پیسے کا بُرا استعمال

یہ حوالے پیسے کے بگاڑنے والے اثر کو دکھاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دغا، نسل کشی کی کوشش اور قتل کے پیچھے محرک رہا ہے۔

یسوع سے دغا

پھر بَارہ شاگردوں میں سے ایک جِس کا نام یہُوداہؔ اِسکریوتی تھا، اہم کاہِنوں کے پاس گیا اَور اُن سے پُوچھا، ”اگر مَیں یِسوعؔ کو تمہارے حوالہ کر دُوں تو تُم مُجھے کیا دوگے؟“ اُنہُوں نے چاندی کے تیس سِکّے گِن کر اُسے دے دئیے۔ (متّی 26:14-15)
جَب یِسوعؔ کو پکڑوانے والے یہُوداہؔ نے یہ دیکھا کہ یِسوعؔ کو مُجرم ٹھہرایا گیا ہے، تو وہ بہت پشیمان ہُوا اَور اہم کاہِنوں اَور بُزرگوں کے پاس جا کر چاندی کے اُنتیس سِکّوں کو یہ کہتے ہویٔے واپس کر دیا۔ ”مَیں نے گُناہ کیا کہ ایک بے قُصُور کو قتل کے لیٔے پکڑوا دیا۔“ وہ کہنے لگے، ”ہمیں اِس سے کیا لینا دینا؟ تُو ہی جان یہ تمہاری پریشانی ہے۔“ اِس پر یہُوداہؔ اُنتیس کّوں کو بیت المُقدّس میں پھینک کرچلاگیا اَور خُود کو پھانسی لگا لی۔ اہم کاہِنوں نے اُن سِکّوں کو اُٹھالیا اَور کہا، ”یہ رقم تو خُون کی قیمت ہے، شَریعت کے مُطابق اِسے بیت المُقدّس کے خزانہ میں ڈالنا جائز نہیں۔“ چنانچہ اُنہُوں نے فیصلہ کرکے اُس رقم سے کُمہار کا کھیت پردیسیوں کو دفن کرنے کے لیٔے خرید لیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کھیت آج تک خُون کا کھیت کہلاتا ہے۔ تَب وہ بات پُوری ہو گئی جو یرمیاہؔ نبی کی مَعرفت کہی گئی تھی: ”اُنہُوں نے اُس کی مُقرّرہ قیمت کے طور پر چاندی کے تیس سِکّے لے لیٔے۔ یہ قیمت بنی اِسرائیلؔ کے بعض لوگوں نے اُس کے لیٔے ٹھہرائی تھی، اَور اُنہُوں نے اُس رقم کا اِستعمال کُمہار کے کھیت خریدنے کے لیٔے کیا، جَیسا خُداوؔند نے مُجھے حُکم دیا تھا۔“ (متّی 27:3-10)
پھر یہُوداہؔ اِسکریوتی نے، جو بَارہ شاگردوں میں سے ایک تھا، اہم کاہِنوں کے پاس جا کر بتایا کہ وہ یِسوعؔ کو اُن کے حوالہ کر دے گا۔ وہ یہ بات سُن کر بہت خُوش ہویٔے اَور اُسے کُچھ رقم دینے کا وعدہ کیا۔ اِس کے بعد وہ حُضُور کو پکڑوانے کا مُناسب موقع ڈھونڈنے لگا۔ (مرقُس 14:10-11)
تبھی شیطان یہُوداہؔ میں سما گیا، جسے اِسکریوتی بھی کہتے تھے، جو بَارہ شاگردوں میں سے ایک تھا۔ وہ اہم کاہِنوں اَور بیت المُقدّس کے پہرےداروں کے افسران اَور رہنماؤں کے پاس گیا اَور اُن سے مشورہ کرنے لگاکہ وہ کس طرح یِسوعؔ کو اُن کے ہاتھوں میں پکڑوا دے۔ وہ بڑے خُوش ہویٔے اَور اُسے رُوپیہ دینے پر راضی ہو گیٔے۔ (لُوقا 22:3-5)
اُس نے (اَپنی بدکاری سے کمائی، ہویٔی رقم سے ایک کھیت خریدا؛ جہاں وہ سَر کے بَل گرا اَور اُس کا پیٹ پھٹ گیا اَور ساری انتڑیاں باہر نکل پڑیں۔ (اعمال 1:18)

بھائیوں کا غلامی میں بیچا جانا

چنانچہ جَب وہ مِدیانی سوداگر نزدیک آئے تو اُن کے بھائیوں نے یُوسیفؔ کو گڑھے میں سے کھینچ کر باہر نکالا، اَور یُوسیفؔ کو چاندی کے بیسں ثاقل کے عِوض اِشمعیلیوں کے ہاتھ بیچ ڈالا جو اُسے مِصر لے گیٔے۔ (پیدائش 37:28)

فال گیری کے لیے دی گئی رقم

چنانچہ مُوآبی اَور مِدیانی بُزرگ اَپنے ساتھ فال کھولنے کی اُجرت لے کر روانہ ہویٔے۔ جَب وہ بِلعاؔم کے پاس پہُنچے تو اُسے بلقؔ کا پیغام دے دیا۔ (گِنتی 22:7)
لیکن بِلعاؔم نے اُنہیں جَواب دیا، ”چاہے بلقؔ اَپنے محل میں جِتنا چاندی اَور سونا مُجھے دے تَب بھی میں اَپنے یَاہوِہ خُدا کے حُکم سے تجاوُز نہیں کر سَکتا۔ (گِنتی 22:18)
’اگر بلقؔ اَپنے محل میں جِتنا چاندی اَور سونا مُجھے دے تَب بھی میں اَپنی طرف سے بھلا یا بُرا کچھ بھی نہیں کر سَکتا۔ جو یَاہوِہ کے حُکم کے خِلاف ہو، بَلکہ جو کچھ یَاہوِہ کہیں گے میں وُہی کہُوں گا‘؟ (گِنتی 24:13)

یہودی قوم کو مٹانے کی کوشش کے لیے پیش کی گئی رقم

اگر بادشاہ سلامت پسند فرمائیں تو اِن لوگوں کے ہلاک کئے جانے کا فرمان جاری کیا جائے اَور مَیں چاندی کے دس ہزار تالنت شاہی خزانہ میں جمع کراؤں گا تاکہ وہ اُس کام پر خرچ کئے جایٔیں۔“ بادشاہ نے اَپنی اُنگلی سے شاہی مُہر والی انگُوٹھی اُتار کر یہُودیوں کے دُشمن ہامانؔ بِن ہمّداتھاؔ اگاگی کے سُپرد کر دی اَور بادشاہ نے ہامانؔ سے کہا، ”تُو اَپنی رقم اَپنے ہی پاس رکھ اَور اُن لوگوں سے جَیسا تُو مُناسب سمجھے وُہی کر۔“ (ایسترؔ 3:9-11)
مردکیؔ نے اُسے پُوری سرگزشت کہہ سُنایٔی اَور اُس رقم کے بارے میں بھی بتایا جِس کے شاہی خزانہ میں جمع کرانے کا ہامانؔ نے وعدہ کیا تھا تاکہ اُسے یہُودیوں کو ہلاک کرنے پر خرچ کیا جائے۔ (ایسترؔ 4:7)

شمسون کو نقصان پہنچانے کے لیے دی گئی رقم

چند دِنوں کے بعد سُورِقؔ کی وادی میں دلیلہؔ نام کی ایک عورت سے اُسے مَحَبّت ہو گئی۔ اَور فلسطینیوں کے سرداروں نے اُس عورت کے پاس جا کر کہا، ”اگر تُو اُس کو پھُسلا کر دریافت کر لے کہ اُس کی قُوّت کا راز کیا ہے اَور ہم کیوں کر اُس پر غالب آسکتے ہیں تاکہ ہم اُسے باندھ کر اُسے اِیذا پہُنچا سکیں، تو ہم میں سے ہر ایک تُجھے گیارہ سَو ثاقل چاندی دے گا۔“ (قُضاۃ 16:4-5)
جَب دلیلہؔ نے دیکھا کہ اُس نے سَب کچھ بتا دیا ہے تو اُس نے فلسطینی سرداروں کو کہلا بھیجا، ”ایک بار پھر آ جاؤ؛ کیونکہ اُس نے مُجھے سَب کچھ بتا دیا ہے۔“ چنانچہ فلسطینیوں کے سردار چاندی لے کر آ پہُنچے۔ (قُضاۃ 16:18)

قتل کے لیے دی گئی رقم

اُنہُوں نے اُسے بَعل برِیتؔ کے مَندِر سے ستّر ثاقل چاندی دی جِس کی مدد سے اَبی ملیخ نے بعض بدمعاشوں اَور لفنگوں کو اَپنا پیروکار بنا لیا۔ (قُضاۃ 9:4)