کاروبار
وہ مِصر سے ایک رتھ چاندی کے چھ سَو ثاقل اَور ایک گھوڑا ایک سَو پچاس ثاقل میں مِصر سے درآمد کرتے تھے اَور اُنہیں حِتّیوں اَور ارامیوں کے تمام بادشاہوں کو بھی برآمد کرتے تھے۔ (1 سلاطین 10:29)
خریدار کہتاہے، ”یہ ٹھیک نہیں، یہ اَچھّا نہیں!“ لیکن جَب چل پڑتا ہے تو اَپنی خرید پر فخر کرتا ہے۔ (امثال 20:14)
اَور اَب میری بات سُنو! تُم جو یہ کہتے ہو، ”آج یا کل ہم فُلاں فُلاں شہر میں جایٔیں گے، ایک بَرس وہاں ٹھہریں گے اَور کاروبار کرکے رُوپیہ کمائیں گے۔“ جَب کہ سچ تو یہ کہ تُم یہ بھی نہیں جانتے کہ کل کیا ہوگا؟ ذرا سُنو تو؛ تمہاری زندگی ہے ہی کیا؟ وہ صِرف دُھواں کی مانند ہے جو تھوڑی دیر کے لیٔے نظر آتی اَور پھر غائب ہو جاتی ہے۔ اِس کے بجائے تُمہیں یہ کہنا چاہئے، ”اگر ربّ کی مرضی ہُوئی تو ہم زندہ رہیں گے اَور یہ یا وہ کام بھی کریں گے۔“ (یعقوب 4:13-15)
زنا کے مالی نتائج
اَیسا نہ ہو کہ بیگانہ تمہاری دولت سے عید منائیں اَور تمہاری محنت کی کمائی کسی اجنبی کے گھر جائے۔ (امثال 5:10)
وہ کویٔی مُعاوضہ قبُول نہ کرےگا؛ اَور رشوت لینے سے بھی اِنکار کرےگا خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ (امثال 6:35)
جو آدمی حِکمت سے مَحَبّت رکھتا ہے وہ اَپنے باپ کو خُوش کرتا ہے، لیکن جو فاحِشہ عورتوں کی صحبت میں رہتاہے، اَپنی دولت اُڑا دیتاہے۔ (امثال 29:3)
انسانی دل
تُم کنجوس آدمی کی روٹی نہ کھانا، اَور نہ اُس کے لذیذ کھانے کی تمنّا کرنا؛ کیونکہ وہ اَیسا آدمی ہے جو دِل کا کنجوس ہے وہ تُم سے کہتاہے، ”کھائیے اَور پیجئے!“ لیکن یہ بات اُس کے دِل سے نہیں، صِرف مُنہ سے نکلتی ہے۔ تُم نے جو تھوڑا بہت کھایا ہوگا اُسے تُم اُگل دوگے، اَور تمہارے تعریفی کلمات بے سُود ثابت ہوں گے۔ (امثال 23:6-8)
میری قوم کے لوگ ہمیشہ کی طرح تیرے پاس آتے ہیں اَور تیرے سامنے تیری باتیں سُننے کے لیٔے بیٹھتے ہیں لیکن وہ اُن پر عَمل نہیں کرتے۔ اَپنے مُنہ سے تو وہ بہت اِحترام جتاتے ہیں لیکن اُن کے دِل ناجائز منافع کے لالچی ہیں۔ (حزقی ایل 33:31)
لیکن اگر تُم اَپنے دِل میں سخت جلن اَور خُود غرضی رکھتے ہو تو حق کے خِلاف شیخی نہ مارو، اَور نہ ہی جھُوٹ بولو۔ اَیسی حِکمت آسمان کی طرف سے نہیں اُترتی، بَلکہ دُنیوی، نَفسانی اَور شیطانی ہوتی ہے۔ کیونکہ جہاں جلن اَور خُود غرضی ہوتی ہے وہاں فساد اَور ہر طرح کا بُرا کام بھی پایا جاتا ہے۔ (یعقوب 3:14-16)
تُم کسی چیز کی خواہش کرتے ہو، مگر وہ تُمہیں حاصل نہیں ہوتی۔ اِس لیٔے تُم خُون کر دیتے ہو۔ جلن کی وجہ سے تُم جھگڑتے اَور لڑتے ہو کیونکہ تُم حاصل نہیں کر پاتے ہو۔ تُمہیں اِس لیٔے نہیں ملتا کیونکہ تُم خُدا سے نہیں مانگتے۔ اَور جَب مانگتے ہو تو پاتے نہیں کیونکہ بُری نیّت سے مانگتے ہو تاکہ اُسے عیش و عشرت میں خرچ کر سکو۔ (یعقوب 4:2-3)
اَور لالچ کے سبب سے اَیسے اُستاد تُمہیں فرضی قصّے سُنا کر تُم سے ناجائز فائدہ اُٹھائیں گے۔ لیکن اُن پر بہت پہلے ہی سزا کا حُکم ہو چُکاہے اَور اُن کی ہلاکت جلد ہونے والی ہے۔ (2 پطرس 2:3)
شادی کے بارے میں پرانے عہد نامے کی شریعت
اَور اگر تُم اُس سے خُوش نہ ہو، تو جہاں وہ جانا چاہے اُسے جانے دینا۔ تُم اُسے قیمت میں ہرگز نہ بیچنا اَور نہ ہی اُس کے ساتھ غُلام کا سا سلُوک کرنا، کیونکہ تُم نے اُسے بےحُرمت کیا ہے۔ (اِستِثنا 21:14)
بعض لوگوں کو پیسے کی کوئی فکر نہیں
دیکھو، مَیں میدی یا مادیوں کو اُن کے خِلاف اُبھاروں گا، جو چاندی کی پروا نہیں کرتے نہ ہی سونے میں کویٔی دلچسپی رکھتے ہیں۔ (یَشعیاہ 13:17)
گِبعونیوں نے اُسے جَواب دیا کہ، ”ہمیں کویٔی حق نہیں کہ شاؤل یا اُس کے گھرانے سے چاندی یا سونے کا مطالبہ کریں۔ نہ ہی ہمیں یہ اِختیار ہے کہ اِسرائیل میں سے کسی کی جان لیں۔“ تَب داویؔد نے اُن سے پُوچھا کہ پھر تُم کیا چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لیٔے کروں؟ (2 شموایلؔ 21:4)
متفرق
اُس نے کہا: ”اَے میری بیٹی! یَاہوِہ تُجھے برکت دیں۔ تمہاری یہ مہربانی اُس سے بھی بڑھ کر ہے جو تُم نے پہلے اَپنے خاندان پر دِکھائی تھی۔ تُم کسی اَمیر یا غریب نہ کوئی نوجوان کے پیچھے نہیں گئی۔ (رُوتؔ 3:10)
جو اَپنا اناج جمع کرکے بیچتا نہیں لوگ اُس پر لعنت بھیجتے ہیں، لیکن جو اُسے بیچتا ہے وہ برکت کا تاج پہنے گا۔ (امثال 11:26)
جو فروتن ہے لیکن ایک نوکر کا مالک ہے وہ اُس شیخی باز سے جو روٹی کا مُحتاج ہو بہتر ہے۔ (امثال 12:9)
سچّائی کو خرید لو اَور اُسے فروخت نہ کرنا؛ اَور حِکمت، تربّیت اَور فہم کو حاصل کرنا۔ (امثال 23:23)
وہ بدکاروں کے درمیان دفنایا گیا، لیکن ایک اَیسی قبر میں رکھا گیا جو کسی دولتمند کے لیٔے بنائی گئی تھی، حالانکہ اُس نے کبھی ظُلم نہ کیا، نہ ہی اُن کے مُنہ سے کویٔی فریب کی بات نکلی۔ (یَشعیاہ 53:9)
تَب حُضُور نے اُن سے فرمایا، ”شَریعت کا ہر عالِم جو آسمانی بادشاہی کا شاگرد بنا ہے، وہ اُس گھر کے مالک کی مانِند ہے جو اَپنے ذخیرہ سے نئی اَور پُرانی، دونوں چیزیں نکالتا ہے۔“ (متّی 13:52)
ایک خاتُون تھی جِس کے بَارہ بَرس سے خُون جاری تھا۔ وہ کیٔی طبیبوں سے علاج کراتے کراتے پریشان ہو گئی تھی اَور اَپنی ساری پُونجی لُٹا چُکی تھی، لیکن تندرست ہونے کی بجائے پہلے سے بھی زِیادہ بیمار ہو گئی تھی۔ (مرقُس 5:25-26)
سالار نے کہا، ”مَیں نے تو ایک کثیر رقم اَدا کرکے رُومی شہریت حاصل کی تھی۔“ ”لیکن مَیں تو پیدائشی رُومی ہُوں،“ پَولُسؔ نے جَواب دیا۔ (اعمال 22:28)
راستباز پر جرمانہ نہ کریں
کسی بے قُصُور کو سزا دینا اَچھّا نہیں ہے، نہ ہی اہلکاروں کو ناحق کوڑے لگانا۔ (امثال 17:26)
خداوند کی عدالتیں
اُس وقت ہر اُس جگہ جہاں ہزار چاندی کے ثاقلوں کے ہزار انگوری بیلوں کی جگہ میں وہاں صِرف جھاڑیاں اَور اُونٹ کٹارے ہوں گے۔ (یَشعیاہ 7:23)
لیکن اُس کا منافع اَور اُس کی کمائی یَاہوِہ کے لیٔے وقف کئے جایٔیں گے۔ لیکن یہ رقم نہ تو خزانہ میں داخل ہوگی، نہ ہی اِس کا ذخیرہ کیا جائے گا۔ اُس کا منافع اُن لوگوں کو جائے گا جو یَاہوِہ کے حُضُور کثرت سے رہتے ہیں تاکہ خُوراک اَور عُمدہ لباس پہنیں۔ (یَشعیاہ 23:18)
مسیحا کامیاب ہوگا
دیکھو، میرا خادِم حِکمت سے کام لے گا؛ وہ سرفراز ہوں گے، اُوپر اُٹھایا جائے گا اَور بڑا عروج پایٔےگا۔ (یَشعیاہ 52:13)
پھر بھی یہ یَاہوِہ کی مرضی تھی کہ اُسے کُچلے اَور غمگین کرے، اَور حالانکہ یَاہوِہ اُس کی جان کو خطا کی قُربانی قرار دیتے ہیں، تو بھی وہ اَپنی اَولاد دیکھ پایٔےگا اَور اُس کی عمر دراز ہوگی، اَور اُس کے ہاتھ کے وسیلہ سے یَاہوِہ کی مرضی پُوری ہوگی۔ (یَشعیاہ 53:10)
خداوند کے ساتھ تعلق خریدا نہیں جا سکتا
”آؤ اَے سَب پیاسے لوگو، پانی کے پاس آؤ؛ اَور جِن کے پاس پیسے نہیں، وہ بھی آؤ، لو اَور کھاؤ! آؤ اَور بِنا نقدی اَور بنا قیمت مَے اَور دُودھ خریدو۔ جو روٹی نہیں تُم اُس چیز کے لیٔے پیسہ کیوں خرچ کرتے ہو، اَورجو شَے سیر نہیں کرتی اُس کے واسطے محنت کیوں کرتے ہو؟ سُنو، میری سُنو، اَورجو چیز اَچھّی ہے وُہی کھاؤ، اَور تمہاری جان لذیذ کھانوں کے مزے لے گی۔ (یَشعیاہ 55:1-2)
بے وفائی کو زناکاری کے برابر قرار دیا گیا
ہر فاحِشہ اُجرت پاتی ہے لیکن تُو اَپنے تمام عاشقوں کو تحفے پیش کرتی ہے تاکہ وہ للچا کر ہر طرف سے تیرے پاس آئیں اَور تُجھ سے ناجائز تعلّقات رکھیں۔ چنانچہ تُو اَپنی زناکاری میں اَوروں سے مُختلف ہے۔ کویٔی تیرے پیچھے زناکاری کے لیٔے نہیں لپکتا، تُو بالکُل مُختلف ہے کیونکہ تُو اُجرت دیتی ہے، اُجرت لیتی نہیں۔ (حزقی ایل 16:33-34)
کاہنوں اور زمین سے متعلق قوانین
وہ اُس کا کویٔی حِصّہ نہ بیچیں نہ بدلیں۔ یہ زمین کا بہترین حِصّہ ہے جو کسی اَور کے ہاتھوں میں نہ پڑے کیونکہ یہ یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس ہے۔ (حزقی ایل 48:14)
بےدین خداوند کو حقیر جانتے ہیں
تَب مَیں نے اُن سے کہا، ”اگر تُم ٹھیک سمجھتے ہو تو تُم میری مزدُوری مُجھے دے دو؛ مگر نہیں دینا چاہتے ہو تو مت دو۔“ تَب اُنہُوں نے میری مزدُوری کے چاندی کے تیس سِکّے مُجھے دئیے۔ تَب یَاہوِہ نے مُجھ سے فرمایا، ”اِس رقم کو کُمہار کے سامنے پھینک دو،“ یعنی اُس بڑی قیمت کو جو اُنہُوں نے میرے لیٔے ٹھہرائی تھی۔ اِس لئے مَیں نے اُن چاندی کے تیس سِکّوں کو لے کر یَاہوِہ کے گھر کے صحن میں کُمہار کے سامنے پھینک دیا۔ (زکریاؔہ 11:12-13)
جس کے پاس ہے اسے اور دیا جائے گا؛ جس کے پاس نہیں اس سے سب لے لیا جائے گا
پھر آپ نے اُن سے فرمایا، ”تُم کیا سُنتے ہو اُس کے بارے میں غور کرو، جِس پیمانہ سے تُم ناپتے ہو، تُمہیں بھی اُسی ناپ سے ناپا جائے گا بَلکہ کُچھ زِیادہ ہی۔ کیونکہ جِس کے پاس ہے اُسے اَور بھی دیا جائے گا اَور اُس کے پاس اِفراط سے ہوگا لیکن جِس کے پاس نہیں ہے، اُس سے وہ بھی جو اُس کے پاس ہے، لے لیا جائے گا۔“ (مرقُس 4:24-25)
نجات پر فرشتوں کی خوشی کو واضح کرنے کے لیے پیسے کی مثال
”یا فرض کرو کہ کسی عورت کے پاس چاندی کے دس سِکّے ہوں اَور ایک کھو جائے تو کیا وہ چراغ جَلا کر، گھر میں جھاڑو نہ لگاتی رہے گی اَور جَب تک مِل نہ جائے اُسے ڈھونڈتی نہ رہے گی؟ اَور ڈھونڈ لینے کے بعد وہ اَپنی سہیلیوں اَور پڑوسیوں کو ساتھ بُلاکر یہ نہ کہےگی، ’میرے ساتھ مِل کر خُوشی مناؤ کیونکہ مَیں نے اَپنا کھویا ہُوا چاندی کا سِکّہ پالیاہے۔‘ پس میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح ایک گُنہگار کے تَوبہ کرنے پر بھی خُدا کے فرشتوں کے درمیان خُوشی منائی جاتی ہے۔“ (لُوقا 15:8-10)
ابتدائی کلیسیا میں ملکیت کا نقطۂ نظر
حُضُور المسیح پر ایمان لانے والے تمام افراد اِکٹھّے رہتے تھے اَور تمام چیزوں میں ایک دُوسرے کو شریک سمجھتے تھے۔ وہ اَپنی جائداد اَور مال و اَسباب بیچ بیچ کر ہر ایک کو اُس کی ضروُرت کے مُطابق وہ رقم تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ (اعمال 2:44-45)
مُومِنین کی جماعت ایک دِل اَور ایک جان تھی۔ کویٔی بھی اَیسا نہ تھا جو اَپنے مال کو صِرف اَپنا سمجھتا ہو بَلکہ دُوسروں کو بھی ساری چیزوں میں شریک سمجھتا تھا۔ اَور رسول بڑی قُدرت کے ساتھ خُداوؔند یِسوعؔ کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی گواہی دیتے تھے۔ اَور اُن سَب پر خُدا کا بڑا فضل تھا اُن میں کویٔی بھی مُحتاج نہ تھا۔ وقتاً فوقتاً جو لوگ زمین یا مکان کے مالک تھے وہ اُنہیں بیچ بیچ کر، اُن کی قیمت لاتے تھے۔ اَور اُسے رسولوں کے قدموں میں رکھ دیتے تھے، اَور ہر ایک کو اُس کی ضروُرت کے مُطابق وہ رقم تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ یُوسیفؔ، ایک لیوی جو سائپرسؔ کا باشِندہ تھا، اُس کو رسولوں نے بَرنباسؔ کا نام دیا جِس کا مطلب ہے ”نصیحت کا بیٹا“)، اُس نے اَپنا کھیت بیچا اَور قیمت لاکر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔ (اعمال 4:32-37)
خداوند کو جاننے والے قیمتی بُری چیزیں چھوڑ دیتے ہیں
کیٔی لوگوں نے جو ایمان لایٔے تھے، آکر اَپنے بُرے کاموں کا برملا اِظہار اَور اقرار کیا۔ کیٔی جو جادُوگری کرتے تھے، اَپنے طُوماروں کو جمع کرکے لایٔے اَور اُنہیں سرِ عام جَلا دیا۔ جَب اُن طُوماروں کی جلدوں کی قیمت کا اَندازہ لگایا گیا تو وہ پچاس ہزار دِرہم کی نکلیں۔ (اعمال 19:18-19)
انصاف دلانا
اَور اُس نے سارہؔ سے کہا، ”مَیں آپ کے بھایٔی کو چاندی کے ہزار سِکّے دے رہا ہُوں۔ تاکہ اِن سَب کے سامنے جو آپ کے ساتھ ہیں، اُس نازیبا سلُوک کا جو آپ کے ساتھ ہُواہے ازالہ ہو جائے اَور آپ ہر ایک کی نظر میں پاک دامن ٹھہرو۔“ (پیدائش 20:16)
لوٹ کا مال، غنیمت
پھر یعقوب کے بیٹے مقتولوں پر جھپٹے اَور شہر کو لُوٹ لیا، کیونکہ اُنہُوں نے اُن کی بہن کو بےحُرمت کیا تھا۔ اُنہُوں نے اُن کی بھیڑ بکریاں، مویشی، گدھے اَورجو کچھ شہر اَور کھیتوں میں تھا، لے لیا۔ وہ اُن کی ساری دولت اَور اُن کے بچّوں اَور بیویوں کو، اَور اُن کے گھروں میں کی سَب چیزوں کو مالِ غنیمت کی طرح لے کر چلتے بنے۔ (پیدائش 34:27-29)
جَب اِسرائیلی فلسطینیوں کے تعاقب سے واپس لَوٹے تو اُنہُوں نے اُن کی کو لُوٹ لیا۔ (1 شموایلؔ 17:53)
ارام کے بادشاہ بِن ہددؔ نے اَپنی تمام فَوج جمع کی۔ اُس کے ساتھ بتّیس بادشاہ، اُن کے گھوڑے اَور رتھ تھے۔ بِن ہددؔ نے سامریہؔ پر حملہ کرکے اُس کا محاصرہ کر لیا۔ اِس کے بعد اُس نے قاصِدوں کے ذریعے شہر میں شاہِ اِسرائیل احابؔ کے پاس یہ پیغام بھیجا: ”بِن ہددؔ یُوں فرماتا ہے: ’تمہارا چاندی اَور سونا میرا ہے اَور تمہاری بیویوں اَور بچّوں میں سے جو بہترین ہیں وہ میرے ہیں۔‘ “ شاہِ اِسرائیل نے جَواب دیا، ”اَے میرے آقا بادشاہ، آپ کے فرمان کے مُطابق میں اَورجو کچھ میرا ہے سَب آپ کا ہی ہے۔“ اَور اُن قاصِدوں نے دوبارہ آکر کہا، ”بِن ہددؔ یُوں فرماتا ہے: ’مَیں نے تُمہیں پیغام بھیجا تھا کہ تُم اَپنی چاندی اَور سونا اَور اَپنی بیویاں اَور لڑکے میرے حوالہ کر دو۔ لیکن کل اِسی وقت مَیں اَپنے افسران کو تمہارے محل اَور تمہارے افسران کے گھروں کی تلاشی لینے کے لیٔے بھیج رہا ہُوں۔ اَورجو کچھ تمہاری نگاہ میں قیمتی ہے وہ سَب کُچھ لے کر میرے پاس آ جائیں گے۔‘ “ تَب سارے بُزرگوں اَور تمام لوگوں نے بادشاہ کو صلاح دی، ”اَب آپ بِن ہددؔ کی کویٔی شرط یا فرمایٔش نہ تو سُنیں اَور نہ ہی اُس کی بات مانیں۔“ (1 سلاطین 20:1-6, 8)
بنی یہُوداہؔ نے بنی اِسرائیل سے شِکست کھائی اَور اُن کے سَب آدمی اَپنے اَپنے خیموں کو فرار ہو گیٔے۔ اَور اُس نے سَب سونے اَور چاندی اَور تمام ظروف کو جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اَور شاہی محل کے خزانوں میں ملے، اُنہیں اَور جنگی قَیدیوں کو ساتھ لے کر سامریہؔ کو لَوٹ گیا۔ (2 سلاطین 14:12, 14)
اَور جَب یہوشافاطؔ اَور اُس کے لوگ اَپنا مالِ غنیمت لینے کے لیٔے گیٔے تو اُنہیں لاشوں کے درمیان اِس کثرت سے سازوسامان اَور کپڑے اَور قیمتی اَشیا ملیں کہ وہ اُنہیں اُٹھاکر لے جا بھی نہ سکتے تھے۔ اَور مالِ غنیمت اِس قدر زِیادہ تھا کہ اُسے جمع کرنے میں تین دِن لگ گیٔے۔ (2 تواریخ 20:25)
ہمارے آباؤاَجداد کے دَور سے لے کر اَب تک ہم سے بڑی خطائیں سرزد ہُوئی ہیں اَور اَپنے گُناہوں کے باعث ہم، ہمارے بادشاہ اَور ہمارے کاہِنؔ غَیر مُلکی بادشاہوں کی تلوار، اسیری، لُوٹ مار اَور تذلیل کا شِکار رہے ہیں جَیسا کہ آج کے دِن ہے۔ (عزرا 9:7)
بادشاہ نے اِن اَحکام کے ذریعہ ہر شہر کے یہُودیوں کو اِجازت دی کہ وہ اَپنے دفاع کے لیٔے اِکٹھّے ہوکر لڑ سکتے ہیں اَور ہر مُسلّح فَوج کو خواہ وہ کسی قوم کی ہو جو اُن پر، اُن کی بیویوں اَور اُن کے بال بچّوں پر حملہ کرے ہلاک کرکے نابود کر دیں اَور اُن کا مال و اَسباب لُوٹ لیں۔ (ایسترؔ 8:11)
یہُودیوں نے اَپنے سارے دُشمنوں کو تلوار کا نِشانہ بنایا اَور اُنہیں ہلاک کرکے تباہ و برباد کر دیا اَور اَپنے نفرت کرنے والوں کے ساتھ جیسا چاہا سو کیا۔ کیونکہ ہامانؔ بِن ہمّداتھاؔ یہُودیوں کا کٹّر دُشمن تھا اِس لیٔے ہامانؔ کے یہ دسوں بیٹے قتل کئے گیٔے۔ لیکن یہُودیوں نے لُوٹ مار نہ کی۔ (ایسترؔ 9:5, 10)
”اشُور پر افسوس جو میرے غضب کا عصا ہے، اَور جِس کے ہاتھ میں میرے قہر کی لاٹھی ہے! میں اُسے ایک بے دین قوم کی طرف بھیج رہا ہُوں ایک اَیسی قوم کے خِلاف جِس پر میرا قہر ہے، تاکہ وہ اُنہیں لُوٹے اَور مالِ غنیمت حاصل کرے، اَور اُنہیں گلیوں میں کیچڑ کی طرح روندے۔ (یَشعیاہ 10:5-6)
جَب یَاہوِہ کوہِ صِیّونؔ اَور یروشلیمؔ میں اَپنا تمام کام کر چُکے گا، ”تَب وہ کہے گا کہ مَیں شاہِ اشُور کو اُس کے دِل کے گھمنڈ اَور اُس کے آنکھوں کے غُرور کی سزا دُوں گا۔ کیونکہ وہ کہتاہے: ” ’مَیں نے اَپنے بازو کی قُوّت اَور اَپنی حِکمت سے یہ کیا ہے کیونکہ مُجھ میں اُتنی سمجھ ہے۔ مَیں نے قوموں کی حُدوُد کو سَر کا دیا، اُن کے خزانے لُوٹ لیٔے؛ اَور زورآور بہادر کی طرح اُن کے بادشاہوں کو مطیع کر لیا۔ جِس طرح کویٔی اَپنے ہاتھ گھونسلے کی طرف بڑھاتاہے، اُسی طرح میرا ہاتھ قوموں کی دولت کی طرف بڑھا جِس طرح لوگ ترک کئے ہُوئے اَنڈوں کو بٹور لیتے ہیں، اُسی طرح مَیں نے تمام مُلکوں کو سمیٹ لیا؛ اَور کسی نے پر تک نہ ہلایا، اَور نہ چونچ کھول کر چہچہانے کی جُرأت کی۔‘ “ (یَشعیاہ 10:12-14)
وہ تیری دولت اَور تیرا تجارتی اَسباب لُوٹ لیں گے اَور تیری شہرپناہ توڑ ڈالیں گے اَور تیرے خُوبصورت مکانات ڈھا دیں گے اَور تیرے پتّھر، لکڑی اَور مٹّی کو سمُندر میں پھینک دیں گے۔ (حزقی ایل 26:12)
مِصر کے خِلاف تلوار اُٹھے گی، اَور مِصر میں قتلِ عام ہوگا۔ اَور کُوشؔ پر مصائب کا وقت آئے گا۔ اُس کی دولت لُوٹ لی جائے گی، اَور اُس کی بُنیادیں ڈھا دی جایٔیں گی، تَب اہلِ کُوشؔ سخت تکلیف میں ہوں گے۔ (حزقی ایل 30:4)
چاہے وہ اَپنے بھائیوں کے درمیان بڑھتا رہے۔ یَاہوِہ کی طرف سے بادِ مشرق آئے گی، جو بیابان کی جانِب سے چلے گی؛ اُس کا سوتا سُوکھ جائے گا اَور اُس کا چشمہ خشک ہو جائے گا۔ اُس کے گودام میں سے تمام خزانے لُوٹ لیٔے جایٔیں گے۔ (ہوشِیعؔ 13:15)
چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں، ایک دُشمن تمہارے مُلک کا محاصرہ کرےگا؛ وہ تمہارے شاہی قلعوں کو ڈھا دے گا، اَور تمہارے شاہی محلوں کو لُوٹ لے گا۔ (عامُوسؔ 3:11)
تُمہیں مُناسب نہ تھا کہ تُم میرے لوگوں کی مُصیبت کے دِنوں میں، اُن کے پھاٹکوں میں گھُستے، اَور اُن کی تباہی کے دِن خاموش رہ کر دُور کھڑا ہوکر تماشا دیکھتے رہتے، اَور اُن کی تباہی کے دِن اُن کا مال لُوٹتے۔ (عبدیاہؔ 1:13)
لیکن عیسَوؔ کو اِس قدر لُوٹا جائے گا، کہ لوگ اُس کے پوشیدہ خزانے ڈھونڈ لیں گے۔ جِس دِن پردیسی لوگ اُن کے شہروں میں داخل ہُوئے، اُس دِن تُم دُور کھڑے ہُوئے سَب دیکھ رہے تھے، وہ اُس کی دولت لُوٹ کر لے گیٔے، اَور یروشلیمؔ کو ہڑپنے کے لیٔے قُرعے ڈالے، تو اُس وقت تُم بھی اُس کے دُشمنوں کی مانند سلُوک کر رہے تھے۔ (عبدیاہؔ 1:6, 11)
اَے صِیّونؔ کی بیٹی، اُٹھ اَور کُچل، کیونکہ مَیں تُجھے لوہے کے سینگ، اَور کانسے کے کھُر دُوں گا، اَور تُو بہت سِی قوموں کے ٹکڑے کر ڈالے گی۔ اَور اُن کے ناجائز آمدنی کے ذخیروں کو خُدا کی نذر کرےگی، اَور اُن کے مال کو زمین کے مالک، یَاہوِہ خُدا کے حُضُور میں لایٔے گی۔ (میکاہؔ 4:13)
چاندی لُوٹو! سونا لُوٹو! مال کی کویٔی اِنتہا نہیں، خزانوں میں دولت کثرت سے ہے! وہ خالی ہے، لُوٹ لیا گیا ہے، ویران ہے! دِل پگھل جاتے ہیں، گھُٹنے لڑکھڑاتے ہیں، جِسم کانپتے ہیں، ہر چہرہ زرد ہو جاتا ہے۔ (ناحُومؔ 2:9-10)
خُونی شہر پر افسوس، وہ جھُوٹ اَور غارت گری سے بھرا ہُواہے وہ کبھی جُرم سے باز نہیں رہتا! (ناحُومؔ 3:1)
کیا یہ سَب ٹھٹّھا کرکے اُس پر طنز نہ کریں گے اَور یہ یہ ضرب المثل کہتے ہُوئے اُسے حقیر نہ جانیں گے کہ اُس پر افسوس جو چوری کے مال کا انبار لگاتاہے اَور جبراً سے مال حاصل کرکے خُود کو مالدار بناتا ہے! مگر اَیسا کب تک ہوگا؟ کیا تیرے قرض خواہ یَکایک نہ اُٹھ کھڑے ہوں گے؟ کیا وہ بیدار نہ ہوں گے اَور تیرے کپکپانے کا باعث نہ بَن جایٔیں گے؟ تَب تُو اُن کا شِکار ہو جائے گا۔ چونکہ تُونے بہت سِی قوموں کو لُوٹا ہے، اَور بہت سے اِنسانوں کا خُون بہایا ہے، تُونے زمین کو اَور مُلکوں کو اُن کے باشِندوں کے ساتھ برباد کیا ہے، اِس لیٔے بچے ہُوئے لوگ تُجھے غارت کریں گے۔ (حبقُّوقؔ 2:6-8)
اَے سوداگری کے شہر مکتیسؔ کے رہنے والو؛ تمہارے سارے سوداگر غارت ہوں گے، جو چاندی کی تِجارت کرتے ہیں، برباد ہو جایٔیں گے۔ اُن کی دولت لُٹ جائے گی، اُن کے مکان گرا دئیے جایٔیں گے۔ وہ گھر تو بنائیں گے پر اُن میں رہنے نہ پائیں گے؛ وہ تاکستان لگائیں گے پر اُن کی مَے نہ پیئیں گے۔ یَاہوِہ کے قہر کے دِن اُنہیں اُن کی چاندی اَور سونا بچا نہ سکےگا، تمام دُنیا اُن کی غیرت کی آگ میں جَل کر ساری زمین خاک ہو جائے گی۔“ کیونکہ وہ سَب کا جو زمین پر رہتے ہوں گے اَچانک خاتِمہ کر دیں گے۔ (صفنیاہؔ 1:11, 13, 18)
اِس لیٔے میری حیات کی قَسم، قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کا خُدا فرماتے ہیں۔ مُوآب ضروُر سدُومؔ کی مانند ہو جائے گا اَور بنی عمُّون عمورہؔ کی مانند۔ وہ کانٹوں کی زمین اَور نمک کی کان، اَور ہمیشہ کے لیٔے ویران ہو جایٔیں گے۔ میرے لوگوں میں سے باقی بچے ہُوئے لوگ اُنہیں غارت کر دیں گے؛ اَور میری قوم کے باقی لوگ اُن کی زمین وارِث ہوں گے۔ (صفنیاہؔ 2:9)
طرزِ زندگی
میرا مطلب یہ نہیں کہ اَوروں کا بوجھ تُم پر ڈال کر تمہارے بوجھ کو اَور بھاری کر دُوں، میرا مقصد صِرف یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ مُعاملات یکساں ہوں۔ چونکہ اِس وقت تمہارے پاس کافی ہے اِس لیٔے تُم اَپنے عَطیّہ سے اُن کی کمی کو پُورا کر سکتے ہو، اَور جَب اُن کے پاس کافی ہوگا اَور تمہارے پاس کم تو وہ تمہاری مدد کر سکیں گے۔ یُوں ذمّہ داری کا بوجھ برابر ہو جائے، چنانچہ کِتاب مُقدّس لِکھّا ہے: ”جِس نے زِیادہ جمع کیا اُس کا کچھ زِیادہ نہ نِکلا، اَور جِس نے کم جمع کیا اُس کا کچھ کم نہ نِکلا۔“ (2 کُرِنتھِیوں 8:13-15)
اِسی طرح میں چاہتا ہُوں کہ خواتین بھی حیا دار لباس پہن کر اَپنے آپ کو شرافت اَور شائِستگی سے آراستہ کریں نہ کہ بال گُوندھنے، سونے یا موتیوں کے زیورات، یا بےحد قیمتی لباس سے، (1 تِیمُتھِیُس 2:9)
تلافی
”اَور اگر دو اِنسان جھگڑیں اَور ایک اِنسان دُوسرے اِنسان کو پتّھر یا مُکّا مارے اَور وہ نہ مَرے لیکن بِستر سے جا لگے، اَور اُس کے بعد اُٹھ کر اَپنی لاٹھی کے سہارے چلنے پھرنے لگے تو وہ جِس نے مارا تھا بَری سمجھا جائے لیکن ہرجانہ بھرے اَور زخمی ہونے والے کے علاج کا سارا خرچ مُکمّل شفا ہونے تک اَدا کرے۔ (خُروج 21:18-19)
”اگر وہ لوگ جو باہم لڑ رہے ہُوں کسی حاملہ عورت کو اَیسی چوٹ پہُنچائیں جِس کے باعث اُس کا حَمل گِر جائے لیکن اُسے کویٔی اَور ضرر نہ پہُنچے تو جِتنا جُرمانہ اُس کا خَاوند مانگے اَور قاضی منظُور کریں اُس سے لیا جائے۔ (خُروج 21:22)
”اگر کویٔی بَیل کسی مَرد یا عورت کو سینگ مار کر مار ڈالے تو اُس بَیل کو ضروُر سنگسار کیا جائے اَور اُس کا گوشت ہرگز نہ کھایا جائے لیکن بَیل کا مالک بےگُناہ ٹھہرے۔ لیکن اگر اُس بَیل کے سینگ مارنے کی عادت ہے اَور مالک کو آگاہ کیا جا چُکاہے لیکن اُس نے اُسے باندھ کر نہیں رکھا اَور وہ کسی مَرد یا عورت کو مار ڈالے تو اُس بَیل کو سنگسار کر دیا جائے اَور اُس کے مالک کو بھی مار ڈالا جائے۔ تاہم اگر اُس سے خُون بہا تو اُس کی چھڑوتی مانگی جائے تو اُسے اَپنی جان کے فدیہ میں جِتنا اُس سے طلب کیا جائے اُتنا ہی دینا پڑےگا۔ (خُروج 21:28-30)
اگر وہ بَیل کسی غُلام یا لونڈی کو سینگ مار کر مار ڈالے تو اُس بَیل کا مالک اُس غُلام یا لونڈی کے مالک کو تیس ثاقل چاندی اَدا کرے اَور اُس بَیل کو ضروُر سنگسار کر دیا جائے۔ ”اَور اگر کویٔی اِنسان کویٔی گڑھا کھول دے یا گڑھا کھود کر اُس کا مُنہ نہ ڈھانپے اَور کویٔی بَیل یا گدھا اُس میں گِر جائے تو گڑھے کا مالک اُس کا نُقصان بھر دے اَور جانور کے مالک کو قیمت اَدا کرے اَور مَرے ہویٔے جانور کو خُود لے لے۔ ”اگر کسی اِنسان کا بَیل کسی دُوسرے کے بَیل کو اَیسا زخمی کرے کہ وہ مَر جائے تو وہ اُس زندہ بَیل کو بیچ دے اَور اُس کا دام آپَس میں آدھا آدھا بانٹ لیں اَور اُس مَرے ہویٔے بَیل کو بھی اَیسے ہی بانٹ لے۔ لیکن اگر یہ بات مَعلُوم ہو کہ بَیل کو سینگ مارنے کی عادت تھی اَور اُس کے مالک نے پھر بھی اُسے باندھ کر نہیں رکھا تو اُس کے مالک کو بَیل کے بدلے بَیل دینا لازمی ہوگا اَور مَرا ہُوا جانور اُس کا ہوگا۔ (خُروج 21:32-36)
راہنما
تَب شموایلؔ نے، اُن لوگوں کو جو اُس سے ایک بادشاہ مُقرّر کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے یَاہوِہ کی سَب باتیں کہہ سُنائیں۔ اَور یہ بھی کہا، ”تُم پر حُکومت کرنے والا بادشاہ جو کچھ کرےگا وہ یہ ہے: وہ تمہارے بیٹوں کو لے کر اَپنے رتھوں اَور گھوڑوں کے لیٔے خدمت گار رکھےگا اَور وہ اُس کے رتھوں کے آگے آگے دَوڑیں گے۔ وہ تمہارے بہترین کھیتوں اَور تاکستانوں اَور زَیتُون کے باغوں کو لے کر اَپنے خدمت گاروں کو عطا کرےگا۔ اَور تمہارے اناج اَور تمہاری انگور کی فصل کا دسواں حِصّہ لے کر اَپنے خادِموں اَور اہلکاروں کو دے گا۔ تمہارے خادِموں اَور لونڈیوں اَور تمہارے بہترین مویشیوں اَور گدھوں کو اَپنے اِستعمال کے لیٔے لے لے گا۔ وہ تمہاری بھیڑ بکریوں کا دسواں حِصّہ لے لے گا اَور تُم خُود بھی اُس کے غُلام بَن کر رہ جاؤگے۔ (1 شموایلؔ 8:10-11, 14-17)
” ’اَور شہزادے کے مُقدّس علاقہ اَور شہر کی زمین سے بنے ہُوئے علاقہ کے دونوں طرف کی زمین شہزادے کی ہوگی جو مغربی بازو سے مغرب کی طرف اَور مشرقی بازو سے مشرق کی طرف، مغربی سرحد سے مشرقی سرحد تک کسی ایک قبائلی حِصّہ کی لمبائی کے متوازی پھیلی ہوگی۔ یہ زمین اِسرائیل میں اُس کی مِلکیّت ہوگی اَور میرے حُکمراں میرے لوگوں پر پھر کبھی سِتم نہ کریں گے بَلکہ بنی اِسرائیل کو اُن کے قبائل کے مُطابق زمین تقسیم کریں گے۔ (حزقی ایل 45:7-8)
نبوت
یرمیاہؔ نے فرمایا، ”یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا، تمہارے چچا شلُّومؔ کا بیٹا حَنامیلؔ تمہارے پاس آکر یہ کہے گا کہ میرا کھیت جو عناتوت میں ہے اَپنے لیٔے خرید لے کیونکہ قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے اُس پر تمہارا حق ہے اَور تمہارا فرض ہے کہ تُم اُسے خرید لو۔ اِس لیٔے مَیں نے اَپنے چچازاد بھایٔی حَنامیلؔ سے عناتوت کا کھیت خرید لیا اَور سترہ ثاقل چاندی تول کر اُسے دے دی۔ قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، دستاویزوں کی دونوں نقل لے لے، ایک مُہر شُدہ اَور دُوسری بغیر مُہر کے، اُنہیں مٹّی کے مرتبان میں رکھ دینا تاکہ وہ کافی عرصہ تک محفوظ رہیں۔ کیونکہ قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا فرماتے ہیں، اِس مُلک میں مکانات، کھیتوں اَور انگوری باغوں کی پھر سے خریدوفروخت ہوگی۔ (یرمیاہؔ 32:6-7, 9, 14-15)
اَور حالانکہ یہ شہر کَسدیوں کے حوالہ کر دیا جائے گا پھر بھی اَے یَاہوِہ قادر آپ مُجھ سے کہتے ہیں، ’چاندی کے عوض کھیت خرید لے اَور گواہوں کے سامنے سَودا کر۔‘ “ (یرمیاہؔ 32:25)
تشدّد نے بڑھ کر شرارت کے لیٔے ڈنڈے کا رُوپ لے لیا؛ لوگوں میں سے کویٔی نہ بچے گا، نہ اِس ہُجوم میں سے کویٔی بچے گا۔ نہ دولت اَور نہ ہی کویٔی اَور قیمتی شَے۔ وقت آ پہُنچا ہے۔ وہ دِن قریب ہے۔ نہ تو خریدار خُوش ہو نہ بیچنے والا رنجیدہ ہو کیونکہ قہر تمام ہُجوم پر بَرس پڑا ہے۔ جَب تک دونوں زندہ ہیں، بیچنے والا اَپنی زمین واپس نہیں پا سَکتا کیونکہ تمام ہُجوم سے متعلّق رُویا پلٹائی نہیں جائے گی۔ اَپنے گُناہوں کی وجہ سے، اُن میں سے کوئی بھی اَپنی زندگی کو بچا نہ سکےگا۔ ” ’وہ اَپنی چاندی سڑکوں پر پھینک دیں گے اَور اُن کا سونا ناپاک چیز ہوگا۔ یَاہوِہ کے غضب کے دِن اُن کی چاندی اَور سونا اُنہیں بچا نہ سکیں گے۔ نہ وہ اُن کی بھُوک مٹا سکیں گے اَور نہ اُن کا پیٹ بھر سکیں گے کیونکہ اِسی سے ٹھوکر کھا کر اُنہُوں نے گُناہ کیا۔ (حزقی ایل 7:11-13, 19)
” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: اُس دِن تیرے دِل میں کیٔی خیالات آئیں گے اَور تُو ایک بُرا منصُوبہ تیّار کرےگا۔ تُو کہے گا، ”مَیں بغیر فصیل والے دیہاتوں کے مُلک پر دھاوا بولُوں گا اَور اُن ناگہاں لوگوں پر حملہ کروں گا جو اَمن پسند ہیں، بِلا خوف زندگی گزارتے ہیں اَورجو سَب کے سَب ناگہاں شہرپناہ، بنا پھاٹکوں کے اَور بنا اڑبنگوں کے رہتے ہیں۔ مَیں اُن کا مال چھین لُوں اَور اُنہیں خُوب لُوٹوں اَور اَپنا ہاتھ اُن کھنڈروں پر بڑھاؤں جو دوبارہ بسائے گیٔے ہیں اَور اُن لوگوں پر جنہیں مُختلف قوموں میں سے جمع کیا گیا ہے اَورجو مالدار ہیں اَور مویشی پالتے ہیں اَور مُلک کے عَین درمیان میں بستے ہیں۔“ شیبا اَور دِدانؔ اَور ترشیشؔ کے سوداگر اَور اُس کے تمام دیہات (شیرببر) تُجھ سے پوچھیں گے، ”کیا تُو لُوٹنے کے لیٔے آیا ہے؟ کیا تُونے اَپنے گِروہ کو اِس لیٔے جمع کیا ہے کہ وہ لُوٹ مار کریں، چاندی اَور سونا چھین لیں، مویشی اَور مال و اَسباب لے جایٔیں اَور مالِ غنیمت حاصل کریں؟“ ‘ (حزقی ایل 38:10-13)
جَب مُلک کے مالدار صوبے اَمن سے ہوں گے تَب وہ اُن پر حملہ کرےگا اَور اَیسے کام کرکے دِکھائے گا جو نہ اُس کے باپ دادوں نے کیا تھا اَور نہ اُن کے آباؤاَجداد نے کئے تھے۔ اَور وہ مالِ غنیمت، لُوٹ اَور دولت اَپنے پیروکاروں میں تقسیم کرےگا۔ وہ کچھ عرصہ تک قلعوں کی تسخیر کے منصُوبے بناتا رہے گا۔ (دانی ایل 11:24)
اُن کے بدلہ وہ قلعہ کے معبُود کی تعظیم کرےگا اَور ایک اَیسے معبُود کی جِس سے اُس کے آباؤاَجداد بھی نا آشنا تھے۔ وہ اُس معبُود کا اِحترام سونے، چاندی اَور قیمتی ہیروں اَور بیش قیمت ہدیوں سے کرےگا۔ (دانی ایل 11:38)
وہ سونے اَور چاندی کے خزانوں اَور مِصر کی تمام دولت پر قابض ہوگا اَور لیبیا اَور کُوشی بھی اُس کے ہم رکاب ہوں گے۔ (دانی ایل 11:43)
اَے یروشلیمؔ دیکھو، یَاہوِہ کا وہ دِن آنے والا ہے، جَب تمہاری دولت لُوٹ لی جائے گی اَور اُسے تمہاری دیواروں کے اَندر ہی تقسیم کر دیا جائے گا۔ مَیں سَب قوموں کو یروشلیمؔ کے خِلاف جنگ کرنے کے لیٔے جمع کروں گا۔ یروشلیمؔ کے شہر پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ گھر لُوٹے جایٔیں گے اَور عورتیں بےحُرمت کی جایٔیں گی۔ شہر کی آدھی آبادی اسیری میں چلی جائے گی۔ لیکن باقی بچے لوگ شہر ہی میں رہیں گے۔ (زکریاؔہ 14:1-2)
یہُوداہؔ بھی یروشلیمؔ میں لڑے گا۔ اِس کے گِردونواح کی سَب قوموں کی دولت جمع کی جائے گی۔ جِس میں کثرت سے سونا، چاندی اَور لباس جمع ہوگا۔ (زکریاؔہ 14:14)
”اَور اَیسا ہی حضرت لُوطؔ کے دِنوں میں تھا کہ لوگ کھانے پینے، خریدوفروخت کرنے، درخت لگانے اَور مکان تعمیر کرنے میں مشغُول تھے۔ (لُوقا 17:28)
لیکن یہ بات جان لے کہ آخِری زمانہ میں ہَولناک دِن آئیں گے۔ لوگ خُود غرض، زَر دوست، شیخی باز، مغروُر، بدگو، ماں باپ کے نافرمان، ناشُکرے، ناپاک، (2 تِیمُتھِیُس 3:1-2)
اَور مَیں نے ایک آواز سُنی جو اُن چاروں جانداروں کے درمیان سے آ رہی تھی، ”ایک دِن کی مزدُوری کی قیمت ایک کِلو گندُم، اَور ایک دینار کا تین کِلو جَو ہوگی، لیکن تیل اَور مَے کو نُقصان مت پہُنچانا۔“ (مُکاشفہ 6:6)
تَب زمین کے بادشاہ، اُمرائے، فَوجی افسر، مالدار، زورآور اَور سارے غُلام اَور آزاد، غاروں اَور پہاڑوں کی چٹّانوں میں جا چھُپے۔ اَور پہاڑوں اَور چٹّانوں سے چِلّاکر کہنے لگے، ”ہم پر گِر پڑواَور ہمیں اُس کی نظر سے جو تخت نشین ہے اَور برّہ کے غضب سے چھُپا لو! (مُکاشفہ 6:15-16)
اَور باقی آدمیوں نے جو اِن آفتوں سے نہ مَرے تھے، اَپنے ہاتھوں کے کاموں سے تَوبہ نہ کی، اُنہُوں نے اُن شَیاطِین اَور بُتوں کی جو سونے، چاندی، پیتل، پتّھر اَور لکڑی کی بنی ہُوئی تھیں، اُن کی پرستش کرنے سے باز نہیں آئے جو نہ تو دیکھ سکتی ہیں نہ سُن سکتی ہیں اَور نہ چل پھر سکتی ہیں۔ اَورجو قتل، جادُوگری، جنسی بدفعلی اَور چوری اُنہُوں نے کی تھی اُن کاموں سے تَوبہ نہ کی۔ (مُکاشفہ 9:20-21)
اُس نے چُھوٹے بڑے، اَمیر غریب، آزاد غُلام سَب لوگوں کے داہنے ہاتھ یا پیشانی پر ایک خاص نِشان لگوانے کے لیٔے مجبُور کیا، تاکہ اُن کے سِوا جِن پر اُس حَیوان کا نِشان یعنی اُس کا نام یا اُس کے نام کا عدد نہ ہو، اَور کویٔی دُوسرا خریدوفروخت نہ کر سکے۔ (مُکاشفہ 13:16-17)
وہ عورت اَرغوانی اَور قِرمزی رنگ والا لباس پہنے ہویٔے تھی اَور سونے، جواہر اَور موتیوں سے آراستہ تھی۔ اَور اُس کے ہاتھ میں ایک سونے کا پیالہ تھا جو مکرُوہ چیزوں اَور اُس کی زناکاری کی غِلاظت سے بھرا ہُوا تھا۔ (مُکاشفہ 17:4)
کیونکہ سَب قوموں نے اُس کی زناکاری کے قہر کی مَے پی ہے۔ رُوئے زمین کے بادشاہوں نے اُس کے ساتھ زنا کیا ہے، اَور دُنیا کے تاجران اُس کی بڑی عیش و عشرت کی بدولت دولتمند ہو گیٔے۔“ (مُکاشفہ 18:3)
”رُوئے زمین کے تاجران اُس پر روئیں گے اَور ماتم کریں گے کیونکہ اُن کا مال اَب کویٔی نہیں خریدتا: جو سونے، چاندی، جواہر، موتیوں اَور مہین کتانی، اَرغوانی، ریشمی اَور قِرمزی رنگ کے کپڑے، ہر طرح کی خُوشبودار لکڑیاں، ہاتھی دانت کی بنی ہُوئی چیزیں، اَور نہایت بیش قیمتی لکڑی، پیتل، لوہے اَور سنگِ مرمر کی قِسم قِسم کی چیزیں، دارچینی، مَسالوں، عُود، مُر، لوبان، مَے، زَیتُون کا تیل، بہترین مَیدہ اَور گندُم، مویشیوں، بھیڑوں، گھوڑوں، گاڑیوں، اَور اِنسانوں کو جنہیں غُلاموں کی مانند بیچا جاتا تھا، اُن کا کویٔی خریدار نہ رہا۔ ”زمین کے تاجران شہر عظیم بابیل سے کہیں گے، ’تمہارے دِل پسند میوے اَب تمہارے پاس سے دُورہو گیٔے۔ اَور تمہاری تمام شان و شوکت اَور لذیذ چیزیں تمہارے ہاتھ سے نکل گئیں۔ اَب وہ تُمہیں کبھی حاصل نہ ہوں گی۔‘ اِن چیزوں کے تاجران جو اُسے بیچ کر دولتمند بَن گیٔے تھے، اُس کے عذاب سے دہشت زدہ ہوکر دُور کھڑے ہوکر روئیں گے اَور ماتم کریں گے اَور چِلّاکر کہیں گے، ” ’افسوس، افسوس، وہ عظیم شہر، جو مہین کتانی، اَرغوانی اَور قِرمزی کپڑے پہنے ہویٔے تھا، اَور سونے، جواہر اَور موتیوں سے آراستہ تھا! گھڑی بھر میں ہی اُس کی اِتنی بڑی دولت برباد ہو گئی!‘ ”سَب بحری جہاز کے کپتان، جہازوں کے مُسافر، ملّاح اَور تمام سمُندری مزدُور سَب دُور کھڑے ہوکر، اُس شہر کے جلنے کا دُھواں دیکھیں گے اَور چِلّا چِلّاکر کہیں گے، ’کیا کبھی کویٔی اِتنا بڑا شہر اِس عظیم شہر کی مانند مَوجُود تھا؟‘ وہ اَپنے سَروں پر خاک ڈالیں گے اَور رو رو کر ماتم کریں گے اَور چِلّا چِلّاکر کہیں گے، ” ’افسوس، افسوس، اَے عظیم شہر! جِس کی دولت سے تمام بحری جہازوں کے مالک، مالدار ہو گیٔے، گھڑی ہی بھر میں وہ شہر تباہ کر دیا گیا!‘ (مُکاشفہ 18:11-19)
کلیسیا/مذہبی ماحول میں بددیانت لوگ
اگر تُم واقعی اَپنی روِشیں اَور اَپنے اعمال دُرست کر لو اَور ایک دُوسرے کے ساتھ اِنصاف سے پیش آؤ، اَور اگر تُم پردیسی، یتیم اَور بِیوہ پر ظُلم نہ کرو اَور اِس جگہ بےگُناہ کا خُون نہ بہاؤ اَور اگر تُم غَیر معبُودوں کی پیروی نہ کرو جِس سے تمہارا نُقصان ہو، تَب میں تُمہیں اِس جگہ اَور اِس مُلک میں جسے مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو بُودوباش کرنے کو اَبدیّت کے لیٔے دیا تھا۔ لیکن دیکھو تُم جھُوٹی باتوں پر یقین کرتے ہو جِن سے کچھ فائدہ نہیں ہو سَکتا۔ ” ’کیا تُم چوری، خُون، زنا کرکے اَور جھُوٹی قَسم کھا کر، معبُود بَعل کے لیٔے بخُور جَلا کر اَور اُن غَیر معبُودوں کی پیروی کرتے ہو جنہیں تُم نہیں جانتے تھے۔ کیا یہ گھر جو میرے نام سے کہلاتا ہے تمہاری نظر میں ڈاکوؤں کا اڈّا بَن گیا ہے؟ یَاہوِہ فرماتے ہیں، دیکھو، مَیں یہ سَب دیکھ رہا ہُوں! (یرمیاہؔ 7:5-9, 11)
اُس کے سردار رشوت لے کر اِنصاف کرتے ہیں، اُس کے کاہِنؔ قیمت لے کر تعلیم دیتے ہیں، اَور اُس کے نبی رُوپیہ لے کر قِسمت بتاتے ہیں۔ پھر بھی وہ یَاہوِہ کی طرف متوجّہ ہوتے ہیں، ”اَور کہتے ہیں، کیا یَاہوِہ ہمارے درمیان نہیں ہے؟ ہمارے اُوپر کویٔی بُلا نہیں آئے گی۔“ (میکاہؔ 3:11)
اَور یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور آپ وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ آپ نے پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کے تختے اَور کبُوتر فروشوں کی چوکیاں اُلٹ دیں۔ اَور یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”لِکھّا ہے، ’میرا گھر دعا کا گھر کہلائے گا،‘ مگر تُم نے اُسے ’ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“ (متّی 21:12-13)
جَب وہ یروشلیمؔ پہُنچے تو، یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور آپ وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ آپ نے پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کے تختے اَور کبُوتر فروشوں کی چوکیاں اُلٹ دیں، اَور کسی کو کویٔی سامان لے کر بیت المُقدّس کے احاطہ میں سے گزرنے نہ دیا۔ پھر یِسوعؔ نے تعلیم دیتے ہویٔے، فرمایا، ”کیا کِتاب مُقدّس میں یہ نہیں لِکھّا: ’میرا گھر سَب قوموں کے لیٔے دعا کا گھر کہلائے گا‘؟ مگر تُم نے اُسے ’ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“ (مرقُس 11:15-17)
تَب یِسوعؔ بیت المُقدّس کے صحنوں میں داخل ہویٔے اَور وہاں سے خریدوفروخت کرنے والوں کو باہر نکالنے لگے۔ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”لِکھّا ہے، ’میرا گھر دعا کا گھر‘ کہلائے گا؛ مگر تُم نے ’اُسے ڈاکوؤں کا اڈّا بنا رکھا ہے۔‘“ (لُوقا 19:45-46)
آپ نے وہاں بیت المُقدّس کے صحنوں میں لوگوں کو بَیل، بھیڑ اَور کبُوتر فروشوں کو اَور پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کو بھی تختوں پر بیٹھے ہویٔے پایا۔ اِس لیٔے یِسوعؔ نے رسّیوں کا کوڑا بنا کر اُن سَب کو بھیڑوں اَور بَیلوں سمیت، پیسے تبدیل کرنے والے صرّافوں کے سِکّے بِکھیر دیئے اَور اُن کے تختے اُلٹ کر اُنہیں بیت المُقدّس سے باہر نکال دیا۔ اَور کبُوتر فروشوں سے فرمایا، ”اِنہیں یہاں سے لے جاؤ، میرے باپ کے گھر کو تِجارت کا گھر مت بناؤ۔“ (یُوحنّا 2:14-16)
اَب مَیں تیسری بار تمہارے پاس آنے کی تیّاری کر رہا ہُوں، لیکن اِس بار بھی میں تُم پر بوجھ نہیں ڈالُوں گا، کیونکہ مُجھے تمہارے مال کی ضروُرت نہیں بَلکہ تمہاری ضروُرت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بچّوں کو ماں باپ کے لیٔے نہیں، بَلکہ ماں باپ کو بچّوں کے لیٔے مال جمع کرنا چاہئے۔ (2 کُرِنتھِیوں 12:14)
لہٰذا نگہبان کو چاہئے کہ وہ بے اِلزام، ایک بیوی کا شوہر، پرہیزگار، خُود پر قابُو رکھنے والا، قابل اِحترام، مُسافر پرور اَور تعلیم دینے کے قابل ہو۔ وہ شرابی اَور مارپیٹ کرنے والا نہ ہو، بَلکہ نرم مِزاج ہو، وہ تکرار کرنے والا اَور زَر دوست نہ ہو۔ (1 تِیمُتھِیُس 3:2-3)
اِسی طرح جماعت کے خادِموں کو چاہیے کہ وہ سنجِیدہ مِزاج ہوں، دو رُخے، شرابی اَور ناجائز کمائی کے لالچی نہ ہوں۔ (1 تِیمُتھِیُس 3:8)
اَور جِن سے اُن لوگوں میں تنازعہ پیدا ہوتاہے جِس سے اُن کی عقل بگڑ گئی ہے، اَور وہ حق سے محروم ہو گیٔے ہیں اَور خُدا پرستی کو مالی نفع کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہاں اگر خُدا پرستی قناعت کے ساتھ ہو، تو بڑے نفع کا ذریعہ ہے۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:5-6)
کیونکہ بہت سے لوگ خاص طور پر وہ جو ختنہ کرانے پر زور دیتے ہیں، بڑے سَرکش، فُضول باتیں کہنے والے اَور دغاباز ہیں۔ اَیسے لوگوں کا مُنہ بند کرنا ضروُری ہے کیونکہ یہ لوگ ناجائز نفع کی خاطِر غلط باتیں سِکھا کرجو اُنہیں نہیں سِکھانا چاہئے، گھر کے گھر تباہ کر دیتے ہیں۔ (طِطُس 1:10-11)
تُم میں جو جماعت کے بُزرگ ہیں، مَیں اُن کی مانند ایک ہم بُزرگ اَور المسیح کے دُکھوں کا چشم دید گواہ اَور اُس کے ظاہر ہونے والے جلال میں شریک ہوکر اُن سے یہ درخواست کرتا ہُوں۔ تُم خُدا کے اُس گلّہ کی گلّہ بانی کرو جو تمہارے سُپرد کیا گیا ہے، لاچاری سے نہیں بَلکہ خُدا کی مرضی اَور اَپنی خُوشی سے نگہبانی کرو؛ اِس خدمت کو ناجائز نفع کے مقصد سے نہیں بَلکہ دِلی شوق سے اَنجام دو۔ (1 پطرس 5:1-2)
نقطۂ نظر
جو پیسے سے محبت رکھتا ہے وہ کبھی سیر نہیں ہوگا
جو کویٔی دولت کو عزیز رکھتا ہے، وہ کبھی دولت سے مطمئن نہ ہوگا خواہ اُس کے پاس کتنی زِیادہ دولت کیوں نہ ہو؛ اَورجو کویٔی دولت سے پیار کرتا ہے وہ اُس میں اِضافہ ہونے سے بھی مطمئن نہیں ہوگا۔ یہ بھی باطِل ہی ہے۔ جَب مال کی زیادتی ہوتی ہے، تو اُس کے کھانے والوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔ اَور اُس کے مالک کو اُس کا کیا فائدہ ہے سِوائے اِس کے وہ اُنہیں دیکھ کر ہی مطمئن ہو اَور اُن کا لُطف اُٹھائے۔ (واعظ 5:10-11)
متفرق آیات
سیلاب بھی مَحَبّت کی آگ کو بُجھا نہیں سکتے؛ بڑے دریا بھی اُسے بہا کر نہیں لے جا سکتے۔ خواہ کویٔی اَپنے گھر کی ساری دولت بھی، مَحَبّت کے بدلے دینا چاہے، تو بھی مَحَبّت اُسے حقیر ہی سمجھے گی۔ (غزل الغزلات 8:7)
سَب کا حال یکساں ہوگا کاہِنؔ کا حال قوم کے حال کی طرح، آقا کا نوکر کی طرح، مالکن کی خادِمہ کی طرح، بیچنے والے کا خریدار کی طرح، اُدھار لینے والے کا اُدھار دینے والے کی طرح، قرضدار کے لیٔے جَیسا کہ قرض دِہندہ کے لیٔے۔ (یَشعیاہ 24:2)
کیونکہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”تُم مُفت بیچے گیٔے تھے، اَور بغیر زَر ہی رِہا کئے جاؤگے۔“ (یَشعیاہ 52:3)
سونے نے اَپنی آب و تاب کیسے کھودی ہے، اَور سونا کیسا پھیکا پڑ گیا ہے! مُقدّس موتی ہر گلی کوچہ میں بکھرے پڑے ہیں۔ صِیّونؔ کے عزیز بیٹے، جو وزن میں خالص سونے کی طرح تھے، کُمہار کے بنائے ہُوئے برتنوں کے برابر ہو گئے۔ (نوحہ 4:1-2)
”لیکن اُنہُوں نے کویٔی پروا نہ کی اَور چل دئیے۔ کویٔی اَپنے کھیت میں چلا گیا، کویٔی اَپنے کاروبار میں لگ گیا، (متّی 22:5)
ہُجوم میں سے کسی نے اُن سے کہا، ”اَے اُستاد، میرے بھایٔی کو حُکم دے کہ وہ مِیراث میں سے میرا حِصّہ میرے حوالے کر دے۔“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اَے اِنسان، کس نے مُجھے تمہارا مُنصِف یا ثالِثی مُقرّر کیا ہے؟“ اَور حُضُور نے اُن سے کہا، ”خبردار! ہر طرح کے لالچ سے دُور رہو؛ کسی کی زندگی کا اِنحصار اُس کے مال و دولت کی کثرت پر نہیں ہے۔“ (لُوقا 12:13-15)
پھر یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا: ”کسی اَمیر آدمی کا ایک مُنشی تھا۔ اُس کے لوگوں نے اُس کے مالک سے شکایت کی، کہ وہ تیرا مال غبن کر رہاہے۔ اِس لیٔے مالک نے اُسے اَندر بُلایا اَور کہا، ’یہ کیا بات ہے جو مَیں تمہارے بارے میں سُن رہا ہُوں؟ سارا حِساب کِتاب مُجھے دے، کیونکہ اَب سے تو میرا مُنشی نہیں رہے گا۔‘ ”مُنشی نے دِل میں سوچا، ’اَب مَیں کیا کروں؟ میرا مالک مُجھے کام سے نکال رہاہے۔ مُجھ میں مٹّی کھودنے کی طاقت تو نہیں ہے، اَور شرم کے مارے بھیک بھی نہیں مانگ سَکتا۔ میں جانتا ہُوں کہ مُجھے کیا کرنا ہوگا، کہ برطرف کیٔے جانے کے بعد بھی لوگ مُجھے اَپنے گھروں میں خُوشی سے قبُول کریں۔‘ ”پس اُس نے اَپنے مالک کے ایک ایک قرضدار کو طلب کیا، پہلے سے پُوچھا، ’تُجھ پر میرے مالک کی کتنی رقم باقی ہے؟‘ ” ’تین ہزار لیٹر زَیتُون کے تیل کی قیمت،‘ اُس نے جَواب دیا۔ ”مُنشی نے اُس سے کہا، ’یہ رہے تیرے کاغذات، بیٹھ کر جلدی سے، پندرہ سَو لیٹر بنادے۔‘ ”پھر دُوسرے سے پُوچھا، ’تُجھ پر کِتنا باقی ہے؟‘ ” ’تیس ٹن گیہُوں کے دام،‘ اُس نے جَواب دیا۔ ”اُس نے کہا، ’یہ رہے تیرے کاغذات، اَور اِسے چوبیس ٹن لِکھ دے۔‘ ”مالک نے اُس چالاک مُنشی کی تعریف کی، اِس لیٔے کہ اُس نے بڑی عیّاری سے کام لیا تھا کیونکہ اِس دُنیا کے فرزند دُنیا والوں کے ساتھ سودے بازی میں نُور کے فرزندوں سے زِیادہ عیّار ہیں۔ میں تُم سے کہتا ہُوں کہ دُنیوی کمائی سے بھی اَپنے لیٔے دوست بنالو تاکہ جَب وہ جاتی رہے تو تمہارے دوست تُمہیں دائمی قِیام گاہوں میں جگہ فراہم کریں۔ ”جو بہت تھوڑے میں وفاداری کا مظاہرہ کرتا ہے وہ بہت زِیادہ میں بھی وفادار رہتاہے۔ اَورجو تھوڑے میں بےایمان ہے وہ زِیادہ میں بھی بےایمان ہے۔ پس اگر تُم دُنیا کی دُنیوی دولت کے مُعاملہ میں وفادار نہ ثابت ہُوئے تو حقیقی دولت کون تمہارے سُپرد کرےگا؟ اَور اگر تُم کسی دُوسرے کے مال میں وفادار نہ ٹھہرے تو جو تمہارا اَپنا ہے اُسے کون تُمہیں دے گا؟ ”کویٔی خادِم دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سَکتا، یا تو وہ ایک سے نفرت کرےگا اَور دُوسرے سے مَحَبّت یا ایک سے وفا کرےگا اَور دُوسرے کو حقارت کی نظر سے دیکھے گا۔ تُم خُدا اَور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔“ تَب زَر دوست فرِیسی یہ باتیں سُن کر یِسوعؔ کی ہنسی اُڑانے لگے۔ (لُوقا 16:1-14)
جَب شمعُونؔ نے دیکھا کہ رسولوں کے ہاتھ رکھنے سے پاک رُوح ملتا ہے، تو اُس نے رُوپے لاکر رسولوں کو پیش کیٔے اَور کہا، ”مُجھے بھی اِختیار دو کہ میں جِس کسی پر ہاتھ رکھوں وہ پاک رُوح پایٔے۔“ پطرس نے جَواب میں فرمایا: ”تیرے رُوپے تیرے ساتھ غارت ہوں، کیونکہ تُونے رُوپیَوں سے خُدا کی اِس نِعمت کو خریدنا چاہا! اِس مُعاملہ میں تیرا کویٔی بھی حِصّہ یا بَخرہ نہیں، کیونکہ خُدا کے نزدیک تیرا دِل صَاف نہیں ہے۔ اَپنی اِس بدنیّتی سے تَوبہ کر اَور خُداوؔند سے دعا کر کہ شاید وہ اِس دِل کی بُری نیّت کے لیٔے تُجھے مُعاف کر دے۔ کیونکہ مَیں دیکھتا ہُوں کہ تُو شدید تلخی اَور ناراستی کے بند میں گِرفتار ہے۔“ تَب شمعُونؔ نے جَواب دیا، ”میرے لیٔے خُداوؔند سے دعا کرو کہ جو کچھ تُم نے کہا ہے وہ مُجھے پیش نہ آئے۔“ (اعمال 8:18-24)
میں خُود بھی یہی کرتا ہُوں۔ میری کوشش یہی رہتی ہے کہ اَپنے ہر کام سے دُوسروں کو خُوشی پہُنچاؤں۔ میں اَپنا نہیں بَلکہ دُوسروں کا فائدہ ڈھونڈتا ہُوں تاکہ لوگ نَجات پائیں۔ (1 کُرِنتھِیوں 10:33)
بَلکہ ہر بات سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم خُدا کے خادِم ہیں: ہم نے بڑے صبر سے مُصیبت؛ اِحتیاج اَور تنگی کا سامنا کیا؛ غمگینوں کی مانِند ہیں، مگر ہمیشہ خُوش رہتے ہیں؛ کنگال دِکھائی دیتے ہیں مگر بہتیروں کو دولتمند بنا دیتے ہیں؛ ناداروں کی مانِند ہیں مگر سَب کچھ رکھتے ہیں۔ (2 کُرِنتھِیوں 6:4, 10)
لہٰذا جَب تُم المسیح کے ساتھ زندہ کیٔے گیٔے تو عالمِ بالا کی چیزوں کی جُستُجو میں رہو، جہاں المسیح خُدا کی داہنی طرف تخت نشین ہیں۔ عالمِ بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو، نہ کہ زمین پر کی چیزوں کے۔ کیونکہ تُم مَر گیٔے، اَور اَب تمہاری زندگی المسیح کے ساتھ خُدا میں پوشیدہ ہے۔ اَور جَب المسیح جو ہماری زندگی ہیں، ظاہر ہوں گے، تو تُم بھی اُن کے ساتھ اُن کے جلال میں ظاہر کیٔے جاؤگے۔ پس تُم اَپنی دُنیوی فطرت کو مار ڈالو مثلاً: جنسی بدفعلی، ناپاکی، شہوت پرستی، بُری خواہشات اَور لالچ کو جو بُت پرستی کے برابر ہے۔ (کلُسّیِوں 3:1-5)
کیونکہ ہر چیز جو خُدا نے بنائی ہے، اَچھّی ہے، اَور کویٔی چیز اِنکار کے لائق نہیں؛ بشرطیکہ شُکر گُزاری کے ساتھ کھائی جائے۔ (1 تِیمُتھِیُس 4:4)
تُم نے قَیدیوں کے ساتھ ہمدردی کی اَور اَپنے جائداد کا لُٹ جانا بھی خُوشی سے قبُول کیا کیونکہ تُم جانتے تھے کہ ایک بہتر اَور دائمی مِلکیّت تمہارے پاس مَوجُود ہے۔ (عِبرانیوں 10:34)
ایمان ہی سے حضرت مَوشہ نے بڑے ہوکر فَرعوہؔ کی بیٹی کا بیٹا کہلانے سے اِنکار کیا۔ اَور گُناہ میں چند دِن لُطف اُٹھانے کی بجائے خُدا کی اُمّت کے ساتھ بدسلُوکی برداشت کرنا زِیادہ پسند کیا۔ اَور حضرت مَوشہ نے المسیح کی خاطِر رُسوا ہونے کو مِصر کے خزانوں سے زِیادہ بڑی دولت سمجھا کیونکہ اُن کی نگاہ اجر پانے پر لگی تھی۔ (عِبرانیوں 11:24-26)
بُرائی کے لیے پیش کیے گئے پیسے کے باوجود بھلائی
یُوآبؔ نے اُس سے جِس نے یہ خبر دی تھی کہا: ”کیا! تُونے اُس جنگجو کو لٹکا دیکھا؟ تو اُسے وہیں کیوں نہ مار گرایا کیونکہ مَیں تُجھے دس ثاقل چاندی اَور ایک کمربند عطا کرتا۔“ لیکن اُس نے یُوآبؔ کو جَواب دیا، ”خواہ مُجھے ایک ہزار ثاقل چاندی بھی تول کر دے دی جاتی تَب بھی بادشاہ کے بیٹے پر ہاتھ نہ اُٹھاتا۔ کیونکہ ہم سُن رہے تھے جَب بادشاہ نے آپ کو ابیشائی اَور اِتّی کو تاکید کی تھی کہ جَوان اَبشالومؔ پر میری خاطِر آنچ نہ آنے پایٔے۔ (2 شموایلؔ 18:11-12)
کرائے کے سپاہی
اَور آساؔ اَور شاہِ اِسرائیل بعشاؔ کے درمیان اُن کے دَورِ حُکومت میں ہمیشہ جنگ ہوتی رہی۔ اَور شاہِ اِسرائیل بعشاؔ نے یہُوداہؔ پر حملہ کیا اَور اُس نے رامہؔ کی قلعہ بندی کر دی تاکہ کوئی بھی شخص شمالی اِسرائیل کی سرحد سے شاہِ یہُودیؔہ آساؔ کے پاس آنے جانے نہ پائے۔ تَب آساؔ نے وہ تمام چاندی اَور سونا جو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اَور اُس کے اَپنے محل میں باقی بچے ہویٔے تھے، اُسے لے کر اَپنے افسران کے سُپرد کیا اَور اُنہیں شاہِ ارام بِن ہددؔ کے پاس جو حِزیوُنؔ کے پوتے طبرِمّونؔ کا بیٹا تھا اَور دَمشق میں حُکمرانی کر رہاتھا، اِس پیغام کے ساتھ بھیجا، ”میرے اَور آپ کے درمیان عہد باندھا جائے،“ اُنہُوں نے کہا، ”جَیسا کہ میرے باپ اَور آپ کے والد کے درمیان عہد تھا۔ دیکھو، مَیں آپ کے لیٔے بطور تحفہ چاندی اَور سونے کا نذرانہ بھیج رہا ہُوں۔ لہٰذا اَب آپ شاہِ اِسرائیل بعشاؔ سے اَپنا عہد توڑ دیجئے تاکہ وہ میرے علاقہ سے اَپنی فَوج ہٹا لے۔“ بِن ہددؔ نے آساؔ بادشاہ کی بات مان لی اَور اَپنے لشکر کے سرداروں کو اِسرائیل کے شہروں پر حملہ کرنے کو بھیج دیا۔ اُس نے اِسرائیل سلطنت کے شہروں کے خِلاف اَپنے فَوجی افسران بھیج دئیے جنہوں نے نفتالی صُوبہ کے علاوہ عِیونؔ، دانؔ، بیت معکہؔ کے ابیل اَور سارے کِنّریتؔ کو فتح کر لیا۔ (1 سلاطین 15:16-20)
تَب شاہِ ارام رِضینؔ اَور شاہِ اِسرائیل پِقاحؔ بِن رملیاہؔ نے جنگ کی غرض سے یروشلیمؔ پر چڑھائی کی اَور آحازؔ کو گھیرلیا؛ مگر وہ اُس پر غالب نہ ہو سکے۔ اَور آحازؔ کو یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں اَور شاہی محل کے خزانوں میں جِتنا چاندی اَور سونا مِلا، وہ سَب اُس نے بطور نذرانہ شاہِ اشُور کو بھیج دیا۔ اَور شاہِ اشُور نے آحازؔ کی بات مان کر دَمشق پر حملہ کرکے اُس پر قبضہ کر لیا اَور اُس کے باشِندوں کو قَید کرکے قیرؔ میں جَلاوطن کر دیا اَور وہیں اُس نے رِضینؔ کو قتل کر دیا۔ (2 سلاطین 16:5, 8-9)
تَب آساؔ نے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے خزانوں سے اَور اَپنے شاہی محل سے چاندی اَور سونا نکال کر دَمشق میں ارام کے بادشاہ بِن ہددؔ کے پاس اِس پیغام کے ساتھ بھیجا۔ ”میرے اَور آپ کے درمیان عہد باندھا جائے،“ اُنہُوں نے کہا، ”جَیسا کہ میرے باپ اَور آپ کے والد کے درمیان عہد تھا۔ دیکھو، مَیں آپ کے لیٔے چاندی اَور سونے کا نذرانہ بھیج رہا ہُوں۔ لہٰذا اَب آپ شاہِ اِسرائیل بعشاؔ سے اَپنا عہد توڑ دیجئے تاکہ وہ میرے علاقہ سے اَپنی فَوج ہٹا لے۔“ بِن ہددؔ نے آساؔ بادشاہ کی بات مان لی اَور اَپنے فَوجی دستوں کے سپہ سالاروں کو اِسرائیل کے شہروں پر حملہ کرنے کا حُکم دیا اَور اُنہُوں نے عِیونؔ، دانؔ، ابیل مائیمؔ اَور نفتالی کے ذخیرہ کے سَب شہروں پر قبضہ کر لیا۔ (2 تواریخ 16:2-4)
مقدمہ بازی
لیکن تمہاری بدکاری نے تُمہیں اَپنے خُدا سے دُور کر دیا ہے؛ اَور تمہارے گُناہوں نے اُسے تُم سے اَیسا روپوش کیا، کہ وہ سُنتے نہیں۔ کویٔی اِنصاف طلب نہیں کرتا؛ اَور کویٔی سچّائی سے اَپنا مُقدّمہ نہیں لڑتا۔ وہ بے معنی دلیلوں پر اِعتماد کرلیتے ہیں اَور جھُوٹ بولتے ہیں؛ اُن کا حَمل بدچلنی کا ہوتاہے جِس سے بدی جنم لیتی ہے۔ (یَشعیاہ 59:2, 4)
”اگر تمہارا دُشمن تُمہیں عدالت میں لے جا رہا ہو تو راستے ہی میں جلدی سے اُس سے صُلح کر لو ورنہ وہ تُمہیں مُنصِف کے حوالے کر دے گا اَور مُنصِف تُمہیں سپاہی کے حوالہ کر دے گا اَور سپاہی تُمہیں لے جا کر قَیدخانہ میں ڈال دیں گے۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جَب تک تُم ایک ایک پیسہ اَدا نہ کر دوگے، وہاں سے ہرگز نکل نہ پاؤگے۔ (متّی 5:25-26)
اَور اگر کویٔی تُم پر مُقدّمہ کرکے تمہارا چوغہ لینا چاہتاہے تو اُسے کُرتا بھی دے دو۔ (متّی 5:40)
اگر کویٔی تیرے ایک گال پر تھپّڑ مارے، تو دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۔ اگر کویٔی تیرا چوغہ لے لیتا ہے تو، اُسے کُرتا لینے سے بھی مت روکو۔ جو تُم سے کُچھ مانگے اُسے ضروُر دو، اَور اگر کویٔی تیرا مال لے لیتا ہے تو اُس سے واپس مت مانگ۔ (لُوقا 6:29-30)
جَب تو اَپنے دُشمن کے ساتھ مُنصِف کے پاس راستہ میں جا رہاہے تو راستہ ہی میں اُس سے چھُٹکارا حاصل کر لے، کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ تُجھے مُنصِف کے حوالے کر دے اَور مُنصِف تُجھے سپاہی کے سُپرد کر دے اَور سپاہی تُجھے قَیدخانہ میں ڈال دے۔ میں تُم سے کہتا ہُوں کہ جَب تک تُم ایک ایک پیسہ اَدا نہ کر دوگے، وہاں سے ہرگز نکل نہ پاؤگے۔“ (لُوقا 12:58-59)
اگر تُم میں ایک کا دُوسرے کے ساتھ جھگڑا چل رہا ہو تو کیا وہ اَپنے فیصلہ کے لیٔے مسیحی مُقدّسین کی بجائے بےدینوں کی عدالت میں جانے کی جُرأت کرےگا؟ کیا تُم نہیں جانتے کہ مُقدّس لوگ دُنیا کا اِنصاف کریں گے؟ اَور جَب تُمہیں دُنیا کا اِنصاف کرناہے تو کیا تُم اِس قابل بھی نہیں کہ چُھوٹی چُھوٹی باتوں کا فیصلہ کر سکو؟ کیا تُم نہیں جانتے کہ ہم فرشتوں کا اِنصاف کریں گے؟ اِس دُنیا کے مُعاملات کا تو ذِکر ہی کیا؟ اگر تُم میں اَیسے دُنیوی مُقدّمے ہوں تو کیا تُم اُن کا فیصلہ اَیسے لوگوں سے کراؤگے جِن کی جماعت میں کویٔی حیثیت نہیں؟ میں تُمہیں شرمندہ کرنے کے لیٔے یہ کہتا ہُوں۔ کیا سچ مُچ تُم میں ایک بھی عقلمند نہیں جو مسیحی بھائیو کے مُعاملات کا بِلاجِھجک فیصلہ کر سکے؟ بَلکہ ایک مسیحی بھایٔی دُوسرے مسیحی بھایٔی پر مُقدّمہ دائر کرتا ہے اَور وہ بھی بےاِعتقادوں کی عدالت میں۔ دراصل تُم میں بڑا نُقص یہ ہے کہ تُم آپَس کی مُقدّمہ بازی میں مشغُول ہو۔ تُم ظُلم اُٹھانا کیوں نہیں بہتر جانتے؟ اَپنا نُقصان کیوں نہیں قبُول کرتے؟ اِس کے برعکس تُم ظُلم کرتے ہو، نُقصان پہُنچاتے ہو اَور وہ بھی اَپنے ہی مسیحی بھائیوں اَور بہنوں کو۔ (1 کُرِنتھِیوں 6:1-8)
جب خدا کا کام شریروں کو مالی نقصان پہنچائے تو وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں
ایک مرتبہ جَب ہم دعا کے مقام کی طرف جا رہے تھے تو ہمیں ایک کنیز مِلی جِس میں ایک غیب دانؔ رُوح تھی۔ وہ آئندہ کا حال بتا کر اَپنے آقاؤں کے لیٔے بہت کچھ کماتی تھی۔ اُس لڑکی نے پَولُسؔ کا اَور ہمارا پیچھا کرنا شروع کر دیا اَور چِلّا چِلّاکر کہنے لگی، ”یہ لوگ خُداتعالیٰ کے خادِم ہیں جو تُمہیں نَجات کا راستہ بتاتے ہیں۔“ وہ کیٔی دِنوں تک اَیسا ہی کرتی رہی۔ بلآخر پَولُسؔ اِس قدر تنگ آ گئے کہ اُنہُوں نے مُڑ کر اُس رُوح سے کہا، ”مَیں تُجھے یِسوعؔ المسیح کے نام سے حُکم دیتا ہُوں کہ اِس میں سے نکل جا!“ اَور اُسی گھڑی وہ رُوح اُس لڑکی میں سے نکل گئی۔ جَب اُس کے آقاؤں نے دیکھا کہ اُن کی کمائی کی اُمّید جاتی رہی تو وہ پَولُسؔ اَور سِیلاسؔ کو پکڑکر شہر کے چَوک میں حاکموں کے پاس لے گیٔے۔ (اعمال 16:16-19)
ایک چاندی کاریگر جِس کا نام دیمیترِیُسؔ تھا، اَرتمِسؔ دیوی کے بُت خانہ کے نمونہ پر چاندی کے چُھوٹے چُھوٹے بُت خانہ بنواتا تھا اَور اَپنے ہم پیشہ کاریگروں کو بہت کام دِلواتا تھا۔ اُس نے اَپنے ہم پیشہ سارے کاریگروں کو جمع کیا اَور کہا، ”بھائیو! تُم جانتے ہو کہ ہم یہ کام کرکے کافی رقم کما لیتے ہیں۔ لیکن جَیسا کہ تُم دیکھتے اَور سُنتے ہو یہ آدمی پَولُسؔ کِس طرح اِفِسُسؔ اَور تقریباً سارے صُوبہ آسیہؔ میں ہمیں بہت سے لوگوں کو قائل کرکے گُمراہ کر رہاہے اَور کہتاہے کہ ہاتھوں کے بنائے ہویٔے بُت ہرگز معبُود نہیں ہو سکتے۔ خوف اِس بات کا ہے کہ نہ صِرف ہمارے پیشہ کی بدنامی ہوگی بَلکہ عظیم دیوی اَرتمِسؔ کے بُت خانہ کی قدر بھی جاتی رہے گی۔ اَور جَیسے تمام آسیہؔ اَور ساری دُنیا بھر میں اِس دیوی کی پرستش ہوتی ہے۔ اَب اُس کے نام کی عظمت بھی باقی نہ رہے گی۔“ (اعمال 19:24-27)