قرض

کلامِ مقدس قرض سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے، اسے غلامی کی ایک صورت سمجھتا ہے اور ذمہ داریاں ادا کرنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ بائبل کی مثالیں قرض کے بوجھ اور قرض سے آزادی کی برکت دونوں کو دکھاتی ہیں اور خدا کے رزق اور مالی ذمہ داری پر توجہ دلاتی ہیں۔

ہمیں قرض دار نہ رہنے کی تلقین کی گئی ہے

آپَس کی مَحَبّت کے سِوا کسی چیز کے قرضدار نہ رہو کیونکہ جو دُوسروں سے مَحَبّت رکھتا ہے وہ گویا شَریعت پر عَمل کرتا ہے۔ (رُومیوں 13:8)

قرض کو غلامی سے تشبیہ دی گئی ہے

اَمیر، غریب پر حُکومت کرتا ہے، اَور اُدھار لینے والا، اُدھار دینے والے کا خادِم بَن جاتا ہے۔ (امثال 22:7)

دوسروں کے غلام نہ بننے کا حکم

تُم خرید لیٔے گیٔے ہو اَور تمہاری قیمت اَدا کی جا چُکی ہے؛ اَب آدمیوں کے غُلام مت بنو۔ (1 کُرِنتھِیوں 7:23)

قرض کی مشکلات کی مثالیں

اَور داویؔد گاتؔھ سے روانہ ہُوا اَور بچ کر عدُلّامؔ کے غار کی طرف نکل گیا۔ جَب اُس کے بھائیوں اَور اُس کے باپ کے گھرانے نے اِس کی بابت سُنا تو وہ وہاں اُس کے پاس پہُنچے۔ تمام لوگ جو مُصیبت میں تھے یا مقروض تھے یا غَیر مطمئن تھے اُس کے گرد جمع ہو گئے اَور داویؔد اُن کا سردار بَن گیا۔ اَور تقریباً چار سَو آدمی اُس کے ساتھ تھے۔ (1 شموایلؔ 22:1-2)
نبیوں کی جماعت کے ایک فرد کی بیوی نے الِیشعؔ سے فریاد کی، ”آپ کے خادِم، میرے خَاوند کی وفات ہو چُکی ہے اَور آپ جانتے ہیں کہ وہ یَاہوِہ سے ڈرتے اَور اُن کی تعظیم کرتے تھے۔ لیکن جِس کے وہ قرضدار تھے، اَب وہ قرضدار آیا ہے کہ میرے دونوں بیٹوں کو لے جائے اَور اَپنا غُلام بنا لے۔“ (2 سلاطین 4:1)
پھر آدمیوں اَور اُن کی بیویوں نے اَپنے یہُودی بھائیوں کے خِلاف شوروغل مچانا شروع کر دیا۔ بعض کہتے تھے کہ، ”ہم اَور ہمارے بیٹے اَور بیٹیاں بہت ہیں۔ ہمیں اناج مِلنا چاہئے تاکہ ہم کھایٔیں اَور زندہ رہیں۔“ بعض کہتے تھے کہ قحط میں اناج حاصل کرنے کے لیٔے ہم نے اَپنے کھیتوں، ”اَپنے انگوری باغات اَور اَپنے گھروں کو گروی رکھ دیا ہے۔“ اَور کیٔی تھے جو کہتے تھے کہ، ”ہم نے اَپنے کھیتوں اَور انگوری باغات پر بادشاہ کا لگان اَدا کرنے کے لیٔے قرض لیا تھا۔ اگرچہ ہم اَور ہمارے بھایٔی ایک ہی گوشت اَور خُون کے بنے ہُوئے ہیں اَور ہمارے بیٹے بھی اُتنے ہی اَچھّے ہیں جتنے اُن کے تاہم ہمیں اَپنے بیٹے اَور بیٹیوں کو مُلازمت کے لیٔے غُلامی قبُول کرنی پڑتی ہے۔ اَور ہماری کچھ بیٹیاں تو پہلے ہی غُلامی میں پہُنچ چُکی ہیں۔ لیکن ہم بےبس ہیں کیونکہ ہمارے کھیت اَور انگوری باغ دُوسروں کے قبضہ میں ہیں۔“ (نحمیاہ 5:1-5)
قرض خواہ اُس کا سَب کچھ چھین لے؛ اَور بیگانے اُس کی محنت کا پھل لُوٹ لیں۔ (زبُور 109:11)
یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”وہ طلاق نامہ کہاں ہے جسے لِکھ کر مَیں نے تمہاری ماں کو چھوڑ دیا تھا؟ یا اَپنے قرض خواہوں میں سے کس کے ہاتھ مَیں نے تُمہیں بیچا تھا؟ تُم تو اَپنے ہی گُناہوں کے باعث بِک گیٔے؛ اَور تمہاری خطاؤں کی وجہ سے تمہاری ماں کو طلاق دی گئی تھی۔ (یَشعیاہ 50:1)

قرض سے آزاد ہونا اچھی بات تھی

اَے میری ماں، مُجھ پر لعنت ہے، جو تُم نے مُجھ جَیسے اِنسان کو پیدا کیا، جِس سے سارا مُلک لڑتا اَور جھگڑتا ہے! نہ تو مَیں نے کسی کو قرض دیا، اَور نہ کسی سے اُدھار لیا، پھر بھی ہر شخص مُجھ پر لعنت بھیجتا ہے۔ (یرمیاہؔ 15:10)

قرض کو لعنت سمجھا جاتا تھا

اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت نہ کروگے اَور اُن کے سَب اَحکام اَور قوانین پرجو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں نہایت احتیاط سے عَمل نہ کروگے، تو تُم پر یہ سَب لعنتیں نازل ہوں گی اَور تمہارا یہ حال ہوگا: تمہارے درمیان رہنے والا پردیسی تُم سے زِیادہ ترقّی کرتا اَور سرفراز ہوتا جائے گا لیکن تُم روز بروز ناکامیاب اَور برباد ہوتے چلے جاؤگے۔ وہ پردیسی تُمہیں قرض دیں گے لیکن تُم اُنہیں قرض نہ دے سکوگے۔ اَور وہ سَر ہوں گے اَور تُم دُم ٹھہروگے۔ یہ سَب لعنتیں تُم پر نازل ہوں گی۔ وہ تمہارا تعاقب کریں گی اَور تُمہیں دبوچ لیں گی تاکہ تُم فنا ہو جاؤ، کیونکہ تُم نے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت نہ کی اَور اُن اَحکام اَور قوانین پر عَمل نہ کیا جو اُنہُوں نے تُمہیں دئیے تھے۔ (اِستِثنا 28:15, 43-45)

قرض سے آزاد ہونا برکت سمجھا جاتا تھا

مگر تمہارے درمیان کویٔی کنگال نہ رہے کیونکہ جِس مُلک کو یَاہوِہ تمہارے خُدا مِیراث کے طور پر تمہارے قبضہ میں دے رہے ہیں اُس میں وہ تُمہیں بہت برکت بخشیں گے، بشرطیکہ تُم پُورے طور سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی بات مان کر اُن تمام اَحکام پرجو میں آج تُمہیں دے رہا ہُوں نہایت احتیاط کے ساتھ عَمل کرو۔ کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے وعدہ کے مُطابق تُمہیں برکت بخشیں گے اَور تُم بہت سِی قوموں کو قرض دوگے لیکن تُم کسی سے قرض نہیں لوگے۔ تُم بہت سِی قوموں پر حُکمرانی کروگے لیکن تُم پر کویٔی حُکمرانی کرنے نہ پایٔےگا۔ (اِستِثنا 15:4-6)
اگر تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کی پُوری طور سے اِطاعت کروگے اَورجو اَحکام میں آج تُمہیں دے رہا ہُوں اُن پر احتیاط سے عَمل کروگے تو یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دُنیا کی سَب قوموں سے زِیادہ سرفراز کریں گے۔ اَور اگر تُم واقعی یَاہوِہ اَپنے خُدا کی اِطاعت کروگے تو یہ ساری برکتیں تُم پر نازل ہوں گی اَور تمہارے ساتھ رہیں گی: یَاہوِہ آسمان کو جو اُن کا عظیم مخزن ہے تمہارے لیٔے کھول دیں گے تاکہ تمہارے مُلک میں وقت پر مینہ برسے اَور تمہارے ہاتھ کے سَب کاموں کو جِن میں تُم ہاتھ لگاؤ برکت دیں گے؛ اَور تُم بہت سِی قوموں کو قرض دوگے لیکن آپ کسی کے مقروض نہ ہوگے۔ (اِستِثنا 28:1-2, 12)

قرض کی ادائیگی

خدا ترس لوگ قرض ادا کرتے ہیں

جَب تمہارے مقدور میں ہو، تو بھلائی کے حقداروں کو بھلائی سے محروم نہ رکھنا۔ جَب تمہارے پاس دینے کو کچھ ہو، تو اُس وقت اَپنے ہمسایہ سے یہ نہ کہنا، ”ابھی جاؤ، پھر آنا؛ یہ میں تُمہیں کل دُوں گا۔“ (امثال 3:27-28)

شریر لوگ قرض ادا نہیں کرتے

بدکار قرض لیتے ہیں لیکن اَدا نہیں کرتے، لیکن راستباز فیّاضی سے دیتے ہیں؛ (زبُور 37:21)

خداوند قرض سے نکلنے کے لیے معجزانہ طور پر وسائل مہیا کر سکتا ہے

نبیوں کی جماعت کے ایک فرد کی بیوی نے الِیشعؔ سے فریاد کی، ”آپ کے خادِم، میرے خَاوند کی وفات ہو چُکی ہے اَور آپ جانتے ہیں کہ وہ یَاہوِہ سے ڈرتے اَور اُن کی تعظیم کرتے تھے۔ لیکن جِس کے وہ قرضدار تھے، اَب وہ قرضدار آیا ہے کہ میرے دونوں بیٹوں کو لے جائے اَور اَپنا غُلام بنا لے۔“ الِیشعؔ نے اُس سے دریافت کیا، ”مَیں تمہاری کیا مدد کر سَکتا ہُوں؟ مُجھے بتاؤ کہ تمہارے گھر میں کیا کچھ ہے؟“ اُس عورت نے جَواب دیا، ”آپ کی خادِمہ کے گھر میں ایک مرتبان تیل کے سِوا اَور کچھ نہیں ہے۔“ الِیشعؔ نے اُس سے کہا، ”جاؤ اَور اَپنے ہمسایوں سے خالی برتن مانگ لو، لیکن یہ خیال رکھنا کہ وہ تعداد میں تھوڑے نہ ہوں۔ پھر تُم اَپنے بیٹوں کو ساتھ لے کر گھر کے اَندر جانا اَور دروازہ بند کر لینا اَور اُن سَب برتنوں میں اَپنے مرتبان سے تیل اُنڈیلنا اَورجو بھر جائے اُسے اُٹھاکر ایک طرف الگ رکھ دینا۔“ تَب وہ عورت اُن کے پاس سے چلی گئی اَور اَپنے بیٹوں کے ساتھ اَپنے گھرجاکر اَندر سے دروازہ بند کر لیا۔ اَور اُس کے بیٹے اُس کے پاس برتن لاتے گیٔے اَور وہ اُن میں تیل اُنڈیلتی گئی۔ جَب تمام برتن بھر گیٔے، تو اُس نے اَپنے بیٹوں سے کہا، ”میرے پاس ایک اَور برتن لاؤ۔“ لیکن اُس کے بیٹوں نے جَواب دیا، ”اَب اَور کویٔی برتن نہیں ہے۔“ تَب تیل بہنا بندہو گیا۔ تَب اُس عورت نے جا کر مَرد خُدا کو خبر دی اَور اُنہُوں نے حُکم دیا، ”جاؤ، یہ تیل بیچ کر اَپنا قرض اَدا کر دو۔ اَورجو تیل باقی بچ جایٔے، اُس سے تُم اَور تمہارے بیٹے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔“ (2 سلاطین 4:1-7)

ہر ساتویں سال قرضوں کی معافی – پرانے عہد نامے کے ایمانداروں کے لیے شریعت

ہر سات سال کے پُورا ہونے پر تُم قرض ضروُر مُعاف کیا کرنا۔ اَور مُعاف کرنے کا طریقہ یہ ہو: اگر کسی نے اَپنے اِسرائیلی پڑوسی کو کچھ قرض دیا ہو تو وہ اُسے منسُوخ کر دے؛ وہ اَپنے اِسرائیلی پڑوسی یا بھایٔی سے اُس کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ قرض مُعاف کرنے کے لیٔے یَاہوِہ کے مُعیّنہ وقت کا اعلان کیا جا چُکاہے۔ ہاں، تُم کسی پردیسی سے تو اُس کا مطالبہ کر سکتے ہو لیکن جو قرض تمہارے بھایٔی کے پاس واجِبُ الادا ہو، وہ ضروُر مُعاف کر دیا جائے۔ مگر تمہارے درمیان کویٔی کنگال نہ رہے کیونکہ جِس مُلک کو یَاہوِہ تمہارے خُدا مِیراث کے طور پر تمہارے قبضہ میں دے رہے ہیں اُس میں وہ تُمہیں بہت برکت بخشیں گے، بشرطیکہ تُم پُورے طور سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی بات مان کر اُن تمام اَحکام پرجو میں آج تُمہیں دے رہا ہُوں نہایت احتیاط کے ساتھ عَمل کرو۔ کیونکہ یَاہوِہ تمہارے خُدا اَپنے وعدہ کے مُطابق تُمہیں برکت بخشیں گے اَور تُم بہت سِی قوموں کو قرض دوگے لیکن تُم کسی سے قرض نہیں لوگے۔ تُم بہت سِی قوموں پر حُکمرانی کروگے لیکن تُم پر کویٔی حُکمرانی کرنے نہ پایٔےگا۔ جو مُلک یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں دے رہے ہیں، اَور اگر اُس مُلک کے کسی شہر میں تمہارے اِسرائیلی بھائیوں میں کُچھ غریب ہُوں، تو اُن غریب بھائیوں کی طرف نہ تو اَپنا دِل سخت کرنا اَور نہ اَپنی مُٹّھی بند رکھنا۔ بَلکہ اُن کی جو بھی ضروُرت ہو اُسے پُورا کرنے کے لیٔے اُسے نہایت ہی کھُلے دِل سے مدد کرنا یا بے تکلّفی سے قرض دینا۔ خبردار رہو کہ کہیں تمہارے ذہن میں یہ بُرا خیال نہ آئے: ”ساتواں سال جو قرضوں کے مُعاف کرنے کا سال ہے، وہ نزدیک ہے،“ اَور تُم اَپنے حاجت مند اِسرائیلی بھایٔی کی طرف بُری نیّت سے دیکھو اَور اُسے کچھ نہ دو؛ اَور وہ یَاہوِہ سے تمہارے خِلاف فریاد کرے اَور تُم مُجرم ٹھہرو۔ تُم اُسے نہایت فراخدلی سے دو اَور اُس کو دیتے وقت تمہارے دِل میں کویٔی گُریز بھی نہ ہو؛ تَب اِس سبب سے یَاہوِہ تمہارے خُدا تمہارے سَب کاموں میں اَور سَب مُعاملوں میں جنہیں تُم اَپنے ہاتھ میں لوگے، تُمہیں برکت بخشیں گے۔ اَور حالانکہ مُلک میں تو غریب ہمیشہ پایٔے جایٔیں گے۔ اِس لیٔے میں تُمہیں حُکم دیتا ہُوں کہ تُم اَپنے مُلک میں اَپنے بھائیوں اَور مفلسوں اَور مُحتاجوں کے لیٔے اَپنی مُٹّھی کھُلی رکھنا۔ (اِستِثنا 15:1-11)
تَب مَوشہ نے اُنہیں حُکم دیا: ”ہر سات سال کے اِختتام پرجو قرض مُعاف کرنے کا سال ہے، خیموں کی عید کے موقع پر، جَب سَب اِسرائیلی یَاہوِہ تمہارے خُدا کے حُضُور اُن کے مُنتخب مقام پر آکر حاضِر ہوں، تَب تُم یہ آئین اُن کے سامنے پڑھ کر سُنانا۔ (اِستِثنا 31:10-11)
”اگر پڑوسی مُلک تِجارت کا سامان یا اناج بیچنے کے لیٔے سَبت کے دِن لائیں تو ہم سَبت کے دِن یا کسی مُقدّس دِن اُسے اُن سے ہرگز نہ خریدیں گے۔ ہر ساتویں سال ہم زمین نہیں جوتیں گے اَور قرض دی ہُوئی رقم مُعاف کر دیں گے۔ (نحمیاہ 10:31)

قرض کی ادائیگی کی دیگر مثال

اَور اگر اُس نے تیرا کچھ نُقصان کیا ہے یا اُس پر تیرا کچھ قرض ہے تو اُسے میرے نام لِکھ لینا۔ میں پَولُسؔ اَپنے ہاتھ سے یہ لِکھتا ہُوں کہ تُجھے اَدا کر دُوں گا۔ یہ لکھنے کی کویٔی ضروُرت نہیں کہ میرا قرض جو تُجھ پر ہے وہ تُم خُود ہی ہو۔ (فِلیمون 18-19)

تعلیم میں قرض داری کی مثالیں

یسوع مسیح کی تعلیم

تَب پطرس نے یِسوعؔ کے پاس آکر پُوچھا، ”اَے خُداوؔند، اگر میرا بھایٔی یا بہن میرے خِلاف گُناہ کرتا رہے تو میں اُسے کتنی دفعہ مُعاف کروں؟ کیا سات بار تک؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”مَیں تُجھ سے سات دفعہ نہیں، لیکن ستّر کے سات گُنا تک مُعاف کرنے کے لیٔے کہتا ہُوں۔ ”پس آسمانی بادشاہی اُس بادشاہ کی مانِند ہے جِس نے اَپنے خادِموں سے حِساب لینا چاہا۔ اَور جَب وہ حِساب لینے لگا تو، ایک قرضدار اُس کے سامنے حاضِر کیا گیا جو بادشاہ سے لاکھوں رُوپے قرض لے چُکاتھا۔ مگر اُس کے پاس قرض چُکانے کے لیٔے کُچھ نہ تھا، اِس لیٔے اُس کے مالک نے حُکم دیا کہ اُسے، اُس کی بیوی کو اَور بال بچّوں کو اَورجو کُچھ اُس کا ہے سَب کُچھ بیچ دیا جائے اَور قرض وصول کر لیا جائے۔ ”پس اُس خادِم نے مالک کے سامنے گِر کر اُسے سَجدہ کیا اَور کہا، ’اَے مالک مُجھے کُچھ مہلت دے اَور مَیں تیرا سارا قرض چُکا دُوں گا۔‘ مالک نے خادِم پر رحم کھا کر اُسے چھوڑ دیا اَور اُس کا قرض بھی مُعاف کر دیا۔ ”لیکن جَب وہ خادِم وہاں سے باہر نِکلا تو اُسے ایک اَیسا خادِم مِلا جو اُس کا ہم خدمت تھا اَور جسے اُس نے سَو دینار قرض کے طور پر دے رکھا تھا۔ اُس نے اُسے پکڑکر اُس کا گلا دبایا اَور کہا، ’لا، میری رقم واپس کر!‘ ”پس اُس کے ہم خدمت نے اُس کے سامنے گِر کر اُس کی مِنّت کی اَور کہا، ’مُجھے مہلت دے، میں سَب اَدا کر دُوں گا۔‘ ”لیکن اُس نے ایک نہ سُنی اَور اُس کو قَیدخانہ میں ڈال دیا تاکہ قرض اَدا کرنے تک وہیں رہے۔ پس جَب اُس کے دُوسرے خادِموں نے یہ حال دیکھا تو وہ بہت غمگین ہُوئے اَور مالک کے پاس جا کر اُسے سارا واقعہ کہہ سُنایا۔ ”تَب مالک نے اُس خادِم کو بُلوا کر فرمایا، ’اَے شریر خادِم! مَیں نے تیرا سارا قرض اِس واسطے مُعاف کر دیا تھا کہ تُونے میری مِنّت کی تھی۔ کیا تُجھے لازِم نہ تھا کہ جَیسے مَیں نے تُجھ پر رحم کیا، تو تُو بھی اَپنے ہم خدمت پر وَیسے ہی رحم کرتا؟‘ اَور مالک نے غُصّہ میں آکر اُس خادِم کو سپاہیوں کے حوالہ کر دیا تاکہ قرض اَدا کرنے تک اُن کی قَید میں رہے۔ ”اگر تُم میں سے ہر ایک اَپنے بھایٔی یا بہن کو دِل سے مُعاف نہ کرے تو میرا آسمانی باپ بھی تمہارے ساتھ اِسی طرح پیش آئے گا۔“ (متّی 18:21-35)
یِسوعؔ نے شمعُونؔ سے کہا، ”شمعُونؔ، مُجھے تُجھ سے کُچھ کہنا ہے۔“ اُس نے کہا، ”اَے اُستاد محترم کہئیے۔“ ”کسی ساہوکار کے دو قرضدار تھے۔ ایک نے پانچ سَو دینار، اَور دُوسرے نے پچاس دینار لیٔے تھے۔ اُن کے پاس قرض اَدا کرنے کو کُچھ بھی نہ تھا، لہٰذا اُس نے دونوں کو اُن کا قرض مُعاف کر دیا۔ اُن میں سے کون اُسے زِیادہ مَحَبّت کرےگا؟“ شمعُونؔ نے جَواب دیا، ”میرے خیال میں وہ جسے اُس نے زِیادہ مُعاف کیا۔“ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”تیرا فیصلہ صحیح ہے۔“ (لُوقا 7:40-43)

پولُس کی تعلیم

اَور اَحکام کے قانُونی دستاویز کو جو ہمارے خِلاف لکھے گیٔے تھے، اَور ہمیں مُجرم ٹھہراتے تھے اُسے المسیح نے موقُوف کرکے صلیب پر کیلوں سے جڑ کر، ہماری نظروں سے دُور کر دیا۔ (کلُسّیِوں 2:14)

ضمانت دینا (ضامن بننا/ہاتھ پر ہاتھ مارنا)

ضمانت دینے کی حوصلہ شکنی

نادان آدمی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر قَسم کھاتا ہے اَور اَپنے ہمسایہ کے لیٔے ضامن ہو جاتا ہے۔ (امثال 17:18)
جو کسی بیگانہ کا ضامن ہو، اُس کا کپڑا چھین کر رکھ لو؛ اَور اگر اُس نے کسی اجنبی عورت کی ضمانت دی ہو تو اُس کے کپڑے کو گروی رکھ لو۔ (امثال 20:16)
جو کسی بیگانہ کا ضامن ہو، اُس کا کپڑا چھین کر رکھ لو؛ اَور اگر اُس نے کسی اجنبی عورت کی ضمانت دی ہو تو اُس کے کپڑے کو گروی رکھ لو۔ (امثال 27:13)

ضمانت دینا خطرناک ہے

جو کسی بیگانے کی ضمانت دیتاہے، یقیناً نُقصان اُٹھاتا ہے، لیکن جو ضمانت دینے سے اِنکار کرتا ہے وہ سلامت رہتاہے۔ (امثال 11:15)
تُم اَیسے آدمی نہ بنو جو کسی کے قرض اَدا کرنے کا ذمّہ لیتے ہیں، یا قرضداروں کی ضمانت دیتے ہیں؛ کیونکہ اگر تمہارے پاس اَدا کرنے کو کچھ نہ ہو، تو تمہارے نیچے سے تمہارا بِستر بھی کھینچ لیا جائے گا۔ (امثال 22:26-27)

ضمانت سے چھٹکارا

اَے میرے بیٹے! اگر تُم نے اَپنے پڑوسی کی ضمانت دی ہے، اَور اگر تُم نے کسی اجنبی سے شرط لگا کر ذمّہ داری قبُول کی ہے، اگر تُم اَپنی ہی باتوں کے پھندے میں پھنس گئے ہو۔ اَور اَپنے ہی مُنہ کی باتوں سے پکڑے گئے ہو، تو اَے میرے بیٹے! اَپنے آپ کو بچانے کی تدبیر کرو، کیونکہ تُم اَپنے پڑوسی کے ہاتھ میں پڑ چُکے ہو: جاؤ اَور نہایت خاکساری سے؛ اَپنے پڑوسی سے اِلتجا کرو! اَپنی آنکھوں میں نیند نہ آنے دو، اَور نہ اَپنی پلکوں کو جھپکنے دو۔ تُم اَپنے آپ کو ہِرنی کی مانند شِکاری کے ہاتھ سے، اَور چڑیا کی مانند صیّاد کے جال سے چھُڑا لو۔ (امثال 6:1-5)