے بیٹے پیدا ہوں، لیکن پہلوٹھا اُس بیوی کا بیٹاہو جِس سے وہ مَحَبّت نہیں کرتا۔ تو جَب وہ اَپنے بیٹوں کو اَپنی جائداد کا وارِث بنانے لگے تَب وہ اَپنی محبُوبہ بیوی کے بیٹے کو غَیر محبُوبہ کے پہلوٹھے بیٹے پرجو اُس کا حقیقی پہلوٹھا ہے ترجیح دے کر پہلوٹھا نہ بنائے۔ بَلکہ وہ اَپنے غَیر محبُوبہ بیوی کے بیٹے کو پہلوٹھا مان کر اُسے اَپنی جائداد میں سے دُگنا حِصّہ دے۔ کیونکہ وہ بیٹا اَپنے باپ کی قُوّت کا پہلا نِشان ہے۔ اَور پہلوٹھے کا حق اُسی کا ہے۔ (اِستِثنا 21:15-17)
” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اگر اُمرا اَپنی مِیراث میں سے اَپنے کسی ایک بیٹے کو کویٔی ہدیہ دے تو وہ مِیراث اُس کی اَولاد کی بھی ہوگی۔ وہ اُن کی موروثی مِلکیّت ہوگی۔ البتّہ اگر وہ اَپنی مِیراث میں سے اَپنے کسی خادِم کو ہدیہ دے تو وہ خادِم اُسے آزادی کے سال تک رکھے۔ اُس کے بعد وہ اُمرا کو لَوٹا دیا جائے گا۔ اُس کی مِیراث صِرف اُس کے بیٹوں کی ہے۔ وہ اُن کی مِیراث ہے۔ اَور اُمرا لوگوں سے اُن کی جائداد چھین کر اُسے اَپنی مِیراث نہ بنا لے۔ وہ اَپنے بیٹوں کو اُن کی مِیراث خُود اَپنی جائداد میں سے دے تاکہ میرے لوگوں میں کویٔی شخص بھی اَپنی جائداد سے محروم نہ کیا جائے۔‘ “ (حزقی ایل 46:16-18)

خداوند اور دہ یکی لاویوں کی میراث تھے

یَاہوِہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”اُن کے مُلک میں تمہاری کویٔی مِیراث نہ ہوگی اَور نہ اُن کے درمیان تمہارا کویٔی حِصّہ ہوگا۔ میں ہی بنی اِسرائیل میں تمہارا حِصّہ اَور تمہاری مِیراث ہُوں۔ ”اَور مَیں نے لیویوں کو اُس خدمت کے عِوض جو وہ خیمہ اِجتماع میں اَنجام دیتے ہیں اِسرائیل کی ساری دہ یکی مِیراث کے طور پر دی ہے۔ آئندہ بنی اِسرائیل خیمہ اِجتماع کے نزدیک ہرگز نہ آئیں۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ گُناہ اُن کے سَر لگے اَور وہ مَر جایٔیں۔ بَلکہ لیوی ہی خیمہ اِجتماع کی خدمت کریں اَور وُہی اُن کا بارِ گُناہ اُٹھایا کریں۔ یہ آئندہ پُشتوں کے لیٔے دائمی فرمان ہے۔ اَور بنی اِسرائیل کے درمیان اُنہیں کویٔی مِیراث نہ ملے۔ اِس کے عِوض مَیں نے اُس دہ یکی کو جو اِسرائیلی نذر کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرتے ہیں لیویوں کی مِیراث قرار دیا ہے۔ اِس لیٔے مَیں نے اُن کے حق میں کہا ہے: ’بنی اِسرائیل کے درمیان اُنہیں کویٔی مِیراث نہ ملے۔‘ “ (گِنتی 18:20-24)
” ’کاہِنوں کے لیٔے صِرف میں ہی مِیراث ٹھہروں گا۔ تُم اُنہیں اِسرائیل میں کویٔی مِلکیّت نہ دینا؛ میں ہی اُن کی مِلکیّت ہُوں گا۔ وہ نذر کی قُربانی، گُناہ کی قُربانی اَور خطا کی قُربانی کھایٔیں گے اَور اِسرائیل میں جو کچھ یَاہوِہ کی نذر کیا جائے وہ اُن کا ہوگا۔ اَور تمام پہلے پھلوں میں سے بہترین پھل اَور تمہارے تمام خصوصی ہدیئے کاہِنوں کے ہوں گے۔ تُم اَپنے گُندھے ہُوئے آٹے کا پہلا حِصّہ اُن کو پیش کرو تاکہ تمہارے خاندان پر برکت ہو۔ (حزقی ایل 44:28-30)

میراث چھوڑنے کی مثالیں

لیکن اَبرامؔ نے فرمایا، ”اَے یَاہوِہ قادر آپ مُجھے کیا دیں گے؟ میں تو بے اَولاد ہُوں اَور الیعزرؔ دَمشقی میرے گھر کا وارِث ہے۔“ پھر اَبرامؔ نے فرمایا، ”آپ نے مُجھے کویٔی اَولاد نہیں دی؛ اِس لیٔے میرا ایک خانہ زاد خادِم ہی میرا وارِث ہوگا۔“ تَب یَاہوِہ کا یہ کلام اُس پر نازل ہُوا: ”یہ شخص تمہارا وارِث نہ ہوگا، بَلکہ تمہارے صُلب سے پیدا ہونے والا یعنی تمہارا اَپنا بیٹا ہی تمہارا وارِث ہوگا۔“ (پیدائش 15:2-4)
یَاہوِہ نے میرے آقا کو بڑی برکت دی ہے اَور وہ بڑے دولتمند آدمی ہو گئے ہیں۔ یَاہوِہ نے اُنہیں بھیڑیں اَور مویشی، چاندی اَور سونا خادِم اَور خادِمائیں اَور اُونٹ اَور گدھے دئیے ہیں۔ میرے آقا کی بیوی سارہؔ کے بُڑھاپے میں ایک بیٹا پیدا ہُوا اَور اَبراہامؔ نے اُسے اَپنا سَب کچھ دے دیا ہے۔ (پیدائش 24:35-36)
اَبراہامؔ نے اَپنا سَب کچھ اِصحاقؔ کے لیٔے چھوڑ دیا تھا۔ (پیدائش 25:5)
تَب راخلؔ اَور لِیاہؔ نے جَواب دیا، ”کیا اَب بھی ہمارے باپ کی جائداد میں ہمارا کویٔی حِصّہ یا مِیراث باقی ہے؟ کیا ہم اُن کی نظر میں پردیسی تو نہیں؟ اُنہُوں نے ہمیں نہ صِرف بیچ ہی دیا بَلکہ جو کچھ ہمارے عِوض قیمت اَدا کی گئی اُسے بھی اِستعمال کر لیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جو دولت خُدا نے ہمارے باپ سے چھین لی وہ سَب ہماری اَور ہمارے بچّوں کی ہے۔ چنانچہ آپ وُہی کرو جو خُدا نے آپ سے فرمایاہے۔“ (پیدائش 31:14-16)
تَب اِسرائیل نے یُوسیفؔ سے کہا، ”میں تو دُنیا سے رخصت ہونے والا ہُوں لیکن خُدا تمہارے ساتھ ہوگا اَور تُمہیں تمہارے آباؤاَجداد کے مُلک میں واپس لے جائے گا۔ چونکہ اَب تُم اَپنے بھائیوں کے مُربیّ ہو اِس لیٔے میں تُمہیں مُلک کے اُوپر والا حِصّہ دیتا ہُوں جسے مَیں نے اَپنی تلوار اَور کمان سے امُوریوں کے ہاتھ سے لیا تھا۔“ (پیدائش 48:21-22)
اَور یُوسیفؔ کی ہڈّیاں جنہیں اِسرائیلی مِصر سے لے آئےتھے شِکیمؔ میں اُس قَطعہ زمین میں دفن کی گئیں جسے یعقوب نے شِکیمؔ کے باپ حمُورؔ کے بیٹوں سے چاندی کے سَو سِکّوں کے عِوض خریدا تھا۔ یہ جگہ یُوسیفؔ کی نَسل کی مِیراث ٹھہری۔ (یہوشُعؔ 24:32)
تَب بُوعزؔ نے کہا: ”جِس روز تُم وہ زمین نعومیؔ سے خریدے گا اُس روز تُجھے اُس مُوآبی رُوتؔ بِیوہ کو بھی اپنانا ہوگا تاکہ اُس کے مرحُوم شوہر کا نام اُس کی جائداد سے وابستہ رہے۔“ تَب اُس کے سرپرست رشتہ دار نے کہا: ”تَب تو میں اُسے نہیں چھُڑا سَکتا کیونکہ اُس سے میری اَپنی جائداد خطرہ میں پڑ جائے گی۔ تُم ہی اُسے چھُڑا لے۔ میں تو اُسے نہیں چھُڑا سَکتا۔“ (قدیم زمانہ میں اِسرائیل میں یہ دستور تھا کہ جائداد کے چھُڑانے یا مُنتقل کرنے کا مُعاملہ قطعاً طے کرتے وقت ایک فریق اَپنی جُوتی اُتار کر دُوسرے کو دیتا تھا۔ لین دین کو قانونی طور پر جائز قرار دینے کا اِسرائیل میں یہی طریقہ تھا۔) چنانچہ اُس سرپرست رشتہ دار نے بُوعزؔ سے کہا، ”تُم ہی اُسے خرید لو۔“ اَور اُس نے اَپنی جُوتی اُتار ڈالی۔ تَب بُوعزؔ نے بُزرگوں اَور سَب لوگوں کے سامنے اعلان کیا کہ، ”آج تُم گواہ ہو کہ مَیں نے نعومیؔ سے الیمَلِکؔ، کِلیونؔ اَور محلونؔ کی تمام جائداد خرید لی ہے۔ مَیں نے محلونؔ کی بِیوہ مُوآبی رُوتؔ کو بھی اَپنی بیوی کے طور پر اَپنا لیا ہے تاکہ مرحُوم کا نام اُس کی جائداد سے وابستہ رہے اَور اُس کا نام اُس کے خاندان سے یا شہر کے دروازہ پر سے مِٹ نہ جائے۔ آج تُم اِس کے گواہ ہو!“ (رُوتؔ 4:5-10)
اُن کے باپ نے اُنہیں چاندی اَور سونے کے بہت سے تحفے اَور قیمتی اَشیا اَور یہُودیؔہ میں فصیلدار شہر بھی دے رکھے تھے۔ لیکن بادشاہی اُس نے یہُورامؔ کو دی کیونکہ وہ اُس کا پہلوٹھا بیٹا تھا۔ (2 تواریخ 21:3)
مَیں نے دُنیا میں ایک شدید بُرائی دیکھی ہے: مالک نے اَپنی دولت خُود کو نُقصان پہُنچانے کے لیٔے ہی کمائی تھی، کیونکہ وہ مال کسی حادثہ سے برباد ہو جاتا ہے، اَور جَب مالک کے گھر میں بیٹا پیدا ہُوا تو اُن کے لیٔے کچھ بھی مِیراث باقی نہیں رہی۔ (واعظ 5:13-14)
حِکمت، مِیراث کی مانند ایک اَچھّی چیز ہے اَور اُنہیں جو زندہ ہیں، فائدہ پہُنچاتی ہے۔ (واعظ 7:11)

خدا ترس فرمانبرداری کی ایک برکت میراث چھوڑنے اور پانے کی صلاحیت تھی

”پس اَب مَیں تمام اِسرائیل اَور یَاہوِہ کی جماعت کے رُوبرو اَور یَاہوِہ کی حُضُوری میں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ تُم محتاط ہوکر یَاہوِہ اَپنے خُدا کے سَب اَحکام پر عَمل کرو تاکہ تُم اِس اَچھّے مُلک کے وارِث بنے رہو اَور بطور مِیراث ہمیشہ کے لیٔے اُسے اَپنی اَولاد کے لیٔے چھوڑ جاؤ۔ (1 تواریخ 28:8)
اِس لیٔے نہ تو اَپنی بیٹیوں کا اُن کے بیٹوں سے اَور نہ اُن کی بیٹیوں سے اَپنے بیٹوں کا بیاہ کرو۔ اُن کے ساتھ کبھی بھی دوستی کا عہد نہ کرنا تاکہ تُم مضبُوط بنو اَور مُلک کی اَچھّی چیزیں کھاؤ اَور اُسے اَپنے بچّوں کے لیٔے ہمیشہ کے لیٔے مِیراث میں چھوڑ جاؤ۔‘ (عزرا 9:12)
یَاہوِہ کا خوف رکھنے والا شخص کون ہے؟ وہ اُسے اُس راہ کی تعلیم دیں گے جو اُس کے لیٔے چُنی گئی ہے۔ وہ اَپنے دِن خُوشحالی میں گزارے گا، اَور اُس کی اَولاد زمین کی وارِث ہوگی۔ (زبُور 25:12-13)
دانشمند نوکر رُسوا بیٹے پر حُکم چلائے گا، اَور بھائیوں کے ساتھ مِیراث میں شریک ہوگا۔ (امثال 17:2)

بچت اور سرمایہ کاری کی مثال والی تمثیل

پھر یِسوعؔ نے کہا: ”کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ اُن میں سے چُھوٹے نے اَپنے باپ سے کہا، ’اَے باپ، جائداد میں جو حِصّہ میرا ہے مُجھے دے دو۔‘ اِس لیٔے باپ نے اَپنی جائداد اُن میں بانٹ دی۔ ”تھوڑے دِنوں بعد، چُھوٹے بیٹے نے اَپنا سارا مال و متاع جمع کیا، اَور دُور کسی دُوسرے مُلک کو روانہ ہو گیا اَور وہاں اَپنی ساری دولت عیش و عشرت میں اُڑا دی۔“ جَب سَب کُچھ خرچ ہو گیا تو اُس مُلک میں ہر طرف سخت قحط پڑا اَور وہ مُحتاج ہو گیا۔ تَب وہ اُس مُلک کے ایک باشِندے کے پاس کام ڈھونڈنے پہُنچا۔ اُس نے اُسے اَپنے کھیتوں میں سُؤر چَرانے کے کام پر لگا دیا۔ وہاں وہ اُن پھلیوں سے جنہیں سُؤر کھاتے تھے، اَپنا پیٹ بھرنا چاہتا تھا لیکن کویٔی اُسے پھلیاں بھی کھانے کو نہیں دیتا تھا۔ ”تَب وہ ہوش میں آیا، اَور کہنے لگا، ’میرے باپ کے مزدُوروں کو ضروُرت سے بھی زِیادہ کھانا ملتا ہے لیکن مَیں یہاں بھُوک کی وجہ سے مَر رہا ہُوں! میں اُٹھ کر اَپنے باپ کے پاس جاؤں گا اَور اُس سے کہُوں گا: اَے باپ! میں آسمانی خُدا کی نظر میں اَور تیری نظر میں گُنہگار ہُوں۔ اَب تو میں اِس لائق بھی نہیں رہا کہ تیرا بیٹا کہلا سکوں؛ مُجھے بھی اَپنے مزدُوروں میں شامل کر لے۔‘ پس وہ اُٹھا اَور اَپنے باپ کے پاس چل دیا۔ ”لیکن ابھی وہ کافی دُور ہی تھا، کہ اُس کے باپ نے اُسے دیکھ لیا اَور اُس کے باپ کو اُس پر بڑا ترس آیا؛ اَور اَپنے بیٹے کی طرف دَوڑکر، اُسے گلے لگا لیا اَور خُوب چُوما۔ ”بیٹے نے اَپنے باپ سے کہا، ’اَے باپ! میں آسمانی خُدا کی نظر میں اَور آپ کی نظر میں گُنہگار ہُوں، اَب تو میں اِس لائق بھی نہیں رہا کہ آپ کا بیٹا کہلا سکوں۔‘ ”مگر باپ نے اَپنے خادِموں سے کہا، ’جلدی کرو! اَور سَب سے پہلے ایک بہترین چوغہ لاکر اِسے پہناؤ۔ اَور اِس کے ہاتھ میں انگُوٹھی اَور پاؤں میں جُوتی پہناؤ۔ ایک موٹا تازہ بچھڑا لاکر ذبح کرو تاکہ ہم کھایٔیں اَور جَشن منائیں۔ کیونکہ میرا بیٹا جو مَر چُکاتھا، اَب وہ زندہ ہو گیا ہے، کھو گیا تھا، اَب مِلا ہے۔‘ پس سبھی خُوشی منانے لگے۔ ”اِس دَوران، بڑا بیٹا جو کھیت میں تھا، جَب وہ گھر کے نزدیک پہُنچا تو اُس نے گانے بجانے اَور ناچنے کی آواز سُنی۔ اِس لیٔے اُس نے ایک خادِم کو بُلایا اَور پُوچھا کہ یہ کیا ہو رہاہے؟ تیرا بھایٔی لَوٹ آیا ہے، اُس نے اُس سے کہا، ’اَور تیرے باپ نے ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرایا ہے کیونکہ اُس نے اُسے صحیح سلامت واپس پالیاہے۔‘ ”لیکن بڑا بھایٔی خفا ہو گیا اَور اَندر نہیں جانا چاہتا تھا مگر اُس کا باپ باہر آکر اُسے منانے لگا۔ اُس نے باپ کو جَواب میں کہا، ’دیکھ! میں اِتنے برسوں سے تیری خدمت کر رہا ہُوں اَور کبھی تیری حُکم عُدولی نہیں کی مگر تُونے تو کبھی ایک بکری کا جَوان بچّہ بھی مُجھے نہیں دیا کہ اَپنے دوستوں کے ساتھ خُوشی مناتا۔ لیکن جَب تیرا یہ بیٹا تیرا سارا پُونجی طوائفوں پر لُٹا کر واپس آیا تو، تُونے اِس کے لیٔے ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرایا ہے!‘ ” ’میرے بیٹے،‘ باپ نے اُس سے کہا، ’تو ہمیشہ میرے پاس ہے اَور میرا جو کُچھ بھی ہے سَب تیرا ہی ہے۔ (لُوقا 15:11-31)

یسوع میراث کے سوال کا جواب دیتا ہے

ہُجوم میں سے کسی نے اُن سے کہا، ”اَے اُستاد، میرے بھایٔی کو حُکم دے کہ وہ مِیراث میں سے میرا حِصّہ میرے حوالے کر دے۔“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے اِنسان، کس نے مُجھے تمہارا مُنصِف یا ثالِثی مُقرّر کیا ہے؟“ اَور حُضُور نے اُن سے کہا، ”خبردار! ہر طرح کے لالچ سے دُور رہو؛ کسی کی زندگی کا اِنحصار اُس کے مال و دولت کی کثرت پر نہیں ہے۔“ (لُوقا 12:13-15)

بہت جلد دی گئی میراث برکت نہیں ہوگی

اِبتدا میں جو مِیراث یک لخت مِل جاتی ہے اُس کا اَنجام مُبارک نہیں ہوتا۔ (امثال 20:21)

جب تک وارث جائیداد سنبھالنے کی عمر کو نہ پہنچے، سرپرست مقرر کرنے کا دستور تھا

میں یہ کہتا ہُوں کہ وارِث جَب تک بچّہ ہے، اُس کی اَور ایک غُلام کی حالت میں کویٔی فرق نہیں حالانکہ وہ اَپنے باپ کی ساری جائداد کا مالک ہوتاہے۔ اَور وہ باپ کی مُقرّر کی ہُوئی میعاد کے پُورا ہونے تک سرپرستوں اَور مُختاروں کے اِختیار میں رہتاہے۔ (گلتیوں 4:1-2)

احمق کے لیے یا وارث نہ ہونے کی حالت میں میراث چھوڑنے کو سخت محنت کرنا بےکار ہے

اِس لیٔے مَیں نے جو بھی محنت و مشقّت اِس دُنیا میں کی تھی اُس سے مُجھے سخت نفرت ہو گئی کیونکہ مُجھے لازماً اُنہیں اَپنے بعد آنے والے شخص کے لیٔے چھوڑنا پڑےگا۔ اَور کون جانتا ہے کہ وہ دانشمند ہوگا یا احمق؟ بہرحال وہ میرے اُن تمام چیزوں کا مالک ہوگا جسے حاصل کرنے کے لیٔے مَیں نے دُنیا میں اَپنی پُوری طاقت و حِکمت خرچ کی ہے۔ یہ بھی باطِل ہی ہے۔ لہٰذا میرا دِل اُن سارے محنت کے کاموں سے جسے مَیں نے دُنیا میں کیا مایوس ہو گیا۔ کیونکہ خواہ کویٔی آدمی اَپنا کام حِکمت، علم اَور ہُنر سے کیوں نہ کرتا ہو، آخِرکار اُسے سَب کچھ لازماً کسی دُوسرے کے لیٔے چھوڑکر جانا پڑتا ہے جِس نے اُس کے لیٔے کچھ محنت ہی نہیں کی۔ یہ بھی باطِل اَور ایک بڑی بدقسمتی ہے۔ (واعظ 2:18-21)
ایک آدمی بالکُل تنہا تھا؛ اُس کا نہ تو کویٔی بیٹا اَور نہ ہی کویٔی بھایٔی تھا۔ اُس کی محنت و مشقّت کی کویٔی اِنتہا نہ تھی، پھر بھی اُس کی آنکھیں اُس کی دولت سے مطمئن نہ تھیں۔ اُس نے پُوچھا، ”میں کس کے لیٔے محنت و مشقّت کر رہا ہُوں، اَور مَیں کیوں اَپنے آپ کو عیش و عشرت سے محروم رکھے ہُوئے ہُوں؟“ یہ بھی باطِل ہے۔ اَور بڑے دُکھ کی بات ہے! (واعظ 4:8)

ناقابلِ قبول سرمایہ کاری کے مقاصد

دولتمند بننے کی خواہش

جو لوگ دولتمند ہونا چاہتے ہیں وہ کیٔی طرح کی آزمائشوں پھندوں اَور بےہوُدہ اَور مُضِر خواہشوں میں پھنس جاتے ہیں جو لوگوں کو تباہی اَور ہلاکت میں غرق کردیتی ہیں۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:9)

جب ہم دولتمند بننا چاہتے ہیں تو ہم پیسے سے محبت کرتے ہیں

کیونکہ زَر دوستی ہر قِسم کی بُرائی کی جڑ ہے اَور بعض لوگوں نے دولت کے لالچ میں آکر اَپنا ایمان کھو دیا اَور خُود کو کافی اَذیّت پہُنچائی ہے۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:10)

دولتمند بننے کی آزمائش سے بھاگیں

مگر اَے مَرد خُدا! تُو اِن سَب باتوں سے بھاگ اَور راستبازی، خُدا پرستی، مَحَبّت، صبر اَور نرمی کا طالب ہو۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:11)

صرف خداوند کی عبادت کریں

پھر، اِبلیس اُنہیں ایک بہت اُونچے پہاڑ پر لے گیا اَور دُنیا کی تمام سلطنتیں اَور اُن کی شان و شوکت حُضُور کو دِکھائی اَور کہا، ”اگر تُم مُجھے جُھک کر سَجدہ کرو تو میں یہ سَب کُچھ تُمہیں دے دُوں گا۔“ یِسوعؔ نے جَواب میں اُس سے کہا، ”اَے شیطان! مُجھ سے دُورہو جا، کیونکہ لِکھّا ہے: ’تُو اَپنے خُداوؔند خُدا ہی کو سَجدہ کر اَور صِرف اُسی کی خدمت کر۔‘“ (متّی 4:8-10)
اَور اِبلیس نے اُنہیں ایک اُونچے مقام پر لے جا کر پل بھر میں دُنیا کی تمام سلطنتیں دِکھا دیں۔ اَور اِبلیس نے حُضُور سے کہا، ”میں یہ سارا اِختیار اَور شان و شوکت تُجھے عطا کر دُوں گا کیونکہ یہ میرے سُپرد کیٔے گیٔے ہیں اَور مَیں جسے چاہُوں دے سَکتا ہُوں۔ لہٰذا اگر آپ میرے آگے سَجدہ کریں گے تو یہ سَب کُچھ آپ کا ہو جائے گا۔“ یِسوعؔ نے جَواب میں اُس سے کہا، ”لِکھّا ہے: ’تُو اَپنے خُداوؔند خُدا ہی کو سَجدہ کر اَور صِرف اُسی کی خدمت کر۔‘ “ (لُوقا 4:5-8)

بچت

دانشمند اِنسان کے گھر میں مرغوب خُوراک اَور روغن کے خزانے ہوتے ہیں، لیکن احمق اُنہیں اُڑا دیتاہے۔ (امثال 21:20)
”زمین پر کی یہ چار چیزیں بہت چُھوٹی ہوتی ہیں، لیکن وہ بہت دانا ہیں: چیونٹیاں نہایت کمزور مخلُوق ہیں، تو بھی گرمی کے موسم میں اَپنے لیٔے خُوراک جمع کرکے رکھتی ہیں؛ (امثال 30:24-25)

مستقبل کی ضرورت کے لیے بچت کی مثال

جسے فَرعوہؔ یہ اِختیار دے کہ وہ اَیسے حُکاّم مُقرّر کرے، جو فراوانی کے سات سالوں میں مِصر کی پیداوار کا پانچواں حِصّہ وصول کریں اَور اُن آنے والے اَچھّے سالوں میں تمام اناج کی اشیائے خوردنی جمع کریں اَور فَرعوہؔ کے اِختیار کے ماتحت شہروں میں ذخیرہ کرکے اُس کی حِفاظت کریں۔ یہ اناج مِصر پر آنے والے قحط کے سات سالوں میں اِستعمال کیٔے جانے کے لیٔے حِفاظت سے رکھا جائے تاکہ مُلک کے لوگ قحط سے ہلاک نہ ہوں۔“ (پیدائش 41:34-36)

کامیاب سرمایہ کاری کے لیے خدا کا ڈھانچہ

جانیں کہ خداوند آپ سے کہاں سرمایہ کاری کروانا چاہتا ہے

یَاہوِہ۔ تیرا نَجات دِہندہ، اِسرائیل کا قُدُّوس یُوں فرماتے ہیں: ”میں یَاہوِہ تیرا خُدا ہُوں، جو تُجھے اَیسی تعلیم دیتاہے جو تیرے حق میں مفید ہے، اَور جِس راہ پر تُجھے چلنا ہے اُس پر لے چلتا ہے۔ (یَشعیاہ 48:17)

تنوع پیدا کریں

سات کو بَلکہ آٹھ کو حِصّہ دو، کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ زمین پر کیا بُلا آئے گی۔ (واعظ 11:2)

گھر لینے سے پہلے کاروبار/پیشہ

پہلے اَپنا باہر کا کام پُورا کر لو اَور کھیتوں کا کام بھی ختم کر لو، اَور اُس کے بعد اَپنے لیٔے گھر تعمیر کرنا۔ (امثال 24:27)

جن کے اپنے گھر تھے

جَب یِسوعؔ پطرس کے گھر میں داخل ہویٔے تو اُنہُوں نے پطرس کی ساس کو تیز بُخار میں بِستر پر پڑے دیکھا۔ (متّی 8:14)
یہُودی عبادت گاہ سے باہر نکلتے ہی وہ یعقوب اَور یُوحنّا کے ساتھ سیدھے شمعُونؔ اَور اَندریاسؔ کے گھر گیٔے۔ (مرقُس 1:29)
یہُودی عبادت گاہ سے نکل کر یِسوعؔ شمعُونؔ کے گھر پہُنچے۔ شمعُونؔ کی ساس تیز بُخار میں مُبتلا تھی۔ شاگردوں نے یِسوعؔ سے اُسے ٹھیک کرنے کی درخواست کی۔ (لُوقا 4:38)

جن کے اپنے گھر نہ تھے

یِسوعؔ نے سے جَواب دیا، ”لومڑیوں کے بھی بھٹ اَور ہَوا کے پرندوں کے گھونسلے ہوتے ہیں، لیکن اِبن آدمؔ کے لیٔے کویٔی جگہ نہیں جہاں وہ اَپنا سَر بھی رکھ سکے۔“ (متّی 8:20)
پَولُسؔ پُورے دو بَرس تک اَپنے کرایہ کے مکان میں رہے اَورجو اُن سے مُلاقات کرنے آتے تھے اُن سَب سے مِلا کرتے تھے۔ (اعمال 28:30)

خطرناک سرمایہ کاری سے بچیں

مَیں نے دُنیا میں ایک شدید بُرائی دیکھی ہے: مالک نے اَپنی دولت خُود کو نُقصان پہُنچانے کے لیٔے ہی کمائی تھی، کیونکہ وہ مال کسی حادثہ سے برباد ہو جاتا ہے، اَور جَب مالک کے گھر میں بیٹا پیدا ہُوا تو اُن کے لیٔے کچھ بھی مِیراث باقی نہیں رہی۔ (واعظ 5:13-14)
یہ بھی ایک شدید بُرائی ہے: اِنسان جَیسے آتا ہے وَیسا ہی چلا بھی جاتا ہے، آخِر اُسے کیا فائدہ ہُوا، اُس کی ساری محنت و مشقّت تو ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے؟ (واعظ 5:16)

ثابت قدمی سے آہستہ آہستہ آگے بڑھیں

محنتی آدمی کے منصُوبے منافع بخش ہوتے ہیں، لیکن جلدبازی کا نتیجہ یقیناً مفلسی ہوتاہے۔ (امثال 21:5)

جلد بازی نہ کریں

محنتی آدمی کے منصُوبے منافع بخش ہوتے ہیں، لیکن جلدبازی کا نتیجہ یقیناً مفلسی ہوتاہے۔ (امثال 21:5)
قابلِ اِعتبار آدمی، بے شُمار برکتیں پایٔےگا، لیکن جو دولتمند ہونے کے لیٔے جلدبازی کرتا ہے، ضروُر بے سزا نہ چُھوٹے گا۔ (امثال 28:20)
کنجوس آدمی دولتمند بننے کا مُشتاق ہوتاہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ مفلسی اُس کی منتظر ہے۔ (امثال 28:22)

وقت کا انتخاب اہم ہے

ہر چیز کے لیٔے ایک وقت ہوتاہے، اَور آسمان کے تلے ہر ایک کام کرنے کا ایک موقع ہوتاہے: (واعظ 3:1)

ضروریات پوری کرنے اور مقاصد حاصل کرنے کے لیے مالی حالت کو جانیں

اَپنے مویشیوں کی حالت اَچھّی دیکھ کر مطمئن ہو، اَور اَپنے گلّوں کا اَچھّی طرح سے خیال رکھو؛ کیونکہ دولت سدا نہیں رہتی، اَور نہ تاج پُشت در پُشت محفوظ رہتاہے۔ جَب سُوکھی گھاس جمع کرلی جاتی ہے، تو نئی پیدا ہو جاتی ہے اَور پہاڑیوں پر سے چارہ کاٹ کر جمع کر لیا جاتا ہے، برّے تُمہیں لباس مُہیّا کریں گے، اَور بکریاں کھیتوں کی قیمت اَدا کریں گی۔ تمہارے پاس بکریوں کا دُودھ کثرت سے ہوگا جو تمہارے اَور تمہارے خاندان کے پینے کے لیٔے اَور تمہاری خادِماؤں کے گذارے کے لیٔے کافی ہوگا۔ (امثال 27:23-27)
”مان لو کہ تُم میں سے کویٔی بُرج بنانا چاہتاہے۔ اَور پہلے بیٹھ کر کیا وہ یہ نہیں سوچےگا کہ اُس کی تعمیر پر کِتنا خرچ آئے گا اَور کیا اُس کے پاس اُتنی رقم ہے کہ بُرج مُکمّل ہو جائے؟ کہیں اگر تُم بُنیاد ڈال دو اَور اُسے مُکمّل نہ کر سکو تو سبھی دیکھنے والے تمہاری ہنسی اُڑائیں گے، (لُوقا 14:28-29)

منصوبہ بندی اور نظم کی حوصلہ افزائی

منصُوبے بنانے سے پہلے مشورہ کرو؛ اَور جنگ چھیڑنے سے قبل رہنمائی لو۔ (امثال 20:18)
محنتی آدمی کے منصُوبے منافع بخش ہوتے ہیں، لیکن جلدبازی کا نتیجہ یقیناً مفلسی ہوتاہے۔ (امثال 21:5)
حِکمت سے گھر تعمیر کیا جاتا ہے، اَور فہم سے اُسے قائِم کیا جاتا ہے؛ اَور علم کے وسیلہ سے اُس کے کمرے نادر اَور نفیس مال سے بھر دئیے جاتے ہیں۔ (امثال 24:3-4)
لیکن یہ سَب کچھ شائِستگی اَور قرینہ سے عَمل میں آئے۔ (1 کُرِنتھِیوں 14:40)
اِس لیٔے کہ خُدا بدنظمی کا نہیں بَلکہ اَمن کا بانی ہے۔ اَور جَیسا کہ مُقدّسین کی سَب جماعتوں میں دستور ہے۔ (1 کُرِنتھِیوں 14:33)

کامیاب سرمایہ کاروں کے لیے ہدایات

مغرور نہ ہوں

یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”نہ تو دانشمند اَپنی دانائی پر اَور نہ طاقتور اَپنی طاقت پر اَور نہ اَمیر اَپنی دولت پر فخر کرے، لیکن جو فخر کرتا ہے وہ اِس بات پر فخر کرے کہ وہ مُجھے نزدیکی سے جانتا اَور سمجھتا ہے، کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں جو زمین پر رحم، عدل اَور راستی کے کام کرتا ہُوں، کیونکہ اِن ہی باتوں سے میں خُوش ہوتا ہُوں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ (یرمیاہؔ 9:23-24)
اِس مَوجُودہ جہان کے دولتمندوں کو حُکم دے کہ وہ مغروُر نہ ہوں، اَور ناپائیدار دولت پر نہیں بَلکہ خُدا پر اُمّید رکھیں، جو ہمیں سَب چیزیں فیّاضی سے مُہیّا کرتا ہے تاکہ ہم مزہ سے زندگی گُزاریں۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:17)
جو مُومِنین پست حالی میں ہیں اُنہیں اَپنے اعلیٰ مرتبہ پر فخر کرنا چاہئے۔ مگر دولتمند کو اَپنے ادنیٰ مرتبہ پر فخر کرنا چاہئے کیونکہ دولتمند جنگلی پھُول کی طرح مُرجھا کر ختم ہو جایٔےگا۔ کیونکہ سُورج طُلوع ہوتے ہی سخت دھوپ لگتی ہے اَور پَودے کو سُکھا دیتی ہے۔ اَور اُس کا پھُول جھڑ جاتا ہے اَور اُس کی تمام خُوبصُورتی ختم ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح دولتمند کی زندگی بھی اُس کے کاروبار کے دَوران فنا ہو جایٔےگی۔ (یعقوب 1:9-11)

دولت پر بھروسا نہ رکھیں

چونکہ تُم اَپنے اعمال اَور اَپنی دولت پر توکّل رکھتے ہو، اِس لیٔے تُم بھی اسیر ہو جاؤگے۔ اَور کموشؔ معبُود بھی، اَپنے کاہِنوں اَور حاکموں کے ساتھ جَلاوطن ہوگا۔ (یرمیاہؔ 48:7)
تُم اَپنی وادیوں پر، خصوصاً اَپنی پھلدار وادیوں پر، اِس قدر کیوں فخر کرتی ہو؟ اَے بےوفا عمُّون کی بیٹی، تُم اَپنی دولت پر توکّل کرتی اَور کہتی ہو، ’مُجھ پر کون حملہ کر سکےگا؟‘ مَیں تمہارے چاروں طرف کے سَب باشِندوں کی طرف سے، تُم پر خوف طاری کروں گا،“ یہ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”تُم سَب ہانکے جاؤگے، اَور پناہ گیروں کو کویٔی جمع نہ کر پایٔےگا۔ (یرمیاہؔ 49:4-5)
اِس مَوجُودہ جہان کے دولتمندوں کو حُکم دے کہ وہ مغروُر نہ ہوں، اَور ناپائیدار دولت پر نہیں بَلکہ خُدا پر اُمّید رکھیں، جو ہمیں سَب چیزیں فیّاضی سے مُہیّا کرتا ہے تاکہ ہم مزہ سے زندگی گُزاریں۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:17)

فراخ دلی سے دیں

اُنہیں حُکم دے کہ وہ نیکی کریں اَور نیک کاموں کے لِحاظ سے دولتمند بنیں، اَور سخاوت پر تیّار اَور دُوسروں کی مدد کرنے پر آمادہ رہیں۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:18)

ناقابلِ رسائی نہ بنیں

افسوس تُم پرجو گھر سے گھر جوڑتے ہو اَور کھیت سے کھیت مِلاتے ہو تاکہ جگہ تک باقی نہ بچے اَور تُم ہی مُلک میں اکیلے بسے رہو۔ (یَشعیاہ 5:8)

سرمایہ کاری کے عمومی اصول

سرمایہ کاری کی منصفانہ قیمت ادا کریں

” ’اگر تُم اَپنے پڑوسی کو زمین بیچو یا اُس سے خریدو تو، تُم ایک دُوسرے سے دھوکے سے کام نہ لینا۔ اَور جَب تُم اَپنے پڑوسی سے زمین خریدو، تو اُس کی قیمت پچھلے یوویلؔ کے بعد کے سالوں کے شُمار کے مُطابق ہونا ضروُری ہے، اَور بیچنے والا بھی اِس کی قیمت اگلے یوویلؔ کے بچے ہویٔے فصلوں کے برسوں کے شُمار کے مُطابق بیچے۔ اَور جَب سالوں کی تعداد زِیادہ ہو تو دام بڑھا دینا اَور جَب کم ہو تو قیمت کو گھٹا دینا کیونکہ جو وہ تُم کو بیچ رہاہے وہ اُن سالوں کی فصلوں کی تعداد ہے۔ لہٰذا تُم ایک دُوسرے کو دھوکا مت دینا بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرنا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔ (اَحبار 25:14-17)

بعض لوگ منصفانہ قیمت سے بچنے کے لیے دھوکا دیتے ہیں

خریدار کہتاہے، ”یہ ٹھیک نہیں، یہ اَچھّا نہیں!“ لیکن جَب چل پڑتا ہے تو اَپنی خرید پر فخر کرتا ہے۔ (امثال 20:14)

بیوی کا سرمایہ کاری کرنا قابلِ قبول ہے

نیک چلن بیوی کون پا سَکتا ہے؟ کیونکہ وہ لعلوں سے بھی زِیادہ قیمتی ہے۔ (امثال 31:10)
وہ کسی کھیت کے بارے میں سوچتی ہے تو اُسے خرید لیتی ہے؛ اَور اَپنی آمدنی سے تاکستان لگاتی ہے۔ (امثال 31:16)
وہ مہین کتانی کپڑے بنا کر اُنہیں فروخت کرتی ہے، اَور سوداگروں کو کمر کے پٹکے مہیا کرتی ہے۔ (امثال 31:24)

قرض دینا

پرانے عہد نامے کے ایماندار کو ضرورتمند ایمانداروں کو قرض دینا تھا

جو مُلک یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، اَور اگر اُس مُلک کے کسی شہر میں تمہارے اِسرائیلی بھائیوں میں کُچھ غریب ہُوں، تو اُن غریب بھائیوں کی طرف نہ تو اَپنا دِل سخت کرنا اَور نہ اَپنی مُٹّھی بند رکھنا۔ بَلکہ اُن کی جو بھی ضروُرت ہو اُسے پُورا کرنے کے لیٔے اُسے نہایت ہی کھُلے دِل سے مدد کرنا یا بے تکلّفی سے قرض دینا۔ خبردار رہو کہ کہیں تمہارے ذہن میں یہ بُرا خیال نہ آئے: ”ساتواں سال جو قرضوں کے مُعاف کرنے کا سال ہے، وہ نزدیک ہے،“ اَور تُم اَپنے حاجت مند اِسرائیلی بھایٔی کی طرف بُری نیّت سے دیکھو اَور اُسے کچھ نہ دو؛ اَور وہ یَاہوِہ سے تمہارے خِلاف فریاد کرے اَور تُم مُجرم ٹھہرو۔ (اِستِثنا 15:7-9)

قرض دینے والا مبارک تھا

سخی اِنسان اَور فراخدلی سے قرض دینے والے کا بھلا ہوگا، وہ اَپنا کاروبار راستی سے چلاتاہے۔ (زبُور 112:5)

نئے عہد نامے نے یہ ذمہ داری ہر قرض مانگنے والے تک بڑھا دی

جو تُم سے کُچھ مانگے اُسے ضروُر دو، اَورجو تُم سے قرض لینا چاہتاہے اُس سے مُنہ نہ موڑو۔ (متّی 5:42)

کوئی سود نہیں لیا جانا تھا

”اگر تُم میرے لوگوں میں سے کسی مُحتاج کو جو تمہارے پاس رہتاہے کچھ رُوپیہ قرض دو تو اُس سے ساہوکار کی طرح سلُوک نہ کرنا اَور نہ زِیادہ سُود لینا۔ (خُروج 22:25)
” ’اَور اگر تمہارا کویٔی ہم وطن اِسرائیلی مُفلس ہو جائے اَور تمہارے درمیان رہتے ہویٔے بھی تنگ دست ہو تو اُس کی مدد کرنا جَیسا کہ تُم کسی پردیسی یا مُسافر کی کرتے ہو تاکہ وہ تمہارے درمیان بسا رہے۔ اَور اُس سے کسی قِسم کا سُود یا فائدہ نہ لینا بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرنا تاکہ تمہارا ہم وطن بھایٔی تمہارے درمیان بسا رہے۔ تُم اُسے نہ تو اَپنا رُوپیہ سُود پر دوگے اَور نہ ہی اناج نفع کے لالچ سے دوگے۔ (اَحبار 25:35-37)
تُم اَپنے اِسرائیلی بھایٔی سے سُود وصول نہ کرنا خواہ وہ رُوپیَوں پر، اناج پر یا کسی اَیسی شَے پر ہو جِس پر سُود لیا جاتا ہو۔ (اِستِثنا 23:19)

اس قانون کی خلاف ورزی کی مثال

بعض کہتے تھے کہ قحط میں اناج حاصل کرنے کے لیٔے ہم نے اَپنے کھیتوں، ”اَپنے انگوری باغات اَور اَپنے گھروں کو گروی رکھ دیا ہے۔“ اَور کیٔی تھے جو کہتے تھے کہ، ”ہم نے اَپنے کھیتوں اَور انگوری باغات پر بادشاہ کا لگان اَدا کرنے کے لیٔے قرض لیا تھا۔ اگرچہ ہم اَور ہمارے بھایٔی ایک ہی گوشت اَور خُون کے بنے ہُوئے ہیں اَور ہمارے بیٹے بھی اُتنے ہی اَچھّے ہیں جتنے اُن کے تاہم ہمیں اَپنے بیٹے اَور بیٹیوں کو مُلازمت کے لیٔے غُلامی قبُول کرنی پڑتی ہے۔ اَور ہماری کچھ بیٹیاں تو پہلے ہی غُلامی میں پہُنچ چُکی ہیں۔ لیکن ہم بےبس ہیں کیونکہ ہمارے کھیت اَور انگوری باغ دُوسروں کے قبضہ میں ہیں۔“ جَب مَیں نے اُن کی شوروغل اَور یہ شکایت سُنیں تو مُجھے بڑا غُصّہ آیا مَیں نے اَپنے دِل میں سوچا اَور اُمرا اَور حُکاّم کو قُصُوروار ٹھہرایا۔ مَیں نے اُنہیں ملامت کی کہ، ”تُم اَپنے ہی بھائیوں سے سُود لیتے ہو!“ اَور اُن کے خِلاف کاروائی کرنے کے لیٔے مَیں نے بہت سے لوگوں کو جمع کیا اَور کہا: ”جہاں تک ممکن تھا ہم نے اُن یہُودی بھائیوں کو جو غَیریہُودیوں کو بیچ دئیے گیٔے تھے خرید کر چھُڑا لیا۔ اَب تُم اَپنے ہی یہُودی بھائیوں کو بیچ رہے ہو کہ وہ پھر واپس ہمیں ہی بیچ دئیے جایٔیں!“ وہ خاموش رہے کیونکہ اُن کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ چنانچہ مَیں نے مزید کہا، ”جو کچھ تُم کر رہے ہو وہ دُرست نہیں ہے۔ کیا تمہارے لیٔے لازِم نہیں کہ اَپنے خُدا کے خوف میں چلو اَور اَپنے غَیریہُودی دُشمنوں کی ملامت سے بچو؟ مَیں نے اَور میرے بھائیوں اَور میرے مُلازمین نے بھی لوگوں کو نقدی اَور اناج قرض پر دیا ہے۔ ہمیں یہ سُود مُعاف کردینا چاہئے! اُن کے کھیت، انگوری باغ، زَیتُون کے باغ اَور مکان فوراً اُنہیں واپس کر دو اَور وہ بھاری سُود بھی جو تُم نقدی، اناج، نئی مے اَور تیل کے سَوویں حِصّہ کے طور پر جبراً وصول کرتے ہو لَوٹا دو۔“ تَب اُنہُوں نے کہا، ”ٹھیک ہے، ہم واپس کر دیں گے اَور ہم اُن سے اَور کسی چیز کا مطالبہ بھی نہیں کریں گے۔ جَیسے آپ نے فرمایاہے ہم وَیسا ہی کریں گے۔“ تَب مَیں نے کاہِنوں کو طلب کیا اَور اُمرا اَور حاکموں کو قَسم دِلائی کہ وہ وُہی کریں گے جِس کا اُنہُوں نے وعدہ کیا ہے۔ (نحمیاہ 5:3-12)

سود نہ لینے پر برکت

تُم چاہو تو پردیسیوں سے سُود وصول کر سکتے ہو، لیکن کسی اِسرائیلی بھایٔی سے نہیں تاکہ جِس مُلک پر قبضہ کرنے کے لیٔے تُم داخل ہو رہے ہو وہاں جِس جِس کام میں تُم اَپنا ہاتھ ڈالو اُن سَب میں یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں برکت دیں۔ (اِستِثنا 23:20)
داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، آپ کے مَقدِس میں کون رہے گا؟ آپ کے مُقدّس پہاڑ پر کون سکونت کرےگا؟ جو اَپنا رُوپیہ سُود پر نہیں دیتا؛ اَور بے قُصُور کے خِلاف رشوت نہیں لیتا۔ اَیسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھائے گا۔ (زبُور 15:1, 5)
وہ کسی پر ظُلم نہیں کرتا، بَلکہ قرض کے بدلے رہن رکھی ہُوئی چیز لَوٹا دیتاہے۔ وہ ڈاکا نہیں ڈالتا۔ بَلکہ اَپنی روٹی بھُوکے کو دے دیتاہے۔ اَور ننگے کو کپڑا پہناتاہے۔ وہ رہن رکھ کر لین دین نہیں کرتا، نہ زِیادہ سُود وصول کرتا ہے۔ وہ بدکاری سے دُور رہتاہے۔ اَور لوگوں کے درمیان سچّائی کے ساتھ اِنصاف کرتا ہے۔ وہ میرے آئین پر چلتا ہے، اَور ایمانداری سے میری شَریعت پر عَمل کرتا ہے۔ وہ شخص راستباز ہے؛ اَور وہ یقیناً جئے گا، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔ ”فرض کرو کہ اُن کے ہاں ایک تُند و تیز بیٹا ہے جو خُون بہاتا ہے اَور اِن بُرائیوں میں سے کچھ کرتا ہے، (حالانکہ باپ نے اِن میں سے ایک بھی نہ کی): ”وہ پہاڑ پر کے بُتکدوں میں قُربانی کا گوشت کھاتا ہے۔ اَپنے ہمسایہ کی بیوی کی بےحُرمتی کرتا ہے۔ وہ غریب اَور مُحتاج پر ظُلم ڈھاتا ہے، وہ ڈاکا ڈالتا ہے۔ اَور رہن رکھی ہُوئی چیز نہیں لَوٹاتا۔ وہ بُتوں کی طرف نظر اُٹھاتا ہے۔ اَور قابل نفرت کام کرتا ہے۔ وہ سُود پر لین دین کرتا ہے اَور زِیادہ سُود وصول کرتا ہے۔ کیا اَیسا شخص زندہ رہے گا؟ وہ ہرگز زندہ نہ رہے گا کیونکہ اُس نے یہ سَب قابل نفرت کام کئے ہیں اِس لیٔے وہ یقیناً ماراجائے گا اَور اُس کا خُون خُود اُس کے سَر پر ہوگا۔ ”لیکن فرض کرو کہ اُس کا بیٹا ہے جو اَپنے باپ کو یہ سَب گُناہ کرتے ہُوئے دیکھتا ہے اَور گو وہ اُنہیں دیکھتا ہے پھر بھی آپ اَیسی حرکتیں نہیں کرتا: ”وہ پہاڑ پر کے بُتکدوں میں قُربانی کا گوشت نہیں کھاتا، یا بنی اِسرائیل کے بُتوں کی طرف نگاہ نہیں کرتا۔ وہ اَپنے ہمسایہ کی بیوی کی بےحُرمتی نہیں کرتا۔ وہ کسی پر ظُلم نہیں کرتا، نہ قرض دینے کے لیٔے کسی شَے کے گروی رکھنے پر بضِد رہتاہے۔ وہ ڈاکا نہیں ڈالتا، بَلکہ اَپنی روٹی بھُوکے کو دے دیتاہے اَور ننگے کو کپڑے پہناتاہے۔ وہ غریبوں پر ظُلم کرنے سے اَپنے ہاتھ روکتا ہے، اَور ناحق نفع اَور زِیادہ سُود نہیں لیتا۔ وہ میری شَریعت پر عَمل کرتا ہے اَور میرے آئین پر چلتا ہے۔ وہ اَپنے باپ کے گُناہ کے باعث نہیں مَرے گا، وہ یقیناً زندہ رہے گا۔ (حزقی ایل 18:7-17)

سود لینے پر لعنت

جو ناجائز سُود وصول کرکے اَپنی دولت بڑھاتاہے وہ اُس کے لیٔے جمع کرتا ہے جو مُحتاجوں پر رحم کرےگا۔ (امثال 28:8)
”فرض کرو کہ اُن کے ہاں ایک تُند و تیز بیٹا ہے جو خُون بہاتا ہے اَور اِن بُرائیوں میں سے کچھ کرتا ہے، وہ سُود پر لین دین کرتا ہے اَور زِیادہ سُود وصول کرتا ہے۔ کیا اَیسا شخص زندہ رہے گا؟ وہ ہرگز زندہ نہ رہے گا کیونکہ اُس نے یہ سَب قابل نفرت کام کئے ہیں اِس لیٔے وہ یقیناً ماراجائے گا اَور اُس کا خُون خُود اُس کے سَر پر ہوگا۔ (حزقی ایل 18:10, 13)
تُجھ میں لوگ خُون بہانے کے لیٔے رشوت لیتے ہیں۔ تُو سُود لیتا ہے اَور حَد سے زِیادہ سُود وصول کرتا ہے اَور اَپنے پڑوسیوں سے زیادتی کرکے ناجائز منافع کماتا ہے اَور تُونے مُجھے بھلا دیا ہے۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔ ” ’تُونے جو ناجائز منافع کمایا اَور اَپنے اَندر خُون بہایا اُس کے لیٔے میں قہر میں یقیناً تالی بجاؤں گا۔ (حزقی ایل 22:12-13)
کیا یہ سَب ٹھٹّھا کرکے اُس پر طنز نہ کریں گے اَور یہ یہ ضرب المثل کہتے ہُوئے اُسے حقیر نہ جانیں گے کہ اُس پر افسوس جو چوری کے مال کا انبار لگاتاہے اَور جبراً سے مال حاصل کرکے خُود کو مالدار بناتا ہے! مگر اَیسا کب تک ہوگا؟ کیا تیرے قرض خواہ یَکایک نہ اُٹھ کھڑے ہوں گے؟ کیا وہ بیدار نہ ہوں گے اَور تیرے کپکپانے کا باعث نہ بَن جایٔیں گے؟ تَب تُو اُن کا شِکار ہو جائے گا۔ (حبقُّوقؔ 2:6-7)

پردیسی سے سود لینے کی اجازت تھی

تُم چاہو تو پردیسیوں سے سُود وصول کر سکتے ہو، لیکن کسی اِسرائیلی بھایٔی سے نہیں تاکہ جِس مُلک پر قبضہ کرنے کے لیٔے تُم داخل ہو رہے ہو وہاں جِس جِس کام میں تُم اَپنا ہاتھ ڈالو اُن سَب میں یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں برکت دیں۔ (اِستِثنا 23:20)

قرض کی ضمانت میں زندگی کی ضروری چیز گروی نہیں رکھی جانی تھی

اگر تُم اَپنے پڑوسی کی چادر بطور رہن رکھ لو تو سُورج کے ڈُوبنے تک اُسے لَوٹا دینا کیونکہ اُس کے پاس جِسم ڈھانپنے کے لیٔے صِرف وُہی چادر ہے۔ پھر وہ کیا اوڑھ کر سوئے گا؟ جَب وہ مُجھ سے فریاد کرےگا تو میں اُس کی فریاد سُنوں گا کیونکہ مَیں بڑا رحیم ہُوں۔ (خُروج 22:26-27)
چکّی کو یا اُس کے اُوپر کے پاٹ کو گِروی نہ رکھنا کیونکہ اَیسا کرنا تو گویا اِنسان کی کمائی کے ذریعہ کو ہی رہن رکھنے کے برابر ہوگا۔ جَب تُم اَپنے ہمسایہ کو کسی قِسم کا قرض دو تو جو شَے وہ رہن رکھنا چاہے اُسے لینے کے لیٔے اُس کے گھر میں داخل نہ ہونا۔ بَلکہ تُم باہر ہی کھڑے رہنا اَور وہ شخص جسے تُم قرض دے رہے ہو خُود اُس رہن رکھی جانے والی چیز کو تمہارے پاس باہر لایٔے۔ اگر وہ شخص مسکین ہو تو اُس کی رہن رکھی ہُوئی چادر کو اوڑھ کر نہ سو جانا۔ بَلکہ آفتاب کے غروب ہونے تک اُس کا باہری لباس اُسے لَوٹا دینا تاکہ وہ اُسے اوڑھ کر سو سکے۔ تَب وہ تمہارا شُکرگزار ہوگا اَور یہ یَاہوِہ تمہارے خُدا کی نظر میں تمہارے حق میں راستبازی کا کام گِنا جائے گا۔ (اِستِثنا 24:6, 10-13)
کویٔی پردیسی یا یتیم اِنصاف سے محروم نہ رہے اَور نہ کسی بِیوہ کے کپڑے رہن رکھّے جایٔیں۔ (اِستِثنا 24:17)

اس قانون کی خلاف ورزی کا الزام

کیا تمہاری بدی بڑی نہیں؟ اَور کیا تمہارے گُناہ غَیر محدُود نہیں؟ تُم نے اَپنے بھائیوں سے بلاوجہ ضمانت طلب کی؛ تُم نے لوگوں کے کپڑے اُتار لیٔے اَور اُنہیں برہنہ کر دیا؟ (ایُّوب 22:5-6)

ایسی گروی نہ لینے پر برکت

وہ کسی پر ظُلم نہیں کرتا، بَلکہ قرض کے بدلے رہن رکھی ہُوئی چیز لَوٹا دیتاہے۔ وہ ڈاکا نہیں ڈالتا۔ بَلکہ اَپنی روٹی بھُوکے کو دے دیتاہے۔ اَور ننگے کو کپڑا پہناتاہے۔ وہ میرے آئین پر چلتا ہے، اَور ایمانداری سے میری شَریعت پر عَمل کرتا ہے۔ وہ شخص راستباز ہے؛ اَور وہ یقیناً جئے گا، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔ وہ کسی پر ظُلم نہیں کرتا، نہ قرض دینے کے لیٔے کسی شَے کے گروی رکھنے پر بضِد رہتاہے۔ وہ ڈاکا نہیں ڈالتا، بَلکہ اَپنی روٹی بھُوکے کو دے دیتاہے اَور ننگے کو کپڑے پہناتاہے۔ وہ غریبوں پر ظُلم کرنے سے اَپنے ہاتھ روکتا ہے، اَور ناحق نفع اَور زِیادہ سُود نہیں لیتا۔ وہ میری شَریعت پر عَمل کرتا ہے اَور میرے آئین پر چلتا ہے۔ وہ اَپنے باپ کے گُناہ کے باعث نہیں مَرے گا، وہ یقیناً زندہ رہے گا۔ (حزقی ایل 18:7, 9, 16-17)
یعنی اگر وہ قرض کے عوض رہن رکھی ہُوئی شَے لَوٹا دیتاہے، چُرائی ہُوئی چیز واپس کر دیتاہے اَور اُن آئین پر عَمل کرتا ہے جو زندگی بخشتے ہیں اَور کویٔی بدی نہیں کرتا تو وہ یقیناً جئے گا۔ وہ نہیں مَرے گا۔ (حزقی ایل 33:15)

ایسی گروی لینے پر لعنت

”فرض کرو کہ اُن کے ہاں ایک تُند و تیز بیٹا ہے جو خُون بہاتا ہے اَور اِن بُرائیوں میں سے کچھ کرتا ہے، وہ غریب اَور مُحتاج پر ظُلم ڈھاتا ہے، وہ ڈاکا ڈالتا ہے۔ اَور رہن رکھی ہُوئی چیز نہیں لَوٹاتا۔ وہ بُتوں کی طرف نظر اُٹھاتا ہے۔ اَور قابل نفرت کام کرتا ہے۔ وہ سُود پر لین دین کرتا ہے اَور زِیادہ سُود وصول کرتا ہے۔ کیا اَیسا شخص زندہ رہے گا؟ وہ ہرگز زندہ نہ رہے گا کیونکہ اُس نے یہ سَب قابل نفرت کام کئے ہیں اِس لیٔے وہ یقیناً ماراجائے گا اَور اُس کا خُون خُود اُس کے سَر پر ہوگا۔ (حزقی ایل 18:10, 12-13)
یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، بنی اِسرائیل کے تین بَلکہ چار گُناہوں کی باعث مَیں اُسے بے سزا نہ چھوڑوں گا۔ وہ چاندی کے لیٔے راستباز کو، اَور ایک جوڑی جُوتی کی خاطِر حاجت مند کو بیچ دیتے ہیں۔ وہ ہر مذبح کے بازو میں گروی رکھے ہُوئے کپڑوں پر لیٹتے ہیں۔ اَور اَپنے معبُودوں کے گھر میں جرمانے کی رقم سے مَے نوشی کرتے ہیں۔ (عامُوسؔ 2:6, 8)

شریر ایسی گروی لیتے ہیں

وہ یتیم کا گدھا چُرا لے جاتے ہیں اَور بِیوہ کا بَیل رہن رکھ لیتے ہیں۔ یتیم کا بچّہ چھاتی سے جُدا کر دیا جاتا ہے؛ اَور غریب کا بچّہ قرض کے عوض گروی رکھ لیا جاتا ہے۔ (ایُّوب 24:3, 9)

قرض کی واپسی لازم نہیں تھی

وہ یتیم کا گدھا چُرا لے جاتے ہیں اَور بِیوہ کا بَیل رہن رکھ لیتے ہیں۔ یتیم کا بچّہ چھاتی سے جُدا کر دیا جاتا ہے؛ اَور غریب کا بچّہ قرض کے عوض گروی رکھ لیا جاتا ہے۔ (ایُّوب 24:3, 9)

ہر سات سال بعد قرضوں کی معافی

نئے عہد نامے میں، دشمنوں کو بھی بغیر واپسی کی امید کے قرض دیں

اَور اگر تُم اُسی کو قرض دیتے جِس سے وصول کرلینے کی اُمّید ہے، تو تمہارا کیا اِحسَان ہے؟ کیونکہ گُنہگار بھی گُنہگاروں کو قرض دیتے ہیں تاکہ اُن سے پُورا وصول کر لیں۔ مگر تُم اَپنے دُشمنوں سے مَحَبّت رکھو، اُن کا بھلا کرو، قرض دو اَور اُس کے وصول پانے کی اُمّید نہ رکھو، تو تمہارا اجر بڑا ہوگا اَور تُم خُداتعالیٰ کے بیٹے ٹھہروگے کیونکہ وہ ناشُکروں اَور بدکاروں پر بھی مہربان ہے۔ (لُوقا 6:34-35)