لالچ نہ کرنے کا حکم
تُم اَپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ تُم اَپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اَور نہ اُس کے غُلام یا اُس کی خادِمہ کا، نہ اُس کے بَیل یا گدھے کا، اَور نہ اَپنے پڑوسی کی کسی اَور چیز کا۔“ (خُروج 20:17)
تُم اَپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اَور نہ تُم اَپنے پڑوسی کے گھر یا کھیت، نہ اُس کے غُلام یا اُس کی خادِمہ کا، اُس کے بَیل یا گدھے کا اَور نہ اَپنے پڑوسی کی کسی اَور چیز کا۔“ (اِستِثنا 5:21)
اُن کے معبُودوں کی شَبیہ کو تُم آگ میں جَلا دینا اَورجو چاندی اَور سونا اُن کے اُوپر منڈھا ہو، اُس کا لالچ نہ کرنا اَور اُسے اَپنے لیٔے نہ لینا، ورنہ وہ تمہارے لیٔے پھندا بَن جائے گا کیونکہ اَیسی چیزیں یَاہوِہ تمہارے خُدا کے نزدیک سخت مکرُوہ ہیں۔ (اِستِثنا 7:25)
لالچ پر سزا کی دھمکی
لیکن نذر کی مخصُوص چیزوں کو ہاتھ نہ لگانا۔ کہیں اُن میں سے کویٔی شَے لے کر اَپنے اُوپر تباہی نہ لے آنا۔ اَیسا کروگے تو تُم اِسرائیل کی چھاؤنی پر تباہی لاؤگے اَور اُس پر کویٔی آفت کھڑی کر دوگے۔ (یہوشُعؔ 6:18)
اُن پر افسوس جو بدی کا منصُوبہ باندھتے ہیں، اَور بِستر پر پڑے ہُوئے شرارت کا منصُوبہ بناتے ہیں! اَور صُبح ہوتے ہی اُس پر عَمل کرتے ہیں کیونکہ وہ عَمل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ وہ لالچ سے کھیتوں کو ضَبط کرلیتے ہیں، اَور گھروں کو چھین لیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو اُن کے گھروں سے، اَور اَپنے ہم جنسوں کو اُن کی مِیراث سے محروم کر دیتے ہیں۔ اِس لیٔے یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”مَیں اُس قوم پر بربادی لانے کا اِرادہ کر رہا ہُوں، جِس سے تُم خُود کو بچا نہ سکوگے۔ اَور اَب غُرور سے چل نہ سکوگے، کیونکہ یہ مُصیبت کا وقت ہوگا۔ (میکاہؔ 2:1-3)
لالچ پر سزا کی مثال
بنی اِسرائیل نے گُناہ کیا ہے۔ اُنہُوں نے میرے اُس عہد کو توڑا ہے جِس پر مَیں نے اُنہیں قائِم رہنے کا حُکم دیا تھا۔ اُنہُوں نے نذر کی ہُوئی چند چیزیں لی ہیں۔ اُنہُوں نے چوری کی اَور جھُوٹ بولا اَور اُنہیں اَپنے اَسباب میں رکھ دیا۔ اِسی وجہ سے بنی اِسرائیل اَپنے دُشمنوں کے سامنے ٹھہر نہیں سکتے۔ وہ اَپنی پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں کیونکہ وہ تباہی کے مُستحق قرار دئیے گیٔے ہیں۔ اَور اگر تُم اَپنے درمیان سے نذر کی ہُوئی ہر چیز کو نِیست و نابود نہ کروگے تو آئندہ مَیں تمہارے ساتھ نہ رہُوں گا۔ ”جاؤ، اَور لوگوں کو پاک کرو۔ اُن سے کہو، ’کل کی تیّاری کے لیٔے اَپنے آپ کو پاک کر لیں کیونکہ یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: اَے اِسرائیلیوں! تمہارے درمیان نذر کی ہُوئی چیز مَوجُود ہے اَور جَب تک تُم اُسے دُور نہ کروگے تُم اَپنے دُشمنوں کے سامنے ٹھہر نہیں سکوگے۔ ” ’صُبح کو تُم اَپنے اَپنے قبیلہ کے مُطابق حاضِر ہو جاؤ۔ اَور جِس قبیلہ کو یَاہوِہ پکڑیں وہ ایک ایک برادری کرکے آگے آئے۔ اَور جِس برادری کو یَاہوِہ پکڑیں وہ ایک ایک گھر کرکے آگے آئے اَور جِس گھر کو یَاہوِہ پکڑیں وہ ایک ایک آدمی کرکے آگے آئے۔ جو کویٔی نذر کی چیزوں کے ساتھ پکڑا جائے وہ اَپنے تمام اَسباب کے ساتھ آگ میں جَلا دیا جائے گا۔ اُس نے یَاہوِہ کے عہد کو توڑا ہے اَور بنی اِسرائیل میں شرمناک کام کیا ہے!‘ “ یہوشُعؔ نے صُبح سویرے اُٹھ کر اِسرائیلیوں کو قبیلہ بہ قبیلہ حاضِر کیا اَور بنی یہُوداہؔ کا قبیلہ پکڑا گیا۔ تَب بنی یہُوداہؔ کی برادریوں کے سامنے آئے اَور بنی زیراحؔ کی برادری پکڑی گئی۔ پھر بنی زیراحؔ کے تمام لوگوں کو سامنے لایا گیا اَور زبدیؔ پکڑا گیا۔ یہوشُعؔ نے اُس کے خاندان کے ایک ایک مَرد کو سامنے بُلایا اَور یہُوداہؔ کے قبیلہ کا عکنؔ پکڑا گیا جو زیراحؔ کے بیٹے زبدیؔ کا پوتا اَور کرمی کا بیٹا تھا۔ تَب یہوشُعؔ نے عکنؔ سے کہا، ”اَے میرے بیٹے! یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کی تمجید اَور توصیف کرو اَور مُجھے بتاؤ کہ تُم نے کیا کیا؟ مُجھ سے کچھ نہ چھُپانا۔“ عکنؔ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”یہ سچ ہے! مَیں نے یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کا گُناہ کیا ہے۔ مَیں نے یہ کیا: جَب مَیں نے لُوٹ کے مال میں بابیل کی ایک خُوبصورت چادر، دو ثاقل چاندی اَور پچاس ثاقل سونے کی ایک اینٹ دیکھی تو مَیں نے لالچ میں آکر اُنہیں رکھ لیا۔ یہ چیزیں میرے خیمہ میں زمین میں چھُپائی ہُوئی ہیں اَور چاندی اُن کے نیچے ہے۔“ چنانچہ یہوشُعؔ نے قاصِد بھیجے اَور وہ دَوڑتے ہُوئے خیمہ میں گیٔے اَور اُنہُوں نے دیکھا کہ وہ چیزیں اُس کے خیمہ میں چھُپائی ہُوئی ہیں اَور چاندی اُن کے نیچے ہے۔ اُنہُوں نے وہ چیزیں خیمہ میں سے نکال لیں اَور اُنہیں یہوشُعؔ اَور تمام بنی اِسرائیل کے پاس لاکر یَاہوِہ کے حُضُور پھیلا کر رکھ دیا۔ تَب یہوشُعؔ نے سَب اِسرائیلیوں سمیت زیراحؔ کے بیٹے عکنؔ کو اَور اُس چاندی اَور چادر اَور سونے کی اینٹ کو اَور اُس کے بیٹے اَور بیٹیوں کو اُس کے مویشیوں گدھوں اَور بھیڑوں کو؛ اُس کے خیمہ کو اُس کے پاس جو کچھ تھا سَب کو وادیِ عکورؔ میں لے گئے۔ یہوشُعؔ نے اُس سے کہا، ”تُم ہم پر یہ آفت کیوں لائے؟ آج کے دِن یَاہوِہ تُم پر آفت نازل کریں گے۔“ تَب سَب اِسرائیلیوں نے اُسے سنگسار کیا اَور پھر اُس کے باقی لوگوں کو بھی سنگسار کرنے کے بعد اُنہیں جَلا دیا۔ (یہوشُعؔ 7:11-25)
ہماری تعلیم کے لیے دی گئی لالچ کی مثالیں
یہ باتیں ہمارے لیٔے عِبرت کا باعث ہیں تاکہ ہم بُری چیزوں کی خواہش نہ کریں جَیسے اُنہُوں نے کی۔ (1 کُرِنتھِیوں 10:6)
لالچی خدا کی بادشاہی کے وارث نہیں ہوں گے
کیا تُم نہیں جانتے کہ بدکار خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہ ہوں گے؟ دھوکے میں نہ رہو! نہ حرام کار نہ بُت پرست، نہ زناکار، نہ لَونڈے باز نہ چور، نہ لالچی، نہ شرابی، نہ گالی بکنے والے، نہ ظالِم خُدا کی بادشاہی کے وارِث ہوں گے۔ (1 کُرِنتھِیوں 6:9-10)
لالچی شخص بت پرست ہے
تُم میں جنسی بدفعلی یا کسی قِسم کی ناپاکی یا لالچ کا نام تک نہ لیا جائے، کیونکہ اِس طرح کے عَمل خُدا کے مُقدّسین کو زیب نہیں دیتے۔ (اِفِسیوں 5:3)
یقین جانو کہ کسی حرام کار، ناپاک یا لالچی شخص کی المسیح اَور خُدا کی بادشاہی میں کویٔی مِیراث نہیں کیونکہ اَیسا شخص بُت پرست کے برابر ہے۔ (اِفِسیوں 5:5)
لالچی ایماندار سے میل جول نہ رکھیں
مَیں نے اَپنے خط میں تُمہیں یہ لِکھّا تھا کہ حرام کار سے میل جول نہ رکھنا۔ میرا مطلب قطعی یہ نہ تھا کہ دُنیا کے لوگوں سے ناطہ توڑ لو جِس میں حرام کار، لالچی، ٹھگ اَور بُت پرست بستے ہیں۔ کیونکہ اِس صورت میں تُم کو دُنیا سے ہی ضروُر باہر جانا پڑےگا۔ اَب یہ لِکھتا ہُوں کہ اگر کویٔی بھایٔی یا بہن کہلاتا ہے اَور پھر بھی حرام کار، لالچی، بُت پرست، گالی دینے والا، شرابی یا ٹھگ ہو تو اُس سے مَحَبّت نہ رکھنا بَلکہ اَیسے کے ساتھ کھانا تک نہ کھانا۔ (1 کُرِنتھِیوں 5:9-11)
لالچ نہ کرنے والے خدا ترس شخص کی مثال
مَیں نے کسی کے سونے، چاندی یا کپڑے کا لالچ نہیں کیا۔ (اعمال 20:33)
خدا لالچ پر قابو پا سکتا ہے
تمہارے تمام اِنسان سال میں تین بار یَاہوِہ قادر، اِسرائیل کے خُدا کے حُضُور حاضِر ہُوں۔ میں قوموں کو تمہارے سامنے سے نکال دُوں گا اَور تمہاری سرحدوں کو وسعت دُوں گا اَور جَب تُم ہر سال تین بار یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور حاضِر ہونے کے لیٔے جاؤگے تو کویٔی بھی تمہاری زمین کا لالچ نہ کرےگا۔ (خُروج 34:23-24)
شریعت کے کام کی وضاحت کے لیے لالچ کی مثال
پس ہم کیا کہیں؟ کیا شَریعت گُناہ ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ اگر شَریعت نہ ہوتی تو میں گُناہ کو نہ پہچانتا مثلاً اگر شَریعت یہ حُکم نہ دیتی، ”تُم لالچ نہ کرنا، تو میں لالچ کو نہ جانتا۔“ مگر گُناہ نے اِس حُکم سے فائدہ اُٹھایا اَور مُجھ میں ہر طرح کا لالچ پیدا کر دیا کیونکہ شَریعت کے بغیر گُناہ مُردہ ہے۔ (رُومیوں 7:7-8)