ٹیکس ادا کرنے کا حکم
اِس لیٔے نہ محض خُدا کے قہر کی وجہ سے اِطاعت کرنا واجِب ہے بَلکہ ضمیر کے مُعاملے کے طور پر بھی اِطاعت کرنا لازمی ہے۔ تُم حاکموں کو محصُول بھی اَدا کرتے ہو کیونکہ وہ خُدا کے خادِم ہوتے ہویٔے اَپنا اِختیار کو اَدا کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہر ایک کو اُس کا حق اَدا کرو: جسے محصُول دینا چاہئے، اُسے محصُول دو؛ جِس سے خوف کرنا چاہئے، اُس سے خوف کرو؛ اَور جِس کا اِحترام کرنا چاہئے، اُس کا اِحترام کرو۔ (رُومیوں 13:5-7)
یسوع نے ٹیکس ادا کرنے کی تائید کی
اِس لیٔے ہمیں بتائیں کہ آپ کی رائے میں قَیصؔر کو محصُول اَدا کرنا روا ہے یا نہیں؟“ یِسوعؔ اُن کی منافقت کو سمجھ گیٔے اَور فرمایا، ”اَے ریاکاروں! مُجھے کیوں آزماتے ہو؟ جو سِکّہ محصُول کے طور پر دیتے ہو اُسے مُجھے دِکھاؤ۔“ وہ ایک دینار لے آئے۔ حُضُور نے اُن سے پُوچھا، ”اِس دینار پر کِس کی صورت اَور کِس کا نام لِکھّا ہُواہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”قَیصؔر کا۔“ تَب حُضُور نے اُن سے فرمایا، ”جو قَیصؔر کا ہے وہ قَیصؔر کو اَورجو خُدا کا ہے، وہ خُدا کو اَدا کرو۔“ (متّی 22:17-21)
چنانچہ وہ آئے اَور یِسوعؔ سے کہنے لگے، ”اُستاد محترم، ہم جانتے ہیں کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ اَور کسی کی پروا نہیں کرتے کہ وہ کون ہیں؛ آپ کسی کے طرف دار نہیں بَلکہ راستی سے راہِ خُدا کی تعلیم دیتے ہیں۔ ہمیں یہ بتائیے کہ کیا قَیصؔر کو محصُول اَدا کرنا روا ہے یا نہیں؟ کیا ہم قَیصؔر کو محصُول اَدا کریں یا نہیں؟“ حُضُور اُن کی منافقت کو سمجھ گیٔے اَور فرمایا۔ ”مُجھے کیوں آزماتے ہو؟ مُجھے ایک دینار لاکر دِکھاؤ۔“ وہ ایک دینار لے آئے، تَب حُضُور نے پُوچھا، ”اِس دینار پر کِس کی صورت اَور کِس کا نام لِکھّا ہُواہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”قَیصؔر کا۔“ یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”جو قَیصؔر کا ہے وہ قَیصؔر کو اَورجو خُدا کا ہے وہ خُدا کو اَدا کرو۔“ اَور وہ یہ جَواب سُن کر حیران رہ گیٔے۔ (مرقُس 12:14-17)
کیا ہمارے لیٔے قَیصؔر کو محصُول اَدا کرنا روا ہے یا نہیں؟“ یِسوعؔ نے اُن کی منافقت کو جانتے ہویٔے اُن سے کہا، ”مُجھے ایک دینار لاکر دِکھاؤ، اِس پر کس کی صورت اَور کس کا نام لِکھّا ہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”قَیصؔر کا۔“ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”جو قَیصؔر کا ہے قَیصؔر کو اَورجو خُدا کا ہے خُدا کو اَدا کرو۔“ (لُوقا 20:22-25)
ٹیکس ادا کرنے کی مثالیں
اَور مُوآب کا بادشاہ میشاؔ بھیڑیں پالتا تھا اَور اُسے شاہِ اِسرائیل کو خراج میں سالانہ ایک لاکھ برّے اَور ایک لاکھ مینڈھوں کی اُون دینی پڑتی تھی۔ (2 سلاطین 3:4)
مناخِمؔ نے بنی اِسرائیل کے سارے دولتمند اَشخاص سے جبراً آدھا کِلو چاندی محصُول کے طور پر وصول کی تاکہ اُسے شاہِ اشُور کو تحفہ میں دی جا سکے۔ لہٰذا شاہِ اشُور واپس چلا گیا اَور مُلک میں نہ ٹھہرا۔ (2 سلاطین 15:20)
اَور فَرعوہؔ نِکوہؔ نے اُسے مُلک حماتؔ کے رِبلہؔ شہر میں قَید کر دیا تاکہ وہ یروشلیمؔ میں سلطنت نہ کر سکے اَور یہُوداہؔ کے مُلک پر ایک سَو تالنت چاندی اَور ایک تالنت سونا خراج کے طور پر مُقرّر کر دیا۔ یہُویقیمؔ نے فَرعوہؔ نِکوہؔ کو وہ چاندی اَور سونا تحفہ میں تو بھجوا دیا جِس کا اُس نے مطالبہ کیا تھا۔ مگر اِس وجہ سے اُس نے مُلک پر محصُول لگا دیا کہ فَرعوہؔ کے حُکم کے مُطابق اُسے وہ رقم مُہیّا کرائے۔ اِس لئے اُس نے اَپنے ہی شُمار کے مُطابق لوگوں سے مُقرّرہ مقدار جبراً چاندی اَور سونا وصول کرنے لگا۔ (2 سلاطین 23:33, 35)
علاوہ اَزیں خُدا کا یہ گھر تعمیر کرنے میں تُم نے یہُودیوں کے بُزرگوں کے لیٔے کیا کچھ کرناہے میں اُس کے لیٔے حُکم دیتا ہُوں: اِن آدمیوں کے تمام اخراجات شاہی خزانہ سے یعنی دریائے فراتؔ کے پار کے خراج میں سے اَدا کئے جایٔیں تاکہ کام نہ رُکے۔ (عزرا 6:8)
خاص انعام – ٹیکس سے استثنیٰ
اِسرائیلی کہہ رہے تھے، ”دیکھو، یہ آدمی کیسے باہر نکل کر آتا رہتاہے؟ وہ اِسرائیلیوں کو مُقابلہ کے لیٔے للکارنے آتا ہے اَور ڈُوب مرنے کے لیٔے کہتاہے۔ جو آدمی اُسے قتل کرےگا بادشاہ اُسے بہت سِی دولت دے گا اَور اَپنی بیٹی بھی اُس سے بیاہ دے گا اَور اِسرائیل میں اُس کے باپ کے گھرانے کو محصُول سے مُستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔“ (1 شموایلؔ 17:25)
لاویوں سے کوئی ٹیکس/خراج نہیں لیا جاتا تھا
تُمہیں یہ بھی مَعلُوم ہونا چاہئے کہ تُمہیں کاہِنوں، لیویوں، موسیقاروں، دربانوں اَور بیت المُقدّس کے خُدّام پر یا خُدا کے گھر کے دیگر کارندوں پر محصُول، خراج یا چُنگی لگانے کا کویٔی اِختیار نہیں۔ (عزرا 7:24)
ٹھوکر سے بچنے کے لیے یسوع نے ہیکل کا ٹیکس ادا کیا
اَور جَب وہ کَفرنحُومؔ میں پہُنچے تَب، دو دِرہم بیت المُقدّس کا محصُول لینے والے پطرس کے پاس آکر پُوچھنے لگے کہ، ”کیا تمہارا اُستاد بیت المُقدّس کا مُقرّرہ محصُول اَدا نہیں کرتا؟“ پطرس نے جَواب دیا، ”ہاں، اَدا کرتا ہے۔“ جَب پطرس گھر میں داخل ہُوئے تو یِسوعؔ نے پہلے یہی فرمایا، ”اَے شمعُونؔ! تمہارا کیا خیال ہے؟ دُنیا کے بادشاہ کِن لوگوں سے محصُول یا جزیہ لیتے ہیں؟ اَپنے بیٹوں سے یا غَیروں سے؟“ جَب پطرس نے کہا، ”غَیروں سے۔“ تَب یِسوعؔ نے فرمایا، ”پھر تو بیٹے بَری ہُوئے۔ لیکن ہم اُن کے لیٔے ٹھوکر کا باعث نہ ہوں، اِس لیٔے تُم جھیل پر جا کر بَنسی ڈالو اَورجو مچھلی پہلے ہاتھ آئے، اُس کا مُنہ کھولنا تو تُمہیں چار دِرہم کا سِکّہ ملے گا۔ اُسے لے جانا اَور ہم دونوں کے لیٔے محصُول اَدا کردینا۔“ (متّی 17:24-27)
خراج ادا کرنے کی مثالیں
اَور شُلومونؔ دریائے فراتؔ سے لے کر فلسطینیوں کی سرزمین تک اَور مِصر کی سرحد تک تمام مملکتوں پر حُکمران تھے۔ یہ تمام مُلک خراج تحسین اَدا کرتے تھے اَور شُلومونؔ کے زندہ رہنے تک اُن کے مطیع رہے۔ (1 سلاطین 4:21)
اَور شاہِ یہُودیؔہ آحازؔ کے بارہویں سال میں ہوشِیعؔ بِن اَیلہ سامریہؔ میں بنی اِسرائیل کا بادشاہ بنا اَور اُس نے نَو سال تک حُکمرانی کی۔ اُس نے وُہی کیا جو یَاہوِہ کی نظر میں بُرا تھا، مگر بنی اِسرائیل کے اُن بادشاہوں کی مانند نہیں کیا جو اُس سے پیشتر تھے۔ اَور شاہِ اشُور شلمنسرؔ نے ہوشِیعؔ پر حملہ کر دیا اَور ہوشِیعؔ نے اُس کی جاگیرداری قبُول کرلی اَور اُس کو بہت زِیادہ خراج دینا پڑتا تھا۔ (2 سلاطین 17:1-3)
چنانچہ یَاہوِہ نے اُس کی بادشاہی کو بڑا اِستحکام بخشا اَور تمام یہُودیؔہ کے باشِندوں نے یہوشافاطؔ کو نذرانے کے طور پر تحفے پیش کئے جِس کے باعث اُسے بڑی دولت اَور عزّت حاصل ہُوئی۔ (2 تواریخ 17:5)
یہوشافاطؔ طاقتور ہوتا چلا گیا اَور اُس نے یہُودیؔہ میں قلعہ اَور ذخیرہ کے شہر تعمیر کئے۔ (2 تواریخ 17:12)
یُوتامؔ نے عمُّونیوں کے بادشاہ کے خِلاف جنگ چھیڑی اَور اُنہیں مطیع کیا۔ چنانچہ اُسی سال عمُّونیوں نے اُسے اُسی سال ایک سَو تالنت چاندی، دس ہزار کور گیہُوں اَور دس ہزار کور جَو نذرانہ میں دئیے۔ بنی عمُّون نے اُتنا ہی دُوسرے اَور تیسرے سال بھی اُسے نذرانے میں دیا۔ (2 تواریخ 27:5)
شاہِ مِصر نے اُسے یروشلیمؔ میں تخت سے اُتار دیا اَور یہُودیؔہ پر ایک سَو تالنت چاندی اَور ایک تالنت سونے کا محصُول لگا دیا۔ (2 تواریخ 36:3)
یروشلیمؔ میں طاقتور بادشاہ بھی ہُوئے ہیں جنہوں نے دریائے فراتؔ کے پار کے تمام علاقہ پر حُکمرانی کی اَور جنہیں چُنگی، خراج اَور محصُول اَدا کیا جاتا تھا۔ (عزرا 4:20)
خراج ادا نہ کرنے پر دھمکی
مزید برآں بادشاہ کو مَعلُوم ہو کہ اگر یہ شہر تعمیر ہو جاتا ہے اَور اُس کی فصیلیں بحال ہو جاتی ہیں تو آئندہ یہ لوگ کویٔی چُنگی، خراج یا محصُول اَدا نہ کریں گے اَور شاہی آمدنی کم ہو جائے گی۔ (عزرا 4:13)