دیانتداری

کلامِ مقدس تسلیم کرتا ہے کہ انسان کا دل فطرتاً بددیانت ہے اور بددیانتی کی بہت سی مثالیں دیتا ہے۔ خدا مکمل دیانتداری کا تقاضا کرتا ہے، زندگی کے ہر پہلو میں سچائی پر زور دیتا ہے اور بددیانتی پر غالب آنے اور ٹوٹے ہوئے رشتے بحال کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔

لوگ بددیانت ہیں

انسان کا دل بددیانت ہے

جَب اُن کی فرحت بخش خُوشبو یَاہوِہ تک پہُنچی تو یَاہوِہ نے دِل ہی دِل میں کہا، ”مَیں اِنسان کے سبب سے پھر کبھی زمین پر لعنت نہ بھیجوں گا۔ حالانکہ اُس کے دِل کا ہر خیال بچپن ہی سے بدی کی طرف مائل ہوتاہے، اَور آئندہ کبھی تمام جانداروں کو ہلاک نہ کروں گا جَیسا مَیں نے کیا۔ (پیدائش 8:21)
دِل سَب چیزوں سے زِیادہ حیلہ باز اَور لاعلاج ہوتاہے، اُس کا راز کون جان سَکتا ہے؟ (یرمیاہؔ 17:9)
کیونکہ بُرے خیال، قتل، زنا، جنسی بدفعلی، چوری، کُفر، جھُوٹی گواہی، دِل ہی سے نکلتی ہیں۔ (متّی 15:19)
کیونکہ اَندر سے یعنی اُس کے دِل سے، بُرے خیال باہر آتے ہیں جَیسے، جنسی بدفعلی، چوری، خُونریزی زنا، لالچ، بدکاری، مَکر و فریب، شہوت پرستی، بدنظری، کُفر، تکبُّر اَور حماقت۔ (مرقُس 7:21-22)

لوگ نسبتی دیانتداری برتتے ہیں

اُن دِنوں اِسرائیلیوں کا کویٔی بادشاہ نہ تھا چنانچہ جِس کو جو بھی ٹھیک مَعلُوم ہوتا تھا وہ وُہی کرتا تھا۔ (قُضاۃ 17:6)

بددیانت لوگوں کی مثالیں

تو بھی تمہارے باپ نے دس بار میری مزدُوری بدل کر مُجھ سے فریب کیا لیکن خُدا نے اُن سے مُجھے نُقصان نہیں پہُنچنے دیا۔ (پیدائش 31:7)
بنی اِسرائیل نے گُناہ کیا ہے۔ اُنہُوں نے میرے اُس عہد کو توڑا ہے جِس پر مَیں نے اُنہیں قائِم رہنے کا حُکم دیا تھا۔ اُنہُوں نے نذر کی ہُوئی چند چیزیں لی ہیں۔ اُنہُوں نے چوری کی اَور جھُوٹ بولا اَور اُنہیں اَپنے اَسباب میں رکھ دیا۔ عکنؔ نے یہوشُعؔ سے کہا، ”یہ سچ ہے! مَیں نے یَاہوِہ اِسرائیل کے خُدا کا گُناہ کیا ہے۔ مَیں نے یہ کیا: جَب مَیں نے لُوٹ کے مال میں بابیل کی ایک خُوبصورت چادر، دو ثاقل چاندی اَور پچاس ثاقل سونے کی ایک اینٹ دیکھی تو مَیں نے لالچ میں آکر اُنہیں رکھ لیا۔ یہ چیزیں میرے خیمہ میں زمین میں چھُپائی ہُوئی ہیں اَور چاندی اُن کے نیچے ہے۔“ (یہوشُعؔ 7:11, 20-21)
لیکن شموایلؔ کے بیٹے اُس کے نقش قدم پر نہ چلے۔ وہ ناجائز نفع کمانے پرتُلے ہُوئے تھے رشوت لیتے اَور اِنصاف کا خُون کرتے تھے۔ (1 شموایلؔ 8:3)
اِس لیٔے تُم احابؔ سے یہ کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: کیا تُم نے ایک آدمی کو قتل کرکے اُس کی جائداد پر قبضہ نہیں کر لیا ہے؟‘ پھر اُس سے یہ بھی کہنا، ’یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: جہاں کُتّوں نے نبوتؔ کا خُون چاٹا ہے، اُسی جگہ وہ تمہارا ہی خُون چاٹیں گے، ضروُر تمہارا!‘ “ (1 سلاطین 21:19)
بدکار لوگ پیدائش ہی سے گُمراہ ہو جاتے ہیں؛ ماں کے پیٹ سے ہی جھُوٹ پھیلا کر راہ سے بھٹک جاتے ہیں۔ (زبُور 58:3)
تمہارے حُکمران سرکش ہو گئے ہیں، اَور چوروں کے ساتھی بَن گیٔے ہیں؛ اُن سَب کو رشوت عزیز ہے اَور وہ تحفوں کے پیچھے دَوڑتے ہیں۔ وہ یتیموں کے حُقُوق کا تحفُّظ نہیں کرتے؛ اَور نہ بیواؤں کی فریاد اُن تک پہُنچتی ہے۔ (یَشعیاہ 1:23)
وہ بھُوکے کُتّے ہیں؛ جو کبھی سیر نہیں ہوتے۔ وہ نادان چرواہے ہیں؛ وہ سَب اَپنی اَپنی راہ کو پھر گیٔے، اَور ہر ایک اَپنا ہی نفع ڈھونڈتا ہے۔ (یَشعیاہ 56:11)
”کیونکہ اُن میں چُھوٹوں سے لے کر بڑوں تک، سبھی اَپنے مفاد کے لالچی ہیں؛ اَور نبی سے لے کر کاہِنؔ تک، سبھی دغاباز ہیں۔ (یرمیاہؔ 6:13)
” ’کیا تُم چوری، خُون، زنا کرکے اَور جھُوٹی قَسم کھا کر، معبُود بَعل کے لیٔے بخُور جَلا کر اَور اُن غَیر معبُودوں کی پیروی کرتے ہو جنہیں تُم نہیں جانتے تھے۔ کیا یہ گھر جو میرے نام سے کہلاتا ہے تمہاری نظر میں ڈاکوؤں کا اڈّا بَن گیا ہے؟ یَاہوِہ فرماتے ہیں، دیکھو، مَیں یہ سَب دیکھ رہا ہُوں! (یرمیاہؔ 7:9, 11)
اُس کے اُمرا اُن بھیڑیوں کی مانند ہیں جو اَپنے شِکار کو پھاڑتے ہیں۔ اَور خُون بہاتے ہیں اَور لوگوں کی جان لیتے ہیں تاکہ ناجائز منافع کمائیں۔ مُلک کے لوگ ستمگری سے کام لیتے ہیں، لَوٹ مار کرتے ہیں، غریب اَور مُحتاج پر ظُلم ڈھاتے ہیں اَور پردیسیوں کے ساتھ بُرا سلُوک اَور نااِنصافی کرتے ہیں۔ (حزقی ایل 22:27, 29)
اَے بنی اِسرائیل، یَاہوِہ کا کلام سُنو، کیونکہ یَاہوِہ کو تمہارے خِلاف جو اِس مُلک میں رہتے ہو اِلزام لگانا ہے: ”اِس مُلک میں نہ تو وفاداری ہے نہ مَحَبّت، اَور نہ ہی خُدا شناسی ہے۔ یہاں صِرف لعنت، دروغ گوئی اَور گوشت و خُون، اَور چوری اَور زناکاری ہے؛ وہ تمام حُدوُد توڑتے ہیں، اَور خُون پر خُون ہوتاہے۔ (ہوشِیعؔ 4:1-2)
بنی یہُوداہؔ کے اُمرا اُن لوگوں کی مانند ہیں جو سرحدوں کے نِشان ہٹاتے ہیں۔ مَیں پانی کے سیلاب کی طرح اَپنا قہر اُن پر اُنڈیل دُوں گا۔ (ہوشِیعؔ 5:10)
اَور جَب کبھی مَیں اِسرائیل کو شفا بخشوں گا، تَب اِفرائیمؔ کے گُناہ ظاہر ہو جایٔیں گے اَور سامریہؔ کے جرائم آشکارا ہوں گے۔ وہ دغاباز ہیں، چور گھر میں گھُس آتے ہیں، اَور ڈاکُو سڑکوں پر لُوٹ لیتے ہیں۔ (ہوشِیعؔ 7:1)
سوداگر جھُوٹا ترازو اِستعمال کرتا ہے؛ وہ دھوکا دہی سے مَحَبّت کرتا ہے۔ (ہوشِیعؔ 12:7)
اَے بدکار گھرانے، کیا میں اَب بھی تیرا ناجائز منافع، اَور کم پیمانے کو جو نفرت کا باعث ہیں، بھُول جاؤں؟ کیا میں اَیسے آدمی کو چھوڑ دُوں جو دغا کے ترازو رکھتا ہے، اَور غلط باٹوں کا تھیلہ رکھتا ہے؟ تمہارے دولتمند ظالِم ہیں؛ تمہارے باشِندے جھُوٹ بولتے ہیں۔ اُن کی زبانیں دغابازی کی باتیں کرتی ہیں۔ (میکاہؔ 6:10-12)
یِسوعؔ کے شاگردوں میں سے ایک، یہُوداہؔ اِسکریوتی، جِس نے آپ کو بعد میں پکڑوایاتھا، شکایت کرنے لگا، ”یہ عِطر اگر فروخت کیا جاتا تو تین سَو دینار وصول ہوتے جو غریبوں میں تقسیم کیٔے جا سکتے تھے۔“ اُس نے یہ اِس لیٔے نہیں کہاتھا کہ اُسے غریبوں کا خیال تھا بَلکہ اِس لیٔے کہ وہ چور تھا؛ اَور چونکہ اُس کے پاس پیسوں کی تھیلی رہتی تھی، جِس میں لوگ رقم ڈالتے تھے۔ وہ اُس میں سے اَپنے اِستعمال کے لیٔے کُچھ نہ کُچھ نکال لیا کرتا تھا۔ (یُوحنّا 12:4-6)
وہ پھر چِلّانے لگے، ”نہیں، اِسے نہیں، ہمارے لیٔے بَراَبّؔا کو رِہا کر دیجئے!“ جَب کہ بَراَبّؔا ایک باغی تھا۔ (یُوحنّا 18:40)
حننیاہؔ نامی ایک آدمی اَور اُس کی بیوی سفِیرؔہ نے اَپنی جائداد کا کچھ حِصّہ فروخت کیا۔ اُس نے قیمت میں سے کچھ اَپنے پاس رکھ لیا، جِس کا اُس کی بیوی کو علم تھا اَور باقی کے حِصّہ کی رقم لاکر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔ تَب پطرس نے اُس سے کہا، ”اَے حننیاہؔ، شیطان نے تیرے دِل میں یہ بات کیسے ڈال دی کہ تُو پاک رُوح سے جھُوٹ بولے اَور زمین کی قیمت میں سے کچھ رکھ لے؟ کیا فروخت کیٔے جانے سے قبل زمین تیری نہ تھی؟ لیکن بِک جانے کے بعد تیرے اِختیار میں نہ رہی؟ تُجھے دِل میں اَیسا سوچنے پر کِس نے مجبُور کر دیا؟ تُونے اِنسان سے نہیں بَلکہ خُدا سے جھُوٹ بولا ہے۔“ حننیاہؔ یہ باتیں سُنتے ہی، گِر پڑا اَور اُس کا دَم نکل گیا۔ اَور جِن لوگوں نے یہ سُنا اُن پر بڑا خوف طاری ہو گیا۔ تَب کچھ جَوان مَرد آئے اَور اُنہُوں نے اُس کی لاش کو کفن میں لپیٹا اَور باہر لے جا کر اُس کو دفن کر دیا۔ تقریباً تین گھنٹے بعد اُس کی بیوی وہاں آئی۔ وہ اِس ماجرے سے بے خبر تھی۔ پطرس نے اُس سے پُوچھا، ”مُجھے بتا، کیا زمین کی اِتنی ہی قیمت مِلی تھی؟“ اُس نے کہا، ”ہاں، کُل قیمت اِتنی ہی تھی۔“ پطرس نے اُس سے فرمایا، ”خُداوؔند کی پاک رُوح کو آزمانے کے لیٔے تُم کِس طرح راضی ہو گئے؟ سُنو! جِن لوگوں نے تیرے خَاوند کو دفن کیا اُن کے قدم دروازے تک پہُنچ چُکے ہیں، اَور وہ تُجھے بھی باہر لے جایٔیں گے۔“ وہ اُسی وقت پطرس کے قدموں میں گِر پڑی اَور اُس کا دَم نکل گیا۔ جَب جَوان مَرد اَندر آئے تو اُسے مُردہ پا کر باہر اُٹھالے گیٔے اَور اُسے اُس کے شوہر کے پہلوُ میں دفن کر دیا۔ (اعمال 5:1-10)
اُن کے نبیوں میں سے ایک خُود کریتےؔ کے نبی نے تو یہاں تک کہہ دیا: ”کریتی لوگ ہمیشہ جھُوٹے، مُوذی درندے، کاہل اَور پیٹو ہوتے ہیں۔“ (طِطُس 1:12)
اَور باقی آدمیوں نے جو اِن آفتوں سے نہ مَرے تھے، اَپنے ہاتھوں کے کاموں سے تَوبہ نہ کی، اُنہُوں نے اُن شَیاطِین اَور بُتوں کی جو سونے، چاندی، پیتل، پتّھر اَور لکڑی کی بنی ہُوئی تھیں، اُن کی پرستش کرنے سے باز نہیں آئے جو نہ تو دیکھ سکتی ہیں نہ سُن سکتی ہیں اَور نہ چل پھر سکتی ہیں۔ اَورجو قتل، جادُوگری، جنسی بدفعلی اَور چوری اُنہُوں نے کی تھی اُن کاموں سے تَوبہ نہ کی۔ (مُکاشفہ 9:20-21)

بددیانتی کو مثال کے طور پر استعمال کرنے والی تمثیل

پھر یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا: ”کسی اَمیر آدمی کا ایک مُنشی تھا۔ اُس کے لوگوں نے اُس کے مالک سے شکایت کی، کہ وہ تیرا مال غبن کر رہاہے۔ اِس لیٔے مالک نے اُسے اَندر بُلایا اَور کہا، ’یہ کیا بات ہے جو مَیں تمہارے بارے میں سُن رہا ہُوں؟ سارا حِساب کِتاب مُجھے دے، کیونکہ اَب سے تو میرا مُنشی نہیں رہے گا۔‘ ”مُنشی نے دِل میں سوچا، ’اَب مَیں کیا کروں؟ میرا مالک مُجھے کام سے نکال رہاہے۔ مُجھ میں مٹّی کھودنے کی طاقت تو نہیں ہے، اَور شرم کے مارے بھیک بھی نہیں مانگ سَکتا۔ میں جانتا ہُوں کہ مُجھے کیا کرنا ہوگا، کہ برطرف کیٔے جانے کے بعد بھی لوگ مُجھے اَپنے گھروں میں خُوشی سے قبُول کریں۔‘ ”پس اُس نے اَپنے مالک کے ایک ایک قرضدار کو طلب کیا، پہلے سے پُوچھا، ’تُجھ پر میرے مالک کی کتنی رقم باقی ہے؟‘ ” ’تین ہزار لیٹر زَیتُون کے تیل کی قیمت،‘ اُس نے جَواب دیا۔ ”مُنشی نے اُس سے کہا، ’یہ رہے تیرے کاغذات، بیٹھ کر جلدی سے، پندرہ سَو لیٹر بنادے۔‘ ”پھر دُوسرے سے پُوچھا، ’تُجھ پر کِتنا باقی ہے؟‘ ” ’تیس ٹن گیہُوں کے دام،‘ اُس نے جَواب دیا۔ ”اُس نے کہا، ’یہ رہے تیرے کاغذات، اَور اِسے چوبیس ٹن لِکھ دے۔‘ ”مالک نے اُس چالاک مُنشی کی تعریف کی، اِس لیٔے کہ اُس نے بڑی عیّاری سے کام لیا تھا کیونکہ اِس دُنیا کے فرزند دُنیا والوں کے ساتھ سودے بازی میں نُور کے فرزندوں سے زِیادہ عیّار ہیں۔ (لُوقا 16:1-8)

مذہب کی آڑ میں بددیانتی

” ’کیا تُم چوری، خُون، زنا کرکے اَور جھُوٹی قَسم کھا کر، معبُود بَعل کے لیٔے بخُور جَلا کر اَور اُن غَیر معبُودوں کی پیروی کرتے ہو جنہیں تُم نہیں جانتے تھے۔ اَور پھر آکر اِس گھر میں جو میرے نام سے کہلاتا ہے، میرے حُضُور میں کھڑے ہوکر یہ کہو، ”اَب ہم محفوظ ہیں،“ کیا یہ سَب مکرُوہ کام کرنے کے لیٔے تُم محفوظ ہو؟ کیا یہ گھر جو میرے نام سے کہلاتا ہے تمہاری نظر میں ڈاکوؤں کا اڈّا بَن گیا ہے؟ یَاہوِہ فرماتے ہیں، دیکھو، مَیں یہ سَب دیکھ رہا ہُوں! (یرمیاہؔ 7:9-11)
اَور یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور آپ وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ آپ نے پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کے تختے اَور کبُوتر فروشوں کی چوکیاں اُلٹ دیں۔ اَور یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”لِکھّا ہے، ’میرا گھر دعا کا گھر کہلائے گا،‘ مگر تُم نے اُسے ’ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“ (متّی 21:12-13)
”اَے شَریعت کے عالِموں اَور فریسیوں! اَے ریاکاروں! تُم پر افسوس، کیونکہ تُم پیالے اَور رکابی کو باہر سے تو صَاف کرتے ہو مگر اَندر سے وہ لُوٹ اَور ناراستی سے بھری پڑی ہے۔ (متّی 23:25)
جَب وہ یروشلیمؔ پہُنچے تو، یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور آپ وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ آپ نے پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کے تختے اَور کبُوتر فروشوں کی چوکیاں اُلٹ دیں، اَور کسی کو کویٔی سامان لے کر بیت المُقدّس کے احاطہ میں سے گزرنے نہ دیا۔ پھر یِسوعؔ نے تعلیم دیتے ہویٔے، فرمایا، ”کیا کِتاب مُقدّس میں یہ نہیں لِکھّا: ’میرا گھر سَب قوموں کے لیٔے دعا کا گھر کہلائے گا‘؟ مگر تُم نے اُسے ’ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“ (مرقُس 11:15-17)
اِس پر خُداوؔند نے اُس سے کہا، ”اَے فریسیوں! تُم پیالے اَور رکابی کو باہر سے تو صَاف کرتے ہو، مگر تمہارے اَندر لُوٹ اَور بدی بھری پڑی ہے۔ (لُوقا 11:39)
تَب یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”لِکھّا ہے، ’میرا گھر دعا کا گھر‘ کہلائے گا؛ مگر تُم نے ’اُسے ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“ (لُوقا 19:45-46)
کیونکہ بہت سے لوگ خاص طور پر وہ جو ختنہ کرانے پر زور دیتے ہیں، بڑے سَرکش، فُضول باتیں کہنے والے اَور دغاباز ہیں۔ اَیسے لوگوں کا مُنہ بند کرنا ضروُری ہے کیونکہ یہ لوگ ناجائز نفع کی خاطِر غلط باتیں سِکھا کرجو اُنہیں نہیں سِکھانا چاہئے، گھر کے گھر تباہ کر دیتے ہیں۔ (طِطُس 1:10-11)

خدا مکمل دیانتداری کا تقاضا کرتا ہے

خداوند سچائی ہے، شیطان جھوٹا ہے

خداوند سچائی ہے

اَور کلام مُجسّم ہُوا اَور ہمارے درمیان فضل اَور سچّائی سے معموُر ہوکر خیمہ زن ہُوا، اَور ہم نے اُن کا اَیسا جلال دیکھا، جو صِرف آسمانی باپ کے اِکلوتے بیٹے کا ہوتاہے۔ (یُوحنّا 1:14)
یِسوعؔ نے جَواب میں فرمایا، ”راہ اَور حق اَور زندگی میں ہی ہُوں۔ میرے وسیلہ کے بغیر کویٔی باپ کے پاس نہیں آتا۔ (یُوحنّا 14:6)
لیکن جَب وہ، رُوح حق، آئے گا، تو وہ ساری سچّائی کی طرف تمہاری رہنمائی کرےگا۔ وہ اَپنی طرف سے کُچھ نہ کہے گا؛ بَلکہ تُمہیں صِرف وُہی بتائے گا جو وہ سُنے گا، اَور مُستقبِل میں پیش آنے والی باتوں کی خبر دے گا۔ (یُوحنّا 16:13)
اَور گواہی دینے والے تین ہیں: (1 یُوحنّا 5:7)

شیطان جھوٹا ہے

تُم اَپنے باپ یعنی اِبلیس کے ہو، اَور اَپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خُون کرتا آیا ہے، اَور کبھی سچّائی پر قائِم نہیں رہا کیونکہ اُس میں نام کو بھی سچّائی نہیں۔ جَب وہ جھُوٹ بولتا ہے تو، اَپنی ہی سِی کہتاہے، کیونکہ وہ جھُوٹا ہے اَور جھُوٹ کا باپ ہے۔ (یُوحنّا 8:44)

پرانے عہد نامے کی شریعت کے تحت

تُم چوری نہ کرنا۔ (خُروج 20:15)
” ’تُم چوری نہ کرنا۔ ” ’تُم جھُوٹ مت بولنا۔ ” ’اَور نہ ایک دُوسرے کو دھوکا دینا۔ ” ’تُم میرا نام لے کر جھُوٹی قَسم نہ کھانا جِس سے تمہارے خُدا کے نام کی بےحُرمتی ہو۔ کیونکہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔ ” ’تُم اَپنے پڑوسی کو مت ٹھگنا اَور نہ ہی اُسے لُوٹنا۔ ” ’اَور نہ کسی مزدُور کی مزدُوری اَپنے پاس رات سے صُبح تک روکے رکھنا۔ (اَحبار 19:11-13)
” ’تُم اِنصاف کرنے، پیمائش کرنے، اَور وزن کرنے میں، ناقص پیمانوں کو اِستعمال میں نہ لانا۔ اَور تمہارے ترازو، باٹ، کِلو، اَور لیٹر پُورے صحیح ہُوں۔ میں ہی تمہارا یَاہوِہ خُدا ہُوں جو تُمہیں مِصر سے نکال کر لایا ہُوں۔ (اَحبار 19:35-36)
” ’اگر تُم اَپنے پڑوسی کو زمین بیچو یا اُس سے خریدو تو، تُم ایک دُوسرے سے دھوکے سے کام نہ لینا۔ اَور جَب تُم اَپنے پڑوسی سے زمین خریدو، تو اُس کی قیمت پچھلے یوویلؔ کے بعد کے سالوں کے شُمار کے مُطابق ہونا ضروُری ہے، اَور بیچنے والا بھی اِس کی قیمت اگلے یوویلؔ کے بچے ہویٔے فصلوں کے برسوں کے شُمار کے مُطابق بیچے۔ اَور جَب سالوں کی تعداد زِیادہ ہو تو دام بڑھا دینا اَور جَب کم ہو تو قیمت کو گھٹا دینا کیونکہ جو وہ تُم کو بیچ رہاہے وہ اُن سالوں کی فصلوں کی تعداد ہے۔ لہٰذا تُم ایک دُوسرے کو دھوکا مت دینا بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرنا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔ (اَحبار 25:14-17)
تُم چوری نہ کرنا۔ (اِستِثنا 5:19)
تُم اُس مُلک میں جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے قبضہ میں دے رہے ہیں، اَپنے ہمسایہ کی حدّ کا وہ نِشان نہ ہٹانا جسے تمہارے باپ دادوں نے مِیراث کے حِصّہ میں ٹھہرایا ہو۔ (اِستِثنا 19:14)
تُم اَپنی تھیلی میں ایک ہی طرح کے اَیسے دو باٹ نہ رکھنا کہ ایک بھاری اَور دُوسرا وزن میں ہلکا ہو۔ تُم اَپنے گھر میں ایک ہی طرح کے دو پیمانے نہ رکھنا کہ ایک کم ناپ کا ہو اَور دُوسرا زِیادہ کا۔ تمہارے وزن کرنے کے باٹ اَور پیمانے صحیح اَور دیانتدارانہ ہوں تاکہ اُس مُلک میں جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، تمہاری عمر دراز ہو۔ کیونکہ اَیسے لوگ جو فریب سے کام لیتے ہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا کی نظر میں مکرُوہ ہیں۔ (اِستِثنا 25:13-16)

بائبل کے عمومی اصول کے طور پر

وہ اَپنی زبان کو بدی سے اَور اَپنے لبوں کو جھُوٹ بولنے سے دُور رکھے۔ (زبُور 34:13)
یقیناً، آپ باطِن کی سچّائی کو پسند فرماتے ہیں؛ اَور مُجھے میرے باطِن ہی میں حِکمت سِکھاتے ہیں۔ (زبُور 51:6)
ظُلم پر توکّل نہ کرو اَور لُوٹے ہُوئے مال پر مت پھُولو؛ خواہ تمہاری دولت بڑھ بھی جائے، اُس پر اَپنا دِل نہ لگاؤ۔ (زبُور 62:10)
مَحَبّت اَور سچّائی تُم سے جُدا نہ ہونے پائیں؛ بَلکہ تُم اُنہیں اَپنے گلے کا ہار بنائے رکھنا، اَور اَپنے دِل کی تختی پر لِکھ لینا۔ (امثال 3:3)
اَپنے مُنہ کو کَج گوئی سے دُور رکھنا؛ اَور بدگوئی کو اَپنے لبوں کے پاس تک نہ آنے دینا۔ (امثال 4:24)
بدمعاش اَور بدکار آدمی، جِس کا مُنہ بدگوئی سے بھرا ہُواہے، (امثال 6:12)
چھ باتوں سے یَاہوِہ کو نفرت ہے، بَلکہ سات ہیں جِن سے اُنہیں کراہیّت ہے: جھُوٹا گواہ جو دروغ گوئی سے کام لیتا ہے اَور وہ آدمی جو بھائیوں میں نفاق ڈالتا ہے۔ (امثال 6:16, 19)
دغا کے ترازو سے یَاہوِہ کو نفرت ہے، لیکن صحیح وزن والے باٹ اُس کی خُوشی کا باعث ہیں۔ (امثال 11:1)
جھُوٹے لبوں سے یَاہوِہ کو نفرت ہے، لیکن راست گو سے وہ خُوش ہوتاہے۔ (امثال 12:22)
صادق جھُوٹ سے نفرت کرتے ہیں، لیکن بدکار شرم اَور رُسوائی لاتا ہے۔ (امثال 13:5)
سچّا گواہ دھوکا نہیں دیتا، لیکن جھُوٹا گواہ صرف جھُوٹ ہی اُگلتا ہے۔ (امثال 14:5)
سچّا گواہ کسی کی جانیں بچاتا ہے، لیکن جھُوٹا گواہ دغابازی کرتا ہے۔ (امثال 14:25)
خُوش گفتار ہونٹ احمق پر نہیں سجتے۔ تو دروغ گو لب حاکم کو کیا زیب دیں گے! (امثال 17:7)
صحیح ترازو اَور پلڑے یَاہوِہ کی طرف سے ہوتے ہیں؛ تھیلی کے سَب باٹ اُسی کے بنائے ہُوئے ہیں۔ (امثال 16:11)
دو طرح کے پیمانے اَور دو طرح کے پیمانے۔ یَاہوِہ کو اُن دونوں سے نفرت ہے۔ (امثال 20:10)
غلط اوزان والے باٹ یَاہوِہ کے نزدیک مکرُوہ ہیں، اَور دغا کے ترازو اُسے نا پسند ہیں۔ (امثال 20:23)
مسکینوں کو اُن کے مسکین ہونے کے باعث مت لُوٹو اَور نہ عدالت میں کسی مُحتاج کو دبانے کی کوشش کرو۔ کیونکہ یَاہوِہ اُن کا مُعاملہ اَپنے ہاتھ میں لیں گے اَورجو اُنہیں لُوٹتے ہیں، اُنہیں وہ لُوٹیں گے۔ (امثال 22:22-23)
تُم اُس قدیم حَد کا پتّھر نہ ہٹانا جسے تمہارے آباؤاَجداد نے قائِم کیا تھا۔ (امثال 22:28)
قدیم حَد کے پتّھر کو نہ ہٹانا، نہ یتیموں کے کھیتوں پر قبضہ کرنا۔ (امثال 23:10)
سچّائی کو خرید لو اَور اُسے فروخت نہ کرنا؛ اَور حِکمت، تربّیت اَور فہم کو حاصل کرنا۔ (امثال 23:23)
جو اَپنے باپ یا اَپنی ماں کو لُوٹتا ہے اَور کہتاہے، ”اِس میں کچھ گُناہ نہیں ہے،“ وہ غارت گِر کا ساتھی ہے۔ (امثال 28:24)
خُداتعالیٰ کے کسی کی حق تلفی کرنا، اَور کسی شخص کو اِنصاف سے محروم رکھنا۔ کیا خُداوؔند یہ سَب کچھ نہیں دیکھتے؟ (نوحہ 3:35-36)
پھر لازِم ہے کہ تُم اِن باتوں پر عَمل کرو۔ تُم میں سے ہر ایک اَپنے ہمسائے سے سچ بولو، اَور اَپنی عدالتوں میں سچّے اَور منصفانہ فیصلے کیا کرو تاکہ سلامتی ہو۔ یَاہوِہ فرماتے ہیں، تُم میں سے کوئی اَپنے پڑوسی کے خِلاف بُرا منصُوبہ نہ باندھو، اَور جھُوٹی قَسم کو عزیز نہ رکھو۔ مَیں اِن سَب باتوں سے نفرت رکھتا ہُوں۔ (زکریاؔہ 8:16-17)
اَور محصُول لینے والے بھی پاک غُسل لینے آئے اَور پُوچھنے لگے، ”اَے اُستاد محترم،“ ہم کیا کریں؟ اَور آپ نے اُن سے کہا، ”جِتنا لینے کا تُمہیں اِختیار دیا گیا ہے اُس سے زِیادہ نہ لو۔“ تَب بعض سپاہیوں نے بھی پُوچھا، ”ہم کیا کریں؟“ اَور حضرت یُوحنّا نے اُن سے کہا، ”کسی پر جھُوٹا اِلزام مت لگاؤ اَور نہ ڈرا دھمکا کر کسی سے کُچھ لو۔ اَپنی تنخواہ سے مطمئن رہو۔“ (لُوقا 3:12-14)
تُم جَب اَوروں کو سِکھاتے ہو تُم اَپنے آپ کو کیوں نہیں سِکھاتے؟ تُم جو تبلیغ کرتے ہو کہ چوری نہ کرنا، تُم خُود کیوں چوری کرتے ہو؟ تُم جو کہتے ہو کہ زنا مت کرنا، خُود کیوں زنا کرتے ہو؟ تُم جو بُتوں سے نفرت رکھتے ہو، خُود کیوں بُت خانوں کو لُوٹتے ہو؟ (رُومیوں 2:21-22)
دراصل تُم میں بڑا نُقص یہ ہے کہ تُم آپَس کی مُقدّمہ بازی میں مشغُول ہو۔ تُم ظُلم اُٹھانا کیوں نہیں بہتر جانتے؟ اَپنا نُقصان کیوں نہیں قبُول کرتے؟ اِس کے برعکس تُم ظُلم کرتے ہو، نُقصان پہُنچاتے ہو اَور وہ بھی اَپنے ہی مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کو۔ کیا تُم نہیں جانتے کہ بدکار خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہ ہوں گے؟ دھوکے میں نہ رہو! نہ حرام کار نہ بُت پرست، نہ زناکار، نہ لَونڈے باز نہ چور، نہ لالچی، نہ شرابی، نہ گالی بکنے والے، نہ ظالِم خُدا کی بادشاہی کے وارِث ہوں گے۔ (1 کُرِنتھِیوں 6:7-10)
پس جھُوٹ بولنا چھوڑکر ہر شخص اَپنے پڑوسی سے سچ بولے، کیونکہ ہم سَب ایک ہی بَدن کے اَعضا ہیں۔ (اِفِسیوں 4:25)
اِس مقصد کے لیٔے تُم سچّائی سے اَپنی کمر کِس لو، خُدا کی راستبازی کا بکتر پہن لو۔ (اِفِسیوں 6:14)
ایک دُوسرے سے جھُوٹ مت بولو، کیونکہ تُم نے اَپنی پُرانی فطرت کو اُس کی بُری عادتوں سمیت اُتار پھینکا ہے (کلُسّیِوں 3:9)
ہر طرح کی بدی سے دُور رہو۔ (1 تھِسّلُنیِکیوں 5:22)
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ شَریعت راستبازوں کے لیٔے نہیں بَلکہ بےشَرع لوگوں، سَرکشوں، بےدینوں، گُنہگاروں، ناپاک لوگوں، ناراستوں اَور ماں باپ کے قاتلوں اَور خُونیوں، اَور زناکاروں، لَونڈے بازوں، غُلام فروشوں، جھُوٹ بولنے والے، جھُوٹی قَسمیں کھانے والے اَور اَیسے تمام کام ہیں جو اُس صحیح تعلیم کے خِلاف میں ہیں، (1 تِیمُتھِیُس 1:9-10)
غُلاموں کو سِکھا کہ اَپنے مالکوں کے سَب تابع رہیں۔ اُن کے ہر حُکم کی تعمیل کریں اَور کبھی اُلٹ کر جَواب نہ دیں، خیانت نہ کریں بَلکہ پُوری وفاداری سے کام کریں تاکہ اُن کے سارے کام ہمارے مُنجّی خُدا کی تعلیم کی زینت کا باعث ہو سکیں۔ (طِطُس 2:9-10)
بَلکہ جِس طرح تمہارا بُلانے والا خُدا پاک ہے اُسی طرح تُم بھی اَپنے سارے چال چلن میں پاک بنو۔ کیونکہ لِکھّا ہے، ”پاک بنو کیونکہ مَیں پاک ہُوں۔“ (1 پطرس 1:15-16)
لیکن اَیسا نہ ہو کہ تُم میں سے کویٔی شخص کسی کا قتل، چوری، بدکاری یا دُوسروں کے کام میں دخل دینے کی وجہ سے دُکھ اُٹھائے۔ (1 پطرس 4:15)

راہنماؤں سے مطلوب

حکومت

تُم اُن لوگوں میں سے حق پرست اِنسان چُن لو اَیسا اِنسان جو خُدا سے ڈرنے والا اَور مُعتبر ہُوں اَور رشوت کے دُشمن ہُوں اَور اُنہیں ہزار ہزار سَو سَو پچاس پچاس اَور دس دس افراد پر بطور حاکم مُقرّر کر دو تاکہ وہ ہر وقت لوگوں کا اِنصاف کریں لیکن ہر بڑا مُقدّمہ تمہارے پاس لائیں اَور صِرف آسان مُقدّموں کا فیصلہ وہ خُود کریں۔ اِس طرح تمہارا بوجھ ہلکا ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی اِس بوجھ کو اُٹھانے مَیں تمہارے شریکِ کار ہوں گے۔ (خُروج 18:21-22)
شفقت اَور سچّائی بادشاہ کی حِفاظت کرتی ہیں؛ اَور شفقت ہی سے اُس کا تخت قائِم رہتاہے۔ (امثال 20:28)
اگر حاکم فہم نہ رکھتا ہو تو وہ بڑا ظُلم کرتا ہے، لیکن جسے ناجائز منافع سے نفرت ہوتی ہے، اُس کی عمر دراز ہوتی ہے۔ (امثال 28:16)
” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اَے اِسرائیل کے اُمرا! تُم حَد سے بڑھ گیٔے ہو۔ تُم تشدّد اَور سِتم چھوڑ دو اَور وُہی کرو جو جائز اَور روا ہے۔ میرے لوگوں سے اُن کی جائداد نہ چھینو۔ یہ یَاہوِہ قادر کا فرمان ہے۔ تُم صحیح ترازو، صحیح ایفہ اَور صحیح بَت اِستعمال کرو۔ (حزقی ایل 45:9-10)

کلیسیا

اِسی طرح جماعت کے خادِموں کو چاہیے کہ وہ سنجِیدہ مِزاج ہوں، دو رُخے، شرابی اَور ناجائز کمائی کے لالچی نہ ہوں۔ (1 تِیمُتھِیُس 3:8)
کیونکہ نگہبان کو خُدا کے گھر کا مُختار ہونے کی وجہ سے ضروُر بے اِلزام ہونا چاہئے۔ نہ تو وہ سخت دِل، گَرم مِزاج، شرابی جھگڑالو، یا ناجائز نفع کا لالچی ہو۔ (طِطُس 1:7)
تُم میں جو جماعت کے بُزرگ ہیں، مَیں اُن کی مانند ایک ہم بُزرگ اَور المسیح کے دُکھوں کا چشم دید گواہ اَور اُس کے ظاہر ہونے والے جلال میں شریک ہوکر اُن سے یہ درخواست کرتا ہُوں۔ تُم خُدا کے اُس گلّہ کی گلّہ بانی کرو جو تمہارے سُپرد کیا گیا ہے، لاچاری سے نہیں بَلکہ خُدا کی مرضی اَور اَپنی خُوشی سے نگہبانی کرو؛ اِس خدمت کو ناجائز نفع کے مقصد سے نہیں بَلکہ دِلی شوق سے اَنجام دو۔ (1 پطرس 5:1-2)

دینے میں دیانتداری لازم ہے

اَور تُم یہ بھی کہتے ہو کہ، یہ کیسی زحمت ہے، اَور اُس پر حقارت سے ناک سکوڑتے ہو۔ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”جَب تُم زخمی یا عیب دار یا بیمار جانور قُربانی کرنے لاتے ہو تو کیا میں اَیسی قُربانی تمہارے ہاتھ سے قبُول کروں؟“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”لعنت ہے اُس دغاباز پر جِس کے ریوڑ میں قابل قبُول نر جانور مَوجُود ہے اَور وہ اُسے دینے کے لیٔے قَسم کھاتا ہے مگر خُداوؔند کو عیب دار جانور نذر کرتا ہے۔ کیونکہ مَیں شاہِ عظیم ہُوں،“ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے، اِس لئے تمام قوموں میں لوگوں کے درمیان میرے نام کا خوف مانا جانا چاہئے۔ (ملاکیؔ 1:13-14)

ٹھیک طرح سے نہ دینا لوٹ مار سمجھا گیا

”کیا کویٔی فانی شخص یَاہوِہ کو لُوٹ سکتا ہے؟ پھر بھی تُم مُجھے لُٹتے ہو۔ ”لیکن تُم پُوچھتے ہو، ’ہم کس بات میں آپ کو لُوٹتے ہیں؟‘ ”تُم دہ یکیوں اَور نذرانہ کے مُعاملے میں لُٹتے ہو۔ پس تُم ملعُون ہو، تمہاری ساری قوم ملعُون ہے۔ کیونکہ تُم مُجھے لُوٹ رہے ہو۔ (ملاکیؔ 3:8-9)

دیانتداری دولت سے زیادہ قیمتی ہے

ایک مُفلس آدمی جو سیدھی راہ چلتا ہے، اُس احمق سے بہتر ہے جو ہمیشہ جھُوٹ بولتا ہے۔ (امثال 19:1)
آدمی کو اِحسَان کی تمنّا رہتی ہے؛ مُفلس ہونا فریبی ہونے سے بہتر ہوتاہے۔ (امثال 19:22)
جَب صادق اِنسان فتحیاب ہوتے ہیں، تو بڑی خُوشی منائی جاتی ہے؛ لیکن جَب بدکار برسرِاقتدار آتے ہیں تو خِلقت روپوش ہو جاتی ہے۔ (امثال 28:12)

دیانتدار لوگوں کی مثالیں

تَب مَوشہ بےحد غُصّہ ہُوا اَور یَاہوِہ سے کہنے لگے، ”اُن کا ہدیہ قبُول نہ کرنا۔ مَیں نے اُن سے ایک گدھا بھی نہیں لیا نہ اُن میں سے کسی کو کویٔی نُقصان پہُنچایا ہے۔“ (گِنتی 16:15)
میں یہاں تمہارے سامنے کھڑا ہُوں۔ اِس لئے تُم یَاہوِہ اَور اُس کے ممسوح کے آگے میرے مُنہ پر بتاؤ کہ مَیں نے کسی کا بَیل یا کسی کا گدھا لیا ہے؟ مَیں نے کِس کو رشوت لے کر دھوکا دیا؟ کِس پر ظُلم کیا؟ اَپنی آنکھیں بند کرنے کے لیٔے کِس کے ہاتھ سے مَیں نے رشوت لی؟ اگر مَیں نے کویٔی اَیسی بات کی ہے تو بتاؤ میں اُس کی تلافی کروں گا۔“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”تُم نے نہ تو ہم سے دغابازی کی اَور نہ ہی ہم پر ظُلم کیا۔ نہ ہی تُم نے کسی کے ہاتھ سے ناحق کویٔی چیز لی۔“ تَب شموایلؔ نے اُن سے کہا، ”یَاہوِہ تمہارا گواہ ہیں اَور شاؤل اُس کا ممسوح بھی آج کے دِن گواہ ہے کہ میرے پاس تمہارا کچھ نہیں نِکلا۔“ اُنہُوں نے کہا، ”یَاہوِہ گواہ ہیں۔“ (1 شموایلؔ 12:3-5)
”اگر مَیں بطالت کی راہ پر چلا ہُوں، یا میرا پاؤں دغا کی طرف عجلت سے بڑھا ہو، تَب جو مَیں نے بویا اُسے دُوسرے کھایٔیں، اَور میری فصلیں اُکھاڑ دی جایٔیں۔ (ایُّوب 31:5, 8)
اِس پر وُزراء اَور ناظِم، دانی ایل کے خِلاف حُکومت کی کارکردگی میں خامیاں ڈھونڈنے لگے لیکن وہ اُس میں کامیاب نہ ہُوئے۔ اُنہُوں نے اُس میں کویٔی بُرائی نہ پائی کیونکہ وہ دیانتدار تھا، اَپنے چال چلن میں لاپروا نہ تھا۔ (دانی ایل 6:4)
میرے خُدا نے اَپنے فرشتہ کو بھیجا جِس نے شیروں کے مُنہ بند کر دئیے۔ اَور اُنہُوں نے مُجھے کویٔی ضرر نہیں پہُنچایا کیونکہ مَیں اُس کی نگاہ میں بے قُصُور ٹھہرا تھا۔ اَور اَے بادشاہ نہ مَیں نے آپ کے حُضُور میں کبھی کویٔی خطا کی۔“ (دانی ایل 6:22)
جو لوگ اِسرائیل میں باقی رہ جایٔیں گے وہ غلط نہ کریں گے؛ وہ جھُوٹ نہ بولیں گے، وہ اَپنی فریبی باتوں سے لوگوں کو دھوکا نہیں دیں گے؛ وہ کھایٔیں گے اَور اِستراحت فرمائیں گے اَور اُنہیں ڈرانے والا کویٔی نہ ہوگا۔ (صفنیاہؔ 3:13)

لوگوں کی دیانتداری آزمانے کی مثال

ہم سَب ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں۔ آپ کے خادِم شریف لوگ ہیں جاسُوس نہیں ہیں۔“ تیسرے دِن یُوسیفؔ نے اُن سے کہا، ”ایک کام کرو تاکہ زندہ رہو؛ کیونکہ مَیں خُدا سے ڈرنے والا آدمی ہُوں۔ اگر تُم شریف ہو تو تُم سَب بھائیوں میں سے ایک یہاں قَیدخانہ میں بند رہے اَور باقی سَب اَپنے خاندان کے لیٔے جو فاقوں سے ہیں اناج لے جایٔیں۔ لیکن تُم اَپنے چُھوٹے بھایٔی کو میرے پاس ضروُر لے آنا تاکہ تمہاری باتوں کی تصدیق ہو سکے اَور تُم ہلاکت سے بچ جاؤ۔“ چنانچہ اُنہُوں نے وَیسا ہی کیا۔ (پیدائش 42:11, 18-20)
لیکن ہم نے اُس سے کہا، ’ہم شریف لوگ ہیں ہم جاسُوس نہیں ہیں۔ ہم بَارہ بھایٔی ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں۔ ایک مَر چُکاہے اَور سَب سے چھوٹا اِس وقت مُلکِ کنعانؔ میں ہمارے باپ کے پاس ہے۔‘ ”تَب اُس شخص نے جو اُس مُلک کا حاکم ہے ہم سے کہا، ’ابھی مَعلُوم ہو جائے گا کہ تُم شریف ہو یا نہیں۔ اَپنے بھائیوں میں سے کسی ایک کو یہاں میرے پاس چھوڑ دو؛ اَور اَپنے فاقہ کش خاندان کے لیٔے اناج لے کر چلے جاؤ۔ لیکن اَپنے چُھوٹے بھایٔی کو ساتھ لے کر میرے پاس آؤ تاکہ مُجھے مَعلُوم ہو کہ تُم جاسُوس نہیں ہو بَلکہ شریف آدمی ہو۔ تَب میں تمہارا بھایٔی تُمہیں لَوٹا دُوں گا اَور تُم اِس مُلک میں آزادی سے گھُوم پھر سکتے ہو۔‘ “ (پیدائش 42:31-34)

خدا ترس لوگ بددیانتی سے نفرت کرتے ہیں

صادق جھُوٹ سے نفرت کرتے ہیں، لیکن بدکار شرم اَور رُسوائی لاتا ہے۔ (امثال 13:5)

خدا مکمل دیانتداری کا تقاضا کیوں کرتا ہے؟

ہم بددیانت رہ کر خدا سے محبت نہیں کر سکتے

راست یَاہوِہ سے ڈرتا ہے، لیکن جِس کی راہیں ٹیڑھی ہیں وہ اُس کی حقارت کرتا ہے۔ (امثال 14:2)

ہم بددیانت رہ کر اپنے پڑوسی سے محبت نہیں کر سکتے

جھُوٹی زبان اَپنے زخمیوں سے نفرت کرتی ہے، اَور خُوشامدی مُنہ بربادی لاتا ہے۔ (امثال 26:28)
مطلب یہ ہے کہ یہ سَب اَحکام، ”تُم زنا نہ کرنا، تُم خُون نہ کرنا، تُم چوری نہ کرنا، تُم لالچ نہ کرنا،“ اَور اِن کے علاوہ اَور ایک حُکم جو باقی ہے اُن سَب کا خُلاصہ اِس ایک حُکم میں پایا جاتا ہے: ”اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا۔“ مَحَبّت اَپنے پڑوسی سے بدی نہیں کرتی اِس لیٔے مَحَبّت شَریعت کی تعمیل ہے۔ (رُومیوں 13:9-10)

دیانتداری انجیل کی منادی کو ساکھ دیتی ہے

تاکہ تُم بے عیب اَور پاک ہوکر بداخلاق اَور گُمراہ لوگوں کے درمیان، ”خُدا کے بے نُقص فرزندوں کی طرح اِس جہاں میں زندگی گُزارو۔“ تاکہ اُن میں تُم آسمان کے سِتاروں کی مانند چمکو (فِلپّیوں 2:15)

دیانتداری ہماری زندگی کی راہنمائی میں مدد دیتی ہے

اَپنے مُنہ کو کَج گوئی سے دُور رکھنا؛ اَور بدگوئی کو اَپنے لبوں کے پاس تک نہ آنے دینا۔ تمہاری آنکھیں سامنے ہی دیکھیں، اَور تمہاری نگاہ آگے کی طرف جمی رہے۔ اَپنے پاؤں کے لیٔے ہموار راہیں تیّار کرو اَور اُن ہی پُختہ راہوں پر قدم بڑھاؤ۔ (امثال 4:24-26)

چھوٹی سے چھوٹی بددیانتی بھی تباہ کن ہے

”جو بہت تھوڑے میں وفاداری کا مظاہرہ کرتا ہے وہ بہت زِیادہ میں بھی وفادار رہتاہے۔ اَورجو تھوڑے میں بےایمان ہے وہ زِیادہ میں بھی بےایمان ہے۔ (لُوقا 16:10)

ہم بددیانتی کی آزمائش سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

خداوند کے فضل اور قدرت سے

میرے دِل کو اَپنے شہادتوں کی طرف پھیر دیں؛ نہ کہ خُود غرضی کی طرف۔ (زبُور 119:36)
”اَے یَاہوِہ! مَیں نے آپ سے دو چیزوں کی درخواست کی ہے؛ میرے مرنے سے پہلے، مُجھے اُن سے محروم نہ کریں: بطالت اَور دروغ گوئی کو مُجھ سے دُور رکھیں؛ مُجھے نہ مفلسی دیں اَور نہ دولت، بَلکہ مُجھے صِرف میری روز کی روٹی عطا فرمائیں۔ (امثال 30:7-8)
میرا مطلب یہ ہے، اگر تُم پاک رُوح کے کہنے پر چلوگے، تو جِسم کی بُری خواہشوں کو ہرگز پُورا نہ کروگے۔ کیونکہ جِسم پاک رُوح کے خِلاف خواہش کرتا ہے، اَور پاک رُوح جِسم کے خِلاف۔ یہ دونوں ایک دُوسرے کے مُخالف ہیں، تاکہ جو تُم چاہتے ہو وہ نہ کر سکو۔ (گلتیوں 5:16-17)

سنہری اصول پر عمل کر کے

پس جَیسا تُم چاہتے ہو کہ دُوسرے لوگ تمہارے ساتھ کریں، تُم بھی اُن کے ساتھ وَیسا ہی کرو؛ کیونکہ توریت اَور نبیوں کی تعلیمات یہی ہے۔ (متّی 7:12)
ہر ایک صِرف اَپنے مفاد کا نہیں بَلکہ دُوسروں کے مفاد کا بھی خیال رکھے۔ (فِلپّیوں 2:4)

خداوند کا صحیح خوف رکھ کر

بے لوث مَحَبّت اَور وفاداری سے گُناہ کا کفّارہ ہوتاہے؛ اَور یَاہوِہ کے خوف سے اِنسان بدی سے دُور رہتاہے۔ (امثال 16:6)

بددیانت لوگوں سے الگ رہ کر

میں دغابازوں کی صحبت میں نہیں بیٹھتا، اَور نہ ریاکاروں کے ہمراہ چلتا ہُوں؛ (زبُور 26:4)
مُبارک ہے وہ آدمی جِس کا توکّل یَاہوِہ پر ہے، وہ مغروُروں اَور اُن لوگوں کی طرف مائل نہیں ہوتا، جو جھُوٹے معبُودوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ (زبُور 40:4)
مُلک کے وفاداروں پر میری آنکھیں لگی رہیں گی، تاکہ وہ میرے ساتھ رہیں؛ جِس کی روِش بے عیب ہے وُہی میری خدمت کرےگا۔ کوئی بھی دغاباز میرے گھر میں نہ رہے گا؛ اَور کویٔی دروغ گو میرے رُوبرو کھڑا نہ ہوگا۔ (زبُور 101:6-7)
اَے میرے بیٹے! اگر گُناہ آلُودہ لوگ تُمہیں پھُسلائیں، تو تُم اُن کی باتوں میں نہ آنا۔ اگر وہ کہیں، ”ہمارے ساتھ چلو؛ آؤ ہم کسی کا خُون بہانے کے لیٔے تاک میں بیٹھیں، اَور کسی بے قُصُور اِنسان کے لیٔے ناحق گھات لگائیں؛ آؤ ہم اُنہیں قبر کی مانند زندہ، اَور پاتال کی مانند سالِم نگل جایٔیں گے؛ ہم ہر قِسم کی قیمتی اَشیا حاصل کریں گے اَور اَپنے گھروں کو لُوٹ کے مال سے بھر لیں گے؛ ہمارے ساتھ مِل جاؤ، اَور ہم سَب کی ایک ہی تھیلی ہوگی۔“ اَے میرے بیٹے! تُم اُن کے ہمراہ نہ جانا، نہ اُن کی راہ پر قدم رکھنا؛ کیونکہ اُن کے پاؤں بدی کی طرف دَوڑتے ہیں، اَور وہ خُون بہانے کے لیٔے جلدی کرتے ہیں۔ (امثال 1:10-16)
چور کا ساتھی اَپنی ہی جان کا دُشمن ہوتاہے؛ وہ قَسم کھانے کے بعد بھی گواہی دنیے کی ہمّت نہیں کرتا۔ (امثال 29:24)
مَیں نے اَپنے خط میں تُمہیں یہ لِکھّا تھا کہ حرام کار سے میل جول نہ رکھنا۔ میرا مطلب قطعی یہ نہ تھا کہ دُنیا کے لوگوں سے ناطہ توڑ لو جِس میں حرام کار، لالچی، ٹھگ اَور بُت پرست بستے ہیں۔ کیونکہ اِس صورت میں تُم کو دُنیا سے ہی ضروُر باہر جانا پڑےگا۔ اَب یہ لِکھتا ہُوں کہ اگر کویٔی بھایٔی یا بہن کہلاتا ہے اَور پھر بھی حرام کار، لالچی، بُت پرست، گالی دینے والا، شرابی یا ٹھگ ہو تو اُس سے مَحَبّت نہ رکھنا بَلکہ اَیسے کے ساتھ کھانا تک نہ کھانا۔ (1 کُرِنتھِیوں 5:9-11)
دھوکے میں نہ رہو، ”بُرے لوگوں کی صُحبت میں رہنے سے اَچھّی عادتیں بگڑ جاتی ہیں۔“ (1 کُرِنتھِیوں 15:33)

دے کر

چوری کرنے والا آئندہ چوری نہ کرے، بَلکہ کویٔی اَچھّا پیشہ اِختیار کرکے اَپنے ہاتھوں سے محنت کرے، تاکہ مُحتاجوں کی مدد کرنے کے لیٔے اُس کے پاس کچھ ہو۔ (اِفِسیوں 4:28)

جواب دہی کا نظام قائم کر کے

لابنؔ نے پُوچھا، ”تمہاری اُجرت کیا ہوگی؟“ یعقوب نے جَواب دیا، ”مُجھے کچھ نہیں چاہیے لیکن اگر آپ میری خاطِر صِرف ایک کام کر دیں تو میں آپ کی بھیڑ بکریاں، چَراتا رہُوں گا اَور آپ کے گلّوں کی نگہبانی بھی کروں گا: مُجھے آج اِجازت دیجئے کہ مَیں بھیڑ بکریوں کے سبھی گلّوں میں جا کر اُن میں سے چتلی بھیڑیں کالے رنگ کے برّے، اَور چتلی بکریاں الگ کرلُوں وُہی میری اُجرت ہوں گے۔ آئندہ جَب کبھی آپ مُجھے دی ہُوئی اُجرت کا حِساب لینا چاہو تو میری ایمانداری میری گواہ ہوگی یعنی اگر میرے پاس کویٔی بے داغ یا سفید بکری یا کویٔی سفید برّہ پایا جائے تو وہ چُرایا ہُوا سمجھا جائے۔“ (پیدائش 30:31-33)

جب ہم بددیانتی کر بیٹھیں تو کیا کریں؟

خداوند کے ساتھ اپنی رفاقت بحال کریں

جَب کویٔی اِنسان اِن باتوں میں سے کسی میں خطاوار ہونے کا احساس کرتا ہے، تو وہ لازماً اُس گُناہ کا اقرار کرے جو اُس نے کیا ہے، اَورجو گُناہ اُس سے سرزد ہُواہے اُس کی سزا کے طور پر وہ لازماً گلّہ میں سے ایک مادہ بھیڑ یا بکری گُناہ کی قُربانی کے طور پر یَاہوِہ کے حُضُور لایٔے اَور کاہِنؔ اُس کے گُناہ کا کفّارہ دے۔ (اَحبار 5:5-6)
اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”اگر کویٔی اَپنے پڑوسی کے خِلاف گُناہ کرے اَور یَاہوِہ سے دغا کرے اَور اَپنے پڑوسی کی اَمانت یا جو چیز اُس کے سُپرد کی گئی ہو، واپس نہ کرے، یا اَپنے پڑوسی کو لُوٹے یا اُس پر ظُلم کرے۔ یا اگر اُسے کوئی کھوئی ہُوئی چیز مِل گئی ہو، لیکن وہ اُس کے متعلّق جھُوٹ بول کر لوگ جھُوٹی قَسم کھائے، یعنی اِن میں سے کسی بھی کام کو کرکے کویٔی گُناہ کرے؛ اَور اگر اُس سے اِس طرح کا کویٔی گُناہ ہُواہے اَور اِس کا احساس اُسے ہے تو وہ مُجرم ہے، تو جو کچھ اُس نے چُرایا ہے یا جبراً لے لیا ہے یا جو کچھ اُس کے پاس اَمانت کے طور پر رکھا گیا تھا یا جو کھوئی ہُوئی چیز اُسے مِل گئی تھی، یا جِس کسی بھی چیز کے بارے میں اُس نے جھُوٹی قَسم کھائی تھی، تو لازِم ہے کہ وہ اُسے پُورا واپس کرے اَور اصل کے ساتھ اُس کے مُعاوضہ کی قیمت کا بیس فیصد اِضافہ کے ساتھ اُس کے مالک کو اَپنی خطا کی قُربانی پیش کرنے کے دِن لَوٹا دے۔ اِس طرح کاہِنؔ یَاہوِہ کے حُضُور اُس کے لیٔے کفّارہ دے گا، اَور اِس طرح اُسے اُن تمام خطاؤں کی جو اُس نے کی ہیں جِن سے وہ مُجرم ٹھہرا ہے مُعافی مِل جائے گی۔“ (اَحبار 6:1-5, 7)
لیکن اگر ہم اَپنے گُناہوں کا اقرار کریں، تو وہ ہمارے گُناہوں کو مُعاف کرنے اَور ہمیں ساری ناراستی سے پاک صَاف کرنے میں وفادار اَور عادل ہے۔ (1 یُوحنّا 1:9)

متاثرہ شخص کے ساتھ تعلق بحال کریں

جو اَپنے گُناہ چھُپاتا ہے، کامیاب نہیں ہوتا، لیکن جو اقرار کرکے اُن کو ترک کرتا ہے، اُس پر رحم کیا جائے گا۔ (امثال 28:13)
اِس لیٔے تُم آپَس میں ایک دُوسرے سے اَپنے گُناہوں کا اقرار کرو اَور ایک دُوسرے کے لیٔے دعا کرو تاکہ شفا پاؤ؛ کیونکہ راستباز کی دعا قُوّت اَور تاثیر والی ہوتی ہے۔ (یعقوب 5:16)

چوری کی گئی ہر چیز واپس کریں

”اگر کویٔی اِنسان ایک بَیل یا بھیڑ چُرا کر اُسے ذبح کرے یا بیچ دے تو وہ اُس بَیل کے بدلے پانچ بَیل اَور اُس بھیڑ کے بدلے چار بھیڑیں بطور مُعاوضہ دے۔ ”اگر کویٔی چور نقب زنی کرتے ہویٔے پکڑا جائے اَور اُس کو اَیسی مار پڑے کہ وہ مَر جائے تو مارنے والا خُون کا مُجرم نہ سمجھا جائے۔ لیکن اگر یہ واقعہ دِن میں ہو تو وہ خُون کا مُجرم سمجھا جائے گا۔ ”چور کو لازِم ہے کہ وہ چوری کے مال کا مُعاوضہ واپس کرے۔ اگر اُس کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ چوری کی سزا کے طور پر غُلام بنا کر بیچ دیا جائے۔ لیکن اگر چوری کیا ہُوا جانور اُس کے پاس جیتا مِل جائے خواہ وہ بَیل ہو یا گدھا یا بھیڑ تو وہ اُس کا دُگنا واپس کر دے۔ (خُروج 22:1-4)
”اگر کویٔی اِنسان اَپنی چاندی یا دیگر سامان اَپنے پڑوسی کے پاس بطور اَمانت رکھے اَور وہ پڑوسی کے گھر سے چوری ہو جائے اَور چور پکڑا جائے تو وہ اُس کا دُگنا اَدا کرے۔ لیکن اگر چور پکڑا نہ جائے تو ضروُری ہے کہ اُس گھر کا مالک قاضی کے سامنے حاضِر ہو تاکہ مَعلُوم ہو سکے کہ کہیں اُس نے اَپنے پڑوسی کی اَمانت میں خیانت نہیں کی۔ خیانت والے سارے مُعاملات خواہ وہ بَیل، گدھے، بھیڑ یا کپڑے یا کسی گُم شُدہ مال کے بارے میں کہے، ’یہ میرا ہے،‘ فریقین کی طرف سے قاضیوں کے حُضُور پیش کئے جایٔیں اَور جِس کو قاضی مُجرم ٹھہرائے وہ اَپنے پڑوسی کو دُگنا اَدا کرے۔ (خُروج 22:7-9)
”اگر کویٔی اِنسان اَپنے پڑوسی سے کویٔی جانور اُدھار لے اَور وہ مالک کی غَیر مَوجُودگی میں زخمی ہو جائے یا مَر جائے تو وہ ضروُر اُس کا مُعاوضہ اَدا کرے۔ (خُروج 22:14)
اَور یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”اگر کویٔی اَپنے پڑوسی کے خِلاف گُناہ کرے اَور یَاہوِہ سے دغا کرے اَور اَپنے پڑوسی کی اَمانت یا جو چیز اُس کے سُپرد کی گئی ہو، واپس نہ کرے، یا اَپنے پڑوسی کو لُوٹے یا اُس پر ظُلم کرے۔ یا اگر اُسے کوئی کھوئی ہُوئی چیز مِل گئی ہو، لیکن وہ اُس کے متعلّق جھُوٹ بول کر لوگ جھُوٹی قَسم کھائے، یعنی اِن میں سے کسی بھی کام کو کرکے کویٔی گُناہ کرے؛ اَور اگر اُس سے اِس طرح کا کویٔی گُناہ ہُواہے اَور اِس کا احساس اُسے ہے تو وہ مُجرم ہے، تو جو کچھ اُس نے چُرایا ہے یا جبراً لے لیا ہے یا جو کچھ اُس کے پاس اَمانت کے طور پر رکھا گیا تھا یا جو کھوئی ہُوئی چیز اُسے مِل گئی تھی، یا جِس کسی بھی چیز کے بارے میں اُس نے جھُوٹی قَسم کھائی تھی، تو لازِم ہے کہ وہ اُسے پُورا واپس کرے اَور اصل کے ساتھ اُس کے مُعاوضہ کی قیمت کا بیس فیصد اِضافہ کے ساتھ اُس کے مالک کو اَپنی خطا کی قُربانی پیش کرنے کے دِن لَوٹا دے۔ (اَحبار 6:1-5)
یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”بنی اِسرائیل سے کہو: ’اگر کویٔی مَرد یا عورت کسی شخص کے ساتھ کسی قِسم کی بدکاری کرے اَور اِس طرح سے یَاہوِہ سے دغا کرے تو وہ شخص مُجرم ٹھہرے گا، اَور اُس نے جو گُناہ کیا ہو وہ اُس کا اقرار کرے اَور کفّارہ کے طور پر اَپنی خطا کے پُورے مُعاوضہ میں اُس کا پانچواں حِصّہ اَور مِلا کر اُس شخص کو دے جِس کا اُس نے قُصُور کیا ہے۔ لیکن اگر اُس شخص کا کویٔی قریبی رشتہ دار نہ ہو جسے اُس خطا کا مُعاوضہ دیا جائے تو وہ مُعاوضہ یَاہوِہ کا ہوگا، لہٰذا اُسے اَور کفّارہ کے مینڈھے کو کاہِنؔ کے سُپرد کیا جائے۔ (گِنتی 5:5-8)
یہ سُن کر داویؔد غُصّہ سے آگ بگُولا ہو گیا اَور اُس نے ناتنؔ سے کہا، ”زندہ یَاہوِہ کی قَسم وہ آدمی جِس نے یہ کام کیا موت کا سزاوار ہے۔ اُسے اُس چُھوٹی بھیڑ کے بدلے میں چار گُنا اَدا کرنا پڑےگا کیونکہ اُس نے اَیسا کام کیا اَور اُسے ترس نہ آیا۔“ (2 شموایلؔ 12:5-6)
چور اگر بھُوک کے مارے اَپنا پیٹ بھرنے کے لیٔے چوری کرے تو لوگ اُسے حقیر نہیں جانتے۔ لیکن اگر وہ چوری کرتا پکڑا جائے، تو اُسے سات گُنا اَدا کرنا ہوگا، خواہ اُسے اَپنے گھر کا سارا مال ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ (امثال 6:30-31)
اَور اگر مَیں کسی بدکار اِنسان سے کہُوں، ’تُو یقیناً مَر جائے گا،‘ لیکن بعد میں وہ اَپنے گُناہ سے باز آکر اَیسے کام کرے جو جائز اَور روا ہیں۔ یعنی اگر وہ قرض کے عوض رہن رکھی ہُوئی شَے لَوٹا دیتاہے، چُرائی ہُوئی چیز واپس کر دیتاہے اَور اُن آئین پر عَمل کرتا ہے جو زندگی بخشتے ہیں اَور کویٔی بدی نہیں کرتا تو وہ یقیناً جئے گا۔ وہ نہیں مَرے گا۔ جو گُناہ اُس سے سرزد ہُوئے ہیں وہ اُس کے خِلاف محسوب نہ ہوں گے۔ چونکہ اُس نے جائز اَور روا کام کئے اِس لیٔے وہ یقیناً جئے گا۔ (حزقی ایل 33:14-16)
لیکن زکّائیؔ نے کھڑے ہوکر خُداوؔند سے کہا، ”دیکھئے، خُداوؔند! میں اَپنا آدھا مال غریبوں کو ابھی دیتا ہُوں اَور اگر مَیں نے دھوکے سے کسی کا کُچھ لیا ہے تو اُس کا چَو گُنا واپس کرتا ہُوں۔“ (لُوقا 19:8)

برکتیں اور لعنتیں

دیانتداروں کے لیے موعودہ برکتیں

خداوند کے ساتھ گہرے تعلق کی برکت

داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، آپ کے مَقدِس میں کون رہے گا؟ آپ کے مُقدّس پہاڑ پر کون سکونت کرےگا؟ اَور جِس کا کِردار بے اِلزام ہے، وہ جو راستبازی پر چلتا ہے، اَور اَپنے دِل سے سچ بولتا ہے، جو اَپنی زبان سے جھُوٹے اِلزام نہیں لگاتا، اَور اَپنے ہمسایہ سے بدی نہیں کرتا اَور نہ کسی پڑوسی کو بدنام کرتا ہے، یَاہوِہ کی نگاہ میں جو کمینے اِنسان کو حقیر جانتا ہے، لیکن جو یَاہوِہ کا خوف مانتے ہیں اُن کا اِحترام کرتا ہے؛ جو قَسم کھا کر اُسے توڑتا نہیں خواہ اُسے نُقصان ہی کیوں نہ اُٹھانا پڑے؛ (زبُور 15:1-4)
یَاہوِہ کے پہاڑ پر کون چڑھے گا؟ اَور اُن کے پاک مَقدِس میں کون کھڑا رہے گا؟ وُہی جِس کے ہاتھ صَاف اَور دِل پاک ہو، جسے بُتوں سے کویٔی رغبت نہیں اَورجو جھُوٹی قَسم نہیں کھاتا۔ (زبُور 24:3-4)
یَاہوِہ اُن سَب کے قریب ہیں جو اُنہیں پُکارتے ہیں، یعنی اُن سَب کے قریب، جو اُنہیں سچّے دِل سے پُکارتے ہیں۔ (زبُور 145:18)
مَحَبّت اَور سچّائی تُم سے جُدا نہ ہونے پائیں؛ بَلکہ تُم اُنہیں اَپنے گلے کا ہار بنائے رکھنا، اَور اَپنے دِل کی تختی پر لِکھ لینا۔ تَب تُم خُدا اَور اِنسان کی نگاہ میں مقبُول ہوگے اَور نیک نام حاصل کروگے۔ (امثال 3:3-4)
کیونکہ یَاہوِہ کجرو سے نفرت کرتے ہیں لیکن راستبازوں کے ساتھ اُن کی رِفاقت ہے۔ (امثال 3:32)
جھُوٹے لبوں سے یَاہوِہ کو نفرت ہے، لیکن راست گو سے وہ خُوش ہوتاہے۔ (امثال 12:22)
”کیا دیودار کا خُوبصورت محل ہونے سے، کوئی بادشاہ بَن جاتا ہے؟ کیا تمہارے باپ کے پاس بے شُمار کھانے پینے کی چیزیں نہیں تھیں؟ دیکھ تمہارا باپ راستباز اَور اِنصاف پسند تھا، اِس لیٔے خُدا نے اُسے برکت دی تھی۔ تمہارا باپ مسکینوں اَور مُحتاجوں کے ساتھ اِنصاف سے پیش آتا تھا، اِس لیٔے اُس کا بھلا ہُوا۔ کیا میرا عِرفان رکھنے کا مطلب یہی نہیں ہے؟“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”لیکن تمہاری آنکھیں اَور دِل ناجائز منافع کی طرف، اَور بےگُناہوں کا خُون بہانے اَور ظُلم و سِتم ڈھانے میں لگے ہُوئے ہیں۔“ (یرمیاہؔ 22:15-17)

حفاظت کی برکت

وہ راستبازوں کے لیٔے مدد تیّار رکھتے ہیں، اَور راست رَو کے لیٔے ڈھال ثابت ہوتے ہیں، (امثال 2:7)
دیندار آدمی بے خوف ہوکر چلتا ہے، لیکن جو ٹیڑھی راہ اِختیار کرتا ہے وہ پہچان لیا جاتا ہے۔ (امثال 10:9)

رزق کی برکت

وہ جو راست رَو اَور راست گو ہے، جو جبراً حاصل کئے ہُوئے نفع کو ٹھکراتا ہے اَور اَپنے ہاتھوں کو رشوت سے دُور رکھتا ہے، جو قتل کی خبریں سُننے سے اَپنے کان بند کر لیتا ہے اَور اَپنی آنکھیں موند لیتا ہے تاکہ بُرائی نہ دیکھے یہی وہ ہیں جو بُلندی پر سکونت پذیر ہوں گے، اَور پہاڑ کا قلعہ اُن کی پناہ گاہ ہوگا۔ اُن کو روٹی مُہیّا کی جائے گی، اَور اُنہیں پانی کی کمی نہ ہوگی۔ (یَشعیاہ 33:15-16)

خاندان پر برکت

راستباز آدمی نیک زندگی گزارتا ہے؛ اُس کے بعد اُس کے بچّے مُبارک ہوتے ہیں۔ (امثال 20:7)

خوشی کی برکت

ناجائز طور پر حاصل کئے خزانے کویٔی فائدہ نہیں پہُنچاتے، لیکن راستی موت سے نَجات دِلاتی ہے۔ (امثال 10:2)

زندگی کی برکت

تُم اَپنی تھیلی میں ایک ہی طرح کے اَیسے دو باٹ نہ رکھنا کہ ایک بھاری اَور دُوسرا وزن میں ہلکا ہو۔ تُم اَپنے گھر میں ایک ہی طرح کے دو پیمانے نہ رکھنا کہ ایک کم ناپ کا ہو اَور دُوسرا زِیادہ کا۔ تمہارے وزن کرنے کے باٹ اَور پیمانے صحیح اَور دیانتدارانہ ہوں تاکہ اُس مُلک میں جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، تمہاری عمر دراز ہو۔ (اِستِثنا 25:13-15)
تُم میں سے جو کویٔی زندگی سے مَحَبّت رکھتا ہے اَورجو بھلائی اَور عمر درازی کا خواہشمند ہے، وہ اَپنی زبان کو بدی سے اَور اَپنے لبوں کو جھُوٹ بولنے سے دُور رکھے۔ (زبُور 34:12-13)
سچّے ہونٹ ہمیشہ تک قائِم رہیں گے، لیکن جھُوٹی زبان کچھ دیر تک ہی ٹکتی ہے۔ (امثال 12:19)
اَور اگر مَیں کسی بدکار اِنسان سے کہُوں، ’تُو یقیناً مَر جائے گا،‘ لیکن بعد میں وہ اَپنے گُناہ سے باز آکر اَیسے کام کرے جو جائز اَور روا ہیں۔ یعنی اگر وہ قرض کے عوض رہن رکھی ہُوئی شَے لَوٹا دیتاہے، چُرائی ہُوئی چیز واپس کر دیتاہے اَور اُن آئین پر عَمل کرتا ہے جو زندگی بخشتے ہیں اَور کویٔی بدی نہیں کرتا تو وہ یقیناً جئے گا۔ وہ نہیں مَرے گا۔ جو گُناہ اُس سے سرزد ہُوئے ہیں وہ اُس کے خِلاف محسوب نہ ہوں گے۔ چونکہ اُس نے جائز اَور روا کام کئے اِس لیٔے وہ یقیناً جئے گا۔ (حزقی ایل 33:14-16)

لوگوں کی عزت کی برکت

مَحَبّت اَور سچّائی تُم سے جُدا نہ ہونے پائیں؛ بَلکہ تُم اُنہیں اَپنے گلے کا ہار بنائے رکھنا، اَور اَپنے دِل کی تختی پر لِکھ لینا۔ تَب تُم خُدا اَور اِنسان کی نگاہ میں مقبُول ہوگے اَور نیک نام حاصل کروگے۔ (امثال 3:3-4)

خوشحالی کی برکت

راستباز کے گھر میں بہت بڑا خزانہ ہوتاہے، لیکن بدکاروں کی آمدنی اُن کے لیٔے مُصیبت کھڑی کردیتی ہے۔ (امثال 15:6)

راہنماؤں کے لیے برکت

اگر حاکم فہم نہ رکھتا ہو تو وہ بڑا ظُلم کرتا ہے، لیکن جسے ناجائز منافع سے نفرت ہوتی ہے، اُس کی عمر دراز ہوتی ہے۔ (امثال 28:16)

بددیانتوں کے لیے مخصوص لعنتیں

نفرت کیے جانے/خدا سے جدا ہونے کی لعنت

تُم اَپنی تھیلی میں ایک ہی طرح کے اَیسے دو باٹ نہ رکھنا کہ ایک بھاری اَور دُوسرا وزن میں ہلکا ہو۔ تُم اَپنے گھر میں ایک ہی طرح کے دو پیمانے نہ رکھنا کہ ایک کم ناپ کا ہو اَور دُوسرا زِیادہ کا۔ تمہارے وزن کرنے کے باٹ اَور پیمانے صحیح اَور دیانتدارانہ ہوں تاکہ اُس مُلک میں جسے یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، تمہاری عمر دراز ہو۔ کیونکہ اَیسے لوگ جو فریب سے کام لیتے ہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا کی نظر میں مکرُوہ ہیں۔ (اِستِثنا 25:13-16)
آپ اُن کو، جو جھُوٹ بولتے ہیں ہلاک کر دیتے ہیں؛ اَور خُونی اَور دغابازوں سے، یَاہوِہ، کو نفرت ہے۔ (زبُور 5:6)
کیونکہ یَاہوِہ کجرو سے نفرت کرتے ہیں لیکن راستبازوں کے ساتھ اُن کی رِفاقت ہے۔ (امثال 3:32)
چھ باتوں سے یَاہوِہ کو نفرت ہے، بَلکہ سات ہیں جِن سے اُنہیں کراہیّت ہے: جھُوٹا گواہ جو دروغ گوئی سے کام لیتا ہے اَور وہ آدمی جو بھائیوں میں نفاق ڈالتا ہے۔ (امثال 6:16, 19)
جھُوٹے لبوں سے یَاہوِہ کو نفرت ہے، لیکن راست گو سے وہ خُوش ہوتاہے۔ (امثال 12:22)
جھُوٹا گواہ بے سزا نہ چُھوٹے گا، اَورجو جھُوٹ بولتا ہے وہ فنا ہو جائے گا۔ (امثال 19:9)
میں اُس کے لالچ کے گُناہ آلُودہ کے سبب سے خفا ہَوا تھا؛ مَیں نے اُسے سزا دی اَور غُصّہ میں اَپنا مُنہ چھُپا لیا، پھر بھی وہ اَپنی مَن مانی حرکتوں سے باز نہ آیا۔ (یَشعیاہ 57:17)
لیکن تمہاری بدکاری نے تُمہیں اَپنے خُدا سے دُور کر دیا ہے؛ اَور تمہارے گُناہوں نے اُسے تُم سے اَیسا روپوش کیا، کہ وہ سُنتے نہیں۔ کیونکہ تمہارے ہاتھ خُون میں رنگے ہُوئے ہیں، اَور تمہاری اُنگلیاں بدی سے آلُودہ ہیں۔ تمہارے ہونٹ جھُوٹ بولتے ہیں، اَور تمہاری زبان شرارت کی باتیں کہتی ہے۔ کویٔی اِنصاف طلب نہیں کرتا؛ اَور کویٔی سچّائی سے اَپنا مُقدّمہ نہیں لڑتا۔ وہ بے معنی دلیلوں پر اِعتماد کرلیتے ہیں اَور جھُوٹ بولتے ہیں؛ اُن کا حَمل بدچلنی کا ہوتاہے جِس سے بدی جنم لیتی ہے۔ (یَشعیاہ 59:2-4)

سزا/عدالت کی لعنت

”لعنت ہے اُس آدمی پرجو اَپنے ہمسایہ کی سرحد کا پتّھر کھسکائے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“ (اِستِثنا 27:17)
لیکن بادشاہ تو خُدا میں شادمان ہوگا؛ جو خُدا کے نام کی قَسم کھاتے ہیں وہ اُن کی مدح سرائی کریں گے، لیکن جھوٹوں کے مُنہ بند کر دئیے جایٔیں گے۔ (زبُور 63:11)
جھُوٹے لبوں سے یَاہوِہ کو نفرت ہے، لیکن راست گو سے وہ خُوش ہوتاہے۔ (امثال 12:22)
یَاہوِہ کو بدکاروں کے خیالات سے نفرت ہے، لیکن پاک لوگوں کے خیالات اُنہیں پسند آتے ہیں۔ (امثال 15:26)
جھُوٹا گواہ بے سزا نہ چُھوٹے گا، اَور جھُوٹی باتیں کہنے والا رِہائی نہ پایٔےگا۔ (امثال 19:5)
دھوکے سے حاصل کیا ہُوا کھانا آدمی کو میٹھا لگتا ہے، لیکن آخِرکار اُس کا مُنہ کنکروں سے بھرجاتا ہے۔ (امثال 20:17)
میں اُس کے لالچ کے گُناہ آلُودہ کے سبب سے خفا ہَوا تھا؛ مَیں نے اُسے سزا دی اَور غُصّہ میں اَپنا مُنہ چھُپا لیا، پھر بھی وہ اَپنی مَن مانی حرکتوں سے باز نہ آیا۔ (یَشعیاہ 57:17)
جَیسے پنجرہ پرندوں سے بھرا ہوتاہے، وَیسے ہی اُن کے گھر فریب سے بھرے ہیں؛ اَور اَب وہ مالدار اَور زورآور بَن گیٔے ہیں، اَور موٹے اَور چِکنے ہو گئے ہیں۔ اُن کے بُرے کاموں کی کویٔی حَد نہیں ہوتی؛ وہ راستی سے یتیموں کا اِنصاف نہیں کرتے، نہ ہی مسکینوں کے حُقُوق کا تحفُّظ کرتے ہیں۔ کیا میں اَیسے لوگوں کو سزا نہ دُوں؟“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”کیا مَیں اَیسی قوم سے، اَپنا اِنتقام نہ لُوں؟ (یرمیاہؔ 5:27-29)
”وہ اَپنی زبان کو کمان کی مانند جھُوٹ کے تیر چلانے کے لئے تیّار کرتے ہیں؛ اگر وہ مُلک میں فتح مند ہو گئے ہیں، تو سچّائی کی بِنا پر نہیں۔ وہ گُناہ پر گُناہ کئے جاتے ہیں؛ اَور وہ مُجھے جانتے ہی نہیں،“ یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”اِس لیٔے قادرمُطلق یُوں فرماتے ہیں۔ اَپنے دوستوں سے خبردار رہو؛ اَپنی برادری پر بھی اِعتماد نہ کرو۔ کیونکہ ہر بھایٔی دغاباز ہے، اَور ہر دوست غیبت کرنے والا ہے۔ دوست، دوست کو فریب دیتاہے، اَور کویٔی سچ نہیں بولتا۔ اُنہُوں نے اَپنی زبانوں کو جھُوٹ بولنا سِکھایا ہے؛ وہ بدکاری میں جانفشانی کرے ہیں۔ اَے یرمیاہؔ تیری قِیام گاہ فریب کے درمیان ہے؛ اَور اَپنے فریب ہی کی باعث، وہ مُجھے جاننے سے اِنکار کرتے ہیں۔“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ چنانچہ قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھ، میں اُن کو آگ میں تپا کر آزماؤں گا، کیونکہ میری قوم کے گُناہ کے باعث میں اُن سے اَور کیا کر سَکتا ہُوں؟ اُن کی زبان ایک مہلک تیر ہے؛ جو دغا کی باتیں بولتی ہیں۔ اَپنے مُنہ سے تو ہر ایک اَپنے ہمسایہ سے نہایت ہی خُوش اَخلاقی سے پیش آتا ہے، لیکن باطِن میں اُس کی گھات میں لگا رہتاہے۔ کیا مَیں اُنہیں اِن باتوں کے لیٔے سزا نہ دُوں؟“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”کیا مَیں اَیسی قوم سے اَپنا اِنتقام نہ لُوں؟“ (یرمیاہؔ 9:3-9)
” ’تُونے جو ناجائز منافع کمایا اَور اَپنے اَندر خُون بہایا اُس کے لیٔے میں قہر میں یقیناً تالی بجاؤں گا۔ جِس دِن مَیں تیرا فیصلہ کروں گا اُس وقت کیا تُجھ میں برداشت کرنے کی ہمّت اَور کیا تیرے ہاتھوں میں قُوّت ہوگی؟ مَیں یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے اَور مَیں اُسے کرکے رہُوں گا۔ مَیں تُجھے مُختلف قوموں میں پراگندہ کروں گا اَور مُلکوں میں بِکھیر دُوں گا اَور تیری ناپاکی کا خاتِمہ کر دُوں گا۔ (حزقی ایل 22:13-15)
اُس کے اُمرا اُن بھیڑیوں کی مانند ہیں جو اَپنے شِکار کو پھاڑتے ہیں۔ اَور خُون بہاتے ہیں اَور لوگوں کی جان لیتے ہیں تاکہ ناجائز منافع کمائیں۔ اُس کے نبیوں اَپنی باطِل رُویتیں اَور باطِل نبُوّت کے ذریعہ اُن کے اعمال پر سفیدی پھیر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں۔‘ جَب کہ یَاہوِہ نے کچھ نہیں فرمایا۔ مُلک کے لوگ ستمگری سے کام لیتے ہیں، لَوٹ مار کرتے ہیں، غریب اَور مُحتاج پر ظُلم ڈھاتے ہیں اَور پردیسیوں کے ساتھ بُرا سلُوک اَور نااِنصافی کرتے ہیں۔ ”مَیں اُن میں ایک اَیسے شخص کی کھوج میں تھا جو دیوار کھڑی کرتا اَور مُلک کی خاطِر درار پر میرے آپ میں کھڑا رہتا تاکہ مُجھے اُسے تباہ نہ کرنا پڑے۔ لیکن مُجھے اَیسا کویٔی نہ مِلا۔ اِس لیٔے مَیں اَپنا قہر اُن پر نازل کروں گا اَور اَپنے غضب کی آگ میں اُن کو بھسم کر دُوں گا اَور اُن کے تمام اعمال خُود اُن ہی کے سَروں پر لے آؤں گا۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔“ (حزقی ایل 22:27-31)
بنی یہُوداہؔ کے اُمرا اُن لوگوں کی مانند ہیں جو سرحدوں کے نِشان ہٹاتے ہیں۔ مَیں پانی کے سیلاب کی طرح اَپنا قہر اُن پر اُنڈیل دُوں گا۔ (ہوشِیعؔ 5:10)
تُم جو ضروُرت مندوں کو کُچلتے رہتے ہو اَور مُلک کے مسکینوں کو مٹاتے رہتے ہو، یہ کلام سُنو۔ تُم کہتے ہو، ”نئے چاند کی عید کب گزرے گی تاکہ ہم اَپنا اناج فروخت کریں، سَبت کا دِن کب ختم ہوگا تاکہ ہم گیہُوں کے فروخت کے واسطے اَپنے کھتّے کھولیں؟“ تُم ایفہ کو چھوٹا اَور ثاقل کو ناپ میں بڑا کرتے ہو، اَور دغابازی کے ترازو سے ٹھگتے ہو، تُم مسکینوں کو رُوپیہ سے اَور حاجت مند کو ایک جوڑی جُوتے سے خریدتے ہو، اَور گیہُوں کے ساتھ پھٹکن بھی بیچتے ہو۔ یَاہوِہ یعقوب کی حشمت کی قَسم کھا کر فرماتے ہیں، ”جو کچھ اُنہُوں نے کیا ہے، مَیں اُن میں سے ایک کو بھی نہ بھُولوں گا۔ ”کیا اِس سبب سے زمین نہ تھرتھرائے گی، اَور اُن کے ہر باشِندے ماتم نہ کریں گے؟ سارا مُلک دریائے نیل کی مانند ہوگا جو اُفنے گی، پھر اُس میں لہریں اُٹھے گا، اَور پھر وہ مُلک مِصر کے دریائے کی مانند بالکُل پُرسکون ہو جایٔےگا۔“ یَاہوِہ قادر اعلان کرتے ہیں، ”اُس دِن، مَیں آفتاب کو دوپہر کے وقت غروب کروں گا اَور زمین پر دِن میں ہی تاریکی کر دُوں گا۔ مَیں تمہاری عیدوں کو ماتم میں اَور تمہارے نغموں کو نوحے میں تبدیل کر دُوں گا۔ اَور تُم سَب کو ٹاٹ پہناؤں گا اَور تُم سَب کے سَر کو گنجا کر دُوں گا۔ اَور اَیسا ماتم برپا کروں گا جَیسے اِکلوتے بیٹے کی خاطِر ہوتاہے اَور اُس کا اَنجام روزِ تلخ جَیسا ہوگا۔“ (عامُوسؔ 8:4-10)
اَے بدکار گھرانے، کیا میں اَب بھی تیرا ناجائز منافع، اَور کم پیمانے کو جو نفرت کا باعث ہیں، بھُول جاؤں؟ کیا میں اَیسے آدمی کو چھوڑ دُوں جو دغا کے ترازو رکھتا ہے، اَور غلط باٹوں کا تھیلہ رکھتا ہے؟ تمہارے دولتمند ظالِم ہیں؛ تمہارے باشِندے جھُوٹ بولتے ہیں۔ اُن کی زبانیں دغابازی کی باتیں کرتی ہیں۔ اِس لیٔے مَیں نے تُجھے غارت کرنا، اَور تیرے گُناہوں کے سبب سے تُجھے برباد کرنا شروع کر دیا ہے۔ تُو کھائے گا پر آسُودہ نہ ہوگا؛ تیرا پیٹ نہ بھرے گا۔ جمع کرےگا لیکن بچا نہ پایٔےگا، کیونکہ جو کچھ تُو بچائے گا میں اُسے تلوار کے حوالہ کر دُوں گا۔ تُو بوئے گا پر فصل نہ پایٔےگا؛ زَیتُون کا تیل نکالے گا لیکن اِستعمال نہ کرےگا، انگور روندےگا پر مَے نہ پیئے گا۔ تُو عُمریؔ کے قوانین، اَور احابؔ کے خاندان کے اعمال کی پیروی کرتا ہے، اَور اُن کے رِواج مانتا ہے۔ اِس لیٔے مَیں تُجھے ویران کروں گا، اَور تیرے لوگوں کو مذاق کا باعث بناؤں گا؛ وہ ساری قوموں میں تمسخر کا باعث بنیں گے۔“ (میکاہؔ 6:10-16)
اَور یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور آپ وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ آپ نے پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کے تختے اَور کبُوتر فروشوں کی چوکیاں اُلٹ دیں۔ اَور یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”لِکھّا ہے، ’میرا گھر دعا کا گھر کہلائے گا،‘ مگر تُم نے اُسے ’ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“ (متّی 21:12-13)
تَب یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”لِکھّا ہے، ’میرا گھر دعا کا گھر‘ کہلائے گا؛ مگر تُم نے ’اُسے ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“ (لُوقا 19:45-46)

موت/تباہی کی لعنت

بنی اِسرائیل نے گُناہ کیا ہے۔ اُنہُوں نے میرے اُس عہد کو توڑا ہے جِس پر مَیں نے اُنہیں قائِم رہنے کا حُکم دیا تھا۔ اُنہُوں نے نذر کی ہُوئی چند چیزیں لی ہیں۔ اُنہُوں نے چوری کی اَور جھُوٹ بولا اَور اُنہیں اَپنے اَسباب میں رکھ دیا۔ جو کویٔی نذر کی چیزوں کے ساتھ پکڑا جائے وہ اَپنے تمام اَسباب کے ساتھ آگ میں جَلا دیا جائے گا۔ اُس نے یَاہوِہ کے عہد کو توڑا ہے اَور بنی اِسرائیل میں شرمناک کام کیا ہے!‘ “ یہوشُعؔ نے اُس سے کہا، ”تُم ہم پر یہ آفت کیوں لائے؟ آج کے دِن یَاہوِہ تُم پر آفت نازل کریں گے۔“ تَب سَب اِسرائیلیوں نے اُسے سنگسار کیا اَور پھر اُس کے باقی لوگوں کو بھی سنگسار کرنے کے بعد اُنہیں جَلا دیا۔ (یہوشُعؔ 7:11, 15, 25)
آپ اُن کو، جو جھُوٹ بولتے ہیں ہلاک کر دیتے ہیں؛ اَور خُونی اَور دغابازوں سے، یَاہوِہ، کو نفرت ہے۔ (زبُور 5:6)
تُم نیکی کی بہ نِسبت بدی کو، اَور سچّائی کی بہ نِسبت جھُوٹ کو زِیادہ عزیز رکھتے ہو اَے دغاباز زبان، تُو ہر ضرر رساں بات کو پسند کرتی ہے۔ یقیناً خُدا تُجھے ہمیشہ کے لیٔے برباد کر ڈالیں گے؛ وہ تُمہیں تمہارے خیمہ میں سے پکڑکر نکال دیں گے؛ اَور تُجھے زندوں کی زمین سے اُکھاڑ ڈالیں گے۔ (زبُور 52:3-5)
ناجائز آمدنی کے پیچھے جانے والوں کا اَنجام اَیسا ہی ہوتاہے؛ جو اُسے حاصل کرتے ہیں وہ اَپنے ہی پڑوسی کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ (امثال 1:19)
بدمعاش اَور بدکار آدمی، جِس کا مُنہ بدگوئی سے بھرا ہُواہے، اِس لیٔے اُس پر آفت ناگہاں آ پڑےگی؛ وہ بغیر کسی علاج کے یک لخت تباہ ہو جائے گا۔ (امثال 6:12, 15)
سچّے ہونٹ ہمیشہ تک قائِم رہیں گے، لیکن جھُوٹی زبان کچھ دیر تک ہی ٹکتی ہے۔ (امثال 12:19)
دروغ گوئی سے حاصل کیا ہُوا خزانہ، بخارات کی طرح اُڑ جاتا ہے اَور مہلک پھندا ثابت ہوتاہے۔ (امثال 21:6)
جو آدمی بدی بوتا ہے وہ مُصیبت کاٹے گا، اَور اُس کے قہر کی لاٹھی ٹوٹ جائے گی۔ (امثال 22:8)
مسکینوں کو اُن کے مسکین ہونے کے باعث مت لُوٹو اَور نہ عدالت میں کسی مُحتاج کو دبانے کی کوشش کرو۔ کیونکہ یَاہوِہ اُن کا مُعاملہ اَپنے ہاتھ میں لیں گے اَورجو اُنہیں لُوٹتے ہیں، اُنہیں وہ لُوٹیں گے۔ (امثال 22:22-23)
”لیکن تمہاری آنکھیں اَور دِل ناجائز منافع کی طرف، اَور بےگُناہوں کا خُون بہانے اَور ظُلم و سِتم ڈھانے میں لگے ہُوئے ہیں۔“ چنانچہ یَاہوِہ شاہِ یہُودیؔہ یہُویقیمؔ بِن یُوشیاہؔ کے متعلّق یُوں فرماتے ہیں: ”جَیسے لوگ یہ کہہ کر ماتم کرتے ہیں! ’ہائے میرے بھایٔی! ہائے میری بہن!‘ وَیسے وہ یہُویقیمؔ کے لئے نہ کریں گے، ’ہائے میرے آقا! ہائے تمہارا جلال! کہہ کر ماتم کریں گے!‘ اُسے گدھے کی طرح دفن کیا جائے گا۔ اُسے گھسیٹ کر یروشلیمؔ کے پھاٹکوں کے باہر، پھینک دیا جائے گا۔“ (یرمیاہؔ 22:17-19)
”فرض کرو کہ اُن کے ہاں ایک تُند و تیز بیٹا ہے جو خُون بہاتا ہے اَور اِن بُرائیوں میں سے کچھ کرتا ہے، (حالانکہ باپ نے اِن میں سے ایک بھی نہ کی): ”وہ پہاڑ پر کے بُتکدوں میں قُربانی کا گوشت کھاتا ہے۔ اَپنے ہمسایہ کی بیوی کی بےحُرمتی کرتا ہے۔ وہ غریب اَور مُحتاج پر ظُلم ڈھاتا ہے، وہ ڈاکا ڈالتا ہے۔ اَور رہن رکھی ہُوئی چیز نہیں لَوٹاتا۔ وہ بُتوں کی طرف نظر اُٹھاتا ہے۔ اَور قابل نفرت کام کرتا ہے۔ وہ سُود پر لین دین کرتا ہے اَور زِیادہ سُود وصول کرتا ہے۔ کیا اَیسا شخص زندہ رہے گا؟ وہ ہرگز زندہ نہ رہے گا کیونکہ اُس نے یہ سَب قابل نفرت کام کئے ہیں اِس لیٔے وہ یقیناً ماراجائے گا اَور اُس کا خُون خُود اُس کے سَر پر ہوگا۔ لیکن اُس کا باپ اَپنے گُناہ کے باعث مَر جائے گا کیونکہ اُس نے زبردستی مال حاصل کیا، اَپنے بھایٔی کو لُوٹا اَور اَپنے لوگوں میں غلط کام کئے۔ (حزقی ایل 18:10-13, 18)
حننیاہؔ نامی ایک آدمی اَور اُس کی بیوی سفِیرؔہ نے اَپنی جائداد کا کچھ حِصّہ فروخت کیا۔ اُس نے قیمت میں سے کچھ اَپنے پاس رکھ لیا، جِس کا اُس کی بیوی کو علم تھا اَور باقی کے حِصّہ کی رقم لاکر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔ تَب پطرس نے اُس سے کہا، ”اَے حننیاہؔ، شیطان نے تیرے دِل میں یہ بات کیسے ڈال دی کہ تُو پاک رُوح سے جھُوٹ بولے اَور زمین کی قیمت میں سے کچھ رکھ لے؟ کیا فروخت کیٔے جانے سے قبل زمین تیری نہ تھی؟ لیکن بِک جانے کے بعد تیرے اِختیار میں نہ رہی؟ تُجھے دِل میں اَیسا سوچنے پر کِس نے مجبُور کر دیا؟ تُونے اِنسان سے نہیں بَلکہ خُدا سے جھُوٹ بولا ہے۔“ حننیاہؔ یہ باتیں سُنتے ہی، گِر پڑا اَور اُس کا دَم نکل گیا۔ اَور جِن لوگوں نے یہ سُنا اُن پر بڑا خوف طاری ہو گیا۔ تَب کچھ جَوان مَرد آئے اَور اُنہُوں نے اُس کی لاش کو کفن میں لپیٹا اَور باہر لے جا کر اُس کو دفن کر دیا۔ تقریباً تین گھنٹے بعد اُس کی بیوی وہاں آئی۔ وہ اِس ماجرے سے بے خبر تھی۔ پطرس نے اُس سے پُوچھا، ”مُجھے بتا، کیا زمین کی اِتنی ہی قیمت مِلی تھی؟“ اُس نے کہا، ”ہاں، کُل قیمت اِتنی ہی تھی۔“ پطرس نے اُس سے فرمایا، ”خُداوؔند کی پاک رُوح کو آزمانے کے لیٔے تُم کِس طرح راضی ہو گئے؟ سُنو! جِن لوگوں نے تیرے خَاوند کو دفن کیا اُن کے قدم دروازے تک پہُنچ چُکے ہیں، اَور وہ تُجھے بھی باہر لے جایٔیں گے۔“ وہ اُسی وقت پطرس کے قدموں میں گِر پڑی اَور اُس کا دَم نکل گیا۔ جَب جَوان مَرد اَندر آئے تو اُسے مُردہ پا کر باہر اُٹھالے گیٔے اَور اُسے اُس کے شوہر کے پہلوُ میں دفن کر دیا۔ (اعمال 5:1-10)

خاندان پر لعنت

لالچی اِنسان اَپنے خاندان کے لیٔے مُشکل کھڑی کرتا ہے، لیکن جسے رشوت سے نفرت ہے وہ زندہ رہتاہے۔ (امثال 15:27)
اِس لیٔے مَیں اُن کی بیویاں غَیر مَردوں کو اَور اُن کے کھیت نئے مالکوں کو دے دُوں گا۔ کیونکہ وہ سَب چُھوٹے سے بڑے تک، سبھی اَپنے مفاد کے لالچی ہیں؛ اَور کیا نبی اَور کیا کاہِنؔ، سبھی دغاباز ہیں۔ (یرمیاہؔ 8:10)
اُن پر افسوس جو بدی کا منصُوبہ باندھتے ہیں، اَور بِستر پر پڑے ہُوئے شرارت کا منصُوبہ بناتے ہیں! اَور صُبح ہوتے ہی اُس پر عَمل کرتے ہیں کیونکہ وہ عَمل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ وہ لالچ سے کھیتوں کو ضَبط کرلیتے ہیں، اَور گھروں کو چھین لیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو اُن کے گھروں سے، اَور اَپنے ہم جنسوں کو اُن کی مِیراث سے محروم کر دیتے ہیں۔ اِس لیٔے یَاہوِہ فرماتے ہیں: ”مَیں اُس قوم پر بربادی لانے کا اِرادہ کر رہا ہُوں، جِس سے تُم خُود کو بچا نہ سکوگے۔ اَور اَب غُرور سے چل نہ سکوگے، کیونکہ یہ مُصیبت کا وقت ہوگا۔ (میکاہؔ 2:1-3)

مال و اسباب پر لعنت

تو بھی تمہارے باپ نے دس بار میری مزدُوری بدل کر مُجھ سے فریب کیا لیکن خُدا نے اُن سے مُجھے نُقصان نہیں پہُنچنے دیا۔ چنانچہ خُدا نے تمہارے باپ کی بھیڑ بکریاں، لے کر مُجھے دے دیں۔ (پیدائش 31:7, 9)
ناجائز طور پر حاصل کئے خزانے کویٔی فائدہ نہیں پہُنچاتے، لیکن راستی موت سے نَجات دِلاتی ہے۔ (امثال 10:2)
بےایمانی سے حاصل کی ہُوئی دولت گھٹ جاتی ہے، لیکن محنت سے جمع کیا ہُوا رُوپیہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ (امثال 13:11)
اُن کے مکانات، اُن کے کھیت اَور اُن کی بیویاں دُوسروں کی ہو جائیں گی، کیونکہ مَیں اَپنا ہاتھ اِس مُلک کے باشِندوں کے خِلاف بڑھاؤں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”کیونکہ اُن میں چُھوٹوں سے لے کر بڑوں تک، سبھی اَپنے مفاد کے لالچی ہیں؛ اَور نبی سے لے کر کاہِنؔ تک، سبھی دغاباز ہیں۔ (یرمیاہؔ 6:12-13)
ناجائز طریقوں سے دولت حاصل کرنے والا شخص اُس تیتر کی مانند ہے جو دُوسرے پرندے کے دیئے ہُوئے اَنڈوں کو سیتی ہے وہ اَپنی آدھی عمر میں ہی اَپنی دولت کو چھوڑ جاتا ہے، اَور آخِر کو وہ احمق ثابت ہوتاہے۔ (یرمیاہؔ 17:11)
اَے صِیّونؔ کی بیٹی، اُٹھ اَور کُچل، کیونکہ مَیں تُجھے لوہے کے سینگ، اَور کانسے کے کھُر دُوں گا، اَور تُو بہت سِی قوموں کے ٹکڑے کر ڈالے گی۔ اَور اُن کے ناجائز آمدنی کے ذخیروں کو خُدا کی نذر کرےگی، اَور اُن کے مال کو زمین کے مالک، یَاہوِہ خُدا کے حُضُور میں لایٔے گی۔ (میکاہؔ 4:13)

غرور کی لعنت

جو آدمی بدی بوتا ہے وہ مُصیبت کاٹے گا، اَور اُس کے قہر کی لاٹھی ٹوٹ جائے گی۔ (امثال 22:8)

راہنما کے ماتحتوں پر لعنت

اگر کویٔی حاکم جھُوٹ پر کان لگاتاہے، تو اُس کے تمام اہلکار بدکارہو جاتے ہیں۔ (امثال 29:12)

ابدیت میں لعنت

مگر بُزدِلوں، بےاِعتقادو، گھِنونوں، قاتلوں، زناکاروں، جادُوگروں، بُت پرستوں اَور سَب جھوٹوں کی جگہ آگ اَور گندھک سے جلنے والی جھیل میں ہوگی۔ یہ دُوسری موت ہے۔“ (مُکاشفہ 21:8)
اَور اُس میں کویٔی ناپاک چیز یا کویٔی شخص جو شرمناک حرکت کرتا یا جھُوٹی باتیں گڑھتا ہے، ہرگز داخل نہ ہوگا، مگر وُہی ہوں گے جِن کے نام برّہ کی کِتاب حیات میں درج ہیں۔ (مُکاشفہ 21:27)
لیکن کُتّے، جادُوگر، زناکار، قاتل، بُت پرست اَور جھُوٹ بولنے والے اَور جھُوٹ کو پسند کرنے والے، یہ سَب اُس شہر سے باہر ہی رہ جایٔیں گے۔ (مُکاشفہ 22:15)

عام لعنتیں

”لعنت ہے اُس آدمی پرجو اَپنے ہمسایہ کی سرحد کا پتّھر کھسکائے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“ (اِستِثنا 27:17)
دھوکے سے حاصل کیا ہُوا کھانا آدمی کو میٹھا لگتا ہے، لیکن آخِرکار اُس کا مُنہ کنکروں سے بھرجاتا ہے۔ (امثال 20:17)
خُونی شہر پر افسوس، وہ جھُوٹ اَور غارت گری سے بھرا ہُواہے وہ کبھی جُرم سے باز نہیں رہتا! (ناحُومؔ 3:1)

لوگوں کا خیال کہ خدا بددیانتی کی سزا نہیں دیتا

”قادرمُطلق نے عدالت کے اوقات کیوں مُقرّر نہیں کیٔے؟ جو اُن کو جانتے ہیں اُنہیں بھی اَیسے دِنوں کی خبر نہیں؟ لوگ حُدوُد کے پتّھروں کو سرکاتے ہیں؛ وہ گلّوں کو ہانک لے جاتے ہیں اَور اُنہیں چَرانے لگتے ہیں۔ مرنے والوں کے کراہنے کی آوازیں شہر سے اُٹھتی ہیں، اَور زخمیوں کی جانیں دہائی دیتی ہیں۔ تو بھی خُدا کسی کو بدی کا ذمّہ دار نہیں ٹھہراتا۔ (ایُّوب 24:1-2, 12)

رشوت

لوگ رشوت دیتے ہیں

رشوت کارگر ہوتی ہے

رشوت دینے والے کے ہاتھ میں جادُو کا کام کرتی ہے؛ وہ ہر موڑ پر کامیاب ہو جاتا ہے۔ (امثال 17:8)
خُفیہ طور پر دیا ہُوا تحفہ، غُصّہ کو ٹھنڈا کرتا ہے، اَور چوغہ میں چھُپا کر دی ہُوئی رشوت بھی شدید غضب کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ (امثال 21:14)

شریر لوگ رشوت دیتے ہیں

آپ میری جان کو اُن گُنہگاروں کے ساتھ، اَور میری زندگی کو اُن خُونخواروں کے ساتھ نہ لیں، جِن کے ہاتھوں میں بُرے منصُوبے ہیں، اَور جِن کے داہنے ہاتھ رشوتوں سے بھرے ہُوئے ہیں۔ (زبُور 26:9-10)
بدکار خُفیہ طور پر رشوت لیتا ہے تاکہ وہ عدالتی کارروائی سے بچا رہے۔ (امثال 17:23)

رشوت دینے والوں کی مثالیں

لیکن شموایلؔ کے بیٹے اُس کے نقش قدم پر نہ چلے۔ وہ ناجائز نفع کمانے پرتُلے ہُوئے تھے رشوت لیتے اَور اِنصاف کا خُون کرتے تھے۔ (1 شموایلؔ 8:3)
تمہارے حُکمران سرکش ہو گئے ہیں، اَور چوروں کے ساتھی بَن گیٔے ہیں؛ اُن سَب کو رشوت عزیز ہے اَور وہ تحفوں کے پیچھے دَوڑتے ہیں۔ وہ یتیموں کے حُقُوق کا تحفُّظ نہیں کرتے؛ اَور نہ بیواؤں کی فریاد اُن تک پہُنچتی ہے۔ (یَشعیاہ 1:23)
اُن کے دونوں ہاتھ بدی کرنے میں ماہر ہیں؛ حاکم تحفے طلب کرتے ہیں، مُنصِف رشوت لیتا ہے، زبردست جو چاہتے ہیں، اُن سے کرواتے ہیں۔ وہ سَب مِل کر سازش کرتے ہیں۔ (میکاہؔ 7:3)
ابھی وہ عورتیں راستے ہی میں تھیں کہ پہرےداروں میں سے بعض شہر گیٔے اَور اہم کاہِنوں سے سارا ماجرا کہہ سُنایا۔ اِس پر اہم کاہِنوں نے بُزرگوں سے مِل کر مشورہ کیا اَور سپاہیوں کو منصُوبہ کے تحت، ایک بڑی رقم اَدا کی، اَور کہا، ”تُم یہ کہنا، ’رات کے وقت جَب ہم سو رہے تھے تو اُس کے شاگرد آئے اَور یِسوعؔ کی لاش کو چُرا لے گیٔے۔‘ اَور اگر یہ خبر حاکم کے کان تک پہُنچی تو ہم اُسے مطمئن کر دیں گے اَور تُمہیں خطرہ سے بچا لیں گے۔“ چنانچہ سپاہیوں نے رقم لے کر جَیسا اُنہیں سِکھایا گیا تھا وَیسا ہی کیا اَور یہ بات آج تک یہُودیوں میں مشہُور ہے۔ (متّی 28:11-15)
جَب پَولُسؔ نے راستبازی، پرہیزگاری اَور آنے والی عدالت کے بارے میں بَیان کیا تو فیلِکسؔ ڈر گیا اَور کہنے لگا، ”ابھی اِتنا ہی کافی ہے! تو جا سَکتا ہے۔ مُجھے فُرصت ملے گی تو مَیں تُجھے پھر بُلواؤں گا۔“ ساتھ ہی فیلِکسؔ کو یہ بھی اُمّید تھی کہ اُسے پَولُسؔ کی طرف سے رشوت ملے گی، لہٰذا وہ پَولُسؔ کو بار بار بُلاتا اَور اُس کے ساتھ گُفتگو کرتا تھا۔ (اعمال 24:25-26)

رشوت میں شریک نہ ہونے کا حکم

”تُم رشوت نہ لینا کیونکہ رشوت بیناؤں کو اَندھا کردیتی ہے اَور صادقوں کی باتوں کو بدل ڈالتی ہے۔ (خُروج 23:8)
تُم اِنصاف کا خُون نہ کرنا اَور نہ طرفداری کرنا۔ تُم رشوت نہ لینا کیونکہ رشوت دانشمند کی آنکھوں کو اَندھا کردیتی ہے اَور صادقوں کی باتوں کو بدل ڈالتی ہے۔ (اِستِثنا 16:19)

رشوت بگاڑ دیتی ہے

زبردستی رقم ہتھیا لینا، ایک دانِشور کو احمق بنا دیتاہے، اَور رشوت دِل کو بِگاڑ دیتی ہے۔ (واعظ 7:7)

خداوند کا رشوت نہ لینے کا نمونہ

کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا خداؤں کا خُدا ہیں، اَور خُداوندوں کا خُداوؔند ہیں۔ وہ خُدائے عظیم، قادر اَور مُہیب خُدا ہیں جو کسی کی طرفداری نہیں کرتے اَور نہ ہی رشوت لیتے ہیں۔ (اِستِثنا 10:17)

راہنما رشوت نہیں لے سکتے

لہٰذا تُمہیں یَاہوِہ کا خوف رہے اِس لیٔے احتیاط سے فیصلہ سُنانا کیونکہ یَاہوِہ ہمارے خُدا کے ہاں نااِنصافی یا جانِبداری یا رشوت خوری نہیں ہے۔“ (2 تواریخ 19:7)
بادشاہ عدل سے مُلک کو مُستحکم کرتا ہے، لیکن، جو رشوتوں کا لالچی ہوتاہے، اُسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالتا ہے۔ (امثال 29:4)

رشوت نہ لینے والوں کی مثالیں

میں یہاں تمہارے سامنے کھڑا ہُوں۔ اِس لئے تُم یَاہوِہ اَور اُس کے ممسوح کے آگے میرے مُنہ پر بتاؤ کہ مَیں نے کسی کا بَیل یا کسی کا گدھا لیا ہے؟ مَیں نے کِس کو رشوت لے کر دھوکا دیا؟ کِس پر ظُلم کیا؟ اَپنی آنکھیں بند کرنے کے لیٔے کِس کے ہاتھ سے مَیں نے رشوت لی؟ اگر مَیں نے کویٔی اَیسی بات کی ہے تو بتاؤ میں اُس کی تلافی کروں گا۔“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”تُم نے نہ تو ہم سے دغابازی کی اَور نہ ہی ہم پر ظُلم کیا۔ نہ ہی تُم نے کسی کے ہاتھ سے ناحق کویٔی چیز لی۔“ تَب شموایلؔ نے اُن سے کہا، ”یَاہوِہ تمہارا گواہ ہیں اَور شاؤل اُس کا ممسوح بھی آج کے دِن گواہ ہے کہ میرے پاس تمہارا کچھ نہیں نِکلا۔“ اُنہُوں نے کہا، ”یَاہوِہ گواہ ہیں۔“ (1 شموایلؔ 12:3-5)
کیا مَیں نے کبھی کہا، ’میری خاطِر کچھ دو؟ یا اَپنے مال میں سے میرے لیٔے کسی کو رشوت دو۔ (ایُّوب 6:22)

برکتیں اور لعنتیں

رشوت دینے والے لعنتی ہیں

”لعنت ہے اُس آدمی پرجو کسی بےگُناہ کو قتل کرنے کے لیٔے رشوت لے۔“ تَب ساری جماعت جَواب میں کہے، ”آمین!“ (اِستِثنا 27:25)
جو رشوت لے کر مُجرم کو تو بَری کر دیتے ہیں، لیکن بے قُصُور کے ساتھ اِنصاف نہیں کرتے۔ (یَشعیاہ 5:23)
تُجھ میں لوگ خُون بہانے کے لیٔے رشوت لیتے ہیں۔ تُو سُود لیتا ہے اَور حَد سے زِیادہ سُود وصول کرتا ہے اَور اَپنے پڑوسیوں سے زیادتی کرکے ناجائز منافع کماتا ہے اَور تُونے مُجھے بھلا دیا ہے۔ یہ یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔ ” ’تُونے جو ناجائز منافع کمایا اَور اَپنے اَندر خُون بہایا اُس کے لیٔے میں قہر میں یقیناً تالی بجاؤں گا۔ جِس دِن مَیں تیرا فیصلہ کروں گا اُس وقت کیا تُجھ میں برداشت کرنے کی ہمّت اَور کیا تیرے ہاتھوں میں قُوّت ہوگی؟ مَیں یَاہوِہ نے یہ فرمایاہے اَور مَیں اُسے کرکے رہُوں گا۔ مَیں تُجھے مُختلف قوموں میں پراگندہ کروں گا اَور مُلکوں میں بِکھیر دُوں گا اَور تیری ناپاکی کا خاتِمہ کر دُوں گا۔ (حزقی ایل 22:12-15)
تُم غریبوں کے بھُوسے پر بھی محصُول لیتے ہو، اَور اُن کے اناج پر بھی زبردستی محصُول لگاتے ہو۔ اِس لئے اگر تُم نے اَپنے لئے پتّھروں کے محلوں کو بھی تعمیر کیا ہو تو بھی، تُم اُس میں رہنے نہ پاؤگے؛ اگرچہ تُم نے نفیس تاکستان بھی لگائے ہوں تو بھی تُم اُن کی مَے نہ پی سکوگے۔ کیونکہ مَیں تمہاری بے شُمار خطاؤں اَور گُناہِ عظیم سے واقف ہُوں۔ تُم نیکوکار کو ستاتے ہو اَور رشوت لیتے ہو اَور اَپنی عدالت میں غریبوں کو اِنصاف سے محروم رکھتے ہو۔ (عامُوسؔ 5:11-12)
اُس کے سردار رشوت لے کر اِنصاف کرتے ہیں، اُس کے کاہِنؔ قیمت لے کر تعلیم دیتے ہیں، اَور اُس کے نبی رُوپیہ لے کر قِسمت بتاتے ہیں۔ پھر بھی وہ یَاہوِہ کی طرف متوجّہ ہوتے ہیں، ”اَور کہتے ہیں، کیا یَاہوِہ ہمارے درمیان نہیں ہے؟ ہمارے اُوپر کویٔی بُلا نہیں آئے گی۔“ اِس لیٔے صِیّونؔ تمہاری وجہ سے کھیت کی طرح ہل سے جوتا جائے گا، یروشلیمؔ کھنڈر ہو جائے گا، ہیکل کا پہاڑ جھاڑیوں سے ڈھکا ہُوا ٹیلہ بَن جائے گا۔ (میکاہؔ 3:11-12)

رشوت نہ دینے والے مبارک ہیں

داویؔد کا زبُور۔ اَے یَاہوِہ، آپ کے مَقدِس میں کون رہے گا؟ آپ کے مُقدّس پہاڑ پر کون سکونت کرےگا؟ جو اَپنا رُوپیہ سُود پر نہیں دیتا؛ اَور بے قُصُور کے خِلاف رشوت نہیں لیتا۔ اَیسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھائے گا۔ (زبُور 15:1, 5)
لالچی اِنسان اَپنے خاندان کے لیٔے مُشکل کھڑی کرتا ہے، لیکن جسے رشوت سے نفرت ہے وہ زندہ رہتاہے۔ (امثال 15:27)
وہ جو راست رَو اَور راست گو ہے، جو جبراً حاصل کئے ہُوئے نفع کو ٹھکراتا ہے اَور اَپنے ہاتھوں کو رشوت سے دُور رکھتا ہے، جو قتل کی خبریں سُننے سے اَپنے کان بند کر لیتا ہے اَور اَپنی آنکھیں موند لیتا ہے تاکہ بُرائی نہ دیکھے یہی وہ ہیں جو بُلندی پر سکونت پذیر ہوں گے، اَور پہاڑ کا قلعہ اُن کی پناہ گاہ ہوگا۔ اُن کو روٹی مُہیّا کی جائے گی، اَور اُنہیں پانی کی کمی نہ ہوگی۔ (یَشعیاہ 33:15-16)