دینے کی آزمائشیں
ایمان کی آزمائش
اَے میرے بھائیوں اَور بہنوں! اگر کویٔی کہے کہ میں ایمان رکھتا ہُوں اَور وہ اعمال نہ کرتا ہو تو کیا فائدہ؟ کیا اَیسا ایمان اُسے نَجات دے سَکتا ہے؟ فرض کرو کہ اگر کسی بھایٔی یا بہن کے پاس کپڑوں اَور روزانہ روٹی کی کمی ہو۔ اَور تُم میں سے کویٔی اُنہیں کہے، ”سلامتی کے ساتھ جاؤ، گَرم کپڑے پہنو اَور کھا کر سیر رہو،“ لیکن اُنہیں زندگی کی ضروُری چیزیں نہ دے تو خالی الفاظ سے کیا فائدہ ہوگا؟ ٹھیک اِسی طرح سے ایمان کے ساتھ اگر اعمال نہ ہو تو وہ مُردہ ہے۔ (یعقوب 2:14-17)
ہم میں خدا کی محبت قائم رہنے کی آزمائش
اگر کسی کے پاس دُنیا کا مال مَوجُود ہے لیکن وہ اَپنے بھایٔی کو مُحتاج دیکھ کر اُس پر رحم کرنے سے باز رہتاہے تو خُدا کی مَحَبّت اُس میں کِس طرح قائِم رہ سکتی ہے؟ (1 یُوحنّا 3:17)
پڑوسی سے محبت کی آزمائش
میں تُمہیں حُکم نہیں دے رہا، بَلکہ تمہاری بے رِیا مَحَبّت کو آزمانے کے لیٔے دُوسروں کی سرگرمی کی مثال دے رہا ہُوں۔ (2 کُرِنتھِیوں 8:8)
نیک سامری کی مثال
پھر ایک سامری، جو سفر کر رہاتھا، وہاں نِکلا؛ زخمی کو دیکھ کر اُسے بڑا ترس آیا۔ وہ اُس کے پاس گیا اَور اُس کے زخموں پر تیل اَور انگوری شِیرہ لگا کر اُنہیں باندھا اَور زخمی کو اَپنے گدھا پر بِٹھا کر سرائے میں لے گیا اَور اُس کی تیمار داری کی۔ اگلے دِن اُس نے دو دینار نکال کر سرائے کے رکھوالے کو دئیے اَور کہا، ’اِس کی دیکھ بھال کرنا، اَور اگر خرچہ زِیادہ ہُوا تو، میں واپسی پر اَدا کر دُوں گا۔‘ (لُوقا 10:33-35)
خداوندی کی آزمائش
یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر تُو کامل ہونا چاہتاہے تو جا، اَپنا سَب کُچھ بیچ کر غریبوں کی مدد کر تو تُجھے آسمان میں خزانہ ملے گا اَور آکر میرے پیچھے ہولے۔“ مگر جَب اُس نوجوان نے یہ بات سُنی، تو وہ غمگین ہوکر چلا گیا کیونکہ وہ بہت دولتمند تھا۔ (متّی 19:21-22)
یِسوعؔ نے اُسے بغور دیکھا اَور اُس پر ترس آیا اَور فرمایا۔ ”تمہارا ایک بات پر عَمل کرنا ابھی باقی ہے، جاؤ، اَپنا سَب کُچھ فروخت کرکے اَور وہ رقم غریبوں میں تقسیم کر دو، تو تُمہیں آسمان پر خزانہ ملے گا۔ پھر آکر، میرے پیچھے ہو لینا۔“ یہ بات سُن کر اُس آدمی کے چہرہ پر اُداسی چھاگئی۔ اَور وہ غمگین ہوکر چلا گیا، کیونکہ وہ بہت دولتمند تھا۔ (مرقُس 10:21-22)
جَب یِسوعؔ نے یہ سُنا تو اُس سے کہا، ”ابھی تک تُجھ میں ایک بات کی کمی ہے۔ اَپنا سَب کُچھ بیچ دے اَور رقم غریبوں میں بانٹ دے، تو تُجھے آسمان پر خزانہ ملے گا۔ پھر آکر میرے پیچھے ہو لینا۔“ یہ بات سُن کر اُس پر بہت اُداسی چھاگئی، کیونکہ وہ کافی دولتمند تھا۔ (لُوقا 18:22-23)
دینے کا رویہ
خدا کا رویہ
کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اِس قدر مَحَبّت کی کہ اَپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کویٔی بیٹے پر ایمان لایٔے ہلاک نہ ہو بَلکہ اَبدی زندگی پایٔے۔ (یُوحنّا 3:16)
اَور اِس لیٔے جو مَحَبّت خُدا کو ہم سے ہے، اُس مَحَبّت کو ہم جان گیٔے ہیں اَور ہمیں اُس کے مَحَبّت کا یقین ہے۔ خُدا مَحَبّت ہے اَورجو مَحَبّت میں قائِم رہتاہے وہ خُدا میں اَور خُدا اُس میں قائِم رہتاہے۔ (1 یُوحنّا 4:16)
ہر اَچھّی نِعمت اَور کامِل تحفہ آسمان سے اَور نُوروں کے باپ کی طرف سے ہی نازل ہوتاہے۔ وہ سایہ کی طرح گھٹتا یا بڑھتا نہیں بَلکہ لاتبدیل ہے۔ (یعقوب 1:17)
ہمارا رویہ
صحیح رویہ کیا ہے؟
محبت سے
اَور اگر اَپنا سارا مال غریبوں میں بانٹ دُوں اَور اَپنا بَدن قُربانی کے طور پر جَلائے جانے کے لیٔے دے دُوں اَور مَحَبّت سے خالی رہُوں تو مُجھے کویٔی فائدہ نہیں۔ (1 کُرِنتھِیوں 13:3)
خوشی سے
جِس نے دِل میں جِس قدر دینے کا خیال کیا ہُواہے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کےاُتنا ہی دے اَور خُوشی سے دے، نہ کہ مجَبُوری یا کسی دباؤسے کیونکہ خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔ (2 کُرِنتھِیوں 9:7)
ہم محبت سے کیسے دیں؟
محبت اور عبادت کے اظہار کے طور پر خداوند کو دیں
”بنی اِسرائیل سے کہو کہ میرے لیٔے نذر لائیں۔ اَورجو اِنسان دِل کی خُوشی سے نذر لایٔے تو اُسے میرے لیٔے قبُول کر لینا۔ (خُروج 25:2)
”تُم بنی اِسرائیل کی تعداد مَعلُوم کرنے کے لیٔے اُن کی مردُم شماری کرو تو ہر ایک جَب وہ شُمار کیا جائے یَاہوِہ کو اَپنی جان کا فدیہ اَدا کرے۔ تَب مردُم شماری کے وقت اُن پر کویٔی وَبا نازل نہ ہوگی۔ ہر اِنسان جِس کی گِنتی ہو چُکے وہ پاک مَقدِس کے ثاقل کے حِساب سے نیم ثاقل دے۔ یہ نیم ثاقل یَاہوِہ کے لیٔے نذر ہے۔ بیس بَرس یا اُس سے زِیادہ عمر کے وہ سَب جِن کی گِنتی ہو جائے یَاہوِہ کو نذر دیں۔ (خُروج 30:12-14)
تُم اُس میں سے جو تمہارے پاس ہے یَاہوِہ کے لیٔے نذر لایا کرو۔ اَور ہر ایک خُوشی سے یَاہوِہ کے لیٔے نذر: ”سونا، چاندی، کانسے؛ (خُروج 35:5)
اَور ہر کویٔی جِس کی نیّت نیک تھی اَور جِس کے دِل نے اُسے ترغِیب دی وہ آیا اَور خیمہ اِجتماع کے کام، وہاں کی پرستش اَور مُقدّس لباس کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور نذر لایا۔ اَور مَرد اَور عورتیں سَب کے سَب خُوشی خُوشی آئے اَور سونے کے تمغے، سونے کی بالیاں، انگُشتریاں اَور آرائِش کی دیگر اَشیا لایٔے اَور اُن سَب نے ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر اَپنا سونا یَاہوِہ کو پیش کیا۔ اَور ہر ایک جِس کے پاس نیلے آسمانی رنگ کا، اَرغوانی رنگ کا یا سُرخ رنگ کا کپڑا یا نفیس کتان یا بکریوں کی پشم، مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالیں یا دریائی بچھڑوں کی کھالیں تھیں لے آیا۔ اَور وہ جنہوں نے چاہا کہ چاندی یا کانسے کی نذر پیش کریں وہ اُسے یَاہوِہ کے لیٔے نذر کے طور پر لایٔے اَور جِس کے پاس کسی حِصّہ میں کام آنے والی کیکر کی لکڑی تھی وہ اُسی کو لے آیا۔ اَور ہُنرمند عورتوں نے نیلے آسمانی، اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کا کپڑا یا نفیس کتان جو اُنہُوں نے اَپنے ہاتھوں سے کاتا اَور بُنا تھا لاکر دیا۔ اَورجو عورتیں سمجھدار اَور ہُنرمند تھیں اُنہُوں نے بکریوں کی پشم کاتی۔ اَورجو سردار تھے وہ افُود اَور سینہ بند کے لیٔے سنگِ سُلیمانی اَور نگینے لایٔے اَور وہ جَلانے کے لیٔے، مَسح کرنے کے لیٔے اَور خُوشبودار بخُور کے لیٔے مَسالے اَور زَیتُون کا تیل بھی لایٔے۔ اَور یُوں تمام بنی اِسرائیل مَرد اَور عورتیں اَپنی ہی خُوشی سے یَاہوِہ کے حُضُور اُس تمام کام کے لیٔے رضا کی قُربانی کے نذرانے لایٔے جسے کرنے کا یَاہوِہ نے اُنہیں مَوشہ کی مَعرفت حُکم دیا تھا۔ (خُروج 35:21-29)
اَور ہر قُربانی کی ایک ایک روٹی یَاہوِہ کے لیٔے نذرانہ کے طور پر لایٔے؛ اَور یہ اُسی کاہِنؔ کا ہوگا جو سلامتی کی نذر کا خُون مذبح پر چھڑکتا ہے۔ (اَحبار 7:14)
تَب یَاہوِہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”مَیں نے خُود تُمہیں اُن نذرانوں کی ذمّہ داری دی ہے جو مُجھے پیش کئے جاتے ہیں۔ جتنے پاک نذرانے بنی اِسرائیل میرے حُضُور پیش کرتے ہیں وہ سَب میں تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں کو تمہارے حق میں دائمی حِصّہ کے طور پر دے رہا ہُوں۔ نہایت پاک نذرانوں میں سے جو حِصّہ آگ سے بچایا جائے وہ تمہارا ہوگا۔ وہ نذرانے جنہیں وہ نہایت پاک قُربانیوں کے طور پر مُجھے پیش کرتے ہیں خواہ وہ اناج کی نذر، گُناہ کی قُربانی یا خطا کی قُربانیاں ہُوں سَب تُم اَور تمہارے بیٹوں کے لیٔے ہیں۔ تُم اُن کو نہایت مُقدّس جان کر کھانا۔ صِرف مَرد اُنہیں کھایٔیں۔ اَور تُم اُنہیں پاک ماَننا۔ ”اَور یہ بھی تمہارا ہوگا: جِتنا نذرانہ بنی اِسرائیل ہلانے کی نذروں کی قُربانی کے لیٔے دیں اُسے میں تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں اَور بیٹیوں کو اُن کا حق دائمی حِصّہ کے طور پر دیتا ہُوں اُن کا اَبدی حق مُقرّر کر دے رہا ہُوں۔ تمہارے خاندان کا ہر شخص جو رسماً پاک ہو اُنہیں کھا سَکتا ہے۔ ”بہترین زَیتُون کا تیل، بہترین نئے انگوری شِیرے اَور اناج جسے وہ اَپنی پہلی فصل کے پہلے پھل کے طور پر یَاہوِہ کو پیش کرتے ہیں وہ سَب میں تُمہیں دیتا ہُوں۔ اَپنے مُلک کا سارا پہلا پھل جسے وہ یَاہوِہ کے لیٔے لائیں تمہارا ہوگا۔ تمہارے خاندان کا ہر شخص جو رسماً پاک ہو اُنہیں کھا سَکتا ہے۔ ”بنی اِسرائیل کی جو یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کی ہُوئی ہر شَے تمہاری ہوگی۔ ہر رِحم کا پہلا بچّہ خواہ وہ اِنسان ہو یا حَیوان جو یَاہوِہ کو نذر کیا گیا ہو تمہارا ہے۔ لیکن تُم اِنسان کے پہلوٹھے اَور ناپاک جانوروں کے پہلوٹھے نر بچّوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دینا۔ جَب وہ ایک مہینے کے ہُوں تَب تُم اُنہیں اُن کی فدیہ کی مُقرّرہ قیمت لے کر چھوڑا دینا جو پاک مَقدِس کے بیس گِیرہ کی ثاقل کے حِساب سے چاندی کی پانچ ثاقل ہوگی۔ ”لیکن گائے، بھیڑ اَور بکری کے پہلوٹھوں کا فدیہ نہ لینا۔ وہ مُقدّس ہیں۔ تُو اُن کا خُون مذبح پر چھڑکنا اَور اُن کی چربی آتِشی قُربانی کے طور پر جَلا دینا تاکہ وہ یہ یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو ٹھہرے۔ جِس طرح ہلانے کی نذر کی قُربانی کا سینہ اَور داہنی ران تمہارے ہیں اُسی طرح اُن کا گوشت بھی تمہارا ہوگا۔ بنی اِسرائیل کی یَاہوِہ کو پیش کی ہُوئی مُقدّس قُربانیوں کی نذروں میں سے جو کچھ الگ رکھا جائے اُسے میں تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں اَور بیٹیوں کو تمہارے مُقرّرہ حِصّہ کے طور پر دے دیتا ہُوں۔ یہ یَاہوِہ کے حُضُور تمہارے اَور تمہاری نَسل کے لیٔے نمک کا دائمی عہد ہے۔“ یَاہوِہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”اُن کے مُلک میں تمہاری کویٔی مِیراث نہ ہوگی اَور نہ اُن کے درمیان تمہارا کویٔی حِصّہ ہوگا۔ میں ہی بنی اِسرائیل میں تمہارا حِصّہ اَور تمہاری مِیراث ہُوں۔ ”اَور مَیں نے لیویوں کو اُس خدمت کے عِوض جو وہ خیمہ اِجتماع میں اَنجام دیتے ہیں اِسرائیل کی ساری دہ یکی مِیراث کے طور پر دی ہے۔ آئندہ بنی اِسرائیل خیمہ اِجتماع کے نزدیک ہرگز نہ آئیں۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ گُناہ اُن کے سَر لگے اَور وہ مَر جایٔیں۔ بَلکہ لیوی ہی خیمہ اِجتماع کی خدمت کریں اَور وُہی اُن کا بارِ گُناہ اُٹھایا کریں۔ یہ آئندہ پُشتوں کے لیٔے دائمی فرمان ہے۔ اَور بنی اِسرائیل کے درمیان اُنہیں کویٔی مِیراث نہ ملے۔ اِس کے عِوض مَیں نے اُس دہ یکی کو جو اِسرائیلی نذر کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرتے ہیں لیویوں کی مِیراث قرار دیا ہے۔ اِس لیٔے مَیں نے اُن کے حق میں کہا ہے: ’بنی اِسرائیل کے درمیان اُنہیں کویٔی مِیراث نہ ملے۔‘ “ (گِنتی 18:8-24)
جنہیں داویؔد بادشاہ نے یَاہوِہ کو نذر کر دیا جَیسا کہ اُنہُوں نے دیگر اَقوام یعنی اِدُوم، مُوآب، بنی عمُّون، فلسطینیوں اَور عمالیقؔ سے حاصل کَردہ چاندی اَور سونا یَاہوِہ کو نذر کیا تھا۔ (1 تواریخ 18:11)
بہت سے لوگ یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے لیٔے عطیات اَور حِزقیاہؔ شاہِ یہُودیؔہ کے لیٔے قیمتی تحائف لایٔے اَور تَب سے تمام قوموں میں اُس کا بڑا اِحترام ہونے لگا۔ (2 تواریخ 32:23)
داویؔد بادشاہ نے اُنہیں یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کر دیا جَیسا کہ اُس نے ساری مغلُوب قوموں کے سونے چاندی کو کیا تھا۔ (2 شموایلؔ 8:11)
”خُدا کے لیٔے شُکر گُزاری کی قُربانیاں گزرانو، اَور خُداتعالیٰ کے لیٔے اَپنی مَنّتیں پُوری کرو، (زبُور 50:14)
میں سوختنی نذریں لے کر آپ کے ہیکل میں آؤں گا اَور اَپنی وہ مَنّتیں آپ کے لئے پُوری کروں گا۔ (زبُور 66:13)
آپ کے یروشلیمؔ کے ہیکل کے سبب سے بادشاہ آپ کی لیٔے عطیات لائیں گے۔ (زبُور 68:29)
یَاہوِہ، اَپنے خُدا کے لیٔے مَنّت مانو اَور پُوری کرو؛ اَور اِردگرد کے سَب لوگ اُن کے لیٔے جِن سے ڈرنا واجِب ہے، عطیات لائیں۔ (زبُور 76:11)
کیونکہ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں کہ تمام بنی اِسرائیل اَپنے مُلک میں میرے مُقدّس پہاڑ پر یعنی بنی اِسرائیل کے اُونچے پہاڑ پر میری عبادت کریں گے اَور وہاں میں اُنہیں قبُول کروں گا اَور وہیں، مَیں تمہارے نذرانے اَور تمہارے پہلے پھل کے ہدیئے، تمہاری تمام مُقدّس قُربانیوں کی ضروُرت ہوگی۔ (حزقی ایل 20:40)
اَے صِیّونؔ کی بیٹی، اُٹھ اَور کُچل، کیونکہ مَیں تُجھے لوہے کے سینگ، اَور کانسے کے کھُر دُوں گا، اَور تُو بہت سِی قوموں کے ٹکڑے کر ڈالے گی۔ اَور اُن کے ناجائز آمدنی کے ذخیروں کو خُدا کی نذر کرےگی، اَور اُن کے مال کو زمین کے مالک، یَاہوِہ خُدا کے حُضُور میں لایٔے گی۔ (میکاہؔ 4:13)
ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ خداوند کی طرف سے ہے اور ہم اسے لوٹا رہے ہیں
”لیکن مَیں کون ہُوں اَور میرے لوگ کیا ہیں کہ اِس طرح فراخدلی سے دینے کے قابل ہوں؟ کیونکہ سَب چیزیں آپ ہی کی طرف سے ملتی ہیں اَورجو کچھ آپ کے ہاتھ سے ہمیں ملتا ہے اُسی میں سے ہم نے دیا ہے۔ کیونکہ ہم آپ کی نظر میں پردیسی اَور مُسافر ہیں جَیسے ہمارے آباؤاَجداد تھے اَور ہمارے دِن رُوئے زمین پر سایہ کی مانند بے قِیام ہیں۔ اَے یَاہوِہ ہمارے خُدا، یہ ساری چیزیں جو ہم نے جمع کی ہیں اِس لیٔے ہیں کہ آپ کے پاک نام کے لیٔے ایک بیت المُقدّس کی تعمیر کیا جائے۔ یہ ہمیں آپ ہی کے ہاتھ سے مِلی ہیں اَور اِن سَب کے مالک آپ ہی ہیں۔ (1 تواریخ 29:14-16)
بچے مسیح کی مثال
یِسوعؔ ہیرودیسؔ بادشاہ کے زمانہ میں یہُودیؔہ کے شہر بیت لحمؔ میں پیدا ہویٔے، تو مشرق سے کیٔی مجُوسِی یروشلیمؔ پہُنچ کر (متّی 2:1)
خداوند کو نہ دینے کی مثال
تُم سوختنی نذروں کے لیٔے میرے حُضُور برّے نہ لائے، اَور نہ ہی ذبیحوں سے میری تعظیم کی۔ مَیں نے تُجھ پر نذر کی قُربانیاں گذراننے کا بار نہ ڈالا نہ ہی بخُور طلب کرکے تُجھے تکلیف دی۔ تُم نے میرے لیٔے کویٔی خُوشبودار مَسالہ نہیں خریدا، اَور نہ اَپنے ذبیحوں کی چربی مُجھ پر نذر کی۔ لیکن تُم نے اَپنے گُناہوں کا بار مُجھ پر لاد دیا ہے اَور اَپنی خطاؤں سے مُجھے تھکا دیا ہے۔ (یَشعیاہ 43:23-24)
خداوند کے تابع ہو کر خوشی سے دیں/رضامندی سے نذر کریں
یہ سَب سونے اَور چاندی سے بننے والی دیگر اَشیا کے لیٔے دیتا ہُوں جو ماہر کاریگروں سے بنوائے جایٔیں گے۔ پس آپ لوگوں میں سے اَپنی دِلی خُوشی سے یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کرنے کے واسطے نذرانے لانے کے لئے کون تیّار ہے؟“ تَب آبائی خاندانوں کے سرداروں اَور بنی اِسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں، ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کے سرداروں اَور شاہی کام کے نِگران منصبداروں نے اَپنی خُوشی سے آمادگی ظاہر کی۔ اَور خُدا کے بیت المُقدّس کے کام کے لیٔے بنی اِسرائیل نے ایک سَو ستّر ٹن سونا اَور دس ہزار دِرہم سونے کے سِکّے؛ تین سو چالیس ٹن چاندی، چھ سو دس ٹن کانسے اَور تین ہزار چار سَو ٹن لوہا نذرانے میں دیا۔ اَور جِن کے پاس جواہر پتّھر تھے اُنہُوں نے اَپنے جواہر گیرشونی یحی ایل کے ہاتھ میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے خزانے کے لیٔے دے دئیے۔ لوگ بڑے خُوش ہُوئے کہ اُن کے سرداروں نے اَپنی دِلی خُوشی اَور پُوری رضامندی سے یَاہوِہ کے لیٔے دیا۔ اَور داویؔد بادشاہ بھی نہایت شادمان ہُوئے۔ (1 تواریخ 29:5-9)
”لیکن مَیں کون ہُوں اَور میرے لوگ کیا ہیں کہ اِس طرح فراخدلی سے دینے کے قابل ہوں؟ کیونکہ سَب چیزیں آپ ہی کی طرف سے ملتی ہیں اَورجو کچھ آپ کے ہاتھ سے ہمیں ملتا ہے اُسی میں سے ہم نے دیا ہے۔ کیونکہ ہم آپ کی نظر میں پردیسی اَور مُسافر ہیں جَیسے ہمارے آباؤاَجداد تھے اَور ہمارے دِن رُوئے زمین پر سایہ کی مانند بے قِیام ہیں۔ اَے یَاہوِہ ہمارے خُدا، یہ ساری چیزیں جو ہم نے جمع کی ہیں اِس لیٔے ہیں کہ آپ کے پاک نام کے لیٔے ایک بیت المُقدّس کی تعمیر کیا جائے۔ یہ ہمیں آپ ہی کے ہاتھ سے مِلی ہیں اَور اِن سَب کے مالک آپ ہی ہیں۔ اَے میرے خُدا، میں یہ بھی جانتا ہُوں کہ آپ دِل کو جانچتے ہیں اَور دیانتداری میں آپ کی خُوشنودی ہے۔ مَیں نے یہ تمام چیزیں اَپنی صدق دِلی اَور نیک نیّت سے دی ہیں اَور مُجھے یہ دیکھ کر بڑی مسرّت حاصل ہُوئی ہے کہ آپ کے لوگ جو یہاں حاضِر ہیں یہ سَب کچھ اَپنی خُوشی سے دے رہے ہیں۔ (1 تواریخ 29:14-17)
اَے بھائیو اَور بہنوں! ہم تُمہیں خُدا کے اُس فضل کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں جو مَکِدُنیہؔ کی جماعتوں پر ہُوا۔ اِنتہائی مفلسی اَور سخت مُصیبت میں گِرفتار ہونے کے باوُجُود، اُنہُوں نے اِنتہائی خُوشی اَور دِل کھول کر عَطیّہ دیا۔ میں اِس بات کا گواہ ہُوں کہ اُنہُوں نے جِس قدر وہ دے سکتے تھے، دیا بَلکہ اَپنے مقدور سے کہیں زِیادہ دیا۔ اَور وہ بھی اَپنی خُوشی سے، اُنہُوں نے ہماری اُمّید کے مُطابق خُدا کو دیا بَلکہ اُس سے کہیں زِیادہ دیا: اَور ہماری مِنّت کی کہ اُنہیں بھی مُقدّسین کی اِس خدمت میں شریک کیا جائے۔ اُنہُوں نے نہ صِرف ہماری اُمّید کے مُطابق خُدا کو دیا بَلکہ اُس سے کہیں زِیادہ دیا: اَور خُود کو سَب سے پہلے خُداوؔند کی اَور ہماری مرضی کے سُپرد کر دیا۔ (2 کُرِنتھِیوں 8:1-5)
دی گئی رقم سے زیادہ اہم رویہ ہے
”اَے شَریعت کے عالِموں اَور فریسیوں! اَے ریاکاروں! تُم پر افسوس، کیونکہ تُم پودینہ، سونف اَور زیرہ کا دسواں حِصّہ تو خُدا کے نام پر دیتے ہو لیکن شَریعت کی زِیادہ وزنی باتوں یعنی اِنصاف، اَور رحمدلی اَور ایمان کو فراموش کر بیٹھے ہو۔ تُمہیں لازِم تھا کہ یہ بھی کرتے اَور وہ بھی نہ چھوڑتے۔ (متّی 23:23)
”مگر اَے فریسیوں، تُم پر افسوس، تُم پودینہ، سَداب اَور سبزی ترکاری کا دسواں حِصّہ تو خُدا کو دیتے ہو لیکن دُوسری طرف اِنصاف کرنے سے اَور خُدا کی مَحَبّت سے غافل رہتے ہو۔ لازِم تُو یہ تھا کہ تُم پہلے والے کو بغیر چھوڑے پُورا کرتے اَور بعد والے کو بھی عَمل میں لاتے۔ (لُوقا 11:42)
”دو آدمی دعا کرنے کے لیٔے بیت المُقدّس میں گیٔے، ایک فرِیسی تھا اَور دُوسرا محصُول لینے والا۔ فرِیسی نے کھڑے ہوکر یہ دعا کی: ’اَے خُدا! میں تیرا شُکر کرتا ہُوں کہ میں دُوسرے آدمیوں کی طرح نہیں ہُوں جو لُٹیرے، ظالِم اَور زناکار ہیں اَور نہ ہی اِس محصُول لینے والے کی مانِند ہُوں۔ میں ہفتہ میں دو بار روزہ رکھتا ہُوں اَور اَپنی ساری آمدنی کا دسواں حِصّہ نذر کر دیتا ہُوں۔‘ ”لیکن اُس محصُول لینے والے نے جو دُور کھڑا ہُوا تھا۔ اَور اُس نے آسمان کی طرف نظر بھی اُٹھانا نہ چاہا، بَلکہ چھاتی پیٹ پیٹ کر کہا، ’خُدا، مُجھ گُنہگار پر رحم کر۔‘ ”میں تُم سے کہتا ہُوں کہ یہ آدمی، اُس دُوسرے سے، خُدا کی نظر میں زِیادہ راستباز ٹھہر کر اَپنے گھر گیا۔ کیونکہ جو کویٔی اَپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اَورجو اَپنے آپ کو حلیم بنائے گا، وہ بڑا کیا جائے گا۔“ (لُوقا 18:10-14)
صحیح رویے سے دینا/خداوند ہدیہ قبول کرتا ہے
اَور ہابلؔ بھی اَپنی بھیڑ بکریوں کے چند پہلوٹھے بچّے اَور اُن کی چربی لے آیا، یَاہوِہ نے ہابلؔ اَور اُس کے ہدیہ کو قبُول کیا، (پیدائش 4:4)
ایمان ہی سے حضرت ہابلؔ نے قائِنؔ سے افضل قُربانی پیش کی جِس کی بِنا پر اُس کی نذر قبُول کرکے خُدا نے اُس کے راستباز ہونے کی گواہی دی اَور اگرچہ حضرت ہابلؔ کی موت ہو چُکی ہے تَو بھی وہ ایمان ہی کے وسیلہ سے اَب تک کلام کرتے ہیں۔ (عِبرانیوں 11:4)
میرے پاس سَب کچھ ہے بَلکہ کثرت سے ہے۔ تمہارے بھیجے ہویٔے تحفے اِپفرُدِتُسؔ کے ہاتھ سے مُجھے مِل گیٔے ہیں، اَور مَیں اَور بھی آسُودہ ہو گیا ہُوں۔ یہ خُوشبو اَور قُربانی اَیسی ہے، جو خُدا کی نظر میں پسندِیدہ ہے۔ (فِلپّیوں 4:18)
غلط رویے سے دینا/خداوند ہدیہ رد کرتا ہے
کچھ عرصہ کے بعد قائِنؔ زمین کی پیداوار میں سے یَاہوِہ کے لیٔے ہدیہ لایا۔ اَور ہابلؔ بھی اَپنی بھیڑ بکریوں کے چند پہلوٹھے بچّے اَور اُن کی چربی لے آیا، یَاہوِہ نے ہابلؔ اَور اُس کے ہدیہ کو قبُول کیا، لیکن قائِنؔ اَور اُس کے ہدیہ کو منظُور نہیں کیا۔ لہٰذا قائِنؔ نہایت برہم ہُوا اَور اُس کا چہرہ اُتر گیا۔ (پیدائش 4:3-5)
بیت ایل میں جاؤ اَور گُناہ کرو؛ گِلگالؔ میں جا کر اَور زِیادہ گُناہ کرو۔ ہر صُبح کو اَپنی قُربانیاں، اَور ہر تیسرے روز اَپنی دہ یکی لاؤ۔ یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں، خمیری روٹی کے شُکر گُزاری کی نذر آگ میں گذرانو اَور اَپنی رضا کی قُربانیاں پر فخر کرو، اَور اَے بنی اِسرائیل اُن قُربانیوں پر فخر کرو، کیونکہ تُم کو اَیسا کرنا پسند ہے۔ یَاہوِہ فرماتے ہیں، مَیں نے تُمہیں ہر شہر میں خالی پیٹ رکھا اَور ہر شہر میں روٹی کی کمی دی، پھر بھی تُم میری طرف رُجُوع نہ لائے۔ (عامُوسؔ 4:4-6)
اگرچہ تُم میرے لیٔے سوختنی نذریں اَور اناج کی نذریں گزرانتے ہو، لیکن مَیں اُنہیں قبُول نہیں کروں گا۔ اگر تُم بہترین سلامتی کی نذر کی قُربانیاں گزرانو، تو بھی مَیں اُن کا کویٔی لحاظ نہ کروں گا۔ بَلکہ اِنصاف کو دریا کی مانند، اَور صداقت کو کبھی نہ سوکھنے والے چشمے کی مانند جاری رکھو! (عامُوسؔ 5:22, 24)
”اَے بنی اِسرائیل کیا تُم چالیس بَرس تک بیابان میں میرے لیٔے قُربانیاں کرتے اَور نذریں لاتے رہے؟ تُم تو اَپنے بادشاہ کا مزار، اَور اَپنے بُتوں کا سُتون اَور اَپنے معبُودوں کے سِتارے کو لیٔے پھرتے تھے، جنہیں تُم نے اَپنے لیٔے بنایا تھا۔ لہٰذا مَیں تُمہیں دَمشق سے بھی آگے جَلاوطن کرکے بھیجوں گا،“ یَاہوِہ کا یہ فرمان ہے، جِن کا نام قادرمُطلق خُدا ہے۔ (عامُوسؔ 5:25-27)
پھر دُوسرا کام جو تُم کرتے ہو وہ یہ ہے کہ تُم یَاہوِہ کے مذبح کو آنسُوؤں سے تر کر دیتے ہو۔ تُم اِس لیٔے روتے اَور ماتم کرتے ہو کیونکہ اَب یَاہوِہ تمہارے نذرانوں کی طرف مُتوجّہ نہیں ہوتے اَور نہ تمہارے ہاتھوں کے نذرانوں کو خُوشی کے ساتھ قبُول کرتا ہے۔ تو بھی، تُم پُوچھتے ہو، ”اَیسا کیوں ہے؟“ اَیسا اِس لیٔے ہے کہ کیونکہ یَاہوِہ تمہارے اَور تمہاری جَوانی کی بیوی کے درمیان گواہ ہے۔ تُم نے اُس کے ساتھ بےوفائی کی ہے حالانکہ وہ تمہاری شریکِ حیات ہے اَور تمہاری عہد کی بیوی ہے۔ (ملاکیؔ 2:13-14)
روح القدس سے جھوٹ بولنا
حننیاہؔ نامی ایک آدمی اَور اُس کی بیوی سفِیرؔہ نے اَپنی جائداد کا کچھ حِصّہ فروخت کیا۔ اُس نے قیمت میں سے کچھ اَپنے پاس رکھ لیا، جِس کا اُس کی بیوی کو علم تھا اَور باقی کے حِصّہ کی رقم لاکر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔ تَب پطرس نے اُس سے کہا، ”اَے حننیاہؔ، شیطان نے تیرے دِل میں یہ بات کیسے ڈال دی کہ تُو پاک رُوح سے جھُوٹ بولے اَور زمین کی قیمت میں سے کچھ رکھ لے؟ کیا فروخت کیٔے جانے سے قبل زمین تیری نہ تھی؟ لیکن بِک جانے کے بعد تیرے اِختیار میں نہ رہی؟ تُجھے دِل میں اَیسا سوچنے پر کِس نے مجبُور کر دیا؟ تُونے اِنسان سے نہیں بَلکہ خُدا سے جھُوٹ بولا ہے۔“ حننیاہؔ یہ باتیں سُنتے ہی، گِر پڑا اَور اُس کا دَم نکل گیا۔ اَور جِن لوگوں نے یہ سُنا اُن پر بڑا خوف طاری ہو گیا۔ تَب کچھ جَوان مَرد آئے اَور اُنہُوں نے اُس کی لاش کو کفن میں لپیٹا اَور باہر لے جا کر اُس کو دفن کر دیا۔ تقریباً تین گھنٹے بعد اُس کی بیوی وہاں آئی۔ وہ اِس ماجرے سے بے خبر تھی۔ پطرس نے اُس سے پُوچھا، ”مُجھے بتا، کیا زمین کی اِتنی ہی قیمت مِلی تھی؟“ اُس نے کہا، ”ہاں، کُل قیمت اِتنی ہی تھی۔“ پطرس نے اُس سے فرمایا، ”خُداوؔند کی پاک رُوح کو آزمانے کے لیٔے تُم کِس طرح راضی ہو گئے؟ سُنو! جِن لوگوں نے تیرے خَاوند کو دفن کیا اُن کے قدم دروازے تک پہُنچ چُکے ہیں، اَور وہ تُجھے بھی باہر لے جایٔیں گے۔“ وہ اُسی وقت پطرس کے قدموں میں گِر پڑی اَور اُس کا دَم نکل گیا۔ جَب جَوان مَرد اَندر آئے تو اُسے مُردہ پا کر باہر اُٹھالے گیٔے اَور اُسے اُس کے شوہر کے پہلوُ میں دفن کر دیا۔ (اعمال 5:1-10)
گناہ کو جائز ٹھہرانے کے لیے
”میرے گھر پر سلامتی کی نذروں کی قُربانیاں فرض تھیں آج مَیں نے خُدا کے لئے اَپنی مَنّتیں پُوری کی ہیں۔ (امثال 7:14)
دینے کے فائدے
دینے والے کے لیے فوائد
ہم کِس طرح محنت کرکے کمزوروں کو سنبھال سکتے ہیں؟ یہ مَیں نے تُمہیں کرکے دِکھایا۔ ہم خُداوؔند یِسوعؔ کے الفاظ یاد رکھیں: ’دینا لینے سے زِیادہ مُبارک ہے۔‘ “ (اعمال 20:35)
خداوند سے قربت میں اضافہ
کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دِل بھی لگا رہے گا۔ (متّی 6:21)
کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دِل بھی لگا رہے گا۔ (لُوقا 12:34)
آسمان پر اضافہ
لیکن اَپنے لیٔے آسمان میں خزانہ جمع کرو جہاں کیڑا اَور زنگ نہیں لگتے اَور نہ چور نقب لگا کر چُراتے ہیں۔ (متّی 6:20)
یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر تُو کامل ہونا چاہتاہے تو جا، اَپنا سَب کُچھ بیچ کر غریبوں کی مدد کر تو تُجھے آسمان میں خزانہ ملے گا اَور آکر میرے پیچھے ہولے۔“ (متّی 19:21)
اَپنا مال و اَسباب بیچ کر خیرات کر دو اَور اَپنے لیٔے اَیسے بٹوے بناؤ جو پُرانے نہیں ہوتے اَور نہ پھٹتے ہیں یعنی آسمان پر خزانہ جمع کرو جو ختم نہیں ہوتا، جہاں چور نہیں پہُنچ سَکتا اَور جِس میں کیڑا نہیں لگتا۔ (لُوقا 12:33)
”لیویوں سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے کہہ: ’جَب تُم بنی اِسرائیل سے وہ دہ یکی لو جسے میں تُمہیں مِیراث میں دیتا ہُوں تَب تُم اُس دہ یکی کا دسواں حِصّہ یَاہوِہ کے حُضُور میں اُٹھانے کی قُربانی کے نذرانے کے طور پر گذراننا۔ (گِنتی 18:26)
جَب یِسوعؔ نے یہ سُنا تو اُس سے کہا، ”ابھی تک تُجھ میں ایک بات کی کمی ہے۔ اَپنا سَب کُچھ بیچ دے اَور رقم غریبوں میں بانٹ دے، تو تُجھے آسمان پر خزانہ ملے گا۔ پھر آکر میرے پیچھے ہو لینا۔“ (لُوقا 18:22)
یہ نہیں کہ میں تمہاری بھیجی ہُوئی رقم کا مُشتاق ہُوں؛ بَلکہ اَیسے اِنعام کی خواہش کرتا ہوں، جِس سے آپ کی رُوحانی برکتوں میں اِضافہ ہو جائے۔ (فِلپّیوں 4:17)
اِس مَوجُودہ جہان کے دولتمندوں کو حُکم دے کہ وہ مغروُر نہ ہوں، اَور ناپائیدار دولت پر نہیں بَلکہ خُدا پر اُمّید رکھیں، جو ہمیں سَب چیزیں فیّاضی سے مُہیّا کرتا ہے تاکہ ہم مزہ سے زندگی گُزاریں۔ اُنہیں حُکم دے کہ وہ نیکی کریں اَور نیک کاموں کے لِحاظ سے دولتمند بنیں، اَور سخاوت پر تیّار اَور دُوسروں کی مدد کرنے پر آمادہ رہیں۔ اِس طرح وہ اَپنے لیٔے اَیسا خزانہ جمع کریں گے جو آنے والے جہان کے لیٔے ایک مضبُوط بُنیاد قائِم کرےگی، تاکہ وہ اُس زندگی کو جو اصل میں حقیقی زندگی ہے تھامے رہ سکیں۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:17-19)
زمین پر اضافہ
ہر تین سال کے اِختتام پر ضروُری ہے کہ تُم اَپنی پیداوار کی تمام دہ یکیاں لاکر اَپنے شہر میں جمع کر لینا۔ تَب لیوی (جِن کا تمہارے درمیان اَپنا کویٔی حِصّہ یا مِیراث نہیں ہے)، اَور پردیسی، یتیم اَور بیوائیں جو تمہارے ہی شہروں میں رہتی ہیں آئیں گے اَور اِس میں سے اَپنے کھانے کے لیٔے لے جا سکیں گے اَور کھا کر مطمئن ہو جایٔیں گے تَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے ہاتھ کے سَب کاموں میں تُمہیں برکت بخشیں گے۔ (اِستِثنا 14:28-29)
تو اعلیٰ کاہِن عزریاہؔ نے جو صدُوقؔ کے خاندان کا تھا جَواب دیا، ”جَب سے لوگ اَپنی اَپنی نذرانے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لانے لگے ہیں، تَب سے ہمیں کھانے کو کافی ملتا رہاہے اَور بہت کچھ ابھی بھی باقی پڑا ہے کیونکہ یَاہوِہ نے اَپنی اُمّت کو برکت دی ہے اَور یہ بڑا ذخیرہ اُسی بقیّہ سامان کا ہے۔“ (2 تواریخ 31:10)
اَپنی دولت سے، اَور اَپنی فصلوں کے پہلے پھلوں سے یَاہوِہ کی تعظیم کرو؛ تَب تمہارے کھتّے لبالب بھرے رہیں گے، اَور تمہارے حوض نئے انگوری شِیرے سے لبریز ہوں گے۔ (امثال 3:9-10)
کویٔی فیّاضی سے دیتاہے اَور پھر بھی بہت زِیادہ پاتاہے؛ اَور دُوسرا بہت محتاط ہوکر بھی مُفلس ہو جاتا ہے۔ فیّاض آدمی سرفراز ہوگا؛ جو دُوسروں کو تازگی بخشتا ہے خُود بھی تازگی پایٔےگا۔ (امثال 11:24-25)
اَپنی روٹی پانی میں ڈال دو، کیونکہ تُم بہت دِنوں کے بعد اُسے پھر پا لوگے۔ (واعظ 11:1)
دوگے، تو تُمہیں بھی دیا جائے گا۔ اَچھّا پیمانہ، دبا دبا کر، ہِلا ہِلا کر اَور لبریز کرکے تمہارے پَلّے میں ڈالا جائے گا کیونکہ جِس پیمانہ سے تُم ناپتے ہو، اُسی سے تمہارے لیٔے بھی ناپا جائے گا۔“ (لُوقا 6:38)
یاد رکھو: جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹے گا، اَورجو زِیادہ بوتا ہے وہ زِیادہ کاٹے گا۔ جِس نے دِل میں جِس قدر دینے کا خیال کیا ہُواہے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کےاُتنا ہی دے اَور خُوشی سے دے، نہ کہ مجَبُوری یا کسی دباؤسے کیونکہ خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔ خُدا تُمہیں کثرت سے فضل دینے کے قابل ہے، تاکہ تمہارے پاس ہر وقت، اَور ہر حالت میں کافی سے زِیادہ مَوجُود رہے، اَور تُم نیک کاموں کے لیٔے خُوشی سے دے سکو۔ چنانچہ لِکھّا ہے: ”اُنہُوں نے بِکھیرا ہے، اُنہُوں نے مسکینوں کو دیا ہے؛ اُن کی راستبازی ہمیشہ تک قائِم رہے گی۔“ لہٰذا وہ خُدا جو بونے والے کو بیج اَور کھانے والے کو روٹی عطا فرماتے ہیں وُہی تُمہیں بھی بیج عطا فرمائے گا، اُسے اُگائے گا اَور تمہاری راستبازی کی فصل کو بڑھائے گا۔ خُدا تُمہیں مالا مال کرےگا تاکہ تُم ہر وقت بڑی کثرت سے دے سکو، اَور لوگ ہمارے وسیلہ سے تمہارا عَطیّہ پا کر خُدا کا شُکر اَدا کریں۔ (2 کُرِنتھِیوں 9:6-11)
میرا خُدا، المسیح یِسوعؔ کے ذریعہ اَپنے جلال کی دولت سے تمہاری تمام ضروُرتیں پُوری کر دے گا۔ (فِلپّیوں 4:19)
مادی اضافے کے لیے خداوند کو آزمانے کا چیلنج
سارا دہ یکی ذخیرہ خانے میں لاؤ تاکہ میرے بیت المُقدّس میں خُوراک مَوجُود رہے۔ اِس بات میں مُجھے آزما کر دیکھو،“ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”دیکھو میں آسمان کے دریچوں کو کھول کر اِس قدر برکتوں کی بارش کروں گا کی نہیں کہ تمہارے پاس رکھنے کو جگہ نہ رہے گی۔ (ملاکیؔ 3:10)
برکتوں میں اضافہ
اَور تمام پہلے پھلوں میں سے بہترین پھل اَور تمہارے تمام خصوصی ہدیئے کاہِنوں کے ہوں گے۔ تُم اَپنے گُندھے ہُوئے آٹے کا پہلا حِصّہ اُن کو پیش کرو تاکہ تمہارے خاندان پر برکت ہو۔ (حزقی ایل 44:30)
وہاں ایک رُومی افسر کا خادِم بیمار تھا، وہ اُسے بہت عزیز تھا، اَور وہ مَرنے کے قریب تھا۔ اُس نے یِسوعؔ کے بارے میں سُنا تو کیٔی یہُودی بُزرگوں کو اُن کے پاس بھیجا تاکہ وہ یِسوعؔ سے درخواست کریں کہ وہ آکر اُس کے خادِم کو شفا بخشیں۔ وہ یِسوعؔ کے پاس آئے، اَور اُن کی مِنّت کرکے کہنے لگے، ”وہ شخص اِس لائق ہے کہ آپ اُس کی مدد کریں، کیونکہ وہ ہماری قوم سے مَحَبّت رکھتا ہے اَور ہماری یہُودی عبادت گاہ بھی اُسی نے بنوائی ہے۔“ (لُوقا 7:2-5)
یافؔا میں ایک مسیحی خاتُون شاگرد تھی جِس کا نام تبِیتؔا (یُونانی میں ڈورکاسؔ یعنی ہِرنی) تھا جو ہمیشہ نیکی کرنے اَور غریبوں کی مدد کرنے میں لگی رہتی تھی۔ اُن ہی دِنوں میں وہ بیمار ہویٔی اَور مَر گئی، اُس کی لاش کو غُسل دے کر اُوپر کے کمرہ میں رکھ دیا۔ پطرس نے اُن سَب کو کمرہ سے باہر بھیج دیا اَور خودگھٹنوں کے بَل ہوکر دعا کرنے لگے۔ پھر آپ نے لاش کی طرف مُنہ کرکے، پطرس نے فرمایا، ”اَے تبِیتؔا، اُٹھ۔“ اُس نے اَپنی آنکھیں کھول دیں، اَور پطرس کو دیکھ کر وہ اُٹھ بیٹھی۔ (اعمال 9:36-37, 40)
قَیصؔریہ میں ایک آدمی تھا جِس کا نام کُرنِیلِیُسؔ تھا، وہ ایک اِطالوی فَوجی دستے کا کپتان تھا۔ وہ اَور اُس کے گھر کے سَب لوگ بڑے دیندار اَور خُدا سے خوف کھاتے تھے؛ وہ ضروُرت مند لوگوں کو بہت خیرات دیتا تھا اَور خُدا سے برابر دعا کیا کرتا تھا۔ ایک دِن سہ پہر تین بجے کے قریب کُرنِیلِیُسؔ نے رُویا دیکھی۔ اُس نے اُس میں صَاف صَاف خُدا کے ایک فرشتہ کو دیکھا، جو کُرنِیلِیُسؔ کے پاس آیا اَور کہا، ”اَے کُرنِیلِیُسؔ!“ کُرنِیلِیُسؔ نے خوفزدہ ہوکر اُس کی طرف غور سے دیکھا۔ ”آقا، کیا بات ہے؟“ اُس نے پُوچھا۔ فرشتہ نے جَواب دیا، ”تیری خیرات کے نذرانے اَور دعائیں یادگاری کے طور پر خُدا کے حُضُور میں پہُنچ چُکے ہیں۔ اَور کہنے لگا، ’اَے کُرنِیلِیُسؔ، خُدا نے تیری دعا سُن لی ہے اَور تیری خیرات کو بھی قبُولیّت بخشی ہے۔ (اعمال 10:1-4, 31)
کتنا دیں
دہ یکی
شریعت سے پہلے
اَور مُبارک ہے خُداتعالیٰ جِس نے تمہارے دُشمنوں کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا۔“ تَب اَبرامؔ نے سَب مالِ غنیمت کا دسواں حِصّہ ملکِ صِدقؔ کو نذر کیا۔ (پیدائش 14:20)
تَب یعقوب نے یہ مَنّت مانی، ”اگر خُدا اِس سفر میں میرے ساتھ رہے میری حِفاظت کرے اَور مُجھے کھانے کے لیٔے روٹی اَور پہننے کے لیٔے کپڑے عطا کرے تاکہ میں اَپنے باپ کے گھر سلامت جا پہُنچوں تو یَاہوِہ میرا خُدا ہوگا۔ اَور یہ پتّھر جسے مَیں نے سُتون کے طور پر کھڑا کیا ہے خُدا کا مَسکن ہوگا اَور اَے خُدا جو کچھ آپ مُجھے عطا کریں گے میں اُس کا دسواں حِصّہ آپ کو دُوں گا۔“ (پیدائش 28:20-22)
شریعت کے تحت
” ’زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز کی دہ یکی خواہ وہ زمین سے اناج کی یا درختوں سے پھلوں کی پیداوار ہو یَاہوِہ کی ہے اَور وہ یَاہوِہ کے لیٔے پاک ہے۔ اَور اگر کویٔی شخص اَپنی کسی دہ یکی کو چھُڑائے تو وہ اُس کی قیمت میں اُس کا پانچواں حِصّہ اِضافہ کرکے اَدا کرے۔ گلّے اَور ریوڑ کی دہ یکی یعنی ہر دسواں جانور جو چرواہے کے عصا کے نیچے سے گزرتا ہے یَاہوِہ کے لیٔے پاک ہوگا۔ (اَحبار 27:30-32)
دہ یکی نہ دینا خدا کو لوٹنا سمجھا گیا
”کیا کویٔی فانی شخص یَاہوِہ کو لُوٹ سکتا ہے؟ پھر بھی تُم مُجھے لُٹتے ہو۔ ”لیکن تُم پُوچھتے ہو، ’ہم کس بات میں آپ کو لُوٹتے ہیں؟‘ ”تُم دہ یکیوں اَور نذرانہ کے مُعاملے میں لُٹتے ہو۔ پس تُم ملعُون ہو، تمہاری ساری قوم ملعُون ہے۔ کیونکہ تُم مُجھے لُوٹ رہے ہو۔ (ملاکیؔ 3:8-9)
دہ یکی خداوند کے حضور کھائی جاتی تھی
تُم ہر سال اَپنے کھیتوں کی پیداوار کا دسواں حِصّہ ضروُر نذر کرنے کے لیٔے الگ رکھنا۔ اَور تُم اَپنے یَاہوِہ خُدا کے حُضُور اُسی مقام میں جسے وہ اَپنے نام کے قِیام کے لیٔے مُنتخب کریں، اَپنے اناج، نئے انگوری شِیرے اَور زَیتُون کے تیل کی دہ یکی کو، اَور اَپنے گلّوں اَور ریوڑوں کے پہلوٹھوں کو کھانا، تاکہ تُم ہمیشہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کا خوف ماَننا سیکھو۔ لیکن جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں برکت بخشیں اَور اگر وہ جگہ جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے نام کو وہاں قائِم کرنے کے لیٔے مُنتخب کریں، جو تمہارے گھر سے کافی دُورہو، (اَور تمہارے لیٔے وہاں دہ یکی لے جانا مُشکل ہو)، تو تُم اَپنی دہ یکی کے عِوض میں چاندی حاصل کرنا اَور اُس چاندی کو اَپنے ساتھ لے کر اُس مقام پر جانا جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا نے مُنتخب کیا ہو۔ اَور تُم اُس چاندی سے جو دِل چاہے خریدنا خواہ گائے، بَیل بھیڑ، بکری نئے انگوری شِیرے یا مَے یا اَپنی مرضی کی کویٔی اَور چیز۔ تَب اُسے اَپنے خاندان سمیت یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور کھانا اَور خُوشی منانا۔ (اِستِثنا 14:22-26)
دہ یکی لاویوں اور غریبوں کی مدد کے لیے
”اَور مَیں نے لیویوں کو اُس خدمت کے عِوض جو وہ خیمہ اِجتماع میں اَنجام دیتے ہیں اِسرائیل کی ساری دہ یکی مِیراث کے طور پر دی ہے۔ آئندہ بنی اِسرائیل خیمہ اِجتماع کے نزدیک ہرگز نہ آئیں۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ گُناہ اُن کے سَر لگے اَور وہ مَر جایٔیں۔ بَلکہ لیوی ہی خیمہ اِجتماع کی خدمت کریں اَور وُہی اُن کا بارِ گُناہ اُٹھایا کریں۔ یہ آئندہ پُشتوں کے لیٔے دائمی فرمان ہے۔ اَور بنی اِسرائیل کے درمیان اُنہیں کویٔی مِیراث نہ ملے۔ اِس کے عِوض مَیں نے اُس دہ یکی کو جو اِسرائیلی نذر کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور پیش کرتے ہیں لیویوں کی مِیراث قرار دیا ہے۔ اِس لیٔے مَیں نے اُن کے حق میں کہا ہے: ’بنی اِسرائیل کے درمیان اُنہیں کویٔی مِیراث نہ ملے۔‘ “ (گِنتی 18:21-24)
ہر تین سال کے اِختتام پر ضروُری ہے کہ تُم اَپنی پیداوار کی تمام دہ یکیاں لاکر اَپنے شہر میں جمع کر لینا۔ تَب لیوی (جِن کا تمہارے درمیان اَپنا کویٔی حِصّہ یا مِیراث نہیں ہے)، اَور پردیسی، یتیم اَور بیوائیں جو تمہارے ہی شہروں میں رہتی ہیں آئیں گے اَور اِس میں سے اَپنے کھانے کے لیٔے لے جا سکیں گے اَور کھا کر مطمئن ہو جایٔیں گے تَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے ہاتھ کے سَب کاموں میں تُمہیں برکت بخشیں گے۔ (اِستِثنا 14:28-29)
جَب تُم تیسرے سال جو دہ یکی کا سال ہے اَپنی پیداوار کا دسواں حِصّہ الگ کر چُکو، تو اُسے لیوی، پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کو دے دینا تاکہ وہ اُسے تمہارے شہروں میں کھایٔیں اَور مطمئن ہوں۔ (اِستِثنا 26:12)
اَور حِزقیاہؔ نے اُن لوگوں کو جو یروشلیمؔ میں رہتے تھے حُکم دیا کہ کاہِنوں اَور لیویوں کو اُن کا واجِبُ الادا حِصّہ دیں تاکہ وہ اَپنی خدمات کو یَاہوِہ کے آئین کی تعلیم کے لیٔے وقف کر سکیں۔ اِس فرمان کے جاری ہوتے ہی بنی اِسرائیل اَپنے اناج کے پہلے پھل، نیا انگوری شِیرہ، زَیتُون کے تیل اَور شہد اَور کھیتوں کی پیداوار بڑی فراخدلی سے لانے لگے۔ اِس کے علاوہ وہ بڑی تعداد میں اِن سَب کا دسواں حِصّہ بھی خُوشی سے دینے لگے۔ اَور اِسرائیل اَور یہُودیؔہ کے لوگ جو یہُودیؔہ کے شہروں میں رہتے تھے، اُنہُوں نے تو اَپنے جانوروں کے گلّوں اَور ریوڑوں کا دسواں حِصّہ، اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کی خاطِر مُقدّس کی ہُوئی اَشیا کا دسواں حِصّہ بھی لایٔے اَور اُن کے ڈھیر کے ڈھیر لگا دئیے۔ اُنہُوں نے تیسرے مہینے میں اِن کا ڈھیر لگانا شروع کیا اَور اِس کا خاتِمہ ساتویں مہینے کے آخِر میں ہی ہو سَکا۔ جَب حِزقیاہؔ اَور اُس کے اہلکاروں نے آکر اُن ذخیروں کو دیکھا تو اُنہُوں نے یَاہوِہ کی سِتائش کی اَور اُن کی اُمّت بنی اِسرائیل کو مُبارکباد دی۔ جَب حِزقیاہؔ نے کاہِنوں اَور لیویوں سے اُن ذخیروں کے بارے میں پُوچھا۔ تو اعلیٰ کاہِن عزریاہؔ نے جو صدُوقؔ کے خاندان کا تھا جَواب دیا، ”جَب سے لوگ اَپنی اَپنی نذرانے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لانے لگے ہیں، تَب سے ہمیں کھانے کو کافی ملتا رہاہے اَور بہت کچھ ابھی بھی باقی پڑا ہے کیونکہ یَاہوِہ نے اَپنی اُمّت کو برکت دی ہے اَور یہ بڑا ذخیرہ اُسی بقیّہ سامان کا ہے۔“ تَب حِزقیاہؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اُس سامان کے ذخیرہ کے لیٔے کمرے تعمیر کرانے کا حُکم دیا۔ لہٰذا وہ تیّار کئے گیٔے۔ پھر وہ وفاداری سے نذرانے، دہ یکیاں اَور نذر کئے گیٔے تحفے لاتے رہے۔ اَور کونعنیاہؔ ایک لیوی اِن چیزوں کا مختار تھا اَور اُس کا بھایٔی شِمعیؔ اُس کا نائب تھا۔ (2 تواریخ 31:4-12)
”نیز ہم اَپنے پسے ہُوئے آٹے کو، اَپنے پہلے اناج کی نذروں کو، اَپنے درختوں کے پہلے پھلوں کو، اَپنی نئی مَے اَور تیل میں سے پہلے پھل کو اَپنے خُدا کے گھر کے خزانوں کے لیٔے کاہِنوں کے پاس لائیں گے اَور اَپنی فصلوں کا دسواں حِصّہ لیویوں کو دیں گے کیونکہ لیوی ہی ہر ایک شہر میں جہاں ہم کاشتکاری کرتے ہیں کھیت کی دہ یکی جمع کرتے ہیں۔ جَب لیوی دہ یکی لیں تو اَہرونؔ کی نَسل کا ایک کاہِنؔ اُن کے ہمراہ ہونا چاہئے اَور لیویوں کو دہ یکی کا دسواں حِصّہ ہمارے خُدا کے گھر کے خزانوں میں لانا چاہئے۔ (نحمیاہ 10:37-38)
مُجھے یہ بھی مَعلُوم ہُوا کہ لیویوں کے مخصُوص حِصّے اُن کو نہیں دئیے گیٔے تھے اَور تمام لیوی اَور موسیقار جو ہیکل میں خدمت گزار تھے اَپنے اَپنے کھیتوں کو واپس چلے گیٔے ہیں۔ پس مَیں نے حاکموں کو ڈانٹا اَور اُن سے پُوچھا، ”خُدا کے گھر کو کیوں نظرانداز کیا گیا؟“ پھر مَیں نے لیویوں کو جمع کرکے بُلایا اَور اُنہیں اُن کی جگہوں پر مُقرّر کر دیا۔ (نحمیاہ 13:10-11)
لاویوں کو ملنے والی دہ یکی میں سے دہ یکی دینی تھی
”لیویوں سے مُخاطِب ہو اَور اُن سے کہہ: ’جَب تُم بنی اِسرائیل سے وہ دہ یکی لو جسے میں تُمہیں مِیراث میں دیتا ہُوں تَب تُم اُس دہ یکی کا دسواں حِصّہ یَاہوِہ کے حُضُور میں اُٹھانے کی قُربانی کے نذرانے کے طور پر گذراننا۔ (گِنتی 18:26)
نئے عہد نامے میں دہ یکی
ملک صدق کی کہانت کی برتری
یہ ملکِ صِدقؔ، شالمؔ کا بادشاہ اَور خُداتعالیٰ کا کاہِنؔ تھا۔ جَب حضرت اَبراہامؔ چند بادشاہوں کو شِکست دے کر واپس آ رہے تھے تو ملکِ صِدقؔ نے اُن کا اِستِقبال کیا اَور اُنہیں برکت دی۔ حضرت اَبراہامؔ نے سَب مالِ غنیمت کا دسواں حِصّہ بھی اُسے نذر کیا۔ اوّل تو ملکِ صِدقؔ کے نام کا لَفظی مطلب ہے، ”راستبازی کا بادشاہ“؛ اَور پھر ”شالمؔ کا بادشاہ“ یعنی ”صُلح کا بادشاہ“ ہے۔ پس اَب غور کرو کہ وہ کِتنا عظیم تھا: جسے قوم کے بُزرگ یعنی حضرت اَبراہامؔ نے سَب مالِ غنیمت کا دسواں حِصّہ دیا! اَور اَب شَریعت طلب کرتی ہے کہ وہ بنی لیوی میں سے جو کاہِنؔ مُقرّر کیٔے جاتے ہیں، اُنہیں حُکم دیا گیا ہے کہ وہ اَپنی اُمّت یعنی اَپنے بھائیوں سے دسواں حِصّہ لیں حالانکہ اُن کے بھایٔی بھی حضرت اَبراہامؔ ہی کی نَسل سے ہیں۔ مگر جِس کی نِسبت لیوی سے جُدا ہے اُس نے حضرت اَبراہامؔ سے دسواں حِصّہ لیا اَور جِس سے وعدے کیٔے گیٔے تھے اُسے برکت دی۔ اَور اِس میں کویٔی شک نہیں کہ چھوٹا بڑے سے برکت پاتاہے۔ اَور یہاں تو فانی اِنسان دسواں حِصّہ لیتے ہیں مگر وہاں وُہی دسواں حِصّہ لیتا ہے جِس کے بارے میں یہ گواہی دی جاتی ہے کہ وہ زندہ ہے۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ لیوی نے بھی جو دسواں حِصّہ لیتا ہے، حضرت اَبراہامؔ کے ذریعہ دسواں حِصّہ دیا۔ (عِبرانیوں 7:1-2, 4-9)
ذخیرہ خانے میں دہ یکی
تَب حِزقیاہؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اُس سامان کے ذخیرہ کے لیٔے کمرے تعمیر کرانے کا حُکم دیا۔ لہٰذا وہ تیّار کئے گیٔے۔ پھر وہ وفاداری سے نذرانے، دہ یکیاں اَور نذر کئے گیٔے تحفے لاتے رہے۔ اَور کونعنیاہؔ ایک لیوی اِن چیزوں کا مختار تھا اَور اُس کا بھایٔی شِمعیؔ اُس کا نائب تھا۔ (2 تواریخ 31:11-12)
جَب لیوی دہ یکی لیں تو اَہرونؔ کی نَسل کا ایک کاہِنؔ اُن کے ہمراہ ہونا چاہئے اَور لیویوں کو دہ یکی کا دسواں حِصّہ ہمارے خُدا کے گھر کے خزانوں میں لانا چاہئے۔ (نحمیاہ 10:38)
اُس وقت پہلے پھلوں اَور دہ یکیوں کے لیٔے گوداموں کے نِگران مُقرّر کئے گیٔے تاکہ جو حِصّے کاہِنوں اَور لیویوں کے لیٔے تورہ کے مُطابق نذرانے مُقرّر کئے گیٔے تھے اُنہیں شہروں کے اِردگرد کھیتوں سے جمع کرکے گوداموں میں جمع کروایا۔ کیونکہ بنی یہُوداہؔ خدمت کرنے والے کاہِنوں اَور لیویوں سے خُوش تھے۔ (نحمیاہ 12:44)
تمام اہلِ یہُوداہؔ اناج، نئی مَے اَور تیل اِن سَب اَشیا کا دسواں حِصّہ خزانوں میں لایٔے۔ (نحمیاہ 13:12)
تناسب سے دینا (جیسے خدا برکت دے)
یَاہوِہ تمہارے خُدا کی دی ہُوئی برکت کے مُطابق اُن کے واسطے رضا کی قُربانی گزراننا اَور ہفتوں کی عید منانا۔ (اِستِثنا 16:10)
اَور سال میں تین بار یعنی بے خمیری روٹی کی عید، ہفتوں کی عید اَور خیموں کی عید کے موقعوں پر تمہارے سَب آدمی یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور اُسی مقام مَیں حاضِر ہُوا کریں جسے وہ مُنتخب کریں گے۔ اَور کویٔی شخص یَاہوِہ کے حُضُور خالی ہاتھ نہ آئے۔ (اِستِثنا 16:16)
یعنی ہر ہفتہ کے پہلے دِن، تُم میں سے ہر شخص اَپنی آمدنی کے مُطابق اَپنے پاس کچھ جمع کرکے رکھتا رہے، تاکہ جَب مَیں آؤں تو تُمہیں پیسہ جمع کرنے کی ضروُرت نہ ہو۔ (1 کُرِنتھِیوں 16:2)
تناسب سے دینے کی مثالیں
اُنہُوں نے اُس کام کے لیٔے اَپنی قُوّت کے مطابق سونے کے اکسٹھ ہزار دِرہم اَور چاندی کے پانچ ہزار مِنہ اَور کاہِنوں کے لیٔے 100 پیراہن خزانہ میں دئیے۔ (عزرا 2:69)
لہٰذا شاگردوں، نے فیصلہ کیا کہ ہم میں سے ہر ایک اَپنی اَپنی مالی حیثیت کے مُطابق کچھ دے تاکہ یہُودیؔہ میں رہنے والے مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کی مدد کی جائے۔ (اعمال 11:29)
اپنی حیثیت کے مطابق دی گئی رقم مقبول ہے
کیونکہ اگر تمہاری نیّت دینے پر آمادہ ہو، تو اُس کے مُطابق خُدا تمہارا عَطیّہ قبُول کرےگا جو آدمی کے پاس ہے، نہ اُس کے مُطابق جو اُس کے پاس نہیں ہے۔ (2 کُرِنتھِیوں 8:12)
قربانی والا دینا
پھر وہ بیت المُقدّس کے خزانہ کے سامنے بیٹھے تھے۔ آپ دیکھ رہے تھے لوگ خزانہ میں کِس طرح نذرانہ ڈالتے ہیں۔ کیٔی دولتمند لوگ اُس میں بڑی بڑی رقمیں ڈال رہے تھے۔ اِتنے میں ایک غریب بِیوہ وہاں آئی اَور اُنہُوں نے صِرف دو بہت چُھوٹے تانبے کے سِکّے ڈالے جِن کی قیمت صِرف ایک سینٹ تھی یعنی دو پیسے۔ یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں کو پاس بُلاکر اُن سے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، بیت المُقدّس کے خزانہ میں نذرانہ ڈالنے والے لوگوں میں، اِس غریب بِیوہ نے سَب سے زِیادہ ڈالا ہے۔ کیونکہ اُنہُوں نے تو اَپنی زیادتی میں سے کچھ رقم کو ڈالا؛ مگر اِس نے، غریبی کے باوُجُود، سَب کُچھ جو اِس کے پاس تھا دے دیا یعنی کہ اَپنی ساری پُونجی ڈال دی۔“ (مرقُس 12:41-44)
یِسوعؔ نے نظر اُٹھاکر دیکھا کہ دولتمند لوگ بیت المُقدّس کے خزانہ میں اَپنے نذرانے ڈال رہے تھے۔ آپ نے ایک غریب بِیوہ کو بھی دیکھا جِس نے صِرف دو بہت چُھوٹے تانبے کے سِکّے ڈالے۔ اِس پر یِسوعؔ نے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، کہ اِس بِیوہ نے سَب لوگوں سے زِیادہ نذرانہ ڈالا ہے۔ کیونکہ باقی سَب لوگوں نے تو اَپنی ساری پُونجی میں سے کُچھ بطور نذر ڈالا لیکن اِس عورت نے اَپنی ناداری کی حالت میں بھی جو کُچھ اُس کے پاس تھا سَب ڈال دیا۔“ (لُوقا 21:1-4)
اَے بھائیو اَور بہنوں! ہم تُمہیں خُدا کے اُس فضل کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں جو مَکِدُنیہؔ کی جماعتوں پر ہُوا۔ اِنتہائی مفلسی اَور سخت مُصیبت میں گِرفتار ہونے کے باوُجُود، اُنہُوں نے اِنتہائی خُوشی اَور دِل کھول کر عَطیّہ دیا۔ میں اِس بات کا گواہ ہُوں کہ اُنہُوں نے جِس قدر وہ دے سکتے تھے، دیا بَلکہ اَپنے مقدور سے کہیں زِیادہ دیا۔ اَور وہ بھی اَپنی خُوشی سے، اُنہُوں نے ہماری اُمّید کے مُطابق خُدا کو دیا بَلکہ اُس سے کہیں زِیادہ دیا: اَور ہماری مِنّت کی کہ اُنہیں بھی مُقدّسین کی اِس خدمت میں شریک کیا جائے۔ (2 کُرِنتھِیوں 8:1-4)
ایسی چیز نہ دیں جس پر آپ کا کچھ خرچ نہ ہو
اُرنانؔ نے کہا، ”میرا آقا بادشاہ اَپنے خادِم کے پاس کس لیٔے آئے ہیں؟“ داویؔد نے جَواب دیا، ”تیرا کھلیان خریدنے کے لیٔے تاکہ میں یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح بنا سکوں۔ تَب لوگوں پر آئی ہُوئی وَبا رُک جائے گی۔“ اُرنانؔ نے داویؔد سے کہا، ”میرا آقا بادشاہ جو کچھ آپ کو پسند ہے لے لیں اَور نذر چڑھائیں۔ یہاں سوختنی نذر کے لیٔے بَیل ہیں اَور ایندھن کے لیٔے گاہنے کا اوزار گٹھّا اَور بَیلوں کے جُوئے بھی ہیں۔ اَے بادشاہ! اُرنانؔ یہ سَب بادشاہ کو دیتاہے۔“ اروناہؔ نے یہ بھی کہا، ”میری دعا ہے کہ یَاہوِہ آپ کا خُدا آپ کو قبُول فرمائیں۔“ لیکن بادشاہ نے اُرنانؔ کو جَواب دیا، ”نہیں، مَیں تُجھے قیمت اَدا کرنے پر اِس لیٔے بضِد ہُوں کہ مَیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور میں اَیسی سوختنی نذریں نہیں پیش کروں گا جِن پر میرا کچھ خرچ نہ ہُوا ہو۔“ لہٰذا داویؔد نے وہ کھلیان اَور وہ بَیل پچاس ثاقل چاندی اَدا کرکے خرید لیٔے۔ (2 شموایلؔ 24:21-24)
تَب داویؔد نے اُرنانؔ سے کہا، ”اَپنے کھلیان کی یہ جگہ مُجھے دے دے۔ میں چاہتا ہُوں کہ یہاں یَاہوِہ کے لیٔے ایک مذبح بناؤں تاکہ لوگ وَبا سے نَجات پائیں۔ اِسے مُجھے فروخت کر۔ میں پُوری قیمت دینے کو تیّار ہُوں۔“ اُرنانؔ نے داویؔد سے کہا، ”تُم اِسے لے لو اَور میرے آقا بادشاہ جَیسے آپ کو پسند ہو کریں۔ دیکھیں میں اِن بَیلوں کو سوختنی نذروں کے لیٔے، گاہنے کا اوزار ایندھن کے لیٔے اَور گیہُوں اناج کی نذر کے لیٔے بِلا قیمت دُوں گا۔“ لیکن داویؔد بادشاہ نے اُرنانؔ کو جَواب دیا، ”کہ نہیں، میں تو پُوری قیمت اَدا کرکے ہی رہُوں گا کیونکہ جو تمہارا ہے اُسے میں یَاہوِہ کے لیٔے ہرگز مُفت نہ لُوں گا۔ اَور نہ ہی اَیسی سوختنی نذر گذرانوں گا جِس پر میرا کچھ بھی خرچ نہ ہُوا ہو۔“ (1 تواریخ 21:22-24)
چوری کی یا عیب دار چیز دینے پر لعنت
”ایک بیٹا اَپنے باپ کی عزّت کرتا ہے اَور غُلام اَپنے آقا کا اِحترام کرتا ہے۔ اگر مَیں باپ ہُوں تو میری عزّت کہاں ہے؟ اگر مَیں آقا ہُوں تو میرا خوف کہاں ہے؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”اَے کاہِنوں تُم ہی ہو، جو میرے نام کی تحقیر کرتے ہو۔ ”پھر بھی تُم کہتے ہو، ’ہم نے کس بات میں تمہارے نام کی تحقیر کی؟‘ ”تُم میرے مذبح پر ناپاک غِذا نذر کرنے کی وجہ سے۔ ”اَور کہتے ہو کہ ہم نے کس بات میں آپ کی توہین کی ہے۔ یہ کہہ کر کہ یَاہوِہ کی میز حقیر ہے تُم مُجھے ناپاک ٹھہراتے ہو۔ جَب تُم قُربانی کے لیٔے اَندھے جانور لاتے ہو تو کیا یہ بُرائی نہیں ہے؟ جَب تُم عیب دار اَور بیمار جانور قُربانی کرتے ہو تو کیا یہ بُرائی نہیں؟“ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، اُن جانوروں کو اَپنے حاکم کے لیٔے نذر کرو! کیا وہ تمہاری اِس بات سے خُوش ہونگے؟ کیا وہ اُسے قبُول کریں گے؟ ”اَب ذرا خُدا سے مِنّت کرو کہ وہ ہم پر رحم کریں، کیونکہ تمہارے ہی ہاتھوں نے اِن قُربانیوں کو نذر کیا ہے۔ کیا وہ تُمہیں قبُول کریں گے؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”کاش کتنا اَچھّا ہوتا کہ تُم میں سے کویٔی بیت المُقدّس کے دروازے کو بند کر دیتا تاکہ تُم میرے مذبح پر عبث آگ نہ جَلاتے! میں تُم سے خُوش نہیں ہُوں۔“ کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اِس لئے مَیں تمہارے ہاتھ سے کویٔی ہدیہ ہرگز قبُول نہیں کروں گا۔ کیونکہ آفتاب کے طُلوع سے غروب تک قوموں میں میرے نام کی تمجید ہوگی۔ اَور میرے نام کی خاطِر ہر جگہ بخُور جَلایا جائے گا اَور پاک عطیات لایٔے جایٔیں گے کیونکہ قوموں میں میرے نام کی تمجید ہوگی،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”لیکن تُم یہ کہہ کر اُس کی توہین کرتے ہو،“ یَاہوِہ کی میز ناپاک ہے اَور اُس پر کا رکھا ہُوا عطیات حقیر ہیں۔ اَور تُم یہ بھی کہتے ہو کہ، یہ کیسی زحمت ہے، اَور اُس پر حقارت سے ناک سکوڑتے ہو۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”جَب تُم زخمی یا عیب دار یا بیمار جانور قُربانی کرنے لاتے ہو تو کیا میں اَیسی قُربانی تمہارے ہاتھ سے قبُول کروں؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”لعنت ہے اُس دغاباز پر جِس کے ریوڑ میں قابل قبُول نر جانور مَوجُود ہے اَور وہ اُسے دینے کے لیٔے قَسم کھاتا ہے مگر خُداوؔند کو عیب دار جانور نذر کرتا ہے۔ کیونکہ مَیں شاہِ عظیم ہُوں،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے، اِس لئے تمام قوموں میں لوگوں کے درمیان میرے نام کا خوف مانا جانا چاہئے۔ (ملاکیؔ 1:6-14)
دینے کا طریقہ
”ایک بیٹا اَپنے باپ کی عزّت کرتا ہے اَور غُلام اَپنے آقا کا اِحترام کرتا ہے۔ اگر مَیں باپ ہُوں تو میری عزّت کہاں ہے؟ اگر مَیں آقا ہُوں تو میرا خوف کہاں ہے؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”اَے کاہِنوں تُم ہی ہو، جو میرے نام کی تحقیر کرتے ہو۔ ”پھر بھی تُم کہتے ہو، ’ہم نے کس بات میں تمہارے نام کی تحقیر کی؟‘ ”تُم میرے مذبح پر ناپاک غِذا نذر کرنے کی وجہ سے۔ ”اَور کہتے ہو کہ ہم نے کس بات میں آپ کی توہین کی ہے۔ یہ کہہ کر کہ یَاہوِہ کی میز حقیر ہے تُم مُجھے ناپاک ٹھہراتے ہو۔ جَب تُم قُربانی کے لیٔے اَندھے جانور لاتے ہو تو کیا یہ بُرائی نہیں ہے؟ جَب تُم عیب دار اَور بیمار جانور قُربانی کرتے ہو تو کیا یہ بُرائی نہیں؟“ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، اُن جانوروں کو اَپنے حاکم کے لیٔے نذر کرو! کیا وہ تمہاری اِس بات سے خُوش ہونگے؟ کیا وہ اُسے قبُول کریں گے؟ ”اَب ذرا خُدا سے مِنّت کرو کہ وہ ہم پر رحم کریں، کیونکہ تمہارے ہی ہاتھوں نے اِن قُربانیوں کو نذر کیا ہے۔ کیا وہ تُمہیں قبُول کریں گے؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”کاش کتنا اَچھّا ہوتا کہ تُم میں سے کویٔی بیت المُقدّس کے دروازے کو بند کر دیتا تاکہ تُم میرے مذبح پر عبث آگ نہ جَلاتے! میں تُم سے خُوش نہیں ہُوں۔“ کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”اِس لئے مَیں تمہارے ہاتھ سے کویٔی ہدیہ ہرگز قبُول نہیں کروں گا۔ کیونکہ آفتاب کے طُلوع سے غروب تک قوموں میں میرے نام کی تمجید ہوگی۔ اَور میرے نام کی خاطِر ہر جگہ بخُور جَلایا جائے گا اَور پاک عطیات لایٔے جایٔیں گے کیونکہ قوموں میں میرے نام کی تمجید ہوگی،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”لیکن تُم یہ کہہ کر اُس کی توہین کرتے ہو،“ یَاہوِہ کی میز ناپاک ہے اَور اُس پر کا رکھا ہُوا عطیات حقیر ہیں۔ اَور تُم یہ بھی کہتے ہو کہ، یہ کیسی زحمت ہے، اَور اُس پر حقارت سے ناک سکوڑتے ہو۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”جَب تُم زخمی یا عیب دار یا بیمار جانور قُربانی کرنے لاتے ہو تو کیا میں اَیسی قُربانی تمہارے ہاتھ سے قبُول کروں؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”لعنت ہے اُس دغاباز پر جِس کے ریوڑ میں قابل قبُول نر جانور مَوجُود ہے اَور وہ اُسے دینے کے لیٔے قَسم کھاتا ہے مگر خُداوؔند کو عیب دار جانور نذر کرتا ہے۔ کیونکہ مَیں شاہِ عظیم ہُوں،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے، اِس لئے تمام قوموں میں لوگوں کے درمیان میرے نام کا خوف مانا جانا چاہئے۔ (ملاکیؔ 1:6-14)
دینے کا نمونہ
ترجیح
”چھ سال تک تُم اَپنے کھیتوں میں بیج بونا اَور فصل کاٹنا۔ لیکن ساتویں سال اُس زمین میں نہ تو ہل چلانا اَور نہ اُسے اَپنے اِستعمال میں لانا تمہارے لوگوں میں جو ضروُرت مند ہُوں وہ اُس میں سے خُوراک حاصل کرنے کے لئے چھوڑیں۔ اَورجو اُن سے بچ رہے اُسے جنگلی جانور چَر لیں۔ اَپنے انگور کے باغ اَور اَپنے زَیتُون کے باغ سے بھی اَیسا ہی کرنا۔ (خُروج 23:10-11)
”سَب پہلوٹھے میرے ہیں اَور اِن میں تمہارے چَوپایوں کے نر پہلوٹھے بھی شامل ہیں خواہ وہ گلّے کے بچھڑے ہُوں یا برّے۔ (خُروج 34:19)
”اَور تُم اَپنی زمین کے پہلے پھلوں میں سے بہترین پھل یَاہوِہ اَپنے خُدا کے گھر میں لانا۔ ”تُم بکری کے بچّہ کو اُس کی ماں کے دُودھ میں نہ پکانا۔“ (خُروج 34:26)
تُم اِنہیں پہلے پھلوں کی نذر کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور لا سکتے ہو لیکن وہ بطور فرحت بخش خُوشبو مذبح پر نذر نہ کی جائے۔ (اَحبار 2:12)
” ’پہلے پھلوں کے دِن جَب تُم ہفتوں کی عید کے موقع پر یَاہوِہ کے لیٔے نئی نذر کی قُربانی پیش کرو تَب بھی تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو اَور اُس روز بھی کویٔی حسبِ معمول کام اَنجام نہ دیا جائے۔ (گِنتی 28:26)
جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہو جاؤ، جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں مِیراث کے طور پر دے رہے ہیں اَور اُس پر قبضہ کرکے اُس میں بس جاؤ، تَب جو مُلک یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، اُن کی زمین میں جو کچھ تُم اُگاؤ، تو اُن سَب کے کچھ پہلے پھل ٹوکری میں رکھ کر اُس جگہ لے جانا جو یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے نام کے قِیام کے واسطے مُنتخب کریں گے۔ (اِستِثنا 26:1-2)
اَپنی دولت سے، اَور اَپنی فصلوں کے پہلے پھلوں سے یَاہوِہ کی تعظیم کرو؛ (امثال 3:9)
فوراً
”تُم گوداموں میں جمع کی ہُوئی پیداوار اَور اَپنے کولھو سے نکالے ہویٔے رس میں سے میرے لیٔے نذریں لانے میں تاخیر نہ کرنا۔ ”اَور تُمہیں اَپنے بیٹوں میں سے پہلوٹھے کو لازماً مُجھے دینا ہوگا۔ (خُروج 22:29)
اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی خاطِر مَنّت مانو، تو اُسے پُورا کرنے میں تاخیر نہ کرنا کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا ضروُر اُسے تُم سے طلب کریں گے اَور تَب تُم مُجرم ٹھہروگے۔ (اِستِثنا 23:21)
جَب تُم خُدا کے حُضُور مَنّت مانو تو اُسے پُورا کرنے میں دیر نہ کرو۔ کیونکہ وہ احمقوں سے خُوش نہیں ہوتا۔ چنانچہ تُم اَپنی مَنّت کو پُوری کرو۔ (واعظ 5:4)
پہلے سے طے شدہ
جِس نے دِل میں جِس قدر دینے کا خیال کیا ہُواہے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کےاُتنا ہی دے اَور خُوشی سے دے، نہ کہ مجَبُوری یا کسی دباؤسے کیونکہ خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔ (2 کُرِنتھِیوں 9:7)
باقاعدگی سے
یعنی ہر ہفتہ کے پہلے دِن، تُم میں سے ہر شخص اَپنی آمدنی کے مُطابق اَپنے پاس کچھ جمع کرکے رکھتا رہے، تاکہ جَب مَیں آؤں تو تُمہیں پیسہ جمع کرنے کی ضروُرت نہ ہو۔ (1 کُرِنتھِیوں 16:2)
ذاتی طور پر
گدھے کے پہلے بچّہ کے فدیہ میں برّہ دیا جائے لیکن اگر تُم اُس کا فدیہ نہ دینا چاہو تو اُس کی گردن توڑ ڈالنا۔ اَپنے تمام پہلوٹھے بیٹوں کا فدیہ دینا۔ ”اَور کویٔی بھی میرے سامنے خالی ہاتھ نہ آئے۔ (خُروج 34:20)
تُم میں سے ہر ایک شخص اُس برکت کے مُطابق جو اُس نے یَاہوِہ اَپنے خُدا سے پائی ہے اُسے خُدا کے واسطے ہدیہ لے آئے۔ (اِستِثنا 16:17)
مُلک کے تمام لوگ اِسرائیل کے شہزادوں کے اِستعمال کے لیٔے اُس خصوصی ہدیہ میں شریک ہُوں۔ (حزقی ایل 45:16)
لہٰذا شاگردوں، نے فیصلہ کیا کہ ہم میں سے ہر ایک اَپنی اَپنی مالی حیثیت کے مُطابق کچھ دے تاکہ یہُودیؔہ میں رہنے والے مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کی مدد کی جائے۔ (اعمال 11:29)
یعنی ہر ہفتہ کے پہلے دِن، تُم میں سے ہر شخص اَپنی آمدنی کے مُطابق اَپنے پاس کچھ جمع کرکے رکھتا رہے، تاکہ جَب مَیں آؤں تو تُمہیں پیسہ جمع کرنے کی ضروُرت نہ ہو۔ (1 کُرِنتھِیوں 16:2)
ذاتی طور پر الگ رکھنا
یعنی ہر ہفتہ کے پہلے دِن، تُم میں سے ہر شخص اَپنی آمدنی کے مُطابق اَپنے پاس کچھ جمع کرکے رکھتا رہے، تاکہ جَب مَیں آؤں تو تُمہیں پیسہ جمع کرنے کی ضروُرت نہ ہو۔ (1 کُرِنتھِیوں 16:2)
بغیر غرور کے
”خبردار! اَپنے راستبازی کے کام لوگوں کو دِکھانے کے لیٔے نہ کرو ورنہ تُمہیں اَپنے آسمانی باپ سے کویٔی اجر حاصل نہ ہوگا۔ ”لہٰذا جَب تُم مسکینوں کو دیتے ہو تو نرسنگا نہ بجاؤ، جَیسا کہ ریاکار یہُودی عبادت گاہوں اَور سڑکوں پر کرتے ہیں، تاکہ لوگ اُن کی تعریف کریں۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اَپنا پُورا اجر پا چُکے ہیں۔ لیکن جَب تُم ضروُرت مندوں کو خیرات کرو، تو جو کُچھ تُم اَپنے داہنے ہاتھ سے کرتے ہو اُسے تمہارا بایاں ہاتھ نہ جاننے پایٔے، تاکہ تمہاری خیرات پوشیدہ رہے۔ تَب تمہارا آسمانی باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے اَور سَب کُچھ جاننے والا ہے، تُمہیں اجر دے گا۔ (متّی 6:1-4)
آمادہ دل سے
”بنی اِسرائیل سے کہو کہ میرے لیٔے نذر لائیں۔ اَورجو اِنسان دِل کی خُوشی سے نذر لایٔے تو اُسے میرے لیٔے قبُول کر لینا۔ (خُروج 25:2)
تُم اُس میں سے جو تمہارے پاس ہے یَاہوِہ کے لیٔے نذر لایا کرو۔ اَور ہر ایک خُوشی سے یَاہوِہ کے لیٔے نذر: ”سونا، چاندی، کانسے؛ (خُروج 35:5)
اَور ہر کویٔی جِس کی نیّت نیک تھی اَور جِس کے دِل نے اُسے ترغِیب دی وہ آیا اَور خیمہ اِجتماع کے کام، وہاں کی پرستش اَور مُقدّس لباس کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور نذر لایا۔ اَور مَرد اَور عورتیں سَب کے سَب خُوشی خُوشی آئے اَور سونے کے تمغے، سونے کی بالیاں، انگُشتریاں اَور آرائِش کی دیگر اَشیا لایٔے اَور اُن سَب نے ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر اَپنا سونا یَاہوِہ کو پیش کیا۔ اَور ہر ایک جِس کے پاس نیلے آسمانی رنگ کا، اَرغوانی رنگ کا یا سُرخ رنگ کا کپڑا یا نفیس کتان یا بکریوں کی پشم، مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالیں یا دریائی بچھڑوں کی کھالیں تھیں لے آیا۔ اَور وہ جنہوں نے چاہا کہ چاندی یا کانسے کی نذر پیش کریں وہ اُسے یَاہوِہ کے لیٔے نذر کے طور پر لایٔے اَور جِس کے پاس کسی حِصّہ میں کام آنے والی کیکر کی لکڑی تھی وہ اُسی کو لے آیا۔ اَور ہُنرمند عورتوں نے نیلے آسمانی، اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کا کپڑا یا نفیس کتان جو اُنہُوں نے اَپنے ہاتھوں سے کاتا اَور بُنا تھا لاکر دیا۔ اَورجو عورتیں سمجھدار اَور ہُنرمند تھیں اُنہُوں نے بکریوں کی پشم کاتی۔ اَورجو سردار تھے وہ افُود اَور سینہ بند کے لیٔے سنگِ سُلیمانی اَور نگینے لایٔے اَور وہ جَلانے کے لیٔے، مَسح کرنے کے لیٔے اَور خُوشبودار بخُور کے لیٔے مَسالے اَور زَیتُون کا تیل بھی لایٔے۔ اَور یُوں تمام بنی اِسرائیل مَرد اَور عورتیں اَپنی ہی خُوشی سے یَاہوِہ کے حُضُور اُس تمام کام کے لیٔے رضا کی قُربانی کے نذرانے لایٔے جسے کرنے کا یَاہوِہ نے اُنہیں مَوشہ کی مَعرفت حُکم دیا تھا۔ (خُروج 35:21-29)
اَور ایک دِن شاہِ یُوآشؔ نے کاہِنوں کو حُکم دیا، ”مُقدّس نذرانے کی وہ سَب نقدی جمع کرو جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لائی جاتی ہے چاہے وہ نقدی ہر شخص کے مردُم شماری کا ہو، چاہے وہ نقدی ذاتی منّتوں سے حاصل ہُوا ہو یا جو رضا کا نذرانہ بیت المُقدّس میں لائی گئی ہو۔ (2 سلاطین 12:4)
دینے کے اصول
انتظام اور جواب دہی
بنی لیوی میں سے اخیاہؔ خُدا کے گھر کے خزانوں اَور مخصُوص اَشیا کے خزانوں کا مختار تھا۔ (1 تواریخ 26:20)
شلُومیتؔ اَور اُس کے رشتہ دار اُن تمام اَشیا کے خزانوں کے مختار تھے جو داویؔد بادشاہ نے اَور آبائی خاندانوں کے اُن سربراہوں نے جو ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کے اعلیٰ سرداروں اَور دیگر سپہ سالاروں نے نذر کی تھیں۔ (1 تواریخ 26:26)
اَور مشرقی پھاٹک کا دربان قورؔے بِن یِمنہؔ لیوی خُدا کے حُضُور پیش کی گئی رضا کی قُربانیوں پر مُقرّر تھا تاکہ یَاہوِہ کو دئیے گیٔے ہدیوں اَور پاک ترین چیزوں کو تقسیم کر دیا کرے۔ اُس کے وفادار ماتحت عدنؔ، مِنیامین، یہوشُعؔ، شمعیاہؔ، امریاہؔ اَور شِکنیاہؔ کاہِنوں کے شہروں میں مُقرّر کئے گیٔے تھے تاکہ اَپنے چُھوٹے بڑے کاہِنؔ بھائیوں کو اُن کے فریقوں کے مُطابق اُن کا حِصّہ دیانتداری سے یکساں طور پر تقسیم کریں۔ (2 تواریخ 31:14-15)
اُس وقت پہلے پھلوں اَور دہ یکیوں کے لیٔے گوداموں کے نِگران مُقرّر کئے گیٔے تاکہ جو حِصّے کاہِنوں اَور لیویوں کے لیٔے تورہ کے مُطابق نذرانے مُقرّر کئے گیٔے تھے اُنہیں شہروں کے اِردگرد کھیتوں سے جمع کرکے گوداموں میں جمع کروایا۔ کیونکہ بنی یہُوداہؔ خدمت کرنے والے کاہِنوں اَور لیویوں سے خُوش تھے۔ (نحمیاہ 12:44)
اَور مَیں نے کاہِنؔ شلمیہؔ، صدُوقؔ محرِّر اَور ایک لیوی بنام پِدائیاہؔ کو خزانچی مُقرّر کیا اَور حاننؔ بِن زکُورؔ بِن متّنیاہؔ کو اُن کا مددگار بنایا کیونکہ یہ لوگ قابلِ اِعتماد سمجھے جاتے تھے۔ اَور یہ اُن کا کام تھا کہ وہ اَپنے ساتھی لیویوں کو اُن کے حِصّے تقسیم کریں۔ (نحمیاہ 13:13)
ہم ایک مسیحی بھایٔی کو بھی اُس کے ساتھ بھیج رہے ہیں، جِس کی خُوشخبری سُنانے کی تعریف تمام جماعتوں میں کی جاتی ہے۔ اَور صِرف یہی نہیں بَلکہ جماعتوں نے اُسے مُنتخب کیا کہ وہ عطیوں کی اِس خدمت کے لیٔے ہمارا ہم سفر ہو، ہم یہ کام خُداوؔند کے جلال کے لیٔے کرتے ہیں اَور اِس سے ہمارا شوق بھی ظاہر ہوتاہے۔ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ عطیوں کی اِتنی بڑی رقم کا ٹھیک سے اِنتظام نہ کرنے کے بارے میں ہماری بدنامی ہو۔ ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ ہماری یہ تدبیر خُداوؔند اَور اِنسان دونوں کی نظر میں، بھلی ثابت ہو۔ (2 کُرِنتھِیوں 8:18-21)
پس اُنہُوں نے، کچھ عَطیّہ کی رقم جمع کی اَور بَرنباسؔ اَور ساؤلؔ کے ہاتھ یروشلیمؔ میں بُزرگوں کے پاس بھجوادی۔ (اعمال 11:30)
اَور جَب مَیں وہاں آؤں گا، تو جنہیں تُم منظُور کروگے اُنہیں میں خط دے کر بھیج دُوں گا تاکہ وہ تمہارے ہدیہ یروشلیمؔ پہُنچا دیں۔ اگر میرا جانا بھی مُناسب ہوگا، تو وہ میرے ہی ساتھ جا سکیں گے۔ (1 کُرِنتھِیوں 16:3-4)
جواب دہی طلب نہ کرنے کی مثالیں
اِس کے علاوہ وہ اُن تعمیراتی نِگرانوں سے جنہیں وہ کاریگروں کو دینے کے لئے رقم سُپرد کرتے تھے، اُن سے کویٔی حِساب نہیں مانگا کرتے تھے کیونکہ وہ پُورے ایماندار اَور قابلِ اِعتبار تھے۔ (2 سلاطین 12:15)
لیکن تعمیر کرانے والوں سے اُس نقدی کا جو اُنہیں سُپرد کی جائے حِساب لینے کی ضروُرت نہیں کیونکہ وہ راستی سے کام کر رہے ہیں۔“ (2 سلاطین 22:7)
کہاں دیں
خاندان
جو شخص اَپنے عزیزوں کی، اَور خاص کر اَپنے گھرانے کی خبرگیری نہیں کرتا، تو وہ ایمان کا مُنکر ہے اَور بےاِعتقادوں سے بھی بدتر ہے۔ (1 تِیمُتھِیُس 5:8)
والدین
کیونکہ خُدا نے فرمایاہے، ’تُم اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا‘ اَور ’جو کویٔی باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔‘ مگر تُم کہتے ہو کہ اگر کویٔی اَپنے باپ یا ماں سے کہے کہ جو کُچھ آپ کو مُجھ سے مدد کے لیٔے اِستعمال ہونا تھا وہ خُدا کو نذر ہو چُکی ہے، تو اُس پر اَپنے ’باپ یا ماں کی عزّت کرنا‘ فرض نہیں ہے۔ یُوں تُم نے اَپنی روایت سے خُدا کا کلام ردّ کر دیا ہے۔ (متّی 15:4-6)
پھر یہ کہا، ”تُم اَپنی روایت کو قائِم رکھنے کے لیٔے خُدا کے حُکم کو کیسی خُوبی کے ساتھ باطِل کر دیتے ہو! مثلاً حضرت مَوشہ نے فرمایاہے، ’تُم اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا،‘ اَور ’جو کویٔی باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔‘ مگر تُم یہ کہتے ہو کہ جو چاہے اَپنے ضروُرت مند باپ یا ماں سے کہہ سَکتا ہے کہ میری جِس چیز سے تُجھے فائدہ پہُنچ سَکتا تھا وہ تو قُربان (یعنی، خُدا کی نذر) ہو چُکی تُم اُسے اَپنے ماں باپ کی کُچھ بھی مدد نہیں کرنے دیتے۔ یُوں تُم اَپنی روایت سے جو تُم نے جاری کی ہے کہ خُدا کے کلام کو باطِل کر دیتے ہو۔ تُم اِس قَسم کے اَور بھی کیٔی کام کرتے ہو۔“ (مرقُس 7:9-13)
بیوائیں
اَور اگر کسی بِیوہ کے لڑکے یا پوتے ہوں تو اُن کی پہلی ذمّہ داری اَپنے گھر والوں کے تئیں اَپنا فرائض پہچانتے ہُوئے خُدا کا بندہ بننا سیکھیں اِس طرح اَپنے والدین اَور دادا دادی کے حق اَدا کرنا سیکھیں کیونکہ یہ خُدا کی نظر میں پسندِیدہ ہے۔ (1 تِیمُتھِیُس 5:4)
اگر کسی مُومِن خاتُون کے گھر میں بیوائیں ہوں تو وہ اُن کی مدد کرے تاکہ جماعت پر اُن کا بوجھ نہ پڑے تاکہ جماعت اُن کی مدد کر سکے جو واقعی بے سہارا ہیں۔ (1 تِیمُتھِیُس 5:16)
خاندان کو دینے کی مثال
میں وہاں آپ کی پرورِش کا سارا اِنتظام کروں گا، تاکہ آپ اَور آپ کا گھرانہ اَور سارا مال و متاع جو آپ کا ہے غربت کا شِکار نہ ہو کیونکہ قحط کے ابھی پانچ سال اَور باقی ہیں۔‘ (پیدائش 45:11)
یُوسیفؔ نے اَپنے باپ اَور اَپنے بھائیوں اَور اَپنے باپ کے سَب گھر والوں کے لیٔے اُن کے بچّوں کی تعداد کے مُطابق اشیائے خوردنی کا اِنتظام بھی کر دیا۔ (پیدائش 47:12)
خاندان کو دینے کی مثال
اُس اناج کی نذر میں سے جو کچھ باقی رہ جائے وہ اَہرونؔ اَور اُس کے بیٹوں کا ہوگا۔ یہ یَاہوِہ کو پیش کی جانے والی غِذا کی آتِشی قُربانیوں کا پاک ترین حِصّہ ہے۔ (اَحبار 2:3)
اَور ہر قُربانی کی ایک ایک روٹی یَاہوِہ کے لیٔے نذرانہ کے طور پر لایٔے؛ اَور یہ اُسی کاہِنؔ کا ہوگا جو سلامتی کی نذر کا خُون مذبح پر چھڑکتا ہے۔ (اَحبار 7:14)
اَور تُم اَپنی سلامتی کی نذروں کی قُربانی کی داہنی ران کاہِنؔ کو نذرانہ کے طور پر دے دینا۔ اَور اَہرونؔ کے بیٹوں میں سے جو سلامتی کی نذر کا خُون اَور چربی گزرانے، تو قُربانی کی داہنی ران اُس کے حِصّہ کے طور پر اُسی کی ہوگی۔ کیونکہ مَیں نے بنی اِسرائیل کی سلامتی کی نذروں میں سے ہلانے کی نذر کی قُربانی کا وہ سینہ اَور وہ ران جو نذر کی جاتی ہے، اُنہیں کاہِنؔ اَہرونؔ اَور اُن کے بیٹوں کو دے دیا ہے کہ وہ بنی اِسرائیل کی جانِب سے کاہِنؔ کا دائمی حِصّہ ہو۔‘ “ (اَحبار 7:32-34)
پھر مَوشہ نے اَہرونؔ اَور اُن کے دونوں بچے ہویٔے بیٹوں، الیعزرؔ اَور اِتمارؔ سے فرمایا، ”یَاہوِہ کو پیش کی گئی آتِشی قُربانیوں میں سے اناج کی نذر کو جو بچی رہے، اَورجو بے خمیری کا ہے اُسے لے کر مذبح کے پاس ہی کھاؤ، کیونکہ یہ نہایت ہی پاک ہے۔ اَور تُم اِسے پاک مَقدِس کی جگہ میں ہی کھانا، کیونکہ یَاہوِہ کو پیش کی گئی آتِشی قُربانیوں میں سے یہ تمہارا اَور تمہارے بیٹوں کا دائمی حِصّہ ہے۔ کیونکہ مُجھے اَیسا ہی حُکم دیا گیا ہے۔ لیکن تُم اَور تمہارے بیٹے اَور بیٹیاں اُس ہلانے کی نذر کی قُربانی کے سینہ اَور ران کو کسی رسماً پاک جگہ میں کھا سکتے ہو۔ کیونکہ یہ بنی اِسرائیل کی سلامتی کی نذروں میں سے تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں اَور بیٹیوں کے لیٔے دائمی حِصّہ کے طور پر دئیے گیٔے ہیں۔ (اَحبار 10:12-14)
لیکن اگر اُس شخص کا کویٔی قریبی رشتہ دار نہ ہو جسے اُس خطا کا مُعاوضہ دیا جائے تو وہ مُعاوضہ یَاہوِہ کا ہوگا، لہٰذا اُسے اَور کفّارہ کے مینڈھے کو کاہِنؔ کے سُپرد کیا جائے۔ بنی اِسرائیل جِتنی بھی مُقدّس نذریں کاہِنؔ کے پاس لائیں وہ سَب کاہِنؔ کی ہُوں گی۔ ہر شخص کے مُقدّس نذرانے اُس کے اَپنے ہوں گے لیکن جو چیز وہ کاہِنؔ کو دے گا وہ کاہِنؔ کی ہوگی۔‘ “ (گِنتی 5:8-10)
تَب یَاہوِہ نے اَہرونؔ سے کہا، ”مَیں نے خُود تُمہیں اُن نذرانوں کی ذمّہ داری دی ہے جو مُجھے پیش کئے جاتے ہیں۔ جتنے پاک نذرانے بنی اِسرائیل میرے حُضُور پیش کرتے ہیں وہ سَب میں تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں کو تمہارے حق میں دائمی حِصّہ کے طور پر دے رہا ہُوں۔ نہایت پاک نذرانوں میں سے جو حِصّہ آگ سے بچایا جائے وہ تمہارا ہوگا۔ وہ نذرانے جنہیں وہ نہایت پاک قُربانیوں کے طور پر مُجھے پیش کرتے ہیں خواہ وہ اناج کی نذر، گُناہ کی قُربانی یا خطا کی قُربانیاں ہُوں سَب تُم اَور تمہارے بیٹوں کے لیٔے ہیں۔ تُم اُن کو نہایت مُقدّس جان کر کھانا۔ صِرف مَرد اُنہیں کھایٔیں۔ اَور تُم اُنہیں پاک ماَننا۔ ”اَور یہ بھی تمہارا ہوگا: جِتنا نذرانہ بنی اِسرائیل ہلانے کی نذروں کی قُربانی کے لیٔے دیں اُسے میں تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں اَور بیٹیوں کو اُن کا حق دائمی حِصّہ کے طور پر دیتا ہُوں اُن کا اَبدی حق مُقرّر کر دے رہا ہُوں۔ تمہارے خاندان کا ہر شخص جو رسماً پاک ہو اُنہیں کھا سَکتا ہے۔ ”بہترین زَیتُون کا تیل، بہترین نئے انگوری شِیرے اَور اناج جسے وہ اَپنی پہلی فصل کے پہلے پھل کے طور پر یَاہوِہ کو پیش کرتے ہیں وہ سَب میں تُمہیں دیتا ہُوں۔ اَپنے مُلک کا سارا پہلا پھل جسے وہ یَاہوِہ کے لیٔے لائیں تمہارا ہوگا۔ تمہارے خاندان کا ہر شخص جو رسماً پاک ہو اُنہیں کھا سَکتا ہے۔ ”بنی اِسرائیل کی جو یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کی ہُوئی ہر شَے تمہاری ہوگی۔ ہر رِحم کا پہلا بچّہ خواہ وہ اِنسان ہو یا حَیوان جو یَاہوِہ کو نذر کیا گیا ہو تمہارا ہے۔ لیکن تُم اِنسان کے پہلوٹھے اَور ناپاک جانوروں کے پہلوٹھے نر بچّوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دینا۔ جَب وہ ایک مہینے کے ہُوں تَب تُم اُنہیں اُن کی فدیہ کی مُقرّرہ قیمت لے کر چھوڑا دینا جو پاک مَقدِس کے بیس گِیرہ کی ثاقل کے حِساب سے چاندی کی پانچ ثاقل ہوگی۔ ”لیکن گائے، بھیڑ اَور بکری کے پہلوٹھوں کا فدیہ نہ لینا۔ وہ مُقدّس ہیں۔ تُو اُن کا خُون مذبح پر چھڑکنا اَور اُن کی چربی آتِشی قُربانی کے طور پر جَلا دینا تاکہ وہ یہ یَاہوِہ کے حُضُور غِذا کی فرحت بخش خُوشبو ٹھہرے۔ جِس طرح ہلانے کی نذر کی قُربانی کا سینہ اَور داہنی ران تمہارے ہیں اُسی طرح اُن کا گوشت بھی تمہارا ہوگا۔ بنی اِسرائیل کی یَاہوِہ کو پیش کی ہُوئی مُقدّس قُربانیوں کی نذروں میں سے جو کچھ الگ رکھا جائے اُسے میں تُمہیں اَور تمہارے بیٹوں اَور بیٹیوں کو تمہارے مُقرّرہ حِصّہ کے طور پر دے دیتا ہُوں۔ یہ یَاہوِہ کے حُضُور تمہارے اَور تمہاری نَسل کے لیٔے نمک کا دائمی عہد ہے۔“ (گِنتی 18:8-19)
اُن سپاہیوں کے حِصّہ میں جو جنگ میں لڑے تھے یَاہوِہ کے لیٔے خراج کے طور پر ہر پانچ سَو لوگوں، مویشیوں، گدھوں، بھیڑوں میں سے ایک کے حِساب سے ایک حِصّہ لے لیں۔ اُن کے نِصف حِصّہ میں سے تُم یہ خراج لے کر اُسے الیعزرؔ کاہِنؔ کو یَاہوِہ کے نذرانہ کے طور پر دے دینا۔ اَور بنی اِسرائیل کے نِصف حِصّہ میں سے ہر پچاس کے پیچھے ایک ایک لینا خواہ وہ اِنسان ہُوں یا مویشی، گدھے، بھیڑیں، یا کویٔی اَور جانور۔ اُنہیں لیویوں کو دینا جو یَاہوِہ کے خیمہ اِجتماع کی حِفاظت کے ذمّہ دار ہیں۔“ (گِنتی 31:28-30)
جَب لوگ بَیل یا بھیڑ کی قُربانی کرتے ہیں تو لوگ اُس قُربانی میں سے کاہِنوں کو یہ حِصّہ مُہیّا کریں جِس کے وہ حقدار ہیں یعنی کندھا، سَر اَور اَندرونی اَعضا۔ تُم کاہِنوں کو اَپنے اناج کا پہلا پھل، نئے انگوری شِیرے اَور زَیتُون کا تیل، اَور اَپنی بھیڑوں کی وہ اُون دینا جو پہلی بار کتری گئی ہو، (اِستِثنا 18:3-4)
تُم فصل گاہتے وقت بَیل کا مُنہ نہ باندھنا۔ (اِستِثنا 25:4)
”ہم ہر سال اَپنی فصلوں اَور درختوں کا پہلا پھل یَاہوِہ کے گھر میں لانے کی بھی ذمّہ داری لیتے ہیں۔ ”جَیسا کہ تورہ میں بھی لِکھّا ہے ہم اَپنے پہلوٹھے بیٹوں اَور اَپنے مویشیوں، ریوڑوں اَور گلّوں کے پہلوٹھے بچّوں کو اَپنے خُدا کے گھر میں کاہِنوں کے پاس لائیں گے جو وہاں خدمت کرتے ہیں۔ (نحمیاہ 10:35-36)
چنانچہ زرُبّابِیل اَور نحمیاہ کے دِنوں میں بھی تمام بنی اِسرائیل موسیقاروں اَور دربانوں کی ضروُرت کے مُطابق روزانہ حِصّے دیتے تھے۔ وہ لیویوں کے لیٔے الگ حِصّے مخصُوص کرتے تھے اَور لیوی بنی اَہرونؔ کے لیٔے حِصّے مخصُوص کرتے تھے۔ (نحمیاہ 12:47)
وہ نذر کی قُربانی، گُناہ کی قُربانی اَور خطا کی قُربانی کھایٔیں گے اَور اِسرائیل میں جو کچھ یَاہوِہ کی نذر کیا جائے وہ اُن کا ہوگا۔ اَور تمام پہلے پھلوں میں سے بہترین پھل اَور تمہارے تمام خصوصی ہدیئے کاہِنوں کے ہوں گے۔ تُم اَپنے گُندھے ہُوئے آٹے کا پہلا حِصّہ اُن کو پیش کرو تاکہ تمہارے خاندان پر برکت ہو۔ (حزقی ایل 44:29-30)
نئے عہد نامے کے خادم
”اَپنے کمربند میں نہ سونا نہ چاندی نہ ہی پیسے رکھنا، نہ راستے کے لیٔے تھیلا لینا نہ دو دو کُرتے، نہ جُوتے اَور نہ لاٹھی کیونکہ مزدُور اَپنی مزدُوری کا حقدار ہے۔ (متّی 10:9-10)
اُنہیں یہ بھی ہدایت دی، ”اَپنے سفر کے لیٔے سِوائے لاٹھی کے اَور کُچھ نہ لینا، نہ روٹی نہ تھیلا، نہ کمربند میں پیسے۔ (مرقُس 6:8)
یِسوعؔ نے اَپنے بَارہ رسولوں کو بُلایا اَور اُنہیں قُدرت اَور اِختیار بخشا کہ ساری بدرُوحوں کو نکالیں اَور بیماریوں کو دُور کریں۔ اَور اُنہیں روانہ کیا تاکہ وہ خُدا کی بادشاہی کی مُنادی کریں اَور بیماریوں کو اَچھّا کریں اَور اُن سے کہا: ”راستے کے لیٔے کُچھ نہ لینا، نہ لاٹھی، نہ تھیلا، نہ روٹی، نہ نقدی، نہ دو دو کُرتے۔ (لُوقا 9:1-3)
اِس کے بعد خُداوؔند نے بہتّر شاگرد اَور مُقرّر کیٔے اَور اُنہیں دو دو کرکے اَپنے سے پہلے اُن شہروں اَور قصبوں میں روانہ کیا جہاں وہ خُود جانے والے تھے۔ اَپنے ساتھ بٹوا نہ لے جانا نہ تھیلی نہ جُوتے؛ اَور نہ کسی کو راہ میں سلام کرنا۔ ”جَب کسی گھر میں داخل ہو تو، پہلے کہو کہ، ’اِس گھر کی سلامتی ہو۔‘ اگر وہاں کویٔی سلامتی کا فرزند ہوگا تو، تمہارا سلام اُس پر ٹھہرے گا؛ ورنہ، تمہارے پاس لَوٹ آئے گا۔ اُسی گھر میں ٹھہرے رہو، اَورجو کُچھ اُن سے ملے گھر والوں کے ساتھ کھاؤ اَور پیو، کیونکہ مزدُور اَپنی مزدُوری کا حقدار ہے۔ گھر بدلتے نہ رہنا۔ (لُوقا 10:1, 4-7)
بہرحال، کلامِ خُدا کی تعلیم پانے والا اَپنی ساری اَچھّی چیزوں میں اَپنے مُعلّم کو بھی شریک کرے۔ (گلتیوں 6:6)
جو بُزرگ جماعت کی رہنمائی کا کام اَچھّی طرح سے کرتے ہیں، خاص کر وہ جو کلام سُناتے اَور تعلیم دیتے ہیں، اُنہیں دُگنی عزّت کے لائق سمجھا جائے۔ کیونکہ کِتاب مُقدّس کا بَیان ہے، ”گاہتے وقت بَیل کا مُنہ نہ باندھنا،“ اَور یہ بھی ”مزدُور اَپنی مزدُوری کا حقدار ہے۔“ (1 تِیمُتھِیُس 5:17-18)
زیناسؔ کو جو وکیل ہے اَور اپُلّوسؔ کو روانہ کرنے کی کوشش کرنا اَور یہ بھی دیکھنا کہ اُنہیں کسی چیز کی ضروُرت نہ رہے۔ (طِطُس 3:13)
اَے میرے عزیز! تُو جِس قدر مُومِنین بھائیوں اَور بہنوں کی خدمت بڑی وفاداری سے کرتا ہے ٹھیک اُسی طرح سے تُو اُن کی بھی خدمت کر رہاہے جو تیرے لیٔے اجنبی مُومِن بھایٔی ہیں۔ اُنہُوں نے جماعت کے سامنے تیری مَحَبّت کی گواہی دی تھی۔ مہربانی سے خُدا کے اُن خادِموں کو آگے سفر پر اِس قدر روانہ کرجو خُدا کی نظر میں مُناسب ہے۔ کیونکہ وہ المسیح کے نام کی خاطِر خدمت کرنے نکلے ہیں اَور غَیریہُودیوں سے کچھ بھی مدد نہیں لیتے ہیں اِس لیٔے ہمارا فرض ہے کہ اَیسے لوگوں کی مدد اَور خاطرداری کریں تاکہ ہم اُس حق کے ہم خدمت ہو سکیں۔ (3 یُوحنّا 1:5-8)
زمینی خدمت کے دوران یسوع کی کفالت ہدیوں سے ہوتی تھی
اَور یوأنّہؔ ہیرودیسؔ کے دیوان؛ خُوزہؔ کی بیوی تھی، اَور سوسنّؔاہ اَور کیٔی دُوسری خواتین جو اَپنے مال و اَسباب سے اُن کی خدمت کرتی تھیں۔ (لُوقا 8:3)
وہ مسیحی خادم جنہوں نے کفالت کا اپنا حق استعمال نہیں کیا
کیا صِرف مُجھے اَور بَرنباسؔ کو ہی محنت مشقّت سے بعض رہنے کا اِختیار نہیں ہے؟ کون سا سپاہی اَپنی گِرہ سے کھا کر جنگ کرتا ہے؟ کون ہے جو انگور کا باغ لگا کر انگور نہیں کھاتا؟ یا کون سا چرواہا ہے جو اَپنے گلّہ کا دُودھ نہیں پیتا؟ کیا میں یہ باتیں اِنسانی حیثیت سے کہتا ہُوں؟ کیا شَریعت بھی یہی نہیں کہتی؟ کیونکہ حضرت مَوشہ کی شَریعت میں لِکھّا ہے: ”گاہتے وقت بَیل کا مُنہ نہ باندھنا۔“ کیا خُدا کو بَیلوں ہی کی پروا ہے؟ کیا وہ خاص طور پر یہ ہمارے لیٔے نہیں کہتا؟ ہاں، یہ ہمارے لیٔے لِکھّا گیا کیونکہ جوتنے والا اِس اُمّید پر جوتتا ہے اَور گاہنے والا اِس اُمّید پر گاہتا ہے کہ اُنہیں فصل کا کچھ حِصّہ ضروُر ملے گا۔ اگر ہم نے تمہارے فائدہ کے لیٔے رُوحانی بیج بویا تو کیا یہ کویٔی بڑی بات ہے کہ ہم تمہاری جِسمانی چیزوں کی فصل کاٹیں؟ جَب اَوروں کو یہ حق حاصل ہے کہ تُم سے کچھ حاصل کریں، تو کیا ہمارا حق اُن سے زِیادہ نہ ہوگا؟ لیکن ہم نے اِس حق سے فائدہ نہ اُٹھایا بَلکہ سَب کچھ برداشت کرتے رہے تاکہ ہماری وجہ سے المسیح کی خُوشخبری کی تبلیغ میں رُکاوٹ پیدا نہ ہو۔ کیا تُم نہیں جانتے کہ جو بیت المُقدّس میں خدمت کرتے ہیں، وہ وہیں سے کھاتے ہیں؟ اَورجو قُربان گاہ پر قُربانیاں چڑھانے کی خدمت کرتے ہیں وہ اُن قُربانیوں کا کچھ حِصّہ لیتے ہیں؟ اِسی طرح خُداوؔند نے بھی مُقرّر کیا ہے کہ جو انجیل کی مُنادی کرتے ہیں وہ انجیل ہی کے وسیلہ سے گزارہ کریں۔ اِس کے باوُجُود مَیں نے اِن میں سے کسی بھی حق کا کبھی فائدہ نہیں اُٹھایا اَور نہ ہی اِس خیال سے لِکھ رہا ہُوں کہ اَب فائدہ اُٹھاؤں، میں مَرجانا بہتر سمجھتا ہُوں بجائے اِس کے کسی کا اِحسَان لے کر اَپنا فخر کھو دُوں۔ (1 کُرِنتھِیوں 9:6-15)
اگر مَیں اَپنی مرضی سے مُنادی کرتا ہُوں، تو اجر پانے کی اُمّید بھی رکھتا ہُوں؛ لیکن اگر اَپنی مرضی سے نہیں، تو یُوں سمجھ لو کہ خُدا نے مُجھے انجیل سُنانے کا اِختیار بخشا ہُواہے۔ اِس صورت میں میرا اجر کیا ہے؟ محض یہ کہ انجیل کی مُنادی بالکُل مُفت کرکے فخر کر سکوں اَور اُس حق کا فائدہ نہ اُٹھاؤں جو انجیل نے مُجھے دے رکھا ہے۔ (1 کُرِنتھِیوں 9:17-18)
مَیں نے تُمہیں مُفت خُدا کی انجیل سُنا کر خُود فروتنی سے کام لیا تاکہ تُم اُونچے ہو جاؤ کیا یہ میری خطا تھی؟ میرا تمہارے درمیان رہ کر دُوسری جماعتوں سے اُجرت لے کر تمہاری خدمت کرنا اَیسا تھا۔ جَیسے مَیں نے تمہارے لیٔے دُوسری جماعتوں کو لُوٹا ہو۔ اَور جَب مَیں تمہارے پاس تھا اَور مُجھے پیسوں کی ضروُرت پڑی، تو مَیں نے تُمہیں ذرا بھی تکلیف نہ دی، کیونکہ صُوبہ مَکِدُنیہؔ سے میرے مسیحی بھائیوں اَور بہنوں نے آکر میری ضروُرت پُوری کر دی تھی۔ اَور مَیں ہر ایک بات میں تُم پر بوجھ ڈالنے سے باز رہا اَور باز رہُوں گا۔ (2 کُرِنتھِیوں 11:7-9)
اَب مَیں تیسری بار تمہارے پاس آنے کی تیّاری کر رہا ہُوں، لیکن اِس بار بھی میں تُم پر بوجھ نہیں ڈالُوں گا، کیونکہ مُجھے تمہارے مال کی ضروُرت نہیں بَلکہ تمہاری ضروُرت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بچّوں کو ماں باپ کے لیٔے نہیں، بَلکہ ماں باپ کو بچّوں کے لیٔے مال جمع کرنا چاہئے۔ چنانچہ میں تمہاری خاطِر رُوحوں کے واسطے بڑی خُوشی سے اَپنا سَب کچھ بَلکہ خُود بھی خرچ ہو جانے کو تیّار رہُوں گا۔ اگر مَیں تُم سے اِس قدر مَحَبّت رکھتا ہُوں، تو کیا تُم مُجھ سے کم مَحَبّت رکھوگے؟ جَیسے بھی ہو، مَیں نے تُم پر بوجھ نہیں ڈالا۔ شاید، کویٔی یہ کہے کہ میں فریبی ہُوں، اِس لیٔے مَیں نے تُمہیں فریب دے کر اَپنے جال میں پھنسالیا! خیر! یہ بتاؤ کہ جِن لوگوں کو مَیں نے تمہارے پاس بھیجا، کیا اُن میں سے کسی کے ذریعہ مَیں نے تُم سے بےجا فائدہ اُٹھایا؟ مَیں نے طِطُسؔ کی مِنّت کی کہ وہ تمہارے پاس جائے اَور اُس کے ساتھ ایک اَور مسیحی بھایٔی کو بھیجا۔ کیا طِطُسؔ نے تُم سے، بےجا فائدہ اُٹھایا؟ کیا وہ اَور مَیں ایک ہی رُوح کی ہدایت پا کر ایک ہی نقش قدم پر نہیں چلے؟ (2 کُرِنتھِیوں 12:14-18)
کیونکہ تُم جانتے ہو کہ ہم نے کلام میں کبھی بھی نہ تو خُوشامد کا سہارا لیا اَور نہ ہی وہ لالچ کا پردہ بنا، خُدا اِس بات کا گواہ ہے۔ اَے بھائیوں اَور بہنوں! جَب ہم تمہارے درمیان رہ کر الٰہی خُوشخبری سُنا رہے تھے تو تُمہیں ہماری وہ محنت اَور مشقّت ضروُر یاد ہوگی جَب ہم روز رات دِن اَپنے ہاتھوں سے کام کرتے تھے تاکہ کسی پر بوجھ نہ بنیں۔ (1 تھِسّلُنیِکیوں 2:5, 9)
ہم کسی کی مُفت کی روٹی نہیں کھاتے تھے۔ بَلکہ، رات دِن محنت مشقّت کرتے تھے، تاکہ ہم تُم میں سے کسی پر بوجھ نہ بنیں۔ اِس لیٔے نہیں کہ ہمارا تُم پر کویٔی حق نہ تھا، بَلکہ اِس لیٔے کہ اَیسا نمونہ بنو جِس پر تُم چل سکو۔ (2 تھِسّلُنیِکیوں 3:8-9)
مسیحی خادموں کو بُری مالی نیت سے خدمت نہیں کرنی چاہیے
تُم میں جو جماعت کے بُزرگ ہیں، مَیں اُن کی مانند ایک ہم بُزرگ اَور المسیح کے دُکھوں کا چشم دید گواہ اَور اُس کے ظاہر ہونے والے جلال میں شریک ہوکر اُن سے یہ درخواست کرتا ہُوں۔ تُم خُدا کے اُس گلّہ کی گلّہ بانی کرو جو تمہارے سُپرد کیا گیا ہے، لاچاری سے نہیں بَلکہ خُدا کی مرضی اَور اَپنی خُوشی سے نگہبانی کرو؛ اِس خدمت کو ناجائز نفع کے مقصد سے نہیں بَلکہ دِلی شوق سے اَنجام دو۔ (1 پطرس 5:1-2)
بہت سے لوگ دیندار نظر آ کر پیسہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں
لہٰذا ہم اُن بے شُمار لوگوں کی مانِند نہیں، جو خُدا کے کلام میں آمیزش کرتے ہیں بَلکہ ہم کلام کو صَاف دِلی کے ساتھ خُدا کو حاضِر جان کر المسیح کے وفادار خادِموں کی طرح پیش کرتے ہیں۔ (2 کُرِنتھِیوں 2:17)
کیونکہ بہت سے لوگ خاص طور پر وہ جو ختنہ کرانے پر زور دیتے ہیں، بڑے سَرکش، فُضول باتیں کہنے والے اَور دغاباز ہیں۔ اَیسے لوگوں کا مُنہ بند کرنا ضروُری ہے کیونکہ یہ لوگ ناجائز نفع کی خاطِر غلط باتیں سِکھا کرجو اُنہیں نہیں سِکھانا چاہئے، گھر کے گھر تباہ کر دیتے ہیں۔ (طِطُس 1:10-11)
جِس طرح بنی اِسرائیلؔ میں جھُوٹے نبی مَوجُود تھے اُسی طرح تمہارے درمیان بھی جھُوٹے اُستاد ہوں گے۔ جو پوشیدہ طور پر ہلاک کرنے والی بِدعتیں شروع کریں گے اَور اُس آقا المسیح کا بھی اِنکار کریں گے جِس نے اُنہیں قیمت اَدا کرکے چھُڑایا ہے۔ اَیسی باتوں سے یہ لوگ جلد ہی اَپنے اُوپر ہلاکت لائیں گے۔ اَور لالچ کے سبب سے اَیسے اُستاد تُمہیں فرضی قصّے سُنا کر تُم سے ناجائز فائدہ اُٹھائیں گے۔ لیکن اُن پر بہت پہلے ہی سزا کا حُکم ہو چُکاہے اَور اُن کی ہلاکت جلد ہونے والی ہے۔ (2 پطرس 2:1, 3)
شاگردوں کو تیاری کی تلقین
اُس کے بعد یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”جَب مَیں نے تُمہیں بٹوے، تھیلی اَور جُوتوں کے بغیر بھیجا تھا تو کیا تُم کسی چیز کے مُحتاج ہویٔے تھے؟“ اُنہُوں نے کہا، ”کسی چیز کے نہیں۔“ آپ نے اُن سے فرمایا، ”مگر اَب جِس کے پاس بٹوا ہو وہ اُسے ساتھ رکھ لے اَور اِسی طرح تھیلی بھی اَور جِس کے پاس تلوار نہ ہو وہ اَپنے کپڑے بیچ کر تلوار خرید لے۔ (لُوقا 22:35-36)
مقدِس/ہیکل
مقدِس کی تعمیر
”اَورجو نذریں تُم اُن سے لوگے وہ یہ ہیں: ”سونا، چاندی، کانسے؛ نیلا، اَرغوانی، سُرخ رنگ کا کپڑا، نفیس کتان؛ بکری کی پشم؛ اَور مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالیں اَور دریائی بچھڑوں کی کھالیں؛ اَور کیکر کی لکڑی؛ اَور چراغ کے لیٔے؛ زَیتُون کا تیل؛ مَسح کا تیل اَور خُوشبودار بخُور کے لیٔے مَسالے؛ افُود، سنگِ سُلیمانی اَور سینہ بند میں جڑنے کے لیٔے نگینے اَور دیگر جواہرات۔ ”اَور پھر وہ میرے لیٔے ایک پاک مَقدِس بنائیں اَور مَیں اُن کے درمیان سکونت کروں گا۔ (خُروج 25:3-8)
ضرورت سے زیادہ دیا
اَور اُنہُوں نے وہ تمام نذریں جو بنی اِسرائیل نے پاک مَقدِس کو بنانے کے کام کو سَر اَنجام دینے کے لیٔے دئیے تھے، مَوشہ سے حاصل کئے اَور لوگ ہر صُبح رضا کی قُربانی کی نذر اَپنی خُوشی سے لاتے رہے۔ تَب تمام کاریگر جو پاک مَقدِس کو بنانے کے کام میں لگے ہویٔے تھے اَپنا کام چھوڑکر آئے۔ اَور مَوشہ سے کہنے لگے، ”لوگ اُس کام کے لیٔے جِس کے کرنے کا حُکم یَاہوِہ نے دیا ہے ضروُرت سے بہت زِیادہ سامان لے آئے ہیں۔“ تَب مَوشہ نے حُکم دیا کہ تمام چھاؤنی میں اعلان کر دیا جائے: ”اَب کویٔی مَرد یا عورت پاک مَقدِس کی چیزیں بنانے کے لیٔے کویٔی نذرانے نہ لایٔے۔“ لہٰذا وہ لوگ اَور زِیادہ نذرانے لانے سے باز آئے کیونکہ جو سامان پہلے آ چُکاتھا وہ تمام کام کی تکمیل کے لیٔے ضروُرت سے کہیں زِیادہ تھا۔ (خُروج 36:3-7)
ہیکل کی تعمیر
اَور جہاں تک مُجھ سے بَن پڑا مَیں نے اَپنے خُدا کے بیت المُقدّس کے لیٔے سونے کی چیزوں کے لیٔے سونا اَور چاندی کی چیزوں کے لیٔے چاندی، کانسے کی چیزوں کے لیٔے کانسا، لوہے کی چیزوں کے لیٔے لوہا، لکڑی کی چیزوں کے لیٔے لکڑیاں بھی کثیر تعداد میں جمع کرلی ہیں۔ مَیں نے اِن کے علاوہ عقِیق پتّھر اَور باقی بیش قیمتی پتّھر اَور پچّی کاری کے لیٔے رنگ برنگے کے سنگِ سُلیمانی اَور ہر قِسم کے بیش قیمت فیروزہ اَور سنگِ مرمر بکثرت فراہم کیا ہے۔ اِن سَب کے علاوہ میرے خُدا کے بیت المُقدّس میں میرا دِل لگے رہنے کی وجہ سے اَپنے خُود کے خزانے میں سے سونے اَور چاندی، میں اَپنے خُدا کے بیت المُقدّس کے واسطے دے رہا ہُوں۔ یہ اُن سَب چیزوں کے علاوہ ہیں جو مَیں نے پہلے ہی سے اُس بیت المُقدّس کے لیٔے مُہیّا کی ہیں۔ یعنی ایک لاکھ کِلو اوفیرؔ کا سونا اَور دو لاکھ پینتیس ہزار کِلو خالص چاندی، اَپنے خُدا کے بیت المُقدّس کی دیواروں پر منڈھنے کے لیٔے، یہ سَب سونے اَور چاندی سے بننے والی دیگر اَشیا کے لیٔے دیتا ہُوں جو ماہر کاریگروں سے بنوائے جایٔیں گے۔ پس آپ لوگوں میں سے اَپنی دِلی خُوشی سے یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کرنے کے واسطے نذرانے لانے کے لئے کون تیّار ہے؟“ تَب آبائی خاندانوں کے سرداروں اَور بنی اِسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں، ہزاروں اَور سینکڑوں فَوجی دستوں کے سرداروں اَور شاہی کام کے نِگران منصبداروں نے اَپنی خُوشی سے آمادگی ظاہر کی۔ اَور خُدا کے بیت المُقدّس کے کام کے لیٔے بنی اِسرائیل نے ایک سَو ستّر ٹن سونا اَور دس ہزار دِرہم سونے کے سِکّے؛ تین سو چالیس ٹن چاندی، چھ سو دس ٹن کانسے اَور تین ہزار چار سَو ٹن لوہا نذرانے میں دیا۔ اَور جِن کے پاس جواہر پتّھر تھے اُنہُوں نے اَپنے جواہر گیرشونی یحی ایل کے ہاتھ میں یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے خزانے کے لیٔے دے دئیے۔ (1 تواریخ 29:2-8)
ہیکل پر بہت خرچ آیا
بادشاہ کے حُکم پر اُنہُوں نے بڑے بڑے نفیس پتّھروں کو کھود نکالا، تاکہ اِنہیں تراش کر بیت المُقدّس کی بُنیاد کے واسطے اِستعمال کیا جا سکے۔ (1 سلاطین 5:17)
ہیکل کی مرمت
اَور ایک دِن شاہِ یُوآشؔ نے کاہِنوں کو حُکم دیا، ”مُقدّس نذرانے کی وہ سَب نقدی جمع کرو جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لائی جاتی ہے چاہے وہ نقدی ہر شخص کے مردُم شماری کا ہو، چاہے وہ نقدی ذاتی منّتوں سے حاصل ہُوا ہو یا جو رضا کا نذرانہ بیت المُقدّس میں لائی گئی ہو۔ کاہِنؔ خزانچی سے نقدی لے کر اُن سے بیت المُقدّس میں جہاں کہیں دراڑیں دِکھائی دیں، اُن کی مرمّت کے لیٔے اِستعمال کیاجایٔے۔“ مگر شاہِ یُوآشؔ کے تئیسویں سال تک کاہِنوں نے بیت المُقدّس کی دراڑوں کی مرمّت کا کوئی بھی کام نہ کیا تھا۔ اِس لیٔے شاہِ یُوآشؔ نے یہویادعؔ کاہِنؔ اَور دیگر کاہِنوں کو طلب کرکے اُن سے دریافت کیا، ”آپ لوگ بیت المُقدّس کی دراڑوں کی مرمّت کا کام کیوں نہیں کروا رہے ہیں؟ چنانچہ اَب اَپنے جان پہچان والے خزانچی سے نقدی لینا بند کر دو، تاکہ وہ اُس نقدی کا اِستعمال مرمّت کے کام میں لگایا جائے۔ پس کاہِنوں نے منظُور کر لیا کہ نہ تو وہ لوگوں سے آئندہ نقدی جمع کریں گے اَور نہ وہ خُود بیت المُقدّس کی مرمّت کریں گے۔“ تَب یہویادعؔ کاہِنؔ نے ایک صندُوق لے کر اُس کے ڈھکنے میں ایک سوراخ کرکے اُسے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے دروازہ کے داہنی طرف جہاں سے لوگ داخل ہوتے تھے، مذبح کے پاس رکھ دی وہ کاہِنؔ جو دروازہ پر نگہبان تھے، یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں آتے ساری نقدی کو اُسی صندُوق میں ڈال دیتے تھے۔ اَور جَب وہ دیکھتے تھے کہ صندُوق میں چاندی کے سِکّے بھر گئے ہیں تو شاہی مُنشی اَور اعلیٰ کاہِن آکر اُس نقدی کو تھیلے میں بھرتے اَور یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں آئی نقدی کی گِنتی کرلیتے تھے۔ اَور نقدی کی گِنتی کے بعد اُنہیں وزن کیا جاتا تھا اَور یہ اُن تعمیراتی نِگرانوں کو مُہیّا کر دیا جاتا تھا جو اصل میں بیت المُقدّس کی مرمّت کے کام پر مُقرّر تھے اَور وہ اُس نقدی سے اُن بڑھئیوں اَور مِعماروں کو مزدُوری اَدا کرتے تھے جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں مرمّت کا کام کرتے تھے۔ (2 سلاطین 12:4-11)
”خِلقیاہؔ اعلیٰ کاہِن کے پاس جاؤ تاکہ وہ اُس نقدی کو گنے جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں لائی گئی ہے اَور جسے دربانوں نے عوام سے لے کر جمع کیا ہے۔ اَور یہ رقم اُن آدمیوں کے حوالہ کر دی جائے جو بیت المُقدّس کی مرمّت کے کام کی نِگرانی پر مامُور ہیں تاکہ وہ اُن کاریگروں کو مُہیّا کرایٔیں جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کا کام کر رہے ہیں۔ یعنی بڑھئیوں، مِعماروں اَور سنگ تراشوں کو ادائیگی کریں اَور اَیسا بندوبست کرنا کہ وہ بیت المُقدّس کی مرمّت کرنے کے لیٔے لکڑی اَور تراشا ہُوا پتّھر خرید لیں۔ (2 سلاطین 22:4-6)
کچھ عرصہ بعد یُوآشؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کرانے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے کاہِنوں اَور لیویوں کو جمع کیا اَور اُن سے فرمایا، ”بغیر وقت ضائع کئے بنی یہُودیؔہ کے شہروں میں جا کر سارے بنی اِسرائیل سے سالانہ وصول کئے جانے والا محصُول جمع کرو تاکہ اُس سے اَپنے خُدا کے بیت المُقدّس کی مرمّت کی جا سکے۔“ لیکن لیویوں نے اِس پر فوراً عَمل نہ کیا۔ لہٰذا بادشاہ نے اعلیٰ کاہِن یہویادعؔ کو طلب کیا اَور اُس سے پُوچھا، ”آپ نے لیویوں کو یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ سے محصُول لانے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جو یَاہوِہ کے خادِم مَوشہ اَور اِسرائیل کی جماعت نے عہد کے خیمہ کے لیٔے مُقرّر کیا تھا؟“ کیونکہ اُس بدکار عورت عتلیاہؔ کے بیٹوں نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں داخل ہوکر بیت المُقدّس کی مخصُوص سَب اَشیا کو لے کر بَعل کے بُتوں کی پرستش میں اِستعمال کیا تھا۔ لہٰذا بادشاہ کے حُکم پر ایک صندُوق بنایا گیا اَور اُسے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے پھاٹک پر باہر رکھ دیا گیا۔ اَور یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ میں باقاعدہ سرکاری اعلان کیا گیا کہ سَب لوگ یَاہوِہ کے لیٔے وہ محصُول لائیں جِس کا خُدا کے خادِم مَوشہ نے بیابان میں اِسرائیل سے مطالبہ کیا تھا۔ اَور تمام اُمرا اَور تمام لوگ خُوشی سے اَپنا اَپنا محصُول لاکر صندُوق میں ڈالنے لگے جِس سے وہ بھر گیا۔ جَب بھی لیوی صندُوق لے کر شاہی حُکاّم کے پاس آتے اَور وہ دیکھتے کہ اُس میں بہت نقدی ہے تَب شاہی مُنشی اَور اعلیٰ کاہِن کا نائب آکر اُس صندُوق کو خالی کرکے واپس اُس کی جگہ رکھ دیتے تھے۔ وہ یہ معمول کے مُطابق روزانہ کرتے رہے اَور یُوں کثیر مقدار میں نقدی جمع کرلی۔ بادشاہ اَور یہویادعؔ کاہِنؔ نے یہ رقم اُن آدمیوں کے حوالہ کر دی جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے ضروُری کاموں سے وابستہ تھے اَور اُنہُوں نے مِعماروں اَور بڑھئیوں کو خُدا کے بیت المُقدّس کو بحال کرنے کے لیٔے اَور لوہے اَور کانسے کا کام کرنے والوں کو بیت المُقدّس کی مرمّت کرنے کے لیٔے اُجرت پر رکھ لیا۔ کاریگر جو کام پر لگائے گیٔے تھے وہ بڑے محنتی تھے اَور اُن کے ماتحت مرمّت کے کام میں ترقّی ہوتی گئی۔ اُنہُوں نے خُدا کے بیت المُقدّس کو اُس کی سابقہ صورت پر بحال کرکے اَور بھی مضبُوط بنایا۔ (2 تواریخ 24:4-13)
یُوشیاہؔ نے اَپنی حُکمرانی کے اٹھّارہویں سال میں جَب وہ مُلک اِسرائیلؔ اَور بیت المُقدّس کو پاک و صَاف کر چُکا تو اُس نے شافانؔ بِن اصلیاہؔ اَور شہر کے حاکم معسیاہؔ اَور اُن کے ہمراہ یُوآخؔ بِن یُوآحازؔ مورّخ کو اَپنے خُدا یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کرنے کے لیٔے بھیجا۔ وہ خِلقیاہؔ اعلیٰ کاہِن کے پاس گیٔے اَور وہ نقدی جو خُدا کے بیت المُقدّس میں لائی گئی تھی، جسے دربان لیویوں نے بنی منشّہ، بنی اِفرائیمؔ اَور اِسرائیل کے تمام باقی بچے لوگوں سے اَور پُورے بنی یہُوداہؔ اَور بِنیامین اَور یروشلیمؔ کے باشِندوں سے لے کر جمع کیا تھا اُسے خِلقیاہؔ کے سُپرد کر دیا۔ اَور اُنہُوں نے اُسے اُن آدمیوں کے حوالہ کیا جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی مرمّت کے کام کی نِگرانی پر معموُر تھے۔ پھر یہ رقم اُن کارندوں کو اَدا کی گئی جنہوں نے بیت المُقدّس کو مرمّت کرکے بحال کیا۔ اُنہُوں نے بڑھئیوں اَور مِعماروں کو بھی نقدی دی تاکہ وہ تراشیدہ پتّھر اَور جوڑوں کے لیٔے لکڑی اَور اُن عمارتوں کے لیٔے لکڑی کے شہتیر خرید سکیں جنہیں یہُوداہؔ کے بادشاہوں نے تباہ ہو جانے دیا تھا۔ (2 تواریخ 34:8-11)
ہیکل کی ازسرِ نو تعمیر
جَب وہ یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے گھر پہُنچے تو آبائی خاندانوں کے بعض سرداروں نے خُدا کا گھر اُس کے پرانے مقام پر دوبارہ تعمیر کرنے کے لیٔے عطیات پیش کئے۔ اُنہُوں نے اُس کام کے لیٔے اَپنی قُوّت کے مطابق سونے کے اکسٹھ ہزار دِرہم اَور چاندی کے پانچ ہزار مِنہ اَور کاہِنوں کے لیٔے 100 پیراہن خزانہ میں دئیے۔ (عزرا 2:68-69)
اَور اُس کے تین ردّے بڑے بڑے پتّھروں کے اَور ایک ردّہ عمارتی لکڑی کے شہتیروں کا ہو۔ خرچ شاہی خزانہ سے اَدا کیا جائے۔ (عزرا 6:4)
علاوہ اَزیں خُدا کا یہ گھر تعمیر کرنے میں تُم نے یہُودیوں کے بُزرگوں کے لیٔے کیا کچھ کرناہے میں اُس کے لیٔے حُکم دیتا ہُوں: اِن آدمیوں کے تمام اخراجات شاہی خزانہ سے یعنی دریائے فراتؔ کے پار کے خراج میں سے اَدا کئے جایٔیں تاکہ کام نہ رُکے۔ (عزرا 6:8)
ہیکل کی دیکھ بھال
”ہم وعدہ کرتے ہیں کہ شادی کے لیٔے ہم اَپنی بیٹیاں اَپنے اِردگرد کی اَقوام کو نہیں دیں گے اَور نہ ہی اَپنے بیٹوں کے لیٔے اُن کی بیٹیاں لیں گے۔ بنی اِسرائیل، جِن میں لیوی بھی شامل ہیں اناج، نئی مَے اَور تیل کی نذریں بیت المال کے خزانوں میں لائیں جہاں پاک مَقدِس کے ظروف رکھے جاتے ہیں اَور جہاں کاہِنؔ، دربان اَور موسیقار اَپنی اَپنی خدمت اَنجام دیتے ہیں۔ ”اَور ہم اَپنے خُدا کے گھر کو نظرانداز نہیں کریں گے۔“ (نحمیاہ 10:30, 39)
دیگر زمرے
جو ہدیہ مانگتے ہیں
جو تُم سے کُچھ مانگے اُسے ضروُر دو، اَورجو تُم سے قرض لینا چاہتاہے اُس سے مُنہ نہ موڑو۔ (متّی 5:42)
جو تُم سے کُچھ مانگے اُسے ضروُر دو، اَور اگر کویٔی تیرا مال لے لیتا ہے تو اُس سے واپس مت مانگ۔ (لُوقا 6:30)
سب لوگ، خاص کر ایماندار
چنانچہ جہاں تک موقع ملے، ہم سَب کے ساتھ نیکی کریں، خاص طور پر اہلِ ایمان کے ساتھ۔ (گلتیوں 6:10)
باہمی مَحَبّت کے لیٔے خُود کو وقف کرو۔ عزّت کی رُو سے دُوسرے کو اَپنے سے بہتر سمجھو۔ (رُومیوں 12:10)
مُقدّسین کی ضروُرتیں پُوری کرو، مُسافر پروَری میں لگے رہو۔ (رُومیوں 12:13)
دشمن
اگر تمہارا دُشمن بھُوکا ہو، تو اُسے کھانا کھِلاؤ؛ اگر وہ پیاسا ہو، تو اُسے پانی پِلاؤ۔ کیونکہ اَیسا کرنے سے تُم اُس کے سَر پر دہکتے اَنگاروں کا ڈھیر لگاؤگے، اَور یَاہوِہ تُمہیں اجر دیں گے۔ (امثال 25:21-22)
اِس کے برعکس: ”اگر تمہارا دُشمن بھُوکا ہو، تو اُسے کھانا کھِلاؤ؛ اگر پیاسا ہو، تو اُسے پانی پِلاؤ۔ کیونکہ اَیسا کرنے سے تُم اُس کے سَر پر دہکتے اَنگاروں کا ڈھیر لگاؤگے۔“ (رُومیوں 12:20)
قاتل کو نہ دیں
قتل کے گُناہ کا مُرتکب آدمی اَپنی موت تک بھاگتا پھرے گا اُسے کوئی نہ روکے۔ (امثال 28:17)
غریبوں کو دینا
غریبوں کو دینے کے بارے میں خدا کے احکام اور نقطۂ نظر
اَور حالانکہ مُلک میں تو غریب ہمیشہ پایٔے جایٔیں گے۔ اِس لیٔے میں تُمہیں حُکم دیتا ہُوں کہ تُم اَپنے مُلک میں اَپنے بھائیوں اَور مفلسوں اَور مُحتاجوں کے لیٔے اَپنی مُٹّھی کھُلی رکھنا۔ (اِستِثنا 15:11)
مفلسوں پر ظُلم ڈھانے والا اُن کے خالق کی توہین کرتا ہے، لیکن جو کویٔی مُحتاجوں پر رحم کھاتا ہے وہ خُدا کی تعظیم کرتا ہے۔ (امثال 14:31)
جو مسکینوں پر رحم کرتا ہے، یَاہوِہ کو قرض دیتاہے، اَور وہ اُسے اُس کے کئے کا اجر دے گا۔ (امثال 19:17)
”روزہ جو میری پسند کا ہے، کیا وہ یہ نہیں: کہنا اِنصافی کی زنجیروں توڑی جایٔیں جُوئے کی رسّیاں کھول دی جایٔیں، مظلوموں کو آزاد کیا جائے اَور ہر جُوا توڑ دیا جائے؟ کیا وہ یہ نہیں کہ اَپنی روٹی میں بھُوکوں کو شریک کرے اَور مارے مارے پھرتے ہُوئے مسکینوں کو آسرا دے جَب کسی کو ننگا دیکھے تو اُسے کپڑے پہنائے، اَور اَپنے ہم جنس سے روپوشی نہ کرے۔ تَب تیری رَوشنی طُلوع صُبح کی طرح پھوٹ نکلے گی، اَور تُو جلد صحتیاب ہوگا؛ تَب تیری راستبازی تیرے آگے آگے چلے گی، اَور یَاہوِہ کا جلال پیچھے سے تیری حِفاظت کرےگا۔ تَب تُو پُکارے گا اَور یَاہوِہ تُجھے جَواب دیں گے؛ تُو دُہائی دے گا اَور وہ کہیں گے: مَیں حاضِر ہُوں۔ ”اگر تُو ظُلم ڈھانا اَور دُوسروں پر اُنگلی اُٹھانا چھوڑ دے، اَور بدگوئی سے باز آ جائے، اگر تُو بھُوکے کی دِل کھول کر مدد کرے اَور مظلوم کی حاجتیں پُوری کرے، تو تیرا نُور تاریکی میں چمکے گا، اَور تیری رات، دوپہر کی مانند ہوگی۔ (یَشعیاہ 58:6-10)
” ’اَب تیری بہن سدُومؔ کا گُناہ یہ تھا: وہ اَور اُس کی بیٹیاں مغروُر، مست اَور بے فکر تھیں، اُنہُوں نے غریبوں اَور مُحتاجوں کی دستگیری نہ کی۔ (حزقی ایل 16:49)
غریبوں کے لیے پرانے عہد نامے کے انتظامات
فصل کاٹنے اور بالیں چننے کے قوانین
”چھ سال تک تُم اَپنے کھیتوں میں بیج بونا اَور فصل کاٹنا۔ لیکن ساتویں سال اُس زمین میں نہ تو ہل چلانا اَور نہ اُسے اَپنے اِستعمال میں لانا تمہارے لوگوں میں جو ضروُرت مند ہُوں وہ اُس میں سے خُوراک حاصل کرنے کے لئے چھوڑیں۔ اَورجو اُن سے بچ رہے اُسے جنگلی جانور چَر لیں۔ اَپنے انگور کے باغ اَور اَپنے زَیتُون کے باغ سے بھی اَیسا ہی کرنا۔ (خُروج 23:10-11)
” ’اَور جَب تُم اَپنی زمین کی پیداوار کی فصل کاٹو، تو اَپنے کھیت کے اِنتہائی کناروں تک ساری کی ساری نہ کاٹنا اَور نہ ہی کٹائی کرتے وقت گری ہویٔی بالوں کو چُن لینا۔ اَور نہ ہی اَپنے انگوری باغ کے دانہ توڑنے دوبارہ جانا، اَور نہ اَپنے انگوری باغ کے گِرے ہویٔے دانوں کو جمع کرنا؛ بَلکہ اُنہیں غریبوں اَور پردیسیوں کے لیٔے چھوڑ دینا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔ (اَحبار 19:9-10)
” ’اَور جَب تُم اَپنی زمین کی فصل کاٹو، تو اَپنے کھیت کو کونے کونے تک پُورا نہ کاٹنا اَور نہ ہی اَپنے کھیت کی گری پڑی بالیں جمع کرنا بَلکہ اُنہیں غریبوں اَور تمہارے درمیان رہنے والے پردیسیوں کے لیٔے چھوڑ دینا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔‘ “ (اَحبار 23:22)
جَب تُم اَپنے کھیت کی فصل کاٹ رہے ہو اَور کویٔی پُولا بھُول سے کھیت میں چھُوٹ جائے تو اُسے لینے کے لیٔے لَوٹ کر واپس نہ جانا۔ اُسے پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کے لیٔے رہنے دینا تاکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے سَب کاموں میں جنہیں تُم ہاتھ لگاؤ برکت بخشیں۔ جَب تُم اَپنے زَیتُون کے درختوں کو جھاڑو تو شاخوں کو دوبارہ نہ جھاڑنا بَلکہ جو بچا ہو اُسے پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کے لیٔے چھوڑ دینا۔ جَب تُم اَپنے انگوری باغ کے انگور جمع کرو تو اُس کے بَیلوں کو دوبارہ نہ ٹٹولنا بَلکہ جو بچا ہے اُسے پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کے لیٔے چھوڑ دینا۔ (اِستِثنا 24:19-21)
ضروریات پوری کرنے کی لامحدود ذمہ داری
جو مُلک یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، اَور اگر اُس مُلک کے کسی شہر میں تمہارے اِسرائیلی بھائیوں میں کُچھ غریب ہُوں، تو اُن غریب بھائیوں کی طرف نہ تو اَپنا دِل سخت کرنا اَور نہ اَپنی مُٹّھی بند رکھنا۔ بَلکہ اُن کی جو بھی ضروُرت ہو اُسے پُورا کرنے کے لیٔے اُسے نہایت ہی کھُلے دِل سے مدد کرنا یا بے تکلّفی سے قرض دینا۔ خبردار رہو کہ کہیں تمہارے ذہن میں یہ بُرا خیال نہ آئے: ”ساتواں سال جو قرضوں کے مُعاف کرنے کا سال ہے، وہ نزدیک ہے،“ اَور تُم اَپنے حاجت مند اِسرائیلی بھایٔی کی طرف بُری نیّت سے دیکھو اَور اُسے کچھ نہ دو؛ اَور وہ یَاہوِہ سے تمہارے خِلاف فریاد کرے اَور تُم مُجرم ٹھہرو۔ تُم اُسے نہایت فراخدلی سے دو اَور اُس کو دیتے وقت تمہارے دِل میں کویٔی گُریز بھی نہ ہو؛ تَب اِس سبب سے یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے سَب کاموں میں اَور سَب مُعاملوں میں جنہیں تُم اَپنے ہاتھ میں لوگے، تُمہیں برکت بخشیں گے۔ (اِستِثنا 15:7-10)
پوریم کی عید منانا
یہ دو دِن وہ ہیں جِن میں یہُودیوں نے اَپنے دُشمنوں سے نَجات پائی اَور یہ وہ مہینہ ہے جِس میں اُن کا غم خُوشی اَور خُرّمی میں اَور اُن کا ماتم فرحت اَور شادمانی میں تبدیل ہو گیا۔ اُس نے لِکھ کر حُکم دیا کہ یہ دِن ضیافتوں کے ساتھ عید کے طور پر منائے جایٔیں اَور ایک دُوسرے کو کھانے پینے کی چیزیں تحفہ کے طور پر دی جایٔیں اَور غریبوں میں خیرات تقسیم کی جائے۔ (ایسترؔ 9:22)
یوبلی کا سال
تُم پچاسویں بَرس کو مُقدّس جاننا اَور مُلک بھر میں سَب باشِندوں کے لیٔے آزادی کا اعلان کرنا۔ یہ سال تمہارے لیٔے یوویلؔ سال کہلائے گا اَور اِس سال میں تُم میں سے ہر ایک اَپنی اَپنی خاندانی مِلکیّت کا پھر سے مالک ہو جایٔےگا اَور ہر شخص اَپنی اَپنی برادری والوں میں پھر سے شامل ہو جایٔے۔ (اَحبار 25:10)
غریبوں کو دینے کی مثالیں
کیونکہ جَب کویٔی غریب فریاد کرتا تو میں اُس کی دادرسی کرتا تھا، اَور یتیم کی بھی، جِس کا کویٔی مددگار نہ ہوتا تھا۔ دَم توڑتا ہُوا آدمی مُجھے دعا دیتا تھا؛ میں بِیوہ کے دِل کو شادمان کرتا تھا۔ مَیں نے راستی کا لباس پہن رکھا تھا؛ اِنصاف میرا جُبّہ اَور عمامہ تھا۔ میں اَندھوں کے لیٔے آنکھیں تھا اَور لنگڑوں کے لیٔے پاؤں۔ میں مُحتاجوں کے لیٔے باپ کی طرح تھا؛ اَور پردیسیوں کے مسائل حل کرتا تھا۔ (ایُّوب 29:12-16)
”اگر مَیں نے مُحتاجوں کے مطالبے ٹھکرائے ہُوں یا کسی بِیوہ کی آنکھوں کو ترسایا ہو، اگر مَیں فقط اَپنا ہی پیٹ بھرتا رہا، اَور کبھی کسی یتیم کو روٹی تک نہ دی، لیکن مَیں اَپنی جَوانی سے ہی اُسے باپ کی طرح پالتا پوستا رہا ہُوں، اَور اَپنی پیدائش سے ہی بِیوہ کا رہنما رہا ہُوں۔ اگر مَیں نے کسی کو کپڑے نہ ہونے کی وجہ سے مَرتے دیکھا، یا کسی مُحتاج کو بغیر لباس دیکھا، اَور اَپنی بھیڑوں کی اُون سے اُسے گرمی پہُنچانے کے لیٔے اُس کے دِل نے مُجھے دعا نہ دی ہو، اگر مَیں نے کسی یتیم کے خِلاف اَپنا ہاتھ اُٹھایا ہو، شہر کے دروازے میں اَپنے رسوخ کے پیشِ نظر، تو میرا بازو میرے شانے سے الگ ہو جائے، اَور جوڑ سے ٹوٹ جائے۔ کیونکہ مُجھے خُدا کی طرف سے تباہی کا خوف تھا، اَور اُس کی شوکت کے رُعب کی وجہ سے میں اَیسی حرکت نہ کر سَکا۔ (ایُّوب 31:16-23)
راستباز راہنما
لوگوں میں جو مُصیبت زدہ ہیں وہ اُن کے حُقُوق کا تحفُّظ کرےگا، اَور مُحتاجوں کے بچّوں کو بچائے گا؛ اَور ظالِم کو چُورچُور کر دے گا۔ (زبُور 72:4)
بادشاہ فریاد کرنے والے مُحتاجوں، اَور بے یارومددگار مُصیبت کے مارو کو چھُڑائے گا۔ وہ کمزوروں اَور مُحتاجوں پر ترس کھائے گا اَور مُحتاجوں کو موت سے بچائے گا۔ (زبُور 72:12-13)
نیکوکار بیوی
نیک چلن بیوی کون پا سَکتا ہے؟ کیونکہ وہ لعلوں سے بھی زِیادہ قیمتی ہے۔ وہ مسکینوں کے لیٔے ہتھیلی کھولتی ہے اَور مُحتاجوں کے لیٔے اَپنے ہاتھ بڑھاتی ہے۔ (امثال 31:10, 20)
نیا عہد نامہ
یوحنا بپتسمہ دینے والا
”لوگوں نے اُس سے پُوچھا کہ آخِر ہم کیا کریں؟“ حضرت یُوحنّا نے جَواب دیا، جِس کے پاس دو کُرتے ہوں، ”اُس کے ساتھ جِس کے پاس ایک بھی نہ ہوں بانٹ لے اَور جِس کے پاس کھانا ہو وہ بھی اَیسا ہی کرے۔“ (لُوقا 3:10-11)
یسوع مسیح غریبوں کے ساتھ اپنی شناخت کرتا ہے
”جَب اِبن آدمؔ اَپنے جلال میں آئے گا اَور اُس کے ساتھ سبھی فرشتے آئیں گے، تَب وہ اَپنے جلالی تخت پر بیٹھے گا۔ اَور سَب قومیں اُس کے حُضُور میں جمع کی جایٔیں گی اَور وہ لوگوں کو ایک دُوسرے سے اِس طرح جُدا کرےگا جِس طرح گلّہ بان بھیڑوں کو بکریوں سے جُدا کرتا ہے۔ وہ بھیڑوں کو اَپنی داہنی طرف اَور بکریوں کو بائیں طرف کھڑا کرےگا۔ ”تَب بادشاہ اَپنی داہنی طرف کے لوگوں سے کہے گا، ’آؤ، اَے میرے باپ کے مُبارک لوگوں! اِس بادشاہی میں جو بِنائے عالَم سے تمہارے لیٔے تیّار کی گئی ہے، اِس مِیراث میں شریک ہو جاؤ۔ کیونکہ مَیں بھُوکا تھا اَور تُم نے مُجھے کھانا کھِلایا، پیاساتھا اَور تُم نے مُجھے پانی پِلایا، پردیسی تھا اَور تُم نے گھر میں جگہ دی، ننگا تھا تو تُم نے مُجھے کپڑے پہنائے، بیمار تھا تو تُم نے میری دیکھ بھال کی، قَید میں تھا تو تُم مُجھ سے مِلنے آئے۔‘ ”تَب راستباز جَواب میں کہیں گے، ’اَے خُداوؔند! ہم نے کب تُم کو بھُوکا دیکھ کر کھانا کھِلایا، یا پیاسا دیکھ کر پانی پِلایا؟ ہم نے کب تُم کو پردیسی دیکھ کر گھر میں جگہ دی یا ننگا دیکھ کر تُم کو کپڑے پہنائے؟ اَور ہم کب تُم کو بیمار یا قَید میں دیکھ کر تُم سے مِلنے آئے؟‘ ”اِس پر بادشاہ جَواب دے گا، ’میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جَب تُم نے میرے اِن سَب سے چُھوٹے بھائیو اَور بہنوں میں سے کسی ایک کے ساتھ یہ سلُوک کیا تو گویا میرے ہی ساتھ کیا۔‘ ”تَب وہ اَپنی بائیں طرف والوں سے کہے گا، ’اَے لعنتی لوگوں! میرے سامنے سے دُورہو جاؤ اَور اُس اَبدی آگ میں چلے جاؤ جو اِبلیس اَور اُس کے فرشتوں کے لیٔے تیّار کی گئی ہے۔ کیونکہ مَیں جَب بھُوکا تھا تو تُم نے مُجھے کھانا نہ کھِلایا، پیاساتھا تو تُم نے مُجھے پانی نہ پِلایا۔ پردیسی تھا تو تُم نے مُجھے اَپنے گھر میں جگہ نہ دی۔ ننگا تھا تو مُجھے کپڑے نہ پہنائے، بیمار اَور قَید میں تھا تو تُم مُجھ سے مِلنے نہ آئے۔‘ ”اِس پر وہ لوگ بھی کہیں گے، ’اَے خُداوؔند، ہم نے کب آپ کو بھُوکا یا پیاسا، پردیسی یا ننگا، بیمار یا قَید میں دیکھا اَور آپ کی خدمت نہ کی؟‘ ”تَب بادشاہ اُنہیں جَواب دے گا، ’میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جَب تُم نے میرے اِن سَب سے چُھوٹے لوگوں میں سے کسی ایک کے ساتھ یہ سلُوک نہ کیا تو گویا میرے ساتھ بھی نہیں کیا۔‘ (متّی 25:31-45)
یسوع غریبوں کو دینے کا نمونہ پیش کرتا ہے
اَور اُس نوالہ کے بعد، شیطان یہُوداہؔ اِسکریوتی میں سما گیا۔ تَب یِسوعؔ نے یہُوداہؔ اِسکریوتی سے فرمایا، ”جو کُچھ تُجھے کرناہے، جلدی کر لے۔“ لیکن دسترخوان پر کسی کو مَعلُوم نہ ہُوا کہ آپ نے اُسے اَیسا کیوں کہا۔ یہُوداہؔ کے پاس پیسوں کی تھیلی رہتی تھی، اِس لیٔے بعض نے سوچا کہ یِسوعؔ اُسے عید کے لیٔے ضروُری سامان خریدنے کے لیٔے کہہ رہے ہیں، یا یہ کہ غریبوں کو کُچھ دے دینا۔ (یُوحنّا 13:27-29)
پہلے بددیانت شخص کا غریبوں کو دینا
چوری کرنے والا آئندہ چوری نہ کرے، بَلکہ کویٔی اَچھّا پیشہ اِختیار کرکے اَپنے ہاتھوں سے محنت کرے، تاکہ مُحتاجوں کی مدد کرنے کے لیٔے اُس کے پاس کچھ ہو۔ (اِفِسیوں 4:28)
دیگر مثالیں
حُضُور المسیح پر ایمان لانے والے تمام افراد اِکٹھّے رہتے تھے اَور تمام چیزوں میں ایک دُوسرے کو شریک سمجھتے تھے۔ وہ اَپنی جائداد اَور مال و اَسباب بیچ بیچ کر ہر ایک کو اُس کی ضروُرت کے مُطابق وہ رقم تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ (اعمال 2:44-45)
اَور اُن میں سے ایک نے جِن کا نام اَگَبُسؔ تھا، کھڑے ہوکر پاک رُوح کی ہدایت کے مُطابق یہ پیشین گوئی کی کہ ساری رُومی دُنیا میں ایک سخت قحط پڑےگا (قحط کا یہ واقعہ قَیصؔر کلودِیُسؔ کے عہد میں پیش آیاتھا)۔ لہٰذا شاگردوں، نے فیصلہ کیا کہ ہم میں سے ہر ایک اَپنی اَپنی مالی حیثیت کے مُطابق کچھ دے تاکہ یہُودیؔہ میں رہنے والے مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کی مدد کی جائے۔ پس اُنہُوں نے، کچھ عَطیّہ کی رقم جمع کی اَور بَرنباسؔ اَور ساؤلؔ کے ہاتھ یروشلیمؔ میں بُزرگوں کے پاس بھجوادی۔ (اعمال 11:28-30)
ہم کِس طرح محنت کرکے کمزوروں کو سنبھال سکتے ہیں؟ یہ مَیں نے تُمہیں کرکے دِکھایا۔ ہم خُداوؔند یِسوعؔ کے الفاظ یاد رکھیں: ’دینا لینے سے زِیادہ مُبارک ہے۔‘ “ (اعمال 20:35)
کیونکہ مَکِدُنیہؔ اَور صُوبہ اَخیہؔ کے مسیحی مُومِنین یروشلیمؔ کے غریب مُقدّسین کے لیٔے عَطیّہ بھیجنا چاہتے ہیں۔ یہ کام اُنہُوں نے کیا تو رضامندی سے ہے لیکن یہ اُن کا فرض بھی ہے کیونکہ جَب غَیریہُودی مسیحی مُومِنین نے یہُودی مسیحی مُومِنین کی رُوحانی برکتوں سے فائدہ اُٹھایا ہے تو لازِم ہے کہ وہ بھی اَپنی جِسمانی نِعمتوں سے اُن کی خدمت کریں۔ (رُومیوں 15:26-27)
اُنہُوں نے صِرف یہ کہا کہ غریبوں کو یاد رکھنا، اَور دراصل یہ تو میں پہلے ہی سے کرنے کو تیّار تھا۔ (گلتیوں 2:10)
برکتیں اور لعنتیں
غریبوں کو دینے کی برکتیں
خداوند کو جاننے کی برکت
تمہارا باپ مسکینوں اَور مُحتاجوں کے ساتھ اِنصاف سے پیش آتا تھا، اِس لیٔے اُس کا بھلا ہُوا۔ کیا میرا عِرفان رکھنے کا مطلب یہی نہیں ہے؟“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ (یرمیاہؔ 22:16)
زندگی کی برکت
وہ کسی پر ظُلم نہیں کرتا، بَلکہ قرض کے بدلے رہن رکھی ہُوئی چیز لَوٹا دیتاہے۔ وہ ڈاکا نہیں ڈالتا۔ بَلکہ اَپنی روٹی بھُوکے کو دے دیتاہے۔ اَور ننگے کو کپڑا پہناتاہے۔ (حزقی ایل 18:7)
وہ میرے آئین پر چلتا ہے، اَور ایمانداری سے میری شَریعت پر عَمل کرتا ہے۔ وہ شخص راستباز ہے؛ اَور وہ یقیناً جئے گا، یَاہوِہ قادر فرماتے ہیں۔ (حزقی ایل 18:9)
وہ کسی پر ظُلم نہیں کرتا، نہ قرض دینے کے لیٔے کسی شَے کے گروی رکھنے پر بضِد رہتاہے۔ وہ ڈاکا نہیں ڈالتا، بَلکہ اَپنی روٹی بھُوکے کو دے دیتاہے اَور ننگے کو کپڑے پہناتاہے۔ وہ غریبوں پر ظُلم کرنے سے اَپنے ہاتھ روکتا ہے، اَور ناحق نفع اَور زِیادہ سُود نہیں لیتا۔ وہ میری شَریعت پر عَمل کرتا ہے اَور میرے آئین پر چلتا ہے۔ وہ اَپنے باپ کے گُناہ کے باعث نہیں مَرے گا، وہ یقیناً زندہ رہے گا۔ (حزقی ایل 18:16-17)
خاندان پر برکت
اُس کی پُشت مُلک میں زورآور ہوگی؛ راستبازوں کی نَسل برکت پایٔے گی۔ اُنہُوں نے بِکھیرا ہے، اُنہُوں نے مسکینوں کو دیا ہے، اُن کی راستبازی ہمیشہ تک قائِم رہے گی؛ اَور اُن کا سینگ باعزّت بُلند کیا جائے گا۔ (زبُور 112:2, 9)
ضروریات پوری ہونے کی برکت
جو مُحتاجوں کی مدد کرتا ہے، اُسے کچھ کمی نہ ہوگی، لیکن جو اُن کی طرف سے اَپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے، بڑا ملعُون ہوتاہے۔ (امثال 28:27)
صحت کی برکت
موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ مُبارک ہے وہ جو کمزور کا خیال رکھتا ہے؛ یَاہوِہ اُسے مُصیبت کے وقت بچاتے ہیں۔ یَاہوِہ اُس کی حِفاظت کریں گے اَور اُسے زندہ رکھیں گے؛ اَور اُسے زمین پر برکت دیں گے اَور اُسے اُس کے حریفوں کی مرضی پر نہ چھوڑیں گے۔ یَاہوِہ اُسے اُس کے بِستر علالت پر سنبھالیں گے اَور اُسے بیماری کے بِستر سے اُٹھا کھڑا کریں گے۔ (زبُور 41:1-3)
دعاؤں کے جواب اور راہنمائی کی برکت
”روزہ جو میری پسند کا ہے، کیا وہ یہ نہیں: کہنا اِنصافی کی زنجیروں توڑی جایٔیں جُوئے کی رسّیاں کھول دی جایٔیں، مظلوموں کو آزاد کیا جائے اَور ہر جُوا توڑ دیا جائے؟ کیا وہ یہ نہیں کہ اَپنی روٹی میں بھُوکوں کو شریک کرے اَور مارے مارے پھرتے ہُوئے مسکینوں کو آسرا دے جَب کسی کو ننگا دیکھے تو اُسے کپڑے پہنائے، اَور اَپنے ہم جنس سے روپوشی نہ کرے۔ تَب تیری رَوشنی طُلوع صُبح کی طرح پھوٹ نکلے گی، اَور تُو جلد صحتیاب ہوگا؛ تَب تیری راستبازی تیرے آگے آگے چلے گی، اَور یَاہوِہ کا جلال پیچھے سے تیری حِفاظت کرےگا۔ تَب تُو پُکارے گا اَور یَاہوِہ تُجھے جَواب دیں گے؛ تُو دُہائی دے گا اَور وہ کہیں گے: مَیں حاضِر ہُوں۔ ”اگر تُو ظُلم ڈھانا اَور دُوسروں پر اُنگلی اُٹھانا چھوڑ دے، اَور بدگوئی سے باز آ جائے، اگر تُو بھُوکے کی دِل کھول کر مدد کرے اَور مظلوم کی حاجتیں پُوری کرے، تو تیرا نُور تاریکی میں چمکے گا، اَور تیری رات، دوپہر کی مانند ہوگی۔ یَاہوِہ ہمیشہ تیری رہنمائی کریں گے؛ اَور خشک سالی میں تیری ضرورتیں پُوری کریں گے اَور تیری ہڈّیوں کو تقویّت دیں گے۔ تُو سیراب باغ کی مانند ہوگا، اَور ایک اَیسے چشمے کی مانند جِس کا پانی کبھی نہیں سُوکھتا۔ (یَشعیاہ 58:6-11)
رہائی اور حفاظت کی برکت
موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ مُبارک ہے وہ جو کمزور کا خیال رکھتا ہے؛ یَاہوِہ اُسے مُصیبت کے وقت بچاتے ہیں۔ یَاہوِہ اُس کی حِفاظت کریں گے اَور اُسے زندہ رکھیں گے؛ اَور اُسے زمین پر برکت دیں گے اَور اُسے اُس کے حریفوں کی مرضی پر نہ چھوڑیں گے۔ (زبُور 41:1-2)
عزت کی برکت
اُنہُوں نے بِکھیرا ہے، اُنہُوں نے مسکینوں کو دیا ہے، اُن کی راستبازی ہمیشہ تک قائِم رہے گی؛ اَور اُن کا سینگ باعزّت بُلند کیا جائے گا۔ (زبُور 112:9)
کام اور دولت میں برکت
تُم اُسے نہایت فراخدلی سے دو اَور اُس کو دیتے وقت تمہارے دِل میں کویٔی گُریز بھی نہ ہو؛ تَب اِس سبب سے یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے سَب کاموں میں اَور سَب مُعاملوں میں جنہیں تُم اَپنے ہاتھ میں لوگے، تُمہیں برکت بخشیں گے۔ (اِستِثنا 15:10)
جَب تُم اَپنے کھیت کی فصل کاٹ رہے ہو اَور کویٔی پُولا بھُول سے کھیت میں چھُوٹ جائے تو اُسے لینے کے لیٔے لَوٹ کر واپس نہ جانا۔ اُسے پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کے لیٔے رہنے دینا تاکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے سَب کاموں میں جنہیں تُم ہاتھ لگاؤ برکت بخشیں۔ (اِستِثنا 24:19)
لوگوں میں جو مُصیبت زدہ ہیں وہ اُن کے حُقُوق کا تحفُّظ کرےگا، اَور مُحتاجوں کے بچّوں کو بچائے گا؛ اَور ظالِم کو چُورچُور کر دے گا۔ (زبُور 72:4)
بادشاہ فریاد کرنے والے مُحتاجوں، اَور بے یارومددگار مُصیبت کے مارو کو چھُڑائے گا۔ وہ کمزوروں اَور مُحتاجوں پر ترس کھائے گا اَور مُحتاجوں کو موت سے بچائے گا۔ وہ اُنہیں ظُلم و تشدّد سے رِہائی بخشےگا، کیونکہ اُن کا خُون اُس کی نظر میں نہایت قیمتی ہے۔ اُس کی عمر دراز ہو! شیبا کا سونا اُسے دیا جائے۔ لوگ ہمیشہ اُس کے حق میں دعا کرتے رہیں اَور دِن بھر اُسے برکت دیتے رہیں۔ (زبُور 72:12-15)
اُس کا گھر مال و دولت سے بھرا رہتاہے، اَور اُس کی راستبازی ہمیشہ قائِم رہتی ہے۔ (زبُور 112:3)
اُنہُوں نے بِکھیرا ہے، اُنہُوں نے مسکینوں کو دیا ہے، اُن کی راستبازی ہمیشہ تک قائِم رہے گی؛ اَور اُن کا سینگ باعزّت بُلند کیا جائے گا۔ (زبُور 112:9)
جو مسکینوں پر رحم کرتا ہے، یَاہوِہ کو قرض دیتاہے، اَور وہ اُسے اُس کے کئے کا اجر دے گا۔ (امثال 19:17)
جو ناجائز سُود وصول کرکے اَپنی دولت بڑھاتاہے وہ اُس کے لیٔے جمع کرتا ہے جو مُحتاجوں پر رحم کرےگا۔ (امثال 28:8)
اِس لیٔے اَے بادشاہ، میری مشورت کو بخُوشی تسلیم کر۔ صداقت کے کام کرکے اَپنے گُناہوں کو ترک کر دے اَور مظلوموں پر رحم کرکے اَپنی بدکاری چھوڑ دے۔ ممکن ہے کہ اِس سے آپ کی اِقبالمندی قائِم رہے۔“ (دانی ایل 4:27)
روحانی پھلداری کی برکت
زیناسؔ کو جو وکیل ہے اَور اپُلّوسؔ کو روانہ کرنے کی کوشش کرنا اَور یہ بھی دیکھنا کہ اُنہیں کسی چیز کی ضروُرت نہ رہے۔ اَور ہمارے لوگ بھی اَچھّے کاموں میں مشغُول ہونا سیکھیں تاکہ دُوسروں کی فَوری ضرورتوں کو پُورا کر سکیں اَور بے پھل زندگی نہ گُزاریں۔ (طِطُس 3:13-14)
عام برکتیں
فیّاض آدمی خُود بھی برکت پایٔےگا، کیونکہ وہ اَپنے کھانے میں سے غریبوں کو دیتاہے۔ (امثال 22:9)
خوشی کی برکتیں
جو اَپنے ہمسایہ کو حقیر جانتا ہے، گُناہ کرتا ہے، لیکن مُبارک ہے وہ جو مُحتاج پر رحم کرتا ہے۔ (امثال 14:21)
غریبوں کو نہ دینے والوں پر لعنتیں
دعا قبول نہ ہونے کی لعنت
جو کویٔی مسکین کی آہ سُن کر اَپنے کان بند کر لیتا ہے، تو جَب وہ آپ بھی آہ و زاری کرےگا، تَب کویٔی اُس کی نہ سُنے گا۔ (امثال 21:13)
غربت کی لعنت
جو آدمی اَپنی دولت بڑھانے کے لیٔے کنگالوں پر ظُلم ڈھاتا ہے، اَورجو دولتمندوں کو تحفے پیش کرتا ہے؛ دونوں غربت کا شِکار ہو جاتے ہیں۔ (امثال 22:16)
عام لعنت
جو مُحتاجوں کی مدد کرتا ہے، اُسے کچھ کمی نہ ہوگی، لیکن جو اُن کی طرف سے اَپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے، بڑا ملعُون ہوتاہے۔ (امثال 28:27)
غریبوں کو دینے سے متعلق دیگر امور
ہمدردی کا رویہ
کیا میں دردمند کے لیٔے نہیں رُویا؟ کیا میری جان غریب کے لیٔے آزردہ نہیں ہُوئی؟ (ایُّوب 30:25)
غریبوں کی ضروریات کی تحقیق کریں
میں مُحتاجوں کے لیٔے باپ کی طرح تھا؛ اَور پردیسیوں کے مسائل حل کرتا تھا۔ (ایُّوب 29:16)
خدا ترس پر غریبوں کو نہ دینے کا الزام
کیا تمہاری بدی بڑی نہیں؟ اَور کیا تمہارے گُناہ غَیر محدُود نہیں؟ تُم نے تھکے ماندوں کو پانی نہ پِلایا اَور بھُوکوں کو کھانے سے محروم رکھا، اَور تُم نے بیواؤں کو خالی ہاتھ لَوٹایا اَور یتیموں کے بازو توڑ دئیے۔ (ایُّوب 22:5, 7, 9)
غریبوں کو دینے کے بجائے خدا کو جلال دینے کی مثال
جِس وقت یِسوعؔ بیت عنیّاہ میں شمعُونؔ کوڑھی کے گھر میں تھے، تو ایک خاتُون سنگِ مرمر کے عِطردان میں قیمتی عِطر لے کر اُن کے پاس پہُنچی اَور جَب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو اُن کے سَر پر عِطر اُنڈیل دیا۔ شاگرد یہ دیکھ کر بہت خفا ہُوئے اَور کہنے لگے، ”عِطر کو ضائع کرنے کی کیا ضروُرت تھی؟ اگر اِسے بیچا جاتا تو بڑی قیمت ہاتھ آتی جسے غریبوں میں تقسیم کیا جا سَکتا تھا۔“ یِسوعؔ نے یہ جان کر اُن سے فرمایا، ”تُم اِس خاتُون کو کیوں پریشان کر رہے ہو؟ اِس نے تو میرے ساتھ بھلائی کی ہے۔ کیونکہ غریب غُربا تو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گے، لیکن مَیں یہاں ہمیشہ تمہارے پاس نہ رہُوں گا۔ اَور اِس نے تو پہلے ہی سے میری تدفین کی تیّاری کے لیٔے میرے جِسم کو عِطر سے مَسح کر دیا ہے۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ ساری دُنیا میں جہاں کہیں انجیل کی مُنادی کی جائے گی وہاں اِس خاتُون کی یادگاری میں اِس کے اِس کام کا ذِکر بھی کیا جائے گا۔“ (متّی 26:6-13)
جَب وہ بیت عنیّاہ میں، شمعُونؔ کوڑھی کے گھر میں بیٹھے ہویٔے کھانا کھا رہے تھے تو ایک خاتُون سنگِ مرمر کے عِطردان میں، جٹاماسی کا خالص، اَور قیمتی عِطر لے کر آئی اَور عِطردان کو توڑ کر سارا عِطر یِسوعؔ کے سَر پر اُنڈیل دیا۔ مگر بعض میں سے کچھ لوگ ایک دُوسرے سے برہم ہوکر دِل ہی دِل میں کہنے لگے، ”عِطر کو اِس طرح ضائع کرنے کی کیا ضروُرت تھی؟ یہ عِطر تین سَو دینار سے زِیادہ کی قیمت میں فروخت کیا جا سَکتا تھا اَور رقم غریبوں میں تقسیم کی جا سکتی تھی۔“ پس وہ اُس خاتُون کو بہت بُرا بھلا کہنے لگے۔ مگر یِسوعؔ نے کہا، ”اِسے چھوڑ دو، اِسے کیوں پریشان کر رہے ہو؟ اُنہُوں نے میرے ساتھ بھلائی کی ہے۔“ غریب غُربا تو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں، تُم جَب چاہو اُن کے ساتھ نیکی کر سکتے ہو۔ لیکن مَیں یہاں ہمیشہ تمہارے پاس نہ رہُوں گا۔ (مرقُس 14:3-7)
اُس وقت مریمؔ نے تقریباً نِصف لیٹر خالص اَور بڑا قیمتی عِطر یِسوعؔ کے پاؤں پر ڈال کر، اَپنے بالوں سے آپ کے پاؤں کو پونچھنا شروع کر دیا۔ اَور سارا گھر عِطر کی خُوشبو سے مہک اُٹھا۔ یِسوعؔ کے شاگردوں میں سے ایک، یہُوداہؔ اِسکریوتی، جِس نے آپ کو بعد میں پکڑوایاتھا، شکایت کرنے لگا، ”یہ عِطر اگر فروخت کیا جاتا تو تین سَو دینار وصول ہوتے جو غریبوں میں تقسیم کیٔے جا سکتے تھے۔“ اُس نے یہ اِس لیٔے نہیں کہاتھا کہ اُسے غریبوں کا خیال تھا بَلکہ اِس لیٔے کہ وہ چور تھا؛ اَور چونکہ اُس کے پاس پیسوں کی تھیلی رہتی تھی، جِس میں لوگ رقم ڈالتے تھے۔ وہ اُس میں سے اَپنے اِستعمال کے لیٔے کُچھ نہ کُچھ نکال لیا کرتا تھا۔ یِسوعؔ نے فرمایا، ”اُسے پریشان نہ کرو اُسے اَیسا کرنے دو، اُس نے یہ عِطر میری تدفین کے لیٔے سنبھال کر رکھا ہُواہے۔ غریب غُربا تو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گے، لیکن مَیں یہاں ہمیشہ تمہارے پاس نہ رہُوں گا۔“ (یُوحنّا 12:3-8)
بیواؤں کی دیکھ بھال لازم ہے
اُن دِنوں جَب شاگردوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی تو یُونانی یہُودی مقامی یہُودیوں کی شکایت کرکے کہنے لگے کیونکہ روزمرّہ کے کھانے کی تقسیم کے وقت ہماری بیواؤں کو نظر اَنداز کیا جاتا ہے۔ یہ سُن کر بَارہ رسولوں نے سارے شاگردوں کو جمع کیا اَور کہا، ”ہمارے لیٔے مُناسب نہیں کہ ہم خُدا کے کلام کی مُنادی کو چھوڑکر اَور کھانے پینے کا اِنتظام کرنے لگیں۔ اِس لیٔے اَے بھائیو اَور بہنوں، اَپنے میں سے سات نیک نام اَشخاص کو چُن لو جو پاک رُوح اَور دانائی سے معموُر ہوں تاکہ ہم اُنہیں اِس کام کی ذمّہ داری سونپ دیں (اعمال 6:1-3)
ہمارے خُدا باپ کی نظر میں حقیقی اَور بے عیب دینداری یہ ہے کہ مُصیبت کے وقت یتیموں اَور بیواؤں کی خبر لیں اَور اَپنے آپ کو دُنیا سے بے داغ رکھیں۔ (یعقوب 1:27)
ملکیت کے صحیح نقطۂ نظر کا نتیجہ: کوئی غریب نہیں
مُومِنین کی جماعت ایک دِل اَور ایک جان تھی۔ کویٔی بھی اَیسا نہ تھا جو اَپنے مال کو صِرف اَپنا سمجھتا ہو بَلکہ دُوسروں کو بھی ساری چیزوں میں شریک سمجھتا تھا۔ اَور رسول بڑی قُدرت کے ساتھ خُداوؔند یِسوعؔ کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی گواہی دیتے تھے۔ اَور اُن سَب پر خُدا کا بڑا فضل تھا (اعمال 4:32-33)
غریبوں کے لیے کم دینے کی گنجائش تھی
” ’اَور اگر اُسے بھیڑ دینے کا مقدور نہ ہو تو وہ دو قُمریاں یا کبُوتر کے دو بچّے اَپنی گُناہ کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور گذرانے یعنی ایک گُناہ کی قُربانی کے لیٔے اَور ایک سوختنی نذر کے لیٔے۔ ” ’تاہم اگر اُسے دو قُمریاں یا کبُوتر کے دو بچّے لانے کا بھی مقدور نہ ہو تو وہ اَپنے گُناہ کے بدلے نذر کے طور پر ڈیڑھ کِلو مَیدہ گُناہ کی قُربانی کے لیٔے لایٔے اَور اُس پر تیل یا لوبان ہرگز نہ ڈالے کیونکہ یہ گُناہ کی قُربانی ہے۔ (اَحبار 5:7, 11)
” ’اَور جَب لڑکے یا لڑکی کے لیٔے اُس کی طہارت کے دِن پُورے ہو جایٔیں، تو وہ سوختنی نذر کے لیٔے یک سالہ برّہ اَور گُناہ کی قُربانی کے لیٔے کبُوتر کا ایک بچّہ یا ایک قُمری خیمہ اِجتماع کے دروازہ پر کاہِنؔ کے پاس لایٔے۔ اگر وہ عورت ایک برّہ خریدنے کا مقدور نہ رکھتی ہو، تو وہ قُمریوں کا ایک جوڑا یا کبُوتر کے دو بچّے لایٔے، ایک سوختنی نذر کے لیٔے اَور دُوسرا گُناہ کی قُربانی کے لیٔے۔ اِس طرح کاہِنؔ اُس کے لیٔے کفّارہ دے گا، تو وہ پاک ہو جایٔےگی۔‘ “ (اَحبار 12:6, 8)
”لیکن اگر وہ شخص غریب ہو اَور اُسے اِتنا مقدور نہ ہو تو وہ اَپنا کفّارہ دینے کی خاطِر ہلانے کی نذر کی قُربانی کے طور پر خطا کی قُربانی کے واسطے ایک نر برّہ اَور اناج کی نذر کے واسطے تیل مِلا ہُوا ڈیڑھ کِلو مَیدہ اَور ایک تہائی لیٹر تیل، اَور اَپنے مقدور کے مُطابق دو قُمریاں یا کبُوتر کے دو بچّے، جِن میں سے ایک گُناہ کی قُربانی کے لیٔے اَور دُوسرا سوختنی نذر کے لیٔے لے آئے۔ (اَحبار 14:21-22)
پھر وہ قُمریوں یا کبُوتر کے بچّوں میں سے ایک ایک جنہیں وہ لا سَکا ہو، اُن کی قُربانی پیش کرے۔ یعنی جو کُچھ اُسے مُیسّر ہُوا ہو، اُس میں سے اناج کی نذر کے ساتھ، ایک گُناہ کی قُربانی کے طور پر اَور ایک سوختنی نذر کے طور پر پیش کرے۔ اِس طرح کاہِنؔ پاک قرار دئیے جانے والے شخص کے لیٔے یَاہوِہ کے حُضُور میں کفّارہ دے۔“ یہ اُس شخص کے لیٔے طریقہ ہے جو کوڑھ کی متعدّی بیماری میں مُبتلا ہے اَور اَپنے پاک ہونے کے لیٔے باقاعدہ نذر مُہیّا نہیں کر سَکتا ہے۔ (اَحبار 14:30-32)
لیکن اگر کویٔی مَنّت ماننے والا اِس قدر غریب ہو کہ اُسے مُقرّرہ رقم اَدا کرنے کا مقدور نہ ہو، تو وہ اُس شخص کو کاہِنؔ کے سامنے پیش کرے اَور کاہِنؔ اُس شخص کے فدیہ کی قیمت اُس شخص کے حیثیت کے مُطابق اُس کی قیمت مُقرّر کرے۔ (اَحبار 27:8)
یسوع کے والدین اسی زمرے میں تھے
جَب حضرت مَوشہ کی شَریعت کے مُطابق اُن کے پاک ہونے کے دِن پُورے ہو گئے تو یُوسیفؔ اَور مریمؔ اُسے یروشلیمؔ لے گیٔے تاکہ اُسے خُداوؔند کو پیش کریں (جَیسا کہ خُداوؔند کی شَریعت میں لِکھّا ہُواہے، ”ہر پہلوٹھا خُداوؔند کے لیٔے مُقدّس ٹھہرے گا“)، اَور خُداوؔند کی شَریعت کے مُطابق، ”قُمرِیوں کا ایک جوڑا یا کبُوتر کے دو بچّے قُربانی کے لیٔے لائیں۔“ (لُوقا 2:22-24)
مردم شماری کے وقت امیر اور غریب نے برابر رقم دی
”تُم بنی اِسرائیل کی تعداد مَعلُوم کرنے کے لیٔے اُن کی مردُم شماری کرو تو ہر ایک جَب وہ شُمار کیا جائے یَاہوِہ کو اَپنی جان کا فدیہ اَدا کرے۔ تَب مردُم شماری کے وقت اُن پر کویٔی وَبا نازل نہ ہوگی۔ ہر اِنسان جِس کی گِنتی ہو چُکے وہ پاک مَقدِس کے ثاقل کے حِساب سے نیم ثاقل دے۔ یہ نیم ثاقل یَاہوِہ کے لیٔے نذر ہے۔ بیس بَرس یا اُس سے زِیادہ عمر کے وہ سَب جِن کی گِنتی ہو جائے یَاہوِہ کو نذر دیں۔ اَور جَب تُم اَپنی جانوں کے کفّارہ کے لیٔے یَاہوِہ کو نذر دو تو دولتمند نیم ثاقل سے زِیادہ اَور غریب اُس سے کم نہ دے۔ (خُروج 30:12-15)
غریبوں کو دینا نجات کا ثبوت ہو سکتا ہے
لیکن زکّائیؔ نے کھڑے ہوکر خُداوؔند سے کہا، ”دیکھئے، خُداوؔند! میں اَپنا آدھا مال غریبوں کو ابھی دیتا ہُوں اَور اگر مَیں نے دھوکے سے کسی کا کُچھ لیا ہے تو اُس کا چَو گُنا واپس کرتا ہُوں۔“ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”آج اِس گھر میں نَجات آئی ہے کیونکہ یہ آدمی بھی اَبراہامؔ کی اَولاد ہے۔ (لُوقا 19:8-9)
دینے کی دیگر مثالیں (خداوند کو نہیں)
جَب اُونٹ پانی پی چُکے تو اُس شخص نے ساڑے پانچ گرام سونے کی ایک نتھ اَور تقریباً ایک سوپندرہ گرام وزن کے سونے کے دو کنگن نکالے تَب اُس خادِم نے سونے اَور چاندی کے زیورات اَور لباس نکال کر رِبقہؔ کو دیئے اَور اُس کے بھایٔی اَور اُس کی ماں کو بھی قیمتی تحفے پیش کئے۔ (پیدائش 24:22, 53)
تَب اُن کے باپ اِسرائیل نے اُن سے کہا، ”اگر یہی بات ہے تو اَیسا کرو، کہ اِس مُلک کی بہترین پیداوار میں سے چند چیزیں اَپنے بوروں میں رکھ لو اَور اُنہیں اُس شخص کے لیٔے تحفہ کے طور پر لے جاؤ۔ مثلاً تھوڑا سا روغن بلسان اَور تھوڑا سا شہد، کچھ گرم مَسالے اَور مُر پِستے اَور بادام اَور چاندی کی دوگنی مقدار اَپنے ساتھ لے جاؤ کیونکہ تُمہیں وہ چاندی بھی لَوٹانی ہوگی جو تمہارے بوروں میں رکھی گئی تھی۔ شاید غلطی سے اَیسا ہُوا ہو۔ چنانچہ وہ تحفے اَور چاندی کی دوگنی مقدار اَور بِنیامین کو بھی ساتھ لے کر جلدی سے مِصر پہُنچے اَور یُوسیفؔ کے سامنے حاضِر ہویٔے۔ (پیدائش 43:11-12, 15)
یَاہوِہ آپ کے خُدا کی سِتائش ہو جو آپ سے اَیسا راضی ہُوئے کہ آپ کو اَپنے تخت پر تخت نشین کیا تاکہ آپ یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف سے بادشاہ ہوں۔ چونکہ آپ کے خُدا کو بنی اِسرائیل سے مَحَبّت تھی کہ اُنہیں ہمیشہ کے لیٔے قائِم کریں، اِس لیٔے اُنہُوں نے آپ کو اُن کا بادشاہ بنایا تاک آپ عدل اَور راستی کو بحال رکھیں۔“ پھر ملِکہ شیبا نے بادشاہ کو ایک سَو بیس تالنت سونا، بڑی مقدار میں مَسالے اَور جواہرات تحفہ میں دئیے اَورجو مَسالے ملِکہ شیبا نے شُلومونؔ کو دئیے وہ اُنہیں پہلے کبھی مُیسّر نہ ہُوئے تھے۔ (2 تواریخ 9:8-9)
پھر شُلومونؔ بادشاہ نے ملِکہ شیبا کو جو کچھ اُس نے خواہش کی اَور مانگا، اُس سے زِیادہ جو وہ بادشاہ کے لئے لائی تھی مُہیّا کیا، تَب وہ اَپنے قافلے کے ساتھ اَپنے مُلک کو واپس چلی گئی۔ (2 تواریخ 9:12)
شاہِ یہُودیؔہ حِزقیاہؔ نے جماعت کے لیٔے ایک ہزار بَیل اَور سات ہزار بھیڑیں اَور بکریاں مُہیّا کیں اَور سرداروں نے اُنہیں ایک ہزار بَیل اَور دس ہزار بھیڑیں اَور بکریاں مُہیّا کیں اَور کاہِنوں کی ایک کثیر تعداد نے اَپنے آپ کو پاک کیا۔ (2 تواریخ 30:24)
بہت سے لوگ یروشلیمؔ میں یَاہوِہ کے لیٔے عطیات اَور حِزقیاہؔ شاہِ یہُودیؔہ کے لیٔے قیمتی تحائف لایٔے اَور تَب سے تمام قوموں میں اُس کا بڑا اِحترام ہونے لگا۔ (2 تواریخ 32:23)
اَور یُوشیاہؔ نے تمام لوگوں کے لیٔے جو وہاں مَوجُود تھے تیس ہزار بھیڑ بکریاں اَور تین ہزار بَیل فسح کی قُربانیوں کے لیٔے مُہیّا کئے اَور یہ سَب بادشاہ کی مِلکیّت میں سے تھے۔ بادشاہ کے سرداروں نے بھی لوگوں، کاہِنوں اَور لیویوں کے لئے اَپنی مرضی سے رضا کی قُربانی کے طور پر ہدیہ دیا۔ اَور خُدا کے بیت المُقدّس کے ناظِم خِلقیاہؔ، زکریاؔہ اَور یحی ایل نے کاہِنوں کو فسح کی قُربانی کے لیٔے دو ہزار چھ سَو بھیڑ بکریاں اَور تین سَو بَیل دئیے۔ اِن کے علاوہ لیویوں کے سرداروں کونعنیاہؔ، اَور اُس کے بھائیوں شمعیاہؔ اَور نتنی ایل، اَور حشبیاہؔ، یعی ایل اَور یُوزبادؔ نے لیویوں کو فسح کی قُربانی کے لیٔے پانچ ہزار بھیڑ بکریاں اَور پانچ سَو بَیل مُہیّا کئے۔ (2 تواریخ 35:7-9)
اَورجو لوگ یہاں یروشلیمؔ میں رہ جایٔیں وہ سَب کے سَب اُسے چاندی، سونا، سامان، مال مویشی اَور یَاہوِہ خُدا کے بیت المُقدّس کے لیٔے رضاکارانہ نذریں مُہیّا کریں۔‘ “ اُن کے تمام پڑوسیوں نے چاندی، سونا، سامان، مال مویشی، قیمتی تحائف اَور کیٔی اَور چیزیں خُوشی خُوشی مُہیّا کرکے اُن کی مدد کی۔ (عزرا 1:4, 6)
آبائی خاندانوں کے سرداروں میں سے بعض نے کام کے لیٔے عَطیّہ بھی دیا۔ حاکم نے خزانہ میں سے سونے کے 1,000 دِرہم اَور 50 پیالے اَور کاہِنوں کے لیٔے 530 پیراہن دئیے۔ آبائی خاندانوں کے بعض سرداروں نے کام کے لیٔے خزانہ میں سونے کے 20,000 دِرہم اَور 2,200 مِنہ چاندی دی۔ اَور باقی لوگوں نے جو کچھ دیا وہ کُل مِلا کر سونے کے 20,000 دِرہم اَور 2,000 مِنہ چاندی اَور کاہِنوں کے لیٔے 67 پیراہن تھے۔ (نحمیاہ 7:70-72)
بادشاہ نے ایک عظیم ضیافت ”ضیافت ایسترؔ“ کے نام سے ترتیب دی اَور اَپنے تمام اُمرا و وُزراء کو شرکت کی دعوت دی۔ اِس خُوشی میں تمام صوبوں میں تعطیل کا اعلان کروایا گیا اَور شاہی کرم کے مُطابق انعامات تقسیم کئے گیٔے۔ (ایسترؔ 2:18)
ترشیشؔ اَور دُور دراز کے جزیروں کے بادشاہ اُسے نذرانے پیش کریں گے؛ شیبا اَور سیبا کے بادشاہ اُس کے لیٔے عطیات لائیں گے۔ (زبُور 72:10)
اِس سے قبل کہ یرمیاہؔ جانے کے لیٔے مُڑتا، نبوزرادانؔ نے کہا، ”گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ بِن شافانؔ کے پاس واپس چلے جاؤ جسے شاہِ بابیل نے یہُودیؔہ کے شہروں کے اُوپر حُکمران مُقرّر کیا ہے اَور لوگوں کے درمیان اُس کے پاس رہ یا پھر اَپنی مرضی سے کہیں اَور چلے جاؤ۔“ تَب سردار نے اُسے توشہ سفر اَور اِنعام دے کر روانہ کیا۔ (یرمیاہؔ 40:5)
دوسروں کو راضی کرنے کے لیے
یعقوب نے رات وہیں گزاری، اَورجو کچھ اُن کے پاس تھا اُس میں سے اَپنے بھایٔی عیسَوؔ کے لیٔے یہ تحفہ مُنتخب کیا: اَور یہ ضروُر کہنا، ’آپ کے خادِم یعقوب بھی ہمارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔‘ “ کیونکہ یعقوب نے سوچا، ”اِن تحفوں سے جنہیں میں اَپنے آگے بھیج رہا ہُوں، عیسَوؔ کے غُصّہ کو ٹھنڈا کر دُوں گا تاکہ بعد میں جَب مَیں اُن کے سامنے آؤں تو شاید وہ مُجھے قبُول کر لیں۔“ (پیدائش 32:13, 20)
عیسَوؔ نے پُوچھا، ”اِن سَب گائے، بَیل سے جو مُجھے ملے، تمہارا کیا مطلب ہے؟“ یعقوب نے کہا، ”میرے آقا، وہ اِس لیٔے ہیں کہ آپ کی مہربانی مُجھ پر ہو۔“ لیکن عیسَوؔ نے کہا، ”نہیں میرے بھایٔی میرے پاس تو پہلے ہی بہت کچھ ہے لہٰذا جو تمہارا ہے وہ تُم اَپنے پاس ہی رکھو۔“ یعقوب نے کہا، ”نہیں نہیں! اگر مُجھ پر آپ کی نظرِ عنایت ہے تو میری طرف سے یہ تحفہ قبُول کیجئے کیونکہ تمہارا چہرہ دیکھنا خُدا کا چہرہ دیکھنے کی مانند ہے خصوصاً اَب جَب کہ آپ نے مہربانی سے میرا اِستِقبال کیا ہے۔ براہِ مہربانی جو تحفہ آپ کے سامنے لایا گیا اُسے قبُول کیجئے کیونکہ خُدا کے فضل و کرم سے میرے پاس ضروُرت کا سارا سامان مَوجُود ہے۔“ اَور یعقوب کے اِصرار کرنے پر عیسَوؔ نے اُسے قبُول کر لیا۔ (پیدائش 33:8-11)
خُفیہ طور پر دیا ہُوا تحفہ، غُصّہ کو ٹھنڈا کرتا ہے، اَور چوغہ میں چھُپا کر دی ہُوئی رشوت بھی شدید غضب کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ (امثال 21:14)
دوسروں پر اثر ڈالنے کے لیے
شِکیمؔ نے بھی دینؔہ کے باپ اَور بھائیوں سے کہا، ”اگر مُجھ پر تمہاری نظرِکرم ہو جائے تو جو کچھ تُم مانگوگے میں تُمہیں دے دُوں گا۔ دُلہن کا مَہر اَور جہیز جِس قدر بھی تُم چاہو طے کر لو اَورجو تُم کہو گے میں اَدا کروں گا۔ بس اُس لڑکی کو بطور دُلہن مُجھے دے دیجئے۔“ (پیدائش 34:11-12)
حکمت حاصل کرنے کے لیے
اَور رُوئے زمین کے سَب بادشاہ شُلومونؔ کی خدمت میں شرف باریابی چاہتے تھے تاکہ وہ اُن حِکمت کی باتوں کو سُنیں جو خُدا نے اُن کے دِل میں ڈالی تھیں۔ اَور سال بسال اُن کا دیدار کرنے والے اَپنے ساتھ اَپنا اَپنا ہدیہ یعنی چاندی اَور سونے کی اَشیا، پوشاک، ہتھیار اَور مَسالے، گھوڑے اَور خچّر لے کر آیا کرتے تھے۔ (2 تواریخ 9:23-24)
ملِکہ شیبا نے بادشاہ کو تحفہ میں ایک سَو بیس تالنت سونا، بڑی مقدار میں مَسالے اَور بیس قیمتی پتّھر دئیے؛ اِتنے مقدار میں مَسالے پھر کبھی نہیں آئے، جتنے ملِکہ شیبا نے شُلومونؔ بادشاہ کو تحفہ میں دیئے تھے۔ (1 سلاطین 10:10)
شریر خدا ترسوں کی موت پر جشن مناتے ہیں
اَور اہلِ زمین اُن کی موت پر خُوشی منائیں گے اَور شادمان ہوکر ایک دُوسرے کو تحفے بھیجیں گے کیونکہ اُن دونوں نبیوں نے اہلِ زمین کے باشِندوں کو ستایا تھا۔ (مُکاشفہ 11:10)
دینے سے متعلق دیگر امور
دینے کی جگہ
”اَور تُم اَپنی زمین کے پہلے پھلوں میں سے بہترین پھل یَاہوِہ اَپنے خُدا کے گھر میں لانا۔“ تُم بکری کے بچّہ کو اُس کی ماں کے دُودھ میں نہ پکانا۔ (خُروج 23:19)
”اَور تُم اَپنی زمین کے پہلے پھلوں میں سے بہترین پھل یَاہوِہ اَپنے خُدا کے گھر میں لانا۔ ”تُم بکری کے بچّہ کو اُس کی ماں کے دُودھ میں نہ پکانا۔“ (خُروج 34:26)
اَور وہیں اَپنی سوختنی نذریں اَور ذبیحے، اَپنی دہ یکیاں اَور خصوصی نذرانے، اَپنی مَنّتوں کی چیزیں اَور اَپنی رضا کی قُربانیاں اَور اَپنے مویشیوں اَور بھیڑ بکریوں کے پہلوٹھوں کو پیش کرنا۔ (اِستِثنا 12:6)
تَب جو مقام یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے نام کے قِیام کے لیٔے مُنتخب کریں گے وہیں تُم یہ سَب چیزیں لے جایا کرنا جِن کا میں تُمہیں حُکم دیتا ہُوں یعنی اَپنی سوختنی نذریں اَور ذبیحے اَپنی دہ یکیاں اَور خصوصی نذرانے اَور اَپنی خاص نذر کی اَشیا جِن کی مَنّت تُم نے یَاہوِہ کے لیٔے مانی ہو۔ (اِستِثنا 12:11)
تُم اَپنے اناج، نئے انگوری شِیرے، زَیتُون کے تیل کی دہ یکیاں اَور اَپنے مویشیوں اَور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے پہلوٹھے، اَپنی مَنّت مانی ہُوئی چیزیں اَور اَپنی رضا کی قُربانیاں یا خصوصی نذرانہ کو اَپنے شہروں کے اَندر ہرگز نہ کھانا۔ بَلکہ تُم، تمہارے بیٹے اَور بیٹیاں تمہارے خادِم اَور خادِمائیں اَور تمہارے شہروں کے لیوی اُنہیں یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور اُسی جگہ کھایٔیں جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا مُنتخب کریں، اَور تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے حُضُور اَپنے ہاتھوں کے سَب کاموں پر خُوشی منانا۔ (اِستِثنا 12:17-18)
شاید ہمارے پاس دینے کو پیسہ نہ ہو، مگر ہم مسیح دے سکتے ہیں
اَور لوگ ایک آدمی کو جو پیدائشی لنگڑا تھا بیت المُقدّس کے ایک خُوبصورت نامی دروازے پر چھوڑ جاتے تھے، جہاں وہ بیت المُقدّس کے صحنوں میں ہر روز اَندر جانے والوں سے بھیک مانگا کرتا تھا۔ جَب اُس نے پطرس اَور یُوحنّا کو بیت المُقدّس میں داخل ہوتے دیکھا، تو اُن بڑی حسرت سے بھیک مانگنے لگا۔ پطرس اَور یُوحنّا نے اُس کی طرف مُتوجّہ ہوکر اُس سے فرمایا، ”ہماری طرف دیکھ!“ وہ اِس اُمّید پر کہ اُسے اُن سے کچھ ملے گا، اُن کی طرف مُتوجّہ ہُوا۔ تَب پطرس نے فرمایا، ”چاندی سونا تو میرے پاس ہے نہیں، لیکن جو میرے پاس ہے مَیں تُجھے دئیے دیتا ہُوں۔ تو یِسوعؔ المسیح ناصری کے نام سے اُٹھ اَور چل پھر۔“ (اعمال 3:2-6)
سخی شخص سے بہت لوگ مانگیں گے
بہت سے لوگ حاکم کی خُوشامد کرتے ہیں، اَور ہر آدمی تحفہ دینے والے کا دوست بَن جاتا ہے۔ (امثال 19:6)
لالچ دینے پر اثر ڈال سکتا ہے
اِس لیٔے مَیں نے بھائیوں سے یہ درخواست کرنا بہت ضروُری سمجھا کہ وہ مُجھ سے پہلے تمہارے پاس پہُنچ جایٔیں اَور وہ عَطیّہ جو تُم نے دینے کا وعدہ کیا۔ وقت سے پہلے تیّار کر رکھیں تاکہ وہ خُوشی سے دیا ہُوا عَطیّہ مَعلُوم ہو، نہ کہ اَیسی رقم جو زبردستی جمع کی گئی ہو۔ (2 کُرِنتھِیوں 9:5)
دینے کا نتیجہ خدا کی شکرگزاری ہے
کیونکہ تمہاری اِس خدمت سے نہ صِرف مُقدّسین کی ضروُرتیں پُوری ہوتی ہیں، بَلکہ بہت سے لوگوں کی طرف سے خُدا کا شُکرانہ بھی اَدا کیا جاتا ہے۔ (2 کُرِنتھِیوں 9:12)
صلح کی کوشش سے پہلے نذر نہ چڑھائیں
”چنانچہ، اگر قُربان گاہ پر نذر چڑھاتے وقت تُمہیں یاد آئے کہ تمہارے بھایٔی یا بہن کو تُم سے کویٔی شکایت ہے، تو اَپنی نذر وہیں قُربان گاہ کے سامنے چھوڑ دے اَور جا کر پہلے اَپنے بھایٔی یا بہن سے صُلح کر لے، پھر آکر اَپنی نذر چڑھا۔ (متّی 5:23-24)
کلامِ مقدس ہمیں دینے کی ترغیب دیتا ہے
اُن پہاڑوں کی طرف نظر اُٹھاکر، اُس کے پاؤں کو دیکھ جو خُوشخبری لاتا، اَور سلامتی کا اعلان کرتا ہے! اَے یہُوداہؔ، اَپنی عیدیں منا، اَور اَپنی مَنّتیں پُوری کر۔ کیونکہ پھر بدکار تُجھ پر حملہ نہ کریں گے؛ کیونکہ وہ مُکمّل طور سے فنا کر دئیے جایٔیں گے۔ (ناحُومؔ 1:15)
دُوسروں کے ساتھ نیکی اَور سخاوت کرنا مت بھُولو کیونکہ خُدا اَیسی قُربانیوں سے خُوش ہوتاہے۔ (عِبرانیوں 13:16)
دینا ایک گواہی ہو سکتا ہے
تَب یِسوعؔ نے اُس سے فرمایا، ”خبردار کسی سے نہ کہنا۔ لیکن جا کر اَپنے آپ کو کاہِنؔ کو دِکھا اَورجو نذر حضرت مَوشہ نے مُقرّر کی ہے اُسے اَدا کر تاکہ سَب لوگوں کے لیٔے گواہی ہو۔“ (متّی 8:4)
”خبردار اِس کا ذِکر، کسی سے نہ کرنا۔ بَلکہ سیدھے کاہِنؔ کے پاس جا کر، اَپنے آپ کو دِکھاؤ اَور اَپنے ساتھ وہ نذریں بھی لے جانا جو حضرت مَوشہ نے مُقرّر کی ہیں تاکہ سَب پر گواہی ہو، جائے کہ تُم پاک ہو گئے ہو۔“ (مرقُس 1:44)
تَب یِسوعؔ نے اُسے تاکید کی، ”کسی سے کُچھ نہ کہنا، بَلکہ سیدھا کاہِنؔ کے پاس جا کر، اَپنے آپ کو دِکھا اَور اَپنے ساتھ وہ نذریں بھی لے جا جو حضرت مَوشہ نے تمہارے پاک صَاف ہونے کے لیٔے مُقرّر کی ہیں، تاکہ لوگوں کے سامنے گواہی ہو۔“ (لُوقا 5:14)
ایک قوم کو دینے کی مثال
”کیٔی برسوں کی غَیر حاضری کے بعد میں اَپنی قوم کے لیٔے عَطیّہ کی رقم اَور نذرانے لے کر یروشلیمؔ آیاتھا۔ (اعمال 24:17)
قربانی سے بہتر چیزیں
خدا اور پڑوسی سے محبت
اَور اُن سے اَپنے سارے دِل، اَپنی ساری عقل اَور اَپنی ساری طاقت، سے مَحَبّت رکھو اَور اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا ساری سوختنی نذروں اَور ذبیحوں کی قُربانیوں سے بڑھ کر ہے۔“ (مرقُس 12:33)
خدا سے وفاداری اور اس کی پہچان
کیونکہ مَیں قُربانی سے زِیادہ رحم دِلی کو پسند کرتا ہُوں، اَور سوختنی نذروں سے بڑھ کر خُدا شناسی چاہتا ہُوں۔ (ہوشِیعؔ 6:6)
فرمانبرداری
مگر شموایلؔ نے جَواب دیا: ”کیا یَاہوِہ سوختنی نذروں اَور ذبیحوں سے اِتنا ہی خُوش ہوتے ہیں جِتنا اُس بات سے کہ یَاہوِہ کا حُکم مانا جائے؟ دیکھ حُکم ماَننا، قُربانی چڑھانے سے، اَور کہنے کے مُطابق عَمل کرنا مینڈھوں کی چربی سے بہتر ہے۔ (1 شموایلؔ 15:22)
”تمہاری کثیرُالتعداد قُربانیاں میرے کس کام کی ہیں؟“ یَاہوِہ فرماتے ہیں: مینڈھوں کی سوختنی نذروں سے، اَور فربہ جانوروں کی چربی سے میرا جی بھر چُکاہے؛ بَیلوں، برّوں اَور بکروں کا خُون میری خُوشی کا باعث نہیں۔ (یَشعیاہ 1:11)
راستبازی/انصاف
حق اَور راستی یَاہوِہ کے نزدیک قُربانیوں سے زِیادہ پسندِیدہ ہیں۔ (امثال 21:3)
نذرانے
لازمی
تہواروں اَور مُقرّرہ عیدوں کے موقعوں پر بچھڑے کے ساتھ ایک ایفہ، مینڈھے کے ساتھ ایک ایفہ اَور برّوں کے ساتھ اَپنی مرضی کے مُطابق نذر کی قُربانی ہوگی جو ہر ایفہ کے ساتھ ایک ہِین روغن سمیت ہو۔ ” ’جَب شہزادہ یَاہوِہ کے حُضُور رضا کی قُربانی مُہیّا کرے، خواہ وہ سوختنی نذر ہو یا سلامتی کی نذریں ہُوں، تَب اُس کے لیٔے وہ پھاٹک کھولا جائے جِس کا رُخ مشرق کی جانِب ہے۔ وہ اَپنی سوختنی نذر یا سلامتی کی نذریں اِسی طرح پیش کرے جَیسے وہ سَبت کے دِن کرتا ہے۔ تَب وہ باہر نکل جائے گا اَور اُس کے جانے کے بعد پھاٹک بند کر دیا جائے گا۔ ” ’اَور ہر روز تُو ایک بے عیب یک سالہ برّہ یَاہوِہ کے لیٔے سوختنی نذر کی خاطِر مُہیّا کرےگا جسے تُو ہر صُبح مُہیّا کرنا۔ تُو اُس کے ساتھ ہر صُبح نذر کی قُربانی کے طور پر ایفہ کا چھٹا حِصّہ بھی مُہیّا کرنا جو آٹے کو نم کرنے کے لیٔے ہِین کے تیسرے حِصّہ کے برابر روغن سمیت ہو۔ یَاہوِہ کے لیٔے یہ نذر کی قُربانی پیش کرنا دائمی حُکم ہے۔ لہٰذا سوختنی نذر کے لیٔے برّہ، نذر کی قُربانی اَور روغن ہر صُبح باقاعدہ مُہیّا کیا جائے۔ (حزقی ایل 46:11-15)
رضاکارانہ
” ’جَب شہزادہ یَاہوِہ کے حُضُور رضا کی قُربانی مُہیّا کرے، خواہ وہ سوختنی نذر ہو یا سلامتی کی نذریں ہُوں، تَب اُس کے لیٔے وہ پھاٹک کھولا جائے جِس کا رُخ مشرق کی جانِب ہے۔ وہ اَپنی سوختنی نذر یا سلامتی کی نذریں اِسی طرح پیش کرے جَیسے وہ سَبت کے دِن کرتا ہے۔ تَب وہ باہر نکل جائے گا اَور اُس کے جانے کے بعد پھاٹک بند کر دیا جائے گا۔ (حزقی ایل 46:12)
نذرانوں کی مثالیں
تَب بادشاہ اَور اُس کے ساتھ تمام بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کے حُضُور میں قُربانیاں پیش کیں۔ اَور شُلومونؔ نے یَاہوِہ کے حُضُور میں جو سلامتی کی نذروں کی قُربانیاں پیش کیں، اُس میں بائیس ہزار بَیل اَور ایک لاکھ بیس ہزار بھیڑ بکرے تھے۔ اَور اِس طرح بادشاہ نے اَور تمام بنی اِسرائیل نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کو مخصُوص کیا۔ اُسی دِن بادشاہ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے سامنے کے صحن کے درمیانی حِصّہ کی تقدیس کی اَور وہاں پر سوختنی نذریں، اناج کی نذر کی قُربانیاں اَور سلامتی کی نذروں کی چربی پیش کی کیونکہ یَاہوِہ کے سامنے کانسے کا مذبح اِتنا چھوٹا تھا کہ اُس پر سوختنی نذروں، گلّے کی قُربانیوں اَور سلامتی کی نذروں کی چربی گزرانے کے لیٔے گنجائش نہ تھی۔ (1 سلاطین 8:62-64)
”شاہِ فارسؔ خورشؔ یُوں کہتاہے: ” ’آسمان کے خُدا یَاہوِہ نے زمین کی تمام مملکتیں مُجھے عطا فرمائی ہیں اَور اُنہُوں نے مُجھے مُقرّر کیا ہے کہ میں یہُودیؔہ کے یروشلیمؔ میں خُدا یَاہوِہ کے لیٔے ایک بیت المُقدّس تعمیر کراؤں۔ اَورجو لوگ یہاں یروشلیمؔ میں رہ جایٔیں وہ سَب کے سَب اُسے چاندی، سونا، سامان، مال مویشی اَور یَاہوِہ خُدا کے بیت المُقدّس کے لیٔے رضاکارانہ نذریں مُہیّا کریں۔‘ “ اُن کے تمام پڑوسیوں نے چاندی، سونا، سامان، مال مویشی، قیمتی تحائف اَور کیٔی اَور چیزیں خُوشی خُوشی مُہیّا کرکے اُن کی مدد کی۔ (عزرا 1:2, 4, 6)
مزید یہ کہ تُم وہ چاندی اَور سونا اَپنے ساتھ لے جانا جو بادشاہ اَور اِس کے مُشیروں نے اِسرائیل کے خُدا کو جِس کی سکونت یروشلیمؔ میں ہے آزادانہ طور پر دیا ہے۔ اَور وہ تمام چاندی اَور سونا جو بابیل کے صُوبہ سے تُجھے حاصل ہوگا، نیز یروشلیمؔ میں خُدا کے گھر کے لیٔے لوگوں اَور کاہِنوں کی رضاکارانہ نذریں بھی تُجھے ہی اَپنے ہمراہ لے جانا ہوں گی۔ لازِم ہے کہ تُو اُس نقدی سے بَیل، مینڈھے اَور نر برّے اَور ساتھ ہی اُن کے اناج کی نذر اَور تپاون کی نذروں کے لیٔے درکار اَشیا خرید کر اُنہیں یروشلیمؔ میں اَپنے خُدا کے ہیکل کے مذبح پر بطور قُربانی گزرانے۔ اُس کے بعد باقی بچے چاندی اَور سونے کو اَپنے خُدا کی رضا کے مُطابق جَیسے تُجھے اَور تیرے یہُودی بھائیوں کو بھلا مَعلُوم ہو اِستعمال کرنا۔ اَور اگر تُجھے اَپنے خُدا کے ہیکل کے لیٔے درکار کسی چیز کے خریدنے کی ضروُرت پڑے تو تُو شاہی خزانہ سے رقم اَدا کرنا۔ اَب مَیں بادشاہ ارتخشستاؔ دریائے فراتؔ کے پار سارے خزانچیوں کو حُکم دیتا ہُوں کہ عزراؔ کاہِنؔ جو آسمان کے خُدا کی شَریعت کا مُعلّم ہے جو کچھ بھی تُم سے طلب کرے وہ فوراً دیا جائے۔ یعنی سَو تالنت چاندی، سَو کور گیہُوں اَور سَو بَت مَے اَور سَو بَت زَیتُون کا تیل اَور نمک کی کثیر مقدار۔ (عزرا 7:15-18, 20-22)
اگر آپ کی روحانی نعمت دینا ہے تو اسے کام میں لائیں
اَور خُدا کا جو فضل ہم پر ہُواہے اُس کی وجہ سے ہمیں طرح طرح کی نِعمتیں مِلی ہیں۔ اِس لیٔے جسے نبُوّت مِلی ہو وہ ایمان کے اَندازہ کے مُطابق نبُوّت کرے۔ اگر خدمت مِلی ہو تو خدمت میں لگا رہے۔ اگر تعلیم دینے کی نِعمت مِلی ہے تو تعلیم دیتا رہے۔ اگر نصیحت کرنے کی نِعمت مِلی ہے، تو نصیحت کرتا رہے؛ اگر کسی کو حاجتمندوں کی ضروُرتیں پُوری کرنے کی نِعمت مِلی ہے، تو وہ فیّاضی سے کام لے، خُوش دِلی سے پیشوائی کرتا رہے؛ رحم کرنے والا، خُوشی سے رحم کرے۔ (رُومیوں 12:6-8)
ضروریات پوری کرنے کے لیے دیں
اَور جَب اُنہُوں نے اُسے ناپا تو جِس نے زِیادہ جمع کیا اُس کا کچھ زِیادہ نہ نِکلا، اَور جِس نے کم جمع کیا اُس کا کچھ کم نہ نِکلا۔ ہر ایک نے اَپنی اَپنی ضروُرت کے مُطابق ہی جمع کیا تھا۔ (خُروج 16:18)
میرا مطلب یہ نہیں کہ اَوروں کا بوجھ تُم پر ڈال کر تمہارے بوجھ کو اَور بھاری کر دُوں، میرا مقصد صِرف یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ مُعاملات یکساں ہوں۔ چونکہ اِس وقت تمہارے پاس کافی ہے اِس لیٔے تُم اَپنے عَطیّہ سے اُن کی کمی کو پُورا کر سکتے ہو، اَور جَب اُن کے پاس کافی ہوگا اَور تمہارے پاس کم تو وہ تمہاری مدد کر سکیں گے۔ یُوں ذمّہ داری کا بوجھ برابر ہو جائے، چنانچہ کِتاب مُقدّس لِکھّا ہے: ”جِس نے زِیادہ جمع کیا اُس کا کچھ زِیادہ نہ نِکلا، اَور جِس نے کم جمع کیا اُس کا کچھ کم نہ نِکلا۔“ (2 کُرِنتھِیوں 8:13-15)