دولت

بائبل مال و اسباب کے بارے میں متوازن نقطۂ نظر پیش کرتی ہے: خدا دولت سے برکت دے سکتا ہے، پھر بھی وہ اس کے خطرات سے خبردار کرتی ہے اور سکھاتی ہے کہ حقیقی دولت اس کے ساتھ تعلق میں ہے۔ مال و اسباب عارضی ہیں، نجات نہیں خرید سکتے، اور غرور، جدائی اور روحانی بےپھلی کا باعث بن سکتے ہیں۔

مال و اسباب کے بارے میں بائبل کا نقطۂ نظر

دولت کے بارے میں خداوند کا نقطۂ نظر

میں تیری مُصیبت اَور مفلسی سے واقف ہُوں لیکن تُو دولتمند ہے اَور اُن لوگوں کے لَعن طَعن سے بھی واقف ہے جو اَپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں مگر ہیں نہیں بَلکہ شیطان کی جماعت ہیں۔ (مُکاشفہ 2:9)

مال و اسباب کے بارے میں لوگوں کا نقطۂ نظر

بھُوکے اُس کی فصل کھا جاتے ہیں، یہاں تک کہ کانٹے دار باڑوں میں محفوظ فصل بھی لے لیتے ہیں، اَور لالچی اُس کی دولت نگل جاتے ہیں۔ (ایُّوب 5:5)
اُس کی دولتمندی ختم ہو جائے گی اَور اُس کا مال جاتا رہے گا، نہ ہی اُس کی مِلکیّت وسیع ہوگی۔ (ایُّوب 15:29)
اُس کی اَولاد غریبوں سے بھیک مانگے گی؛ اُس کے اَپنے ہاتھ اُس کی دولت واپس دیں گے۔ (ایُّوب 20:10)
اُس نے جو دولت نگل رکھی ہے، اُسے اُگل دے گا؛ خُدا اُس کے پیٹ کو اُسے باہر نکالنے پر مجبُور کرےگا۔ (ایُّوب 20:15)
جو چیز اُس نے مشقّت سے حاصل کی اُسے بغیر کھائے واپس کر دے گا؛ نہ ہی وہ اَپنے کاروبار کے منافع سے مستفید ہوگا۔ کیونکہ اُس نے غریبوں پر ظُلم ڈھائے اَور اُنہیں اَور بھی کنگال بنا دیا؛ اَور اُس نے اُن گھروں پر قبضہ جمالیا جنہیں اُس نے نہیں بنایا تھا۔ ”اُس کی تمنّا ہرگز پُوری نہ ہوگی؛ اُس کی دولت اُس کے کام نہ آئے گی، (ایُّوب 20:18-20)
مُکمّل تاریکی اُس کے خزانوں پر گھات لگائے بیٹھی ہے۔ آگ بھڑکنے سے پہلے ہی اُسے بھسم کر دے گی اَور اُس کے خیمہ میں جو کچھ بچا ہوگا اُسے پھُونک ڈالے گی۔ (ایُّوب 20:26)
خُدا کے روز قہر کا تُند سیلاب، اُس کے گھر کا مال و اَسباب بہا لے جائے گا۔ (ایُّوب 20:28)
وہ اَپنے سال خُوشحالی میں گزارتے ہیں، اَور اِطمینان سے پاتال میں اُتر جاتے ہیں۔ (ایُّوب 21:13)
لیکن اُن کی اِقبالمندی اُن کے اَپنے ہاتھ میں نہیں ہے، بدکاروں کے منصُوبے میری سمجھ سے باہر ہیں۔ (ایُّوب 21:16)
اگر تُم قادرمُطلق سے رُجُوع ہوگے تو بحال کئے جاؤگے: بشرطیکہ تُم بدی کو اَپنے خیمہ سے دُور کرو، اَور اَپنے خزانوں کو خاک، اَور اَپنے اوفیرؔ کے سونے کو وادی کے پتّھروں کے برابر سمجھو۔ تَب قادرمُطلق تمہارا خزانہ ہوں گے، اَور تمہارے لیٔے خالص چاندی بَن جائیں گے۔ (ایُّوب 22:23-25)
”خُدا کی طرف سے بدکار اِنسان کا اَیسا ہی حَشر ہوتاہے، قادرمُطلق ظالموں کو اَیسی ہی مِیراث دیتے ہیں: (ایُّوب 27:13)
خواہ وہ مٹّی کی طرح چاندی کا ڈھیر لگا لے اَور گارے کی طرح کپڑوں کا ذخیرہ کر لے، وہ جو بھی جمع کرےگا اُسے راستباز پہنے گا، اَور بے قُصُور اُس کی چاندی بانٹ لیں گے۔ (ایُّوب 27:16-17)
اگر وہ حُکم مانیں اَور اُن کی اِطاعت کریں، تو وہ اَپنی زندگی کے باقی بچے ایّام خُوشحالی میں اَور زندگی آسودگی میں گُزاریں گے۔ (ایُّوب 36:11)
کیا تمہاری دولت یا قُوّت و توانائی تُمہیں مُصیبت سے بچانے کے لیٔے کافی ہیں؟ (ایُّوب 36:19)
حِکمت، مِیراث کی مانند ایک اَچھّی چیز ہے اَور اُنہیں جو زندہ ہیں، فائدہ پہُنچاتی ہے۔ حِکمت وَیسی ہی پناہ گاہ ہے جَیسا کہ دولت، لیکن علم کا خاص فائدہ یہ ہے: حِکمت، صاحبِ حِکمت اِنسان کی جان کی مُحافظ ہے۔ (واعظ 7:11-12)

مرتے وقت ہم اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جاتے

جَب کویٔی اِنسان مالدار ہو جائے، اَور اُس کے گھر کی شوکت بڑھ جائے، تو تُم خوفزدہ نہ ہونا؛ کیونکہ جَب وہ مَرے گا تو کچھ بھی اَپنے ساتھ نہ لے جاپائے گا، اَور نہ اُس کی شوکت اُس کے ساتھ قبر میں جائے گی۔ خواہ جیتے جی وہ خُود کو مُبارک ہی سمجھتا رہا ہو۔ اَور جَب تمہارا اِقبال بُلند ہوتاہے تو لوگ تمہاری تعریف کرتے ہی ہیں۔ تو بھی وہ اَپنے آباؤاَجداد کی نَسل سے جا ملے گا جو زندگی کا نُور ہرگز نہ دیکھیں گے۔ جو آدمی صاحبِ زَر ہو لیکن باشعور نہ ہو، وہ اُن حَیوانوں کی مانند ہے جو فنا ہو جاتے ہیں۔ (زبُور 49:16-20)
مَیں نے دُنیا میں ایک شدید بُرائی دیکھی ہے: مالک نے اَپنی دولت خُود کو نُقصان پہُنچانے کے لیٔے ہی کمائی تھی، کیونکہ وہ مال کسی حادثہ سے برباد ہو جاتا ہے، اَور جَب مالک کے گھر میں بیٹا پیدا ہُوا تو اُن کے لیٔے کچھ بھی مِیراث باقی نہیں رہی۔ ہر اِنسان ماں کے پیٹ سے ننگا آتا ہے، اَور جَیسے وہ ننگا آتا ہے، وَیسے ہی ننگا چلا بھی جاتا ہے۔ اَور اُسے اَپنی کمائی سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا جسے وہ اَپنے ساتھ لے جا سکے۔ (واعظ 5:13-15)
کیونکہ ہم دُنیا میں نہ تو کچھ لے کر آئے ہیں اَور نہ کچھ اُس میں سے لے جا سکتے ہیں۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:7)
”دراصل اِنسان محض ایک چلتا پھرتا سایہ ہے: وہ سرگرم رہتاہے لیکن اُس سے کیا فائدہ؛ وہ دولت جمع کرتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ وہ کس کے ہاتھ لگے گی۔ (زبُور 39:6)

آپ اپنی جان کا فدیہ نہیں خرید سکتے

جَب بُرے دِن آئیں تو میں کیوں خوفزدہ ہوؤں، اَور اَیسے بدکار لوگ دغاباز مُجھے گھیر لیں۔ جِن کا بھروسا اَپنی دولت پر ہے اَورجو اَپنے مال و زَر کی کثرت پر فخر کرتے ہیں؟ کویٔی شخص کسی دُوسرے کی جان کا مُعاوضہ نہیں دے سَکتا نہ خُدا کو اُس کا فدیہ اَدا کر سَکتا ہے۔ کیونکہ جان کا فدیہ بیش قیمتی ہے، کویٔی مُعاوضہ کبھی بھی کافی نہیں ہوتا۔ (زبُور 49:5-8)
خُدا کے قہر کے دِن دولت کام نہیں آتی، لیکن راستی موت سے رِہائی بخشتی ہے۔ (امثال 11:4)
آدمی اگر ساری دُنیا حاصل کر لے، مگر اَپنی جان کا نُقصان اُٹھائے اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اَپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا؟ (متّی 16:26)
آدمی اگر ساری دُنیا حاصل کر لے، مگر اَپنی جان کا نُقصان اُٹھائے اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اَپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا؟ (مرقُس 8:36-37)
آدمی اگر ساری دُنیا حاصل کر لے مگر اَپنا نُقصان کر لے یا خُود کو کھو بیٹھے تو کیا فائدہ؟ (لُوقا 9:25)

دولت بہت سے "دوست" بناتی ہے

کنگالوں سے اُن کے ہمسایے بھی نفرت کرتے ہیں، لیکن دولتمندوں کے عزیز بہت ہوتے ہیں۔ (امثال 14:20)
دولت بہت سے دوست لے آتی ہے، لیکن غریب کا دوست بھی اُس سے الگ ہو جاتا ہے۔ (امثال 19:4)

دولت عارضی ہے

مالدار ہونے کے لیٔے دَوڑ دھوپ نہ کرو؛ بَلکہ حِکمت سے کام لو اَور خُود پر قابُو پا لو۔ دولت تمہارے دیکھتے دیکھتے غائب ہو جائے گی، کیونکہ اُس میں یقیناً عُقاب کی مانند پر لگ جایٔیں گے، اَور وہ آسمان کی طرف اُڑ جائے گی۔ (امثال 23:4-5)
ایمان ہی سے حضرت مَوشہ نے بڑے ہوکر فَرعوہؔ کی بیٹی کا بیٹا کہلانے سے اِنکار کیا۔ اَور گُناہ میں چند دِن لُطف اُٹھانے کی بجائے خُدا کی اُمّت کے ساتھ بدسلُوکی برداشت کرنا زِیادہ پسند کیا۔ اَور حضرت مَوشہ نے المسیح کی خاطِر رُسوا ہونے کو مِصر کے خزانوں سے زِیادہ بڑی دولت سمجھا کیونکہ اُن کی نگاہ اجر پانے پر لگی تھی۔ (عِبرانیوں 11:24-26)
اَور یہ آزمائشیں اِس لیٔے آئی ہیں تاکہ تمہارے ثابت ایمان کی صداقت آگ میں تپے ہویٔے فانی سونے سے بھی زِیادہ قیمتی ہو، اَور یِسوعؔ المسیح کے ظاہر ہونے کے وقت تعریف، جلال اَور عزّت کے لائق ٹھہرے۔ (1 پطرس 1:7)
کیونکہ تُم جانتے ہو کہ تُم نے اُس نکمّے چال چلن سے خلاصی پائی ہے جو تُمہیں تمہارے باپ دادا سے مِلا تھا، لیکن یہ مخلصی تُم نے سونے یا چاندی جَیسی فانی چیزوں سے نہیں پائی، (1 پطرس 1:18)

یسوع کو جاننے کے مقابلے میں سارا مال کچھ بھی نہیں

لیکن جو کچھ میرے لیٔے نفع کا باعث تھا، مَیں نے اُسے المسیح کی خاطِر نُقصان سمجھ لیا ہے۔ بَلکہ میں اَپنے خُداوؔند المسیح یِسوعؔ کی پہچان کو اَپنی بڑی خُوبی سمجھتا ہُوں، جِن کی خاطِر مَیں نے دُوسری تمام چیزوں کا نُقصان اُٹھایا۔ اَور اُن چیزوں کو کُوڑا سمجھتا ہُوں، تاکہ المسیح کو حاصل کرلُوں (فِلپّیوں 3:7-8)

دولت ناپائیدار ہے

اِس مَوجُودہ جہان کے دولتمندوں کو حُکم دے کہ وہ مغروُر نہ ہوں، اَور ناپائیدار دولت پر نہیں بَلکہ خُدا پر اُمّید رکھیں، جو ہمیں سَب چیزیں فیّاضی سے مُہیّا کرتا ہے تاکہ ہم مزہ سے زندگی گُزاریں۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:17)

خداوند کے بغیر دولت بےکار ہے

مَیں نے بڑے بڑے کام شروع کئے: مَیں نے اَپنے لیٔے مکانات تعمیر کئے اَور تاکستان لگائے۔ مَیں نے باغیچے اَور سَیر گاہیں تیّار کیں اَور اُن میں ہر قِسم کے پھلدار درخت لگائے۔ مَیں نے جنگلی درختوں کے ذخیرہ کی آبپاشی کے لیٔے تالاب بنائے۔ مَیں نے غُلام اَور لونڈیاں مول لیں اَور میرے پاس دیگر خانہ زاد مُلازمین بھی تھے اَور جتنے بھی مُجھ سے پیشتر یروشلیمؔ میں تھے میرے پاس اُن سَب سے زِیادہ گائے بَیلوں اَور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ تھے۔ مَیں نے اَپنے لیٔے سونا اَور چاندی اَور بادشاہوں اَور صوبوں کے خزانے جمع کئے۔ مَیں نے گانے والے مَرد خواتین اَور خُوبصورت لونڈیاں فراہم کیں جو اِنسان کے لیٔے اسبابِ عیش ہیں۔ اَور مَیں اُن سَب کی بہ نِسبت جو مُجھ سے پہلے یروشلیمؔ کے شہر میں تھے، زِیادہ افضل اَور عظمت والا بَن گیا اَور اِن سَب باتوں میں میری حِکمت نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ اَور مَیں نے اَپنے آپ کو کسی بھی چیز سے جِس کی میری آنکھوں نے تمنّا کی، باز نہ رکھا؛ اَور مَیں نے اَپنے دِل کو کسی بھی عیش و عشرت سے باز نہ رکھا۔ میرا دِل میری ساری محنت سے خُوش ہُوا، اَور میری ساری محنت و مشقّت کا یہ اِنعام تھا۔ تاہم جَب مَیں نے اَپنے ہاتھوں کے تمام کاموں کا جائزہ لیا، اُس محنت و مشقّت کا جنہیں مَیں نے کیا تھا تو نتیجہ یہی نِکلا کہ سَب باطِل ہے اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے؛ اَور دُنیا میں اِس کا کویٔی دائمی فائدہ نہیں۔ (واعظ 2:4-11)

دولت سے زیادہ قیمتی چیزیں

اُسے خالص سونے سے خریدا نہیں جا سَکتا، نہ ہی اُس کی قیمت چاندی سے اَدا کی جا سکتی ہے۔ اوفیرؔ کے سونے سے اُس کی قیمت اَدا نہیں کی جا سکتی، نہ ہی قیمتی سنگِ سُلیمانی اَور نیلم سے۔ نہ سونا نہ بِلّوری شیشہ سے اُس کا مُقابلہ کیا جا سَکتا ہے، نہ ہی اُسے جواہرات کے عوض حاصل کیا جا سَکتا ہے۔ مرجان اَور بِلّور ناقابل ذِکر ہیں؛ حِکمت کی قیمت سنگِ یَشب سے کہیں زِیادہ ہے۔ کُوشؔ کا پکھراج اُس کی برابری نہیں کر سَکتا؛ نہ ہی خالص سونے سے اُس کا مول ہو سَکتا ہے۔ (ایُّوب 28:15-19)
راستبازوں کی تھوڑی سِی پُونجی بدکاروں کی بہت سِی دولت سے بہتر ہے؛ (زبُور 37:16)
مُجھے آپ کی شہادتوں کو بجا لانے سے وَیسی ہی مسرّت حاصل ہوتی ہے، جِتنا کہ ہر طرح کی دولت سے ہوتی ہے۔ (زبُور 119:14)
آپ کے مُنہ کے آئین میرے لیٔے چاندی اَور سونے کے ہزاروں سِکّوں سے زِیادہ افضل ہے۔ (زبُور 119:72)
چونکہ مَیں آپ کے اَحکام کو سونے سے بَلکہ خالص سونے سے بھی زِیادہ عزیز رکھتا ہُوں، (زبُور 119:127)
مُبارک ہے وہ آدمی جو حِکمت پاتاہے، اَور وہ جو دانش حاصل کرتا ہے، کیونکہ وہ چاندی سے مفید تر ہے اَور سونے سے زِیادہ نفع بخش ہے۔ وہ لعلوں سے زِیادہ بیش قیمتی ہے؛ تمہاری کسی بھی مرغوب چیز کا اُس سے موازنہ نہیں کیا جا سَکتا۔ اُس کے داہنے ہاتھ میں لمبی عمر ہے؛ اَور بائیں ہاتھ میں دولت اَور عزّت ہے۔ (امثال 3:13-16)
چاندی کے عوض میری تربّیت اِختیار کر لو، اَور خالص سونے کی بجائے علم، کیونکہ حِکمت لعل سے زِیادہ بیش قیمتی ہے، تمہاری کسی بھی دِل پسند چیز کا اُس سے موازنہ نہیں کیا جا سَکتا۔ (امثال 8:10-11)
دولت اَور عزّت میرے پاس ہے، بَلکہ پائدار سرمایہ اَور خُوشحالی بھی۔ میرا پھل خالص سونے سے بھی بہتر ہے؛ اَور میری پیداوار خالص چاندی سے افضل ہے۔ میں راستبازی کی راہ پر؛ اِنصاف کے راستوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہُوں۔ اَورجو مُجھ سے مَحَبّت رکھتے میں اُن کو مالا مال کرتی اَور اُن کے خزانے بھر دیتی ہُوں۔ (امثال 8:18-21)
پریشانی کے ساتھ رکھے ہُوئے بڑے خزانے سے تھوڑی سِی پُونجی جو یَاہوِہ کے خوف کے ساتھ رکھی جائے، کہیں بہتر ہے۔ (امثال 15:16)
راستی سے حاصل کیا ہُوا تھوڑا سا مال نااِنصافی سے حاصل کئے ہُوئے بڑے منافع سے بہتر ہے۔ (امثال 16:8)
حِکمت حاصل کرنا سونے کے حُصُول سے، اَور فہم حاصل کرنا چاندی کے حُصُول سے کہیں بہتر ہے۔ (امثال 16:16)
فروتن بَن کر مظلوموں کے ساتھ رہنا مغروُروں کے ساتھ مِل کر لُوٹ کا مال حاصل کرنے سے بہتر ہے۔ (امثال 16:19)
ایک مُفلس آدمی جو سیدھی راہ چلتا ہے، اُس احمق سے بہتر ہے جو ہمیشہ جھُوٹ بولتا ہے۔ (امثال 19:1)
سونا بہت ہے اَور لعل بھی کثرت سے ہیں، لیکن علم والے ہونٹ اَیسے ہیرے ہیں جو بہت کم پایٔے جاتے ہیں۔ (امثال 20:15)
نیک نامی بڑی دولت اَور خزانوں سے بھی افضل ہے؛ اَور اِحسَان سونے چاندی سے بہتر ہے۔ (امثال 22:1)
کجرو دولتمند سے راست رَو مُفلس بہتر ہے۔ (امثال 28:6)

جسے بہت دیا گیا ہے اس سے بہت طلب کیا جائے گا

مگر جِس نے اَپنے مالک کی مرضی کو جانے بغیر مار کھانے کے کام کیٔے وہ کم مار کھائے گا۔ پس جسے زِیادہ دیا گیا ہے اُس سے اُمّید بھی زِیادہ کی جائے گی اَور جِس کے پاس زِیادہ سونپا گیا ہے اُس سے طلب بھی زِیادہ ہی کیا جائے گا۔ (لُوقا 12:48)

دولت کی برکتیں

راستبازوں کو خوشحالی کا اجر ملے گا

آفت گُنہگاروں کا تعاقب کرتی ہے، لیکن اِقبالمندی صادقوں کا اجر ہے۔ (امثال 13:21)
راستباز کے گھر میں بہت بڑا خزانہ ہوتاہے، لیکن بدکاروں کی آمدنی اُن کے لیٔے مُصیبت کھڑی کردیتی ہے۔ (امثال 15:6)

خدا کے کلام پر دھیان کرنے والے کے لیے دولت

وہ آدمی مُبارک ہے جو بدکار لوگوں کی صلاح پر نہیں چلتا، اَور نہ گُنہگاروں کی راہ میں قدم رکھتا ہے اَور نہ ٹھٹّھے بازوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے، بَلکہ یَاہوِہ کے آئین میں اُس کی مسرّت ہے، اَورجو اُس کی شَریعت پر دِن رات غوروخوض کرتا رہتاہے۔ وہ اُس درخت کی مانند ہے جو پانی کی نہروں کے کنارے لگایا گیا ہو، جو اَپنے موسم میں پھلتا ہے۔ اَور جِس کے پتّے مُرجھاتے نہیں۔ لہٰذا اَیسا آدمی جو کچھ کرتا ہے بارآور ہوتاہے۔ (زبُور 1:1-3)

خوشحال لوگ خداوند کی عبادت کریں گے

دُنیا کے تمام اَمیر عید منائیں گے اَور عبادت کریں گے؛ وہ سَب جو خاک میں مِل جاتے ہیں اُن کے آگے گھُٹنے ٹیکیں گے، اَورجو اَپنی جان کو نہیں بچا سکتے۔ (زبُور 22:29)

خوشحالی کے لیے دعا

تاکہ مَیں آپ کے برگُزیدوں کی اِقبالمندی سے لُطف اَندوز ہو سکوں، اَور آپ کی قوم کی خُوشی میں شریک ہو سکوں، اَور آپ کی مِیراث کے لوگوں کے ساتھ مِل کر فخر کر سکوں۔ (زبُور 106:5)
یروشلیمؔ کی سلامتی کے لیٔے دعا کرو: ”آپ سے مَحَبّت رکھنے والے سلامت رہیں۔ اَے یروشلیمؔ، تمہاری فصیلوں کے اَندر خُوشحالی اَور تمہارے قلعوں میں سکون رہے۔“ (زبُور 122:6-7)
یَاہوِہ عمر بھر تُمہیں صِیّونؔ میں سے برکت دیں، اَور تُم یروشلیمؔ کی اِقبالمندی دیکھ پاؤگے۔ (زبُور 128:5)
میرے عزیز! میں یہ دعا کرتا ہُوں کہ جِس طرح تو رُوحانی طور پر ترقّی کر رہاہے اُسی طرح سَب باتوں میں ترقّی کرے اَور تندرست رہے۔ (3 یُوحنّا 2)

دولتمند خدا ترس لوگ

اَبرامؔ اَپنی بیوی سارَیؔ، اَپنے بھتیجے لَوطؔ، اَپنا سَب مال و متاع اَور اُن لوگوں کو جو اُنہُوں نے حارانؔ میں کمایا تھا ساتھ لے کر مُلکِ کنعانؔ کو روانہ ہو گئے اَور وہ سَب وہاں پہُنچ گیٔے۔ (پیدائش 12:5)
اَبرامؔ مویشی اَور سونا چاندی پا کر بہت مالدار ہو گئے تھے۔ (پیدائش 13:2)
تَب یَاہوِہ نے اَبرامؔ سے فرمایا، ”یقین جانو کہ چار سَو بَرس تک تمہاری نَسل ایک بیگانے مُلک میں جو اُن کا نہیں ہے اُس میں پردیسیوں کی طرح رہے گی، اَور وہاں کے لوگ اُسے غُلامی میں رکھیں گے اَور اُس سے بدسلُوکی سے پیش آتے رہیں گے۔ لیکن مَیں اُس قوم کو جو اُسے غُلام بنائے گی سزا دُوں گا، اَور بعد میں تمہاری قوم کے لوگ بڑی دولت کے ساتھ وہاں سے نکلیں گے۔ (پیدائش 15:13-14)
اَبراہامؔ اَب ضعیف اَور عمر رسیدہ ہو چُکے تھے اَور یَاہوِہ نے آپ کو ہر پیمانے سے برکت دی تھی۔ (پیدائش 24:1)
لڑکی نہایت خُوبصورت، کنواری؛ اَور مَرد سے ناواقِف تھی۔ وہ نیچے اُتر کر چشمے کے پاس گئی اَور پھر اَپنا گھڑا بھرکے اُوپر آ گئی۔ (پیدائش 24:16)
یَاہوِہ نے میرے آقا کو بڑی برکت دی ہے اَور وہ بڑے دولتمند آدمی ہو گئے ہیں۔ یَاہوِہ نے اُنہیں بھیڑیں اَور مویشی، چاندی اَور سونا خادِم اَور خادِمائیں اَور اُونٹ اَور گدھے دئیے ہیں۔ (پیدائش 24:35)
اَور اِصحاقؔ نے اُس سال اُس مُلک میں جِتنی فصل بوئی اُس کا سَو گُنا پھل پایا کیونکہ یَاہوِہ نے اُنہیں برکت دی تھی۔ وہ بہت مالدار ہو گئے اَور اُن کی دولت بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ اَبراہامؔ بےحد اَمیر ہو گئے۔ اُن کے پاس اِس قدر زِیادہ بھیڑ بکریاں اَور جانور اَور نوکر چاکر تھے کہ فلسطینی اُن سے حَسد کرنے لگے۔ (پیدائش 26:12-14)
اِس طرح سے یعقوب نہایت برومند ہویٔے اَور بہت سے گلّوں، خادِموں، خادِماؤں، اُونٹوں اَور گدھوں کے مالک بَن گئے۔ (پیدائش 30:43)
براہِ مہربانی جو تحفہ آپ کے سامنے لایا گیا اُسے قبُول کیجئے کیونکہ خُدا کے فضل و کرم سے میرے پاس ضروُرت کا سارا سامان مَوجُود ہے۔“ اَور یعقوب کے اِصرار کرنے پر عیسَوؔ نے اُسے قبُول کر لیا۔ (پیدائش 33:11)
تَب فَرعوہؔ نے اَپنی اُنگلی سے اَپنی مُہر والی انگُوٹھی اُتار کر یُوسیفؔ کی اُنگلی میں پہنا دی۔ اُس نے یُوسیفؔ کو نہایت اعلیٰ درجہ کے نفیس کتانی لباس سے آراستہ کیا اَور اُن کے گلے میں سونے کا گلوبند پہنایا۔ (پیدائش 41:42)
مُلک مِصر میں مُجھے جِتنا اِعزاز و اِحترام بخشا گیا ہے اَورجو کچھ تُم نے دیکھاہے اُس کا تذکرہ میرے باپ سے کرنا اَور اُنہیں اَپنے ساتھ لے کر جلدی سے میرے پاس چلے آنا۔“ (پیدائش 45:13)
اَور وہ اَپنے مویشیوں اَور سارے مال و اَسباب کو بھی ساتھ لے گیٔے جو اُنہُوں نے مُلکِ کنعانؔ میں جمع کیا تھا اَور یعقوب اَپنی ساری اَولاد سمیت مِصر چلےگئے۔ (پیدائش 46:6)
اَور اِسرائیلی مِصر میں گوشینؔ کے علاقہ میں آباد ہو گئے۔ اُنہُوں نے وہاں جائدادیں کھڑی کر لیں اَور پھلے پھُولے اَور تعداد میں بہت ہی بڑھ گیٔے۔ (پیدائش 47:27)
یہوشُعؔ نے کہا، ”تُم بڑی دولت یعنی بڑے بڑے ریوڑ، چاندی، سونا، کانسے اَور لوہا اَور بے شُمار لباسوں کو لے کر اَپنے گھروں کو لَوٹو اَور اَپنے دُشمنوں سے حاصل کئے ہُوئے مالِ غنیمت کو اَپنے بھائیوں کے ساتھ بانٹ لو۔“ (یہوشُعؔ 22:8)
نعومیؔ کے خَاوند کا ایک رشتہ دار تھا جِس کا نام بُوعزؔ تھا۔ وہ الیمَلِکؔ کے برادری سے تھا اَور بڑا مالدار تھا۔ (رُوتؔ 2:1)
”اَے اِسرائیل کی بیٹیو، شاؤل کے لیٔے آنسُو بہاؤ، جِس نے تُمہیں شاندار اَور اَرغوانی کپڑے پہنائے، اَور جِس نے تمہارے لباس کو سونے کے زیورات سے آراستہ کیا۔ (2 شموایلؔ 1:24)
جَب ملِکہ شیبا نے شُلومونؔ کی دانشمندی کو اَور اُس کے محل کو جو اُس نے تعمیر کروایا تھا، لیکن مُجھے اِن باتوں پر تَب تک یقین نہ ہُوا جَب تک کہ مَیں نے آکر خُود اَپنی آنکھوں سے اِسے دیکھ نہیں لیا۔ اَور فی الحقیقت مُجھے تو اِن باتوں کا نِصف بھی نہیں بتایا گیا تھا؛ کیونکہ آپ کی حِکمت، مال و زَر کی فراوانی تو اُس خبر سے جو مَیں نے سُنی کہیں زِیادہ بڑھ کر ہے۔ (1 سلاطین 10:4, 7)
اِس لیٔے خُدا نے اُس سے فرمایا، ”چونکہ تُم نے نہ تو اَپنی عمر درازی، نہ اَپنے واسطے دولت اَور نہ ہی اَپنے دُشمنوں کی موت مانگی ہے، بَلکہ فہم و بصیرت کی درخواست کی تاکہ تُم اِنصاف سے کام لے سکو۔ لہٰذا میں وُہی کروں گا جِس کی تُم نے درخواست کی ہے۔ مَیں تُمہیں ایک اَیسا عقلمند اَور سمجھنے والا دِل عطا کروں گا کہ تمہاری مانند نہ تو کویٔی تُم سے پہلے ہُوا اَور نہ کویٔی تمہارے بعد ہوگا۔ اِس کے علاوہ مَیں تُمہیں وہ بھی عطا کروں گا جو تُم نے نہیں مانگا یعنی دولت اَور عزّت، اَیسا کہ تمہارے ہم عصر بادشاہوں میں سے زندگی بھر کویٔی بھی تمہارے برابر نہ ہوگا۔ (1 سلاطین 3:11-13)
تَب شُلومونؔ یَاہوِہ کے تخت پر اَپنے باپ داویؔد کی جگہ بطور بادشاہ تخت نشین ہُوئے۔ وہ بڑے اِقبالمند ہُوئے اَور سارا اِسرائیل اُن کا مطیع ہُوا۔ (1 تواریخ 29:23)
اَور داویؔد نے خُوب عمر رسیدہ ہوکر اَور دولت اَور عزّت سے آسُودہ ہوکر وفات پائی اَور اُس کا بیٹا شُلومونؔ بطور بادشاہ اُس کا جانشین ہُوا۔ (1 تواریخ 29:28)
تَب خُدا نے شُلومونؔ سے فرمایا، ”چونکہ یہ تمہاری دِلی تمنّا ہے اَور تُم نے نہ تو دولت، نہ مال، نہ عزّت، نہ اَپنے دُشمنوں کی موت مانگی اَور نہ عمر کی درازی طلب کی بَلکہ میری قوموں پر جِن پر مَیں نے تُمہیں بادشاہ بنایا ہے حُکمرانی کرنے کے لیٔے حِکمت و علم مانگا ہے، اِس لیٔے حِکمت و علم تُمہیں عطا کی جائے گی اَور مَیں تُمہیں مال و دولت اَور عزّت بھی بخشوں گا، اِس قدر کہ نہ تُم سے پہلے کسی بادشاہ کو کبھی نصیب ہُوئی اَور نہ تمہارے بعد کسی کو نصیب ہوگی۔“ (2 تواریخ 1:11-12)
شُلومونؔ بادشاہ کو دولت اَور حِکمت کے لحاظ سے رُوئے زمین کے تمام بادشاہوں پر فوقیت حاصل تھی۔ (2 تواریخ 9:22)
چنانچہ یَاہوِہ نے اُس کی بادشاہی کو بڑا اِستحکام بخشا اَور تمام یہُودیؔہ کے باشِندوں نے یہوشافاطؔ کو نذرانے کے طور پر تحفے پیش کئے جِس کے باعث اُسے بڑی دولت اَور عزّت حاصل ہُوئی۔ (2 تواریخ 17:5)
بعض فلسطینی خراج کے طور پر چاندی لایٔے اَور اُنہُوں نے یہوشافاطؔ کو نذرانے کے طور پر تحفے بھی پیش کئے۔ مُلکِ عربؔ کے لوگوں نے یہوشافاطؔ کے پاس سات ہزار سات سَو مینڈھے اَور سات ہزار سات سَو بکرے نذرانے کے طور پر پیش کئے۔ یہوشافاطؔ طاقتور ہوتا چلا گیا اَور اُس نے یہُودیؔہ میں قلعہ اَور ذخیرہ کے شہر تعمیر کئے۔ (2 تواریخ 17:11-12)
یہوشافاطؔ کی دولت اَور عزّت بہت بڑھ گئی اَور اُس نے شادی کے ذریعہ احابؔ سے اَپنے گھرانے کا رشتہ جوڑ لیا۔ (2 تواریخ 18:1)
حِزقیاہؔ کی دولت اَور شان و شوکت کی کویٔی حَد نہ تھی اَور اُس نے اَپنی چاندی، سونے، جواہر، مَسالوں۔ ڈھالوں اَور تمام قَسم کی قیمتی اَشیا کے لیٔے خزانے بنوائے۔ اَور اناج، نیا انگوری شِیرہ اَور تیل کا ذخیرہ کرنے کے لیٔے گودام تعمیر کروائے اَور مُختلف قِسم کے مویشیوں کے لیٔے اصطبل اَور بھیڑ بکریوں کے لیٔے باڑے بنوائے۔ اُس نے دیہات تعمیر کئے اَور بڑی تعداد میں گائے بَیل بھیڑ بکریاں حاصل کئے کیونکہ خُدا نے اُسے بہت زِیادہ دولت بخشی تھی۔ یہ حِزقیاہؔ ہی تھا جِس نے گیحونؔ کے چشمہ کے پانی نکلنے کے بالائی راستہ کو بند کرکے پانی کو دُوسرے راستہ سے داویؔد کے شہر کے مغرب کی طرف پہُنچایا اَور وہ ہر کام میں جو اُس نے شروع کیا کامیاب ہُوا۔ (2 تواریخ 32:27-30)
اُنہُوں نے فصیلدار شہروں اَور زرخیز زمین کو فتح کر لیا اَور وہ ہر قِسم کی اَچھّی چیزوں سے بھرے ہُوئے گھروں، پہلے سے کھودے ہُوئے کُوؤں، انگوری باغات، زَیتُون کے باغوں اَور بہت سے پھلدار درختوں کے مالک بَن گیٔے۔ پھر اُنہُوں نے سیر ہوکر کھایا اَور موٹے تازہ ہو گئے۔ اَور اُنہُوں نے آپ کے بڑے اِحسَان کے باعث خُوب مزے اُڑائے۔ (نحمیاہ 9:25)
اَور اُن کے پاس سات ہزار بھیڑیں، تین ہزار اُونٹ، پانچ سَو جوڑی بَیل اَور پانچ سَو گدھیاں، اَور اُن کے پاس بے شُمار خادِم بھی تھے۔ غرض اہلِ مشرق میں ایُّوب کا مرتبہ نہایت ہی بُلند تھا۔ (ایُّوب 1:3)
تَب بادشاہ نے شدرکؔ، میشکؔ اَور عبدنگوؔ کو صُوبہ بابیل میں اعلیٰ درجہ پر سرفراز کیا۔ (دانی ایل 3:30)
جَب شام ہُوئی تو ارِمَتِیاؔہ کا ایک یُوسیفؔ نام کا دولتمند آدمی آیا، جو خُود بھی یِسوعؔ کا شاگرد تھا۔ (متّی 27:57)
تُم تو پہلے ہی سے آسُودہ حال ہو، پہلے ہی سے دولتمند ہو اَور ہمارے بغیر بادشاہی بھی کرنے لگے ہو۔ کاش تُم واقعی بادشاہی کرتے تاکہ ہم بھی تمہارے ساتھ بادشاہی کر سکتے! ہم اِس وقت تک بھُوکے پیاسے ہیں، چیتھڑے پہنتے ہیں، مُکّے کھاتے اَور مارے مارے پھرتے، ہم بے گھر ہیں۔ ہم اَپنے ہاتھوں سے سخت محنت کرتے ہیں۔ لوگ ہمیں بُرا کہتے ہیں اَور ہم اُنہیں برکت دیتے ہیں۔ جَب ہم ستائے جاتے ہیں تو صبر سے کام لیتے ہیں۔ (1 کُرِنتھِیوں 4:8, 11-12)
میں یہ اِس لئے نہیں کہہ رہا ہُوں کہ مُحتاج ہُوں، کیونکہ مَیں نے کسی بھی حالات میں راضی رہنا سیکھ لیا ہے۔ مَیں نے ناداری اَور فراوانی کے دِن بھی دیکھے ہیں، چاہے فاقہ کشی ہو یا آسودگی اَور کثرت ہو یا قِلّت ہر حالت میں مطمئن رہنا سیکھ لیا ہے۔ جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس کی مدد سے میں سَب کچھ کر سَکتا ہُوں۔ تو بھی تُم نے اَچھّا کیا کہ میری مُصیبت میں شریک ہویٔے۔ اَے اہلِ فِلپّی! تُم اَچھّی طرح جانتے ہو کہ شروع شروع میں جَب مَیں خُوشخبری سُناتا ہُوا، صُوبہ مَکِدُنیہؔ سے روانہ ہُوا تھا، تو تمہارے سِوا کسی جماعت نے لینے دینے کے مُعاملہ میں، میری مدد نہ کی؛ جَب مَیں تھِسلُنِیکے شہر میں تھا، تو تُم نے میری ضرورتوں کو پُورا کرنے کے لیٔے ایک دفعہ نہیں بَلکہ دو دفعہ کچھ بھیجا تھا۔ یہ نہیں کہ میں تمہاری بھیجی ہُوئی رقم کا مُشتاق ہُوں؛ بَلکہ اَیسے اِنعام کی خواہش کرتا ہوں، جِس سے آپ کی رُوحانی برکتوں میں اِضافہ ہو جائے۔ میرے پاس سَب کچھ ہے بَلکہ کثرت سے ہے۔ تمہارے بھیجے ہویٔے تحفے اِپفرُدِتُسؔ کے ہاتھ سے مُجھے مِل گیٔے ہیں، اَور مَیں اَور بھی آسُودہ ہو گیا ہُوں۔ یہ خُوشبو اَور قُربانی اَیسی ہے، جو خُدا کی نظر میں پسندِیدہ ہے۔ (فِلپّیوں 4:11-18)

خداوند اپنے خادموں کی خوشحالی سے خوش ہوتا ہے

جو میرے بَری ہو جانے کے حق میں ہیں وہ خُوشی اَور شادمانی سے للکاریں؛ اَور وہ ہمیشہ یہ کہیں، ”کہ یَاہوِہ کی تمجید ہو، جو اَپنے خادِم کی سلامتی پر خُوش ہوتاہے۔“ (زبُور 35:27)

سب خوشحال نہیں ہوں گے

بعض لوگوں کا مذاق اُڑایا گیا اَور اُنہیں کوڑے مارے گیٔے، بعض زنجیروں میں جکڑے اَور قَیدخانوں میں ڈالے گیٔے۔ سنگسار کیٔے گیٔے، آرے سے چیرے گیٔے؛ شمشیر سے قتل کیٔے گیٔے۔ اُنہیں بھیڑوں اَور بکریوں کی کھال اوڑھے ہویٔے مارے مارے پِھرنا پڑا، مُحتاجی اَور بدسلُوکی کا سامنا کیا، اُن پر ظُلم و سِتم ڈھائے گیٔے۔ دُنیا اُن کے لائق نہ تھی۔ وہ جنگلوں اَور پہاڑوں میں بھٹکتے رہے، غاروں اَور زمین کے درّو میں آوارہ پھرتے رہے۔ اِن سَب کے حق میں اُن کے ایمان کے سبب سے اَچھّی گواہی دی گئی ہے، تَو بھی اُنہیں وعدہ کی ہُوئی چیز حاصل نہ ہوئی۔ کیونکہ خُدا نے ہمارے لیٔے ایک بہتر منصُوبہ بنایا تھا کہ ہم لوگ اُس کے بغیر کاملیت تک نہ پہُنچیں۔ (عِبرانیوں 11:36-40)

یسوع دولت پانے کے لائق ہے

اَور اُنہُوں نے بُلند آواز سے یہ نغمہ گایا: ”ذبح کیا ہُوا برّہ ہی، قُدرت، دولت، حِکمت، طاقت عزّت، تمجید اَور حَمد کے لائق ہے!“ (مُکاشفہ 5:12)

دانا دولتمند بن سکتا ہے

دانشمندوں کی دولت اُن کا تاج ہے، لیکن احمقوں کی حماقت سے حماقت ہی پیدا ہوتی ہے۔ (امثال 14:24)

دولت کیسے حاصل ہوتی ہے

حِکمت سے گھر تعمیر کیا جاتا ہے، اَور فہم سے اُسے قائِم کیا جاتا ہے؛ اَور علم کے وسیلہ سے اُس کے کمرے نادر اَور نفیس مال سے بھر دئیے جاتے ہیں۔ (امثال 24:3-4)

وہ چیزیں جو لوگوں کو دولت سے محروم رکھتی ہیں

عیش و عشرت کو پسند کرنے والا مُفلس بَن جائے گا؛ اَور مَے اَور روغن کا شوقین دولتمند نہ ہوگا۔ (امثال 21:17)
جو آدمی اَپنی دولت بڑھانے کے لیٔے کنگالوں پر ظُلم ڈھاتا ہے، اَورجو دولتمندوں کو تحفے پیش کرتا ہے؛ دونوں غربت کا شِکار ہو جاتے ہیں۔ (امثال 22:16)

دولت کے خطرات

دولت سے محبت

ظُلم پر توکّل نہ کرو اَور لُوٹے ہُوئے مال پر مت پھُولو؛ خواہ تمہاری دولت بڑھ بھی جائے، اُس پر اَپنا دِل نہ لگاؤ۔ (زبُور 62:10)

غرور

اَپنی حِکمت اَور فراست سے تُونے اَپنے لیٔے دولت حاصل کی اَور اَپنے خزانے سونے اَور چاندی سے بھر لیٔے۔ تِجارت میں بڑا ہُنرمند ہوکر تُونے اَپنی دولت بڑھالی، اَور اَپنی دولت کی بدولت تیرا دِل مغروُر ہو چُکاہے۔ (حزقی ایل 28:4-5)
اِس مَوجُودہ جہان کے دولتمندوں کو حُکم دے کہ وہ مغروُر نہ ہوں، اَور ناپائیدار دولت پر نہیں بَلکہ خُدا پر اُمّید رکھیں، جو ہمیں سَب چیزیں فیّاضی سے مُہیّا کرتا ہے تاکہ ہم مزہ سے زندگی گُزاریں۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:17)

امیروں کو غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ زندگی مختصر ہے

جو مُومِنین پست حالی میں ہیں اُنہیں اَپنے اعلیٰ مرتبہ پر فخر کرنا چاہئے۔ مگر دولتمند کو اَپنے ادنیٰ مرتبہ پر فخر کرنا چاہئے کیونکہ دولتمند جنگلی پھُول کی طرح مُرجھا کر ختم ہو جایٔےگا۔ کیونکہ سُورج طُلوع ہوتے ہی سخت دھوپ لگتی ہے اَور پَودے کو سُکھا دیتی ہے۔ اَور اُس کا پھُول جھڑ جاتا ہے اَور اُس کی تمام خُوبصُورتی ختم ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح دولتمند کی زندگی بھی اُس کے کاروبار کے دَوران فنا ہو جایٔےگی۔ (یعقوب 1:9-11)

دولت پر نہیں، خداوند پر فخر کریں

یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”نہ تو دانشمند اَپنی دانائی پر اَور نہ طاقتور اَپنی طاقت پر اَور نہ اَمیر اَپنی دولت پر فخر کرے، لیکن جو فخر کرتا ہے وہ اِس بات پر فخر کرے کہ وہ مُجھے نزدیکی سے جانتا اَور سمجھتا ہے، کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں جو زمین پر رحم، عدل اَور راستی کے کام کرتا ہُوں، کیونکہ اِن ہی باتوں سے میں خُوش ہوتا ہُوں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ (یرمیاہؔ 9:23-24)

دولت تحفظ کا احساس دیتی ہے

اَمیروں کی دولت اُن کا محکم شہر ہے، لیکن غریبی مُفلس کی بربادی ہے۔ (امثال 10:15)
اَمیروں کی دولت اُن کا محکم شہر ہے؛ وہ اُسے ناقابلِ عبور فصیل سمجھتے ہیں۔ (امثال 18:11)
مَیں نے اِطمینان کے وقت اَپنے آپ سے کہاتھا: ”مَیں کبھی نہ ڈگمگاؤں گا۔“ اَے یَاہوِہ، جَب آپ نے مُجھ پر نظرِکرم کی، تَب آپ نے مُجھے پہاڑ کی مانند ثابت قدم کر دیا؛ لیکن جَب آپ نے اَپنا چہرہ چھُپا لیا، تو میرے اوسان خطا ہو گئے۔ (زبُور 30:6-7)

جو دولت پر بھروسا رکھتے ہیں

کیونکہ سَب لوگ دیکھتے ہیں کہ اہلِ حِکمت بھی مَر جاتے ہیں؛ احمق اَور جاہل دونوں ہلاک ہو جاتے ہیں، اَور اَپنی دولت دُوسروں کے لیٔے چھوڑ جاتے ہیں۔ اُن کی قبریں ہی اَبد تک اُن کے گھر، اَور پُشت در پُشت اُن کی قِیام گاہیں بنی رہیں گی، حالانکہ اُنہُوں نے مُلکوں کو اَپنے نام سے نامزد کیا تھا۔ لیکن اِنسان اَپنی دولت کے باوُجُود قائِم نہیں رہتا؛ وہ اُن حَیوانوں کی مانند ہے جو فنا ہو جاتے ہیں۔ (زبُور 49:10-12)

دولت لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے

اَور لَوطؔ کے پاس بھی، جو اَبرامؔ کا ہم سفر تھے بھیڑ بکریاں، گائے بَیل اَور خیمے لگائے۔ لیکن زمین کی کمی کے باعث اُن دونوں کا اُس مُلک میں اِکٹھّے رہنا مُشکل تھا کیونکہ اُن کا مال و اَسباب اِس قدر زِیادہ تھا کہ وہ اِکٹھّے نہیں رہ سکتے تھے۔ اَور اَبرامؔ کے اَور لَوطؔ کے چرواہوں میں جھگڑا ہُوا کرتا تھا۔ اُن دِنوں کنعانی اَور پَرزّی بھی اُس مُلک میں رہتے تھے۔ چنانچہ اَبرامؔ نے لَوطؔ سے فرمایا، ”تمہارے اَور میرے درمیان اَور تمہارے چرواہوں اَور میرے چرواہوں کے درمیان جھگڑا نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہم رشتہ دار ہیں۔ کیا یہ سارا مُلک تمہارے سامنے نہیں؟ سو تُم مُجھ سے الگ ہو جاؤ اگر تُم بائیں طرف جاؤگے تو مَیں داہنی طرف چلا جاؤں گا۔ اَور اگر تُم داہنی طرف جاؤگے تو مَیں بائیں طرف چلا جاؤں گا۔“ تَب لَوطؔ نے آنکھ اُٹھاکر یردنؔ ندی کے پاس کی ساری ترائی پر اَور اُس کے اطراف ضُعَرؔ تک نظر دَوڑائی کیونکہ وہ (اِس سے پیشتر کہ یَاہوِہ نے سدُومؔ اَور عمورہؔ کو تباہ کیا) یَاہوِہ کے باغ اَور مِصر کے مُلک کی مانند خُوب سیراب تھی۔ سو لَوطؔ نے یردنؔ کی ساری ترائی کو اَپنے لیٔے چُن لیا اَور وہ مشرق کی طرف چلےگئے اَور وہ ایک دُوسرے سے جُدا ہو گئے۔ (پیدائش 13:5-11)
اَور اِصحاقؔ نے اُس سال اُس مُلک میں جِتنی فصل بوئی اُس کا سَو گُنا پھل پایا کیونکہ یَاہوِہ نے اُنہیں برکت دی تھی۔ وہ بہت مالدار ہو گئے اَور اُن کی دولت بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ اَبراہامؔ بےحد اَمیر ہو گئے۔ اُن کے پاس اِس قدر زِیادہ بھیڑ بکریاں اَور جانور اَور نوکر چاکر تھے کہ فلسطینی اُن سے حَسد کرنے لگے۔ چناچہ فلسطینیوں نے وہ سَب کنوئیں جو اُن کے باپ اَبراہامؔ کے خادِموں نے اَبراہامؔ کے جیتے جی کھودے تھے مٹّی سے بھر کر بند کر دئیے۔ تَب اَبی ملیخ نے اِصحاقؔ سے کہا، ”تُم ہمارے پاس سے چلے جاؤ کیونکہ تُم ہم سے زِیادہ زورآور ہو گئے ہو۔“ (پیدائش 26:12-16)
عیسَوؔ اَپنی بیویوں، بیٹوں اَور بیٹیوں اَپنے گھر کے سَب لوگوں، اَپنے تمام مویشیوں اَور دُوسرے جانوروں اَور اُس مال و اَسباب کو جسے اُس نے مُلکِ کنعانؔ میں جمع کیا تھا ساتھ لے کر اَپنے بھایٔی یعقوب سے کچھ دُور کسی اَور مُلک میں چلےگئے۔ اُن کا مال و اَسباب اِس قدر بڑھ گیا تھا کہ وہ اِکٹھّے نہیں رہ سکتے تھے اَور اُن کے مویشیوں کی کثرت کے باعث اُس مُلک میں جہاں وہ رہتے تھے اُن دونوں کے لیٔے گنجائش نہ تھی۔ (پیدائش 36:6-7)
افسوس تُم پرجو گھر سے گھر جوڑتے ہو اَور کھیت سے کھیت مِلاتے ہو تاکہ جگہ تک باقی نہ بچے اَور تُم ہی مُلک میں اکیلے بسے رہو۔ (یَشعیاہ 5:8)

دولت مسیحیوں کو جدا کر سکتی ہے

پہلی بات تو یہ ہے کہ جَب تمہاری جماعت جمع ہوتی ہے تو مَیں نے سُنا ہے کہ تمہارے درمیان تِفرقے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ میں اِس بات کو کسی حَد تک قابل یقین سمجھتا ہُوں۔ تُم لوگوں میں بِدعتوں کا پایا جانا لازمی ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ تمہاری جماعت میں کون سے لوگ راہ راست پر ہیں۔ کیونکہ جَب تُم جمع ہوتے ہو تو تمہارا کھانا عِشائے خُداوندی نہیں ہو سَکتا۔ اِس لیٔے کہ ہر ایک دُوسروں سے پہلے ہی اَپنا کھانا کھا لیتا ہے۔ کویٔی تو بھُوکا رہ جاتا ہے اَور کسی کو نشہ بھی ہو جاتا ہے۔ کیا کھانے اَور پینے کے لیٔے تمہارے گھر مَوجُود نہیں؟ یا پھر خُدا کی جماعت کی تمہارے نزدیک کویٔی اہمیّت نہیں اَور جِن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا اُنہیں شرمندہ کرتے ہو؟ میں کہُوں بھی تو کیا کہُوں؟ کیا تمہاری تعریف کروں؟ نہیں میں اِس مُعاملہ میں تو تمہاری تعریف نہیں کر سَکتا! (1 کُرِنتھِیوں 11:18-22)

دولت دھوکا دینے والی ہے/پھل کو دبا سکتی ہے

بدکار دھوکے سے روزی کماتا ہے، لیکن راستی بونے والا سچ مُچ اجر پاتاہے۔ (امثال 11:18)
بوتے وقت کُچھ بیج، راہ کے کنارے، گِرے اَور پرندوں نے آکر اُنہیں چُگ لیا۔ کُچھ پتھریلی زمین پر گِرے جہاں مٹّی کم تھی۔ چونکہ مٹّی گہری نہ تھی، وہ جلد ہی اُگ آئے۔ کچھ بیج جھاڑیوں میں گِرے، اَور جھاڑیوں نے پھیل کر اُنہیں دبا لیا۔ اَور جھاڑیوں میں گِرنے والے بیج سے مُراد وہ ہیں جو کلام کو سُنتے تو ہیں لیکن دُنیا کی فکر اَور دولت کا فریب اُسے دبا دیتے ہیں اَور وہ پھل نہیں لا پاتاہے۔ (متّی 13:4-5, 7, 22)
تَب وہ اُنہیں تمثیلوں کے ذریعہ بہت سِی باتیں سِکھانے لگے، اَور اَپنی تعلیم دیتے ہویٔے آپ نے فرمایا: ”سُنو! ایک بیج بونے والا بیج بونے نِکلا۔ کُچھ بیج کانٹے دار جھاڑیوں میں گِرے، اَور جھاڑیوں نے اُنہیں دبا لیا۔ اَور دیگر، جھاڑیوں میں گِرنے والے بیج سے مُراد وہ لوگ ہیں، جو کلام کو سُنتے تو ہیں؛ لیکن اِس دُنیا کی فکریں، دولت کا فریب اَور دُوسری چیزوں کا لالچ آڑے آکر اِس کلام کو دبا دیتاہے، اَور وہ بے نتیجہ ہو جاتا ہے۔ (مرقُس 4:2-3, 7, 18-19)
کُچھ جھاڑیوں میں گِرے اَور جھاڑیوں کے ساتھ بڑھے لیکن جھاڑیوں نے پھیل کر اُنہیں بڑھنے سے روک دیا۔ اَور جھاڑیوں میں گِرنے والے بیج سے مُراد وہ لوگ ہیں جو کلام کو سُنتے تو ہیں لیکن رفتہ رفتہ زندگی کی فِکروں، دولت اَور عیش و عشرت میں پھنس جاتے ہیں اَور اُن کا پھل پک نہیں پاتا۔ (لُوقا 8:7, 14)

امیر کا بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے

اَور ایک آدمی یِسوعؔ کے پاس آیا اَور پُوچھنے لگا، ”اَے اُستاد محترم! میں کون سِی نیکی کروں کہ اَبدی کی زندگی حاصل کرلُوں؟“ یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”تُم مُجھ سے نیکی کے بارے میں کیوں پُوچھتے ہو؟ نیک تو صِرف ایک ہی ہے۔ لیکن اگر تُو زندگی میں داخل ہونا چاہتاہے تو حُکموں پر عَمل کر۔“ اُس نے پُوچھا، ”کون سے حُکموں پر؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ” ’یہ کہ خُون نہ کرنا، زنا نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھُوٹی گواہی نہ دینا، اَپنے باپ یا ماں کی عزّت کرنا،‘ اَور ’اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا۔‘“ اُس نوجوان نے آپ کو جَواب دیا، ”اِن سَب حُکموں پر تو میں عَمل کرتا آیا ہُوں، اَب مُجھ میں کِس چیز کی کمی ہے؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر تُو کامل ہونا چاہتاہے تو جا، اَپنا سَب کُچھ بیچ کر غریبوں کی مدد کر تو تُجھے آسمان میں خزانہ ملے گا اَور آکر میرے پیچھے ہولے۔“ مگر جَب اُس نوجوان نے یہ بات سُنی، تو وہ غمگین ہوکر چلا گیا کیونکہ وہ بہت دولتمند تھا۔ تَب یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ دولتمند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مُشکل ہے۔ مَیں پھر کہتا ہُوں کہ اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزر جانا کسی دولتمند کے خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے سے زِیادہ آسان ہے۔“ جَب شاگردوں نے یہ بات سُنی تو نہایت حیران ہُوئے اَور یِسوعؔ سے پُوچھا، ”پھر کون نَجات پا سَکتا ہے؟“ یِسوعؔ نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا، ”یہ اِنسانوں کے لیٔے تو ناممکن ہے، لیکن خُدا کے لیٔے سَب کُچھ ممکن ہے۔“ (متّی 19:16-26)
یِسوعؔ گھر سے نکل کر باہر جا رہے تھے، راستہ میں ایک آدمی دَوڑتا ہُوا آیا اَور اُن کے سامنے گھُٹنے ٹیک کر پُوچھنے لگا، ”اَے نیک اُستاد، اَبدی زندگی کا وارِث بننے کے لیٔے میں کیا کروں؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تو مُجھے نیک کیوں کہتاہے؟ نیک صِرف ایک ہی ہے یعنی خُدا۔ تُم حُکموں کو تو جانتے ہو: ’تُم زنا نہ کرنا، خُون نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھُوٹی گواہی نہ دینا، اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا۔‘“ اُس نے صفائی پیش کی، ”اُستاد محترم، اِن سَب اَحکام پر میں بچپن ہی سے عَمل کرتا آ رہا ہُوں۔“ یِسوعؔ نے اُسے بغور دیکھا اَور اُس پر ترس آیا اَور فرمایا۔ ”تمہارا ایک بات پر عَمل کرنا ابھی باقی ہے، جاؤ، اَپنا سَب کُچھ فروخت کرکے اَور وہ رقم غریبوں میں تقسیم کر دو، تو تُمہیں آسمان پر خزانہ ملے گا۔ پھر آکر، میرے پیچھے ہو لینا۔“ یہ بات سُن کر اُس آدمی کے چہرہ پر اُداسی چھاگئی۔ اَور وہ غمگین ہوکر چلا گیا، کیونکہ وہ بہت دولتمند تھا۔ تَب یِسوعؔ نے لوگوں پر نظر کی اَور اَپنے شاگردوں سے یُوں مُخاطِب ہویٔے، ”دولتمند کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کتنا مُشکل ہے!“ یہ سُن کر شاگرد حیران رہ گیٔے۔ لہٰذا یِسوعؔ نے پھر فرمایا، ”بچّوں، جو دولت پر توکّل کرتے ہیں اُن کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کِتنا مُشکل ہے! اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا زِیادہ آسان ہے بہ نِسبت ایک دولتمند آدمی کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہو جانا۔“ شاگرد نہایت ہی حیران ہویٔے، اَور ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”پھر کون نَجات پا سَکتا ہے؟“ یِسوعؔ نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا، ”یہ اِنسانوں کے لیٔے تو ناممکن ہے، لیکن خُدا کے لیٔے نہیں؛ کیونکہ خُدا کے لیٔے سَب کُچھ ممکن ہے۔“ (مرقُس 10:17-27)
پطرس نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ کی پیروی کرنے کے لیٔے ہم تو اَپنا سَب کُچھ چھوڑکر چلے آئے ہیں!“ حُضُور نے اُن سے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اَیسا کویٔی نہیں جِس نے خُدا کی بادشاہی کی خاطِر اَپنے گھر یا بیوی یا بھائیوں یا بہنوں یا والدین یا بچّوں کو چھوڑ دیا ہے اَور وہ اِس دُنیا میں کیٔی گُنا زِیادہ نہ پایٔے اَور آنے والی دُنیا میں اَبدی زندگی۔“ (لُوقا 18:28-30)

خداوند کو نہ جاننے والے امیر ابد تک اس سے جدا رہیں گے

”ایک بڑا اَمیر آدمی تھا جو اَرغوانی اَور نفیس قِسم کے سُوتی کپڑے اِستعمال کرتا تھا اَور ہر روز عیش و عشرت میں مگن رہتا تھا۔ ایک بھکاری آدمی جِس کا نام لعزؔر تھا، اُس کے پھاٹک پر پڑا رہتا تھا۔ اُس کا تمام جِسم پھوڑوں سے بھرا تھا۔ وہ چاہت رکھتا تھا کہ اَمیر آدمی کی میز سے گِرے ہویٔے ٹُکڑوں سے ہی اَپنا پیٹ بھر لے۔ اُس کی اَیسی حالت تھی کہ کُتّے بھی آکر اُس کے پھوڑے کو چاٹتے تھے۔ ”پھر اَیسا ہُوا کہ وقت کے مُطابق بھکاری آدمی مَر گیا اَور فرشتے اُسے اُٹھاکر حضرت اَبراہامؔ کے پاس میں پہُنچا دئیے وہ اَمیر آدمی بھی مَرا اَور دفنایا گیا۔ جَب، اُس نے عالمِ اَرواح میں عذاب میں مُبتلا ہوکر، اَپنی آنکھیں اُوپر اُٹھائیں تو دُور سے حضرت اَبراہامؔ کو دیکھا اَور یہ بھی کہ لعزؔر، اَبراہامؔ کے پاس میں ہے۔ اُس نے چِلّاکر کہا، ’اَے باپ اَبراہامؔ، مُجھ پر رحم کر اَور لعزؔر کو بھیج تاکہ وہ اَپنی اُنگلی کا سِرا پانی سے تر کرکے میری زبان کو ٹھنڈک پہُنچائے کیونکہ مَیں اِس آگ میں تڑپ رہا ہُوں۔‘ ”لیکن اَبراہامؔ نے کہا، ’بیٹا، یاد کر کہ تو اَپنی زندگی میں اَچھّی چیزیں حاصل کر چُکاہے اَور اِسی طرح لعزؔر بُری چیزیں، لیکن اَب وہ یہاں آرام سے ہے اَور تُم تڑپ رہے ہو۔ (لُوقا 16:19-25)

امیر اپنے آپ کو دانا سمجھتے ہیں

دولتمند اَپنی نگاہ میں دانِشور ہے، لیکن صاحبِ فہم مسکین، اُسے مَعلُوم کر لیتا ہے۔ (امثال 28:11)

امیر غریبوں سے کیسا سلوک کرتے ہیں

مُحتاج رحم کی بھیک مانگتاہے، لیکن دولتمند سخت جَواب دیتاہے۔ (امثال 18:23)
اَمیر، غریب پر حُکومت کرتا ہے، اَور اُدھار لینے والا، اُدھار دینے والے کا خادِم بَن جاتا ہے۔ (امثال 22:7)
لیکن تُم نے غریب آدمی کی بے عزّتی کی ہے، کیا دولتمند ہی تُم پر ظُلم نہیں ڈھاتے اَور تُمہیں عدالتوں میں کھینچ کر نہیں لے جاتے؟ کیا یہ لوگ اُس اعلیٰ نام پر کُفر نہیں بکتے جِس نام سے تُم پہچانے جاتے ہو۔ (یعقوب 2:6-7)

دولت خداوند کو بھلا دینے کا سبب بن سکتی ہے

اَور جَب یَاہوِہ تمہارے خُدا تُمہیں اُس مُلک میں لے آئیں جِس کے متعلّق اُس نے تمہارے آباؤاَجداد اَبراہامؔ اِصحاقؔ اَور یعقوب سے قَسم کھائی تھی اَور جِس مُلک کے شہر بہت بڑے اَور نہایت آسُودہ ہیں جنہیں تُم نے نہیں بنایا۔ اَور ہر قِسم کی اَچھّی اَچھّی اَشیا سے بھرے ہویٔے مکانات جنہیں تُم نے مُہیّا نہیں کیا، کنوئیں جنہیں تُم نے نہیں کھودا اَور انگوری باغ اَور زَیتُون کے باغات جنہیں تُم نے نہیں لگایا، اَور تُم اُن کا پھل کھا کر سَیر ہو جاؤگے۔ تَب ہوشیار رہنا کہ تُم یَاہوِہ کو فراموش نہ کر بیٹھو جو تُمہیں مِصر یعنی غُلامی کے مُلک سے نکال لائے ہیں۔ (اِستِثنا 6:10-12)
ایک اَیسا مُلک جہاں روٹی کی قِلّت نہ ہوگی اَور تُم کسی چیز کے مُحتاج نہ ہوگے۔ وہ ایک اَیسا مُلک ہے جِس کی چٹّانوں میں لوح کے ذخیرے ہیں اَور وہاں کے پہاڑوں میں سے تُم تانبا کھود کر نکال سکوگے۔ جَب تُم کھا کر سَیر ہو جاؤ تو یَاہوِہ اَپنے خُدا کی تمجید کرنا کہ اُنہُوں نے تُمہیں بہترین مُلک عنایت کیا ہے۔ لہٰذا خبردار رہو کہیں اَیسا نہ ہو کہ یَاہوِہ اَپنے خُدا کو اَور اُن کے اَحکام، آئین اَور قوانین کو فراموش کر دو، جو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں۔ اَیسا نہ ہو کہ جَب تُم کھا کر سَیر ہو جاؤ اَور بہترین مکانات تعمیر کرکے اُن میں رہنے لگو، اَور جَب تمہارے مویشی اَور بھیڑ بکریوں کی تعداد زِیادہ ہو جائے اَور تمہارے پاس چاندی اَور سونے کی مقدار بڑھ جائے اَور تمہاری دولت میں اِضافہ ہو جائے، تَب تمہارے دِلوں میں غُرور کا آنا لازمی ہوگا اَور تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کو فراموش کر دوگے جو تُمہیں مِصر سے یعنی اُس غُلامی کی زندگی سے نکال لایٔے ہیں۔ اُنہُوں نے اُس وسیع اَور خوفناک بیابان میں سے تمہاری رہنمائی کی، جو ایک خشک اَور بے آب مُلک تھا جِس میں زہریلے سانپ اَور بِچھُّو تھے۔ وہاں یَاہوِہ نے تمہارے لیٔے ایک پتھریلی چٹّان میں سے پانی نکالا۔ یَاہوِہ نے بیابان میں تُمہیں کھانے کو منّا دیا جِس سے تمہارے آباؤاَجداد ناواقِف تھے تاکہ یَاہوِہ تُمہیں حلیم کرکے آزمائیں تاکہ آخِر میں تمہاری ہی خیر ہو۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم اَپنے دِل میں یہ کہنے لگو، ”میری ہی طاقت اَور ہاتھوں کے زور سے مُجھے یہ دولت نصیب ہُوئی ہے۔“ لیکن تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کو فراموش مت کرنا کیونکہ وُہی تُمہیں دولت حاصل کرنے کی قُوّت دیتے ہیں تاکہ اَپنے اُس عہد کو قائِم رکھّیں جِس کی اُنہُوں نے تمہارے آباؤاَجداد سے قَسم کھائی تھی، جَیسا کہ آج کے دِن تمہارے سامنے ظاہر ہے۔ (اِستِثنا 8:9-18)
جَب مَیں اُنہیں اُس مُلک میں پہُنچا دُوں گا جِس میں دُودھ اَور شہد کی بھرپوری ہے، جسے دینے کا وعدہ مَیں نے قَسم کھا کر اُن کے آباؤاَجداد سے کیا تھا اَور جَب وہ پیٹ بھر کھا کر موٹے ہو جایٔیں گے، تَب وہ مُجھے ترک کرکے اَور میرے عہد کو توڑ کر غَیر معبُودوں کی طرف پھر جایٔیں گے اَور اُن کی پرستش کرنے لگیں گے۔ (اِستِثنا 31:20)
”اَے یَاہوِہ! مَیں نے آپ سے دو چیزوں کی درخواست کی ہے؛ میرے مرنے سے پہلے، مُجھے اُن سے محروم نہ کریں: بطالت اَور دروغ گوئی کو مُجھ سے دُور رکھیں؛ مُجھے نہ مفلسی دیں اَور نہ دولت، بَلکہ مُجھے صِرف میری روز کی روٹی عطا فرمائیں۔ اَیسا نہ ہو کہ میں سیر ہوکر آپ کا اِنکار کروں اَور کہُوں، ’کون ہیں یَاہوِہ؟‘ یا مُفلس ہوکر چوری کروں، اَور اِس طرح اَپنے خُدا کے نام کی بےحُرمتی کروں۔ (امثال 30:7-9)
جَب تُو خُود کو محفوظ سمجھتی تھی تَب مَیں نے تُجھے آگاہ کیا تھا، لیکن تُونے کہا، ’میں نہیں سُنوں گی!‘ تمہاری جَوانی سے ہی تمہارا یہی رویّہ رہا؛ تُم نے ہرگز میری بات نہ مانی۔ تمہارے تمام چرواہوں کو ہَوا اُڑا لے جائے گی، اَور تمہارے سَب رفیق جَلاوطن ہوں گے۔ تَب تُم اَپنی ساری بدی کے لیٔے شرمسار اَور پشیمان ہوگی۔ (یرمیاہؔ 22:21-22)
اَور تُو کہتاہے کہ میں دولتمند ہُوں اَور مالدار بَن گیا ہُوں اَور مُجھے کسی چیز کی حاجَت نہیں؛ مگر تُو یہ نہیں جانتا کہ تو حقیقت میں نامراد، بے چارہ، غریب، نابینا اَور ننگا ہے۔ اِس لیٔے میں تُمہیں صلاح دیتا ہُوں کہ مُجھ سے آگ میں تپایا ہُوا سونا خرید لے تاکہ دولتمند ہو جائے اَور پہننے کے لیٔے سفید پوشاک خرید کر پہن لو تاکہ تمہارے ننگے پن کی شرمندگی ظاہر نہ ہونے پایٔے اَور اَپنی آنکھوں میں ڈالنے کے لیٔے سُرمہ لے لو تاکہ تُم بینائی پاؤ۔ (مُکاشفہ 3:17-18)

دولت حسد پیدا کرتی ہے

اَور اِصحاقؔ نے اُس سال اُس مُلک میں جِتنی فصل بوئی اُس کا سَو گُنا پھل پایا کیونکہ یَاہوِہ نے اُنہیں برکت دی تھی۔ وہ بہت مالدار ہو گئے اَور اُن کی دولت بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ اَبراہامؔ بےحد اَمیر ہو گئے۔ اُن کے پاس اِس قدر زِیادہ بھیڑ بکریاں اَور جانور اَور نوکر چاکر تھے کہ فلسطینی اُن سے حَسد کرنے لگے۔ (پیدائش 26:12-14)
تَب اَبی ملیخ نے اِصحاقؔ سے کہا، ”تُم ہمارے پاس سے چلے جاؤ کیونکہ تُم ہم سے زِیادہ زورآور ہو گئے ہو۔“ (پیدائش 26:16)
یعقوب نے سُنا کہ لابنؔ کے بیٹے کہہ رہے ہیں، ”یعقوب نے ہمارے باپ کا سَب کچھ لے لیا ہے اَورجو کچھ ہمارے باپ کا تھا اُسی مِلکیّت میں سے لے لے کر یہ سَب شان و شوکت حاصل کی ہے۔“ (پیدائش 31:1)

دولت کی لعنتیں

اغوا کی لعنت

اِنسان کی دولت اُس کی جان کا کفّارہ دے سکتی ہے، لیکن مُفلس کو کویٔی دھمکی سُنایٔی نہیں دیتی۔ (امثال 13:8)

بےخوابی کی لعنت

ایک مزدُور کی نیند میٹھی ہوتی ہے، خواہ وہ کم کھائے یا زِیادہ، لیکن دولتمند کی فراوانی اُسے سونے نہیں دیتی۔ (واعظ 5:12)

امیروں پر افسوس کا اعلان

”مگر افسوس تُم پرجو دولتمند ہو، کیونکہ تُم اَپنی تسلّی پا چُکے ہو۔ (لُوقا 6:24)
اَے دولتمندوں اَب میری بات سُنو! تُم اَپنے اُوپر آنے والی مُصیبتوں پر خُوب روؤ اَور ماتم کرو۔ تمہارا مال برباد ہو گیا اَور تمہاری پوشاکوں کو کیڑوں نے کھا لیا۔ تمہارے سونے اَور چاندی کو زنگ لگ گیا۔ اَور وہ زنگ تمہارے خِلاف گواہی دے گا اَور آگ کی طرح تمہارا گوشت کھایٔےگا۔ دُنیا کا تو خاتِمہ ہونے والا ہے اَور تُم نے دولت کے انبار لگا لیٔے ہیں۔ دیکھو! جِن مزدُوروں نے تمہارے کھیتوں میں کام کیا تھا اُن کی وہ مزدُوری جو تُم نے دغا کرکے روک لی ہے وہ تمہارے خِلاف چِلّا رہی ہے اَور فصل کاٹنے والوں کی فریاد لشکروں کے ربّ کے کانوں تک پہُنچ چُکی ہے۔ تُم نے دُنیا میں عیش و عشرت کی زندگی گُزاری اَور خُوب مزے کئے۔ تُم نے اَپنے دِلوں کو ذبح کے دِن کے لیٔے خُوب موٹا تازہ کر لیا۔ (یعقوب 5:1-5)

شریر کیوں کامیاب ہوتے ہیں؟

بدکار اَپنی نَفسانی خواہشوں پر فخر کرتا ہے؛ اَور حریص کو برکت دیتاہے اَور یَاہوِہ کی تحقیر کرتا ہے۔ بدکار آدمی اَپنے تکبُّر میں خُدا کو نہیں ڈھونڈتا؛ اُس کے ذہن میں یہی خیالات ہیں: کویٔی خُدا ہے ہی نہیں۔ بدکار لوگوں کی راہیں ہمیشہ اُستوار ہوتی ہیں؛ اُس کی نگاہ میں آپ کے آئین کی کویٔی اہمیّت نہیں ہے؛ وہ حقارت سے اَپنے تمام دُشمنوں کی ہنسی اُڑاتا ہے۔ (زبُور 10:3-5)
داویؔد کا زبُور۔ بدکرداروں کے باعث پریشان نہ ہو، اَور خطاکاروں پر رشک نہ کرو۔ کیونکہ وہ گھاس کی مانند جلد مُرجھا جایٔیں گے، اَور سبز پَودوں کی طرح جلد پژمردہ ہو جایٔیں گے۔ یَاہوِہ کے سامنے خاموشی سے کھڑے رہو اَور صبر سے اُن کی آس رکھیں؛ جَب لوگ اَپنی روِشوں میں کامیاب ہُوں، اَور اَپنے بُرے منصُوبے پایۂ تکمیل تک پہُنچائیں، تَب آپ پریشان نہ ہوں۔ بدکردار تو کاٹ ڈالے جایٔیں گے، لیکن جِن کا توکّل یَاہوِہ پر ہے وہ زمین کے وارِث ہوں گے۔ کچھ ہی دیر باقی ہے، پھر بدکار باقی نہ رہیں گے؛ تُم اُنہیں تلاش کروگے تو بھی اُنہیں نہ پاؤگے۔ لیکن حلیم مُلک کے وارِث ہوں گے اَور خُوب خُوشحالی اَور اِطمینان سے رہیں گے۔ (زبُور 37:1-2, 7, 9-11)
آسفؔ کا زبُور۔ بے شک خُدا اِسرائیل پر، یعنی پاک دِل والوں پر مہربان ہیں۔ لیکن میرے پاؤں پھسلنے ہی والے تھے؛ میرے قدموں کے نیچے کی زمین گویا کھسکنے کو تھی۔ کیونکہ جَب مَیں بدکار لوگوں کی خُوشحالی دیکھتا تھا تو مُجھے مغروُروں پر رشک آتا تھا۔ وہ کسی قِسم کی کشمش میں مُبتلا نہیں ہوتے؛ اَور اُن کے جِسم تندرست اَور طاقتور ہوتے ہیں۔ وہ اُن تکلیفوں سے بَری ہوتے ہیں جو عام آدمی اُٹھاتا ہے؛ اَور اُن پر اِنسانی آفتیں نازل نہیں ہوتیں۔ اِس لیٔے غُرور اُن کے گلے کا ہار بَن جاتا ہے؛ اَور وہ ظُلم سے مُلبّس ہو جاتے ہیں۔ اُن کی آنکھیں چربی سے پھُولی ہُوئی ہوتی ہیں؛ اَور اُن کے بُرے تصوّرات کی کویٔی حَد نہیں ہوتی۔ وہ ٹھٹّا مارتے ہیں اَور دُشمنی کی باتیں کرتے ہیں؛ اَور ضِد میں آکر ظُلم و سِتم کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اُن کے مُنہ آسمان سے باتیں کرتے ہیں، اَور اُن کی زبانیں زمین پر قبضہ جتاتی ہیں۔ اِس لیٔے خُدا کے لوگ اُن کی طرف رُجُوع ہوتے ہیں اَور جی بھر کر پانی پیتے ہیں۔ بدکار لوگ کہتے ہیں: ”خُدا کو کیسے مَعلُوم ہوگا؟ کیا خُداتعالیٰ کو کچھ علم ہے؟“ بدکار لوگ اَیسے ہی ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ بے فکری سے دولت جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ مَیں نے تو خوامخواہ اَپنے دِل کو صَاف رکھا؛ اَور خوامخواہ اَپنے ہاتھ بےگُناہ رکھے۔ میں دِن بھر آفت میں مُبتلا رہا؛ اَور ہر صُبح سزا پاتا رہا۔ اگر مَیں کہتا کہ یُوں کہُوں گا تو مَیں آپ کے فرزندوں کی پُشت کے ساتھ بےوفائی کرتا۔ جَب مَیں نے یہ سَب سمجھنے کی کوشش کی، تو یہ میرے لیٔے دشوار ثابت ہُوا یہاں تک کہ میں خُدا کے مَقدِس میں داخل ہُوا؛ تَب کہیں میں اُن بدکاروں کا اَنجام سمجھ سَکا۔ یقیناً آپ نے اُنہیں پھسلنی جگہوں میں رکھا ہے؛ اَور اُنہیں گرا کر تباہ کر دیتاہے۔ اَچانک ہی وہ کیسے تباہ ہو گئے، اَور دہشت کے باعث بالکُل فنا ہو گئے! جِس طرح کویٔی جاگ اُٹھنے کے بعد خواب کو وہم قرار دیتاہے، اَے خُداوؔند، وَیسے ہی جَب آپ اُٹھیں گے، تو اُن کی صورتیں حقیر جانی جایٔیں گی۔ (زبُور 73:1-20)
رحم دِل عورت عزّت پاتی ہے، لیکن سنگدل لوگوں کو محض دولت ملتی ہے۔ (امثال 11:16)
اَے یَاہوِہ، جَب بھی مَیں آپ کے حُضُور کویٔی مُقدّمہ لاتا ہُوں تو، ہمیشہ آپ کو صادق پاتا ہُوں۔ پھر بھی مَیں آپ کے اِنصاف کی بابت آپ سے بحث کرنا چاہتا ہُوں، بدکار اَپنی روِش میں کیوں ترقّی پاتاہے؟ اَور کیا وجہ ہے کہ تمام بےایمان لوگ عیش و آرام سے رہتے ہیں؟ آپ نے اُنہیں لگایا اَور اُنہُوں نے جڑ پکڑی؛ وہ بڑھتے ہیں اَور پھل لاتے ہیں۔ آپ کا نام تو ہمیشہ اُن کے لبوں پر رہتاہے لیکن آپ اُن کے دِلوں سے کافی دُور ہیں۔ (یرمیاہؔ 12:1-2)

بےدین امیر

اَور معونؔ میں ایک آدمی تھا جِس کی کرمِلؔ میں جائداد تھی۔ وہ بڑا رئیس تھا۔ اُس کی ایک ہزار بکریاں اَور تین ہزار بھیڑیں تھیں۔ وہ کرمِلؔ میں اَپنی بھیڑوں کے بال کتر رہاتھا۔ (1 شموایلؔ 25:2)
اِس جَشن کے موقع پر بادشاہ نے پُورے ایک سَو اسّی دِن اَپنی بے پناہ دولت و جلال کی شان و شوکت سے پُر مظاہرہ کیا۔ (ایسترؔ 1:4)
ہامانؔ اُن کے سامنے شیخی مار کر کہنے لگاکہ میرے پاس بے اِنتہا دولت ہے، کیٔی بیٹے ہیں اَور بادشاہ نے میری اِس قدر عزّت اَفزائی کی ہے کہ مُجھے اعلیٰ مرتبہ عطا فرمایاہے اَور تمام اُمرا اَور وُزراء پر مُجھے فضیلت بخشی ہے۔ (ایسترؔ 5:11)
اُن کا مُلک چاندی اَور سونے سے بھرا پڑا ہے؛ اَور اُن کے یہاں خزانوں کی کویٔی کمی نہیں ہے۔ اُن کے مُلک میں گھوڑے کثرت سے ہیں؛ اَور رتھوں کا کویٔی شُمار نہیں ہے۔ (یَشعیاہ 2:7)
جَب تیرا تجارتی اَسباب سمُندر کی راہ جاتا تھا، تَب تُونے کیٔی قوموں کی حاجتیں رفع کیں؛ تُونے اَپنی دولت اَور اَپنی مصنوعات سے دُنیا کے بادشاہوں کو مالا مال کر دیا۔ (حزقی ایل 27:33)
”تو اَب مَیں تُمہیں حقیقت بتاتا ہُوں۔ فارسؔ میں ابھی تین اَور بادشاہ برپا ہوں گے اَور اُس کے بعد پھر چوتھا بادشاہ ہوگا جو دُوسرے تمام بادشاہوں سے زِیادہ دولتمند ہوگا۔ جَب وہ اَپنی دولت کی بدولت طاقتور بَن جائے گا تو وہ ہر کسی کو یُونانؔ کی سلطنت کے خِلاف بھڑکائے گا۔ (دانی ایل 11:2)
وہاں ایک آدمی تھا جِس کا نام زکّائیؔ تھا۔ وہ محصُول لینے والوں کا افسر تھا اَور کافی دولتمند تھا۔ (لُوقا 19:2)

بعض لوگوں کی خوشحالی نہ چاہنے کا حکم

تُم زندگی بھر اُن کے ساتھ دوستی کا عہد مت کرنا۔ (اِستِثنا 23:6)
اِس لیٔے نہ تو اَپنی بیٹیوں کا اُن کے بیٹوں سے اَور نہ اُن کی بیٹیوں سے اَپنے بیٹوں کا بیاہ کرو۔ اُن کے ساتھ کبھی بھی دوستی کا عہد نہ کرنا تاکہ تُم مضبُوط بنو اَور مُلک کی اَچھّی چیزیں کھاؤ اَور اُسے اَپنے بچّوں کے لیٔے ہمیشہ کے لیٔے مِیراث میں چھوڑ جاؤ۔‘ (عزرا 9:12)

خوشحال ہونے کا غلط طریقہ

بعض لوگ گناہ کا اقرار کیے بغیر گناہ سے خوشحال ہوتے ہیں

اِفرائیمؔ شیخی مارتا ہے کہ، مَیں بہت بڑا رئیس ہُوں مَیں دولتمند بَن گیا ہُوں۔ میری اِس قدر دولت کے باعث وہ مُجھ میں کویٔی بُرائی یا گُناہ نہ پائیں گے۔ (ہوشِیعؔ 12:8)
اُن کے خریدار اُنہیں ذبح کرتے ہیں اَور سزا نہیں پاتے، اَور اُن کے بیچنے والے کہتے ہیں، ’یَاہوِہ کی تمجید ہو کہ ہم مالدار ہو گئے!‘ اُن کے اَپنے چرواہے اُن پر رحم نہیں کرتے۔ (زکریاؔہ 11:5)

بعض لوگ خوشحال ہونے کے لیے دیندار بنتے ہیں

اَور میکاہؔ نے کہا، ”اَب مَیں جانتا ہُوں کہ یَاہوِہ میرا بھلا کرےگا کیونکہ ایک لیوی میرا کاہِنؔ بَن چُکاہے۔“ (قُضاۃ 17:13)

متفرق

اَور تُم اُسے چاندی کی مانند ڈھونڈو اَور کسی پوشیدہ خزانہ کی مانند اُس کی تلاش کرو، (امثال 2:4)
تُم اَپنے دِل میں بھی بادشاہ کو ملعُون نہ کہنا، اَور اَپنی خواب گاہ میں بھی مالدار پر لعنت نہ کرنا، کیونکہ کویٔی ہَوا کی چڑیا تمہاری بات کو لے اُڑے گی، اَور کویٔی اُڑتا پرندہ تمہاری بات کو کھول دے گا۔ (واعظ 10:20)

لوگ کبھی کبھی اپنی مالی حالت کے بارے میں دھوکا دیتے ہیں

ایک آدمی اَپنے آپ کو دولتمند جتاتا ہے لیکن نادار ہوتاہے؛ اَور دُوسرا مُفلس جتاتا ہے، جَب کہ بہت مالدار ہوتاہے۔ (امثال 13:7)

خدا کی بادشاہی کی قدر کو واضح کرنے کے لیے پیسے کی مثال

”آسمان کی بادشاہی کسی کھیت میں چھپے ہویٔے اُس خزانہ کی مانِند ہے جسے کسی شخص نے پا کر پھر سے کھیت میں چھُپا دیا پھر خُوشی کے مارے جا کر اَپنا سَب کُچھ بیچ کر اُس کھیت کو خرید لیا۔ ”پھر آسمان کی بادشاہی اُس سوداگر کی مانِند ہے جو عُمدہ موتیوں کی تلاش میں تھا۔ جَب اُسے ایک بیش قیمتی موتی مِلا تو اُس نے جا کر اَپنا سَب کُچھ بیچ دیا اَور اُسے خرید لیا۔ (متّی 13:44-46)

راستباز زندگی کو چاندی کے برابر قرار دیا گیا

راستباز کی زبان خالص چاندی کی مانند ہے، لیکن بدکار کے دِل کی کویٔی قیمت نہیں ہوتی۔ (امثال 10:20)

دولتمند، بےدین قوموں کی عدالت

اِس لیٔے جو دولت اُنہُوں نے حاصل کی اَور جمع کر رکھی ہے اُسے وہ بید کے نالے کے پار لے جایٔیں گے۔ (یَشعیاہ 15:7)
اَے بہت سِی دریاؤں سے سیراب ہونے والی اَور جِس کے خزانے بھرے ہُوئے ہیں، تمہارا وقتِ نزع قریب ہے، اَور تمہارے فنا ہونے کا وقت آ پہُنچا ہے۔ (یرمیاہؔ 51:13)
صُورؔ سے کہہ، جو سمُندر کے پھاٹک پر مُقیم ہے اَور بیشتر ساحِلی لوگوں کے لیٔے تِجارت کا مقام ہے، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ” ’اَے صُورؔ، تُو کہتاہے، ”کہ میرا حُسن کامل ہے۔“ ” ’تیرے مال کی بہتات کے باعث ترشیشؔ نے تیرے ساتھ تِجارت کی اَور اُنہُوں نے چاندی، لوہا، رانگا اَور سیسہ تیرے تجارتی اَسباب کے مُعاوضہ میں دیا۔ ” ’یاوانؔ، تُوبل اَور میشکؔ نے تیرے ساتھ تِجارت کی؛ اُنہُوں نے تیرے تجارتی لوگ اَسباب کے عوض غُلام اَور کانسے کی چیزیں دیں۔ ” ’بیت توغرمہؔ کے لوگوں نے گھوڑوں، جنگی گھوڑوں اَور خچّروں کے عوض تیری تجارتی اَشیا خریدیں۔ ” ’دِدانؔ نے تیرے ساتھ تِجارت کی اَور بہت سے ساحِلی مُلک تیرے گاہک تھے۔ وہ ہاتھی دانت اَور آبنوس کے بدلے تُجھ سے اَشیا خریدتے تھے۔ ” ’تیری متعدّد مصنوعات کے باعث ارامی بھی تُجھ سے تِجارت کرتے تھے اَور نیلا فیروزہ، اَرغوانی پارچہ، کشیدہ کاری، نفیس کتان، مونگا اَور لعل مُعاوضہ میں دیتے تھے۔ ” ’یہُوداہؔ اَور اِسرائیل بھی تیرے ساتھ تِجارت کرتے تھے اَور وہ مِنّیتؔ کا گیہُوں، مٹھائیاں، شہد، زَیتُون کا تیل اَور روغن بلسان دے کر تُجھ سے اَشیا خریدتے تھے۔ ” ’دَمشق بھی تیری مُختلف مصنوعات اَور کثرت اَسباب کے باعث تُجھ سے حلبونؔ کی مَے اَور زہر سفید اُون کی تِجارت کرتا تھا۔ دِدانؔ کے لوگ اَور اُوزالؔ کے یُونانی بھی تُجھ سے مال خریدتے تھے۔ وہ تیری اَشیا کے مُعاوضہ میں کُوٹا ہُوا لوہا، تج اَور اگر دیتے تھے۔ ” ’دِدانؔ شہر تیرے ساتھ گھوڑوں کی کاٹھی کے کمبل کی تِجارت کرتے تھے۔ ” ’عربستان اَور قیدارؔ کے تمام شہزادے تیرے گاہک تھے۔ وہ تیرے ساتھ برّوں، مینڈھوں اَور بکروں کی تِجارت کرتے تھے۔ ” ’شیبا اَور رعماہؔ کے سوداگر بھی تیرے ساتھ تِجارت کرتے تھے اَور تیرے سامان کے عوض ہر قِسم کے نفیس مَسالے، قیمتی پتّھر اَور سونا دیتے تھے۔ ” ’حارانؔ، کنّہؔ اَور عدنؔ اَور شیبا، اشُور اَور کِلمدؔ کے سوداگر تیرے ساتھ تِجارت کرتے تھے۔ وہ تیرے بازاروں میں تِجارت کے لیٔے خُوبصورت کپڑوں، نیلے رنگ کی نفیس پوشاکوں، کشیدہ کاری اَور نفیس بٹی ہوئی ڈوریوں کے ساتھ رنگین غالیچوں سے بھرے ہُوئے صندُوق لے کر آتے تھے جنہیں مضبُوط رسّیوں سے کس کر باندھا جاتا تھا۔ ” ’ترشیشؔ کے جہاز تیرے لیٔے مال برداری کرتے تھے۔ جَب آپ سمُندری سفر پر جاتے ہیں تو جہاز بھاری سامان جہاز میں بھرجاتا ہے۔ تیرے ملّاح تُجھے گہرے سمُندر میں لے جاتے ہیں۔ لیکن بادِ مشرق سمُندر کے درمیان تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی۔ جِس دِن تُو تباہ ہوگی، اُس دِن تیری دولت، تیرا تجارتی اَسباب اَور مصنوعات، تیرے ملّاح، جہاز ران اَور جہاز ساز، تیرے سوداگر اَور تیرے تمام جنگی سپاہی، اَور اُن کے علاوہ ہر شخص جو جہاز پر سوار ہوگا سَب سمُندر کے درمیان غرق ہوں گے۔ (حزقی ایل 27:3, 12-27)
اِسرائیل ایک لہلہاتی ہُوئی انگور کی بیل تھا؛ جِس میں کثرت سے پھل لگے جوں جوں اُس کا پھل بڑھتا گیا، اُس نے زِیادہ مذبحے تعمیر کئے؛ جوں جوں اُس کی زمین سدھرتی گئی، اُسی قدر وہ مُقدّس سُتون آراستہ کرتا گیا۔ اُن کا دِل دغاباز ہے، اَور اَب وہ اَپنے گُناہ کا بار اُٹھائیں۔ یَاہوِہ اُن کے مذبحوں کو تباہ کر دیں گے اَور اُن کے مُقدّس سُتون بھی گرا دیں گے۔ (ہوشِیعؔ 10:1-2)
اَے سوداگری کے شہر مکتیسؔ کے رہنے والو؛ تمہارے سارے سوداگر غارت ہوں گے، جو چاندی کی تِجارت کرتے ہیں، برباد ہو جایٔیں گے۔ اُن کی دولت لُٹ جائے گی، اُن کے مکان گرا دئیے جایٔیں گے۔ وہ گھر تو بنائیں گے پر اُن میں رہنے نہ پائیں گے؛ وہ تاکستان لگائیں گے پر اُن کی مَے نہ پیئیں گے۔ یَاہوِہ کے قہر کے دِن اُنہیں اُن کی چاندی اَور سونا بچا نہ سکےگا، تمام دُنیا اُن کی غیرت کی آگ میں جَل کر ساری زمین خاک ہو جائے گی۔“ کیونکہ وہ سَب کا جو زمین پر رہتے ہوں گے اَچانک خاتِمہ کر دیں گے۔ (صفنیاہؔ 1:11, 13, 18)
صُورؔ نے اَپنے لیٔے ایک مضبُوط قلعہ بنایا ہے؛ اُس نے چاندی کو مٹّی کی مانند، اَور سونے کو گلیوں کی کیچڑ کی مانند انبار لگا رکھا ہے۔ لیکن خُداوؔند اُس کی تمام دولت چھین لیں گے اَور اُن کے قلعوں کو تباہ کرکے سمُندر میں ڈال دیں گے، اَور وہ شہر آگ میں جَل کر خاک ہو جائے گا۔ (زکریاؔہ 9:3-4)

بادشاہ کو حد سے زیادہ دولتمند نہیں ہونا تھا

اِس کے علاوہ، بادشاہ تعداد میں زِیادہ گھوڑے نہ رکھّے یا لوگوں کو مِصر میں گھوڑے خریدنے بھیجے کیونکہ یَاہوِہ نے تُم سے فرمایاہے، ”تُم مِصر میں کبھی واپس نہ جانا۔“ بادشاہ اَپنے واسطے بہت سِی بیویاں بھی نہ رکھّے ورنہ اُس کا دِل بہک جائے گا۔ وہ زِیادہ مقدار میں چاندی اَور سونا بھی جمع نہ کرے۔ (اِستِثنا 17:16-17)

بادشاہوں نے حد سے زیادہ دولتمند نہ ہونے کے حکم کی نافرمانی کی

اَور شُلومونؔ کے اصطبل میں چالیس ہزار جنگی گھوڑے اُن کے رتھوں کے اِستعمال کے لیٔے تھے، اَور بَارہ ہزار رتھ ہانکنے والے تھے۔ (1 سلاطین 4:26)
اُس سونے کا وزن جو شُلومونؔ کو ہر سال دستیاب ہوتا تھا جو چھ سَو چھیاسٹھ تالنت تھا۔ لیکن اِس میں وہ سونا شامل نہیں تھا جو سوداگروں اَور تاجروں سے چُنگی کے طور پر اَور عربؔ کے تمام بادشاہوں اَور مُلک کے صُوبہ کے حاکموں سے مال گزاری کے طور پر وصول ہوتا تھا۔ اَور شُلومونؔ بادشاہ نے گڑھے ہویٔے سونے کی دو سَو بڑی ڈھالیں بنوائیں۔ ایک ایک ڈھال میں چھ سَو ثاقل گھڑا ہُوا سونا لگا تھا۔ اَور اُس نے گڑھے ہویٔے سونے کی تین سَو چُھوٹی ڈھالیں بھی بنوائیں اَور ہر ایک ڈھال میں تقریباً ساڑھے تین کِلو سونا لگا تھا۔ اَور بادشاہ نے اُنہیں اَپنے لبانونؔ کے جنگل کے محل میں رکھوا دیا۔ پھر بادشاہ نے ہاتھی دانت کا ایک بڑا تخت بھی بنوایا اَور اُسے خالص سونے سے منڈھوا دیا تھا۔ اَور اُس تخت کی چھ قدم والی سیڑھیاں تھیں اَور اُس کے پیچھے کا حِصّہ اُوپر سے گول تھا۔ اَور تخت کے دونوں طرف بازوؤں کے لیٔے دو ہتّھے تھے۔ اَور اُن ہتّھوں سے لگی ہویٔی دونوں طرف کھڑے ہویٔے شیر گڑھے تھے۔ اَور اُن چھ سِیڑھیوں کے اِدھر اُدھر بَارہ شیرببر گڑھے ہُوئے کھڑے تھے۔ اَیسا تخت کسی اَور مملکت میں کبھی نہیں تعمیر ہُوا تھا۔ اَور شُلومونؔ بادشاہ کے پینے کے سَب برتن سونے کے تھے اَور لبانونؔ کے جنگل کے محل میں اِستعمال کیٔے جانے والے تمام برتن بھی خالص سونے کے تھے۔ چاندی کا بنا ہُوا کچھ بھی نہ تھا کیونکہ شُلومونؔ کے دَورِ حُکومت میں چاندی کی کویٔی قدر نہ تھی۔ اَور بادشاہ کے پاس سمُندر میں حِیرامؔ کے جہازوں کے علاوہ تجارتی جہازوں کا ایک بحری جہاز بھی تھا جو ہر تین سال بعد ترشیشؔ کے یہ جہاز سونا، چاندی اَور ہاتھی دانت، بندر اَور لنگور لے کر آتے تھے۔ چنانچہ شُلومونؔ بادشاہ کو دولت اَور حِکمت کے لحاظ سے رُوئے زمین کے تمام بادشاہوں پر فوقیت حاصل تھی۔ اَور ساری دُنیا شُلومونؔ کی خدمت میں شرف باریابی پانے کی تمنّا رکھتی تھی تاکہ وہ اُن حِکمت کی باتوں کو سُنیں جو خُدا نے اُن کے دِل میں ڈالی تھیں۔ اَور سال بسال اُن کا دیدار کرنے والے اَپنے ساتھ اَپنا اَپنا ہدیہ یعنی چاندی اَور سونے کی اَشیا، پوشاک، ہتھیار اَور مَسالے، گھوڑے اَور خچّر لے کر آیا کرتے تھے۔ اَور شُلومونؔ نے رتھ اَور گھوڑے جمع کئے۔ یُوں اُن کے پاس ایک ہزار چار سَو رتھ اَور بَارہ ہزار گھوڑے تھے جنہیں بادشاہ نے رتھ کے شہروں میں اَور یروشلیمؔ میں اَپنے پاس بھی رکھا۔ اَور بادشاہ نے یروشلیمؔ میں چاندی کو پتّھروں کی مانند عام کر دیا، اَور دیودار کو دامن کوہِ کے گُولر کے درختوں کو اَنجیر کے درختوں کی طرح فراواں کر دیا۔ شُلومونؔ کے گھوڑے مِصر اَور کِلکِیؔہ سے درآمد کئے جاتے تھے۔ شاہی سوداگر اُنہیں کِلکِیؔہ سے مَوجُودہ قیمت پر خریدتے تھے۔ (1 سلاطین 10:14-28)
اَور شُلومونؔ نے رتھ اَور گھوڑے جمع کئے۔ یُوں اُن کے پاس ایک ہزار چار سَو رتھ اَور بَارہ ہزار گھوڑے تھے جنہیں بادشاہ نے رتھ کے شہروں میں اَور یروشلیمؔ میں اَپنے پاس بھی رکھا۔ اَور بادشاہ نے یروشلیمؔ میں چاندی اَور سونے کو پتّھروں کی مانند عام کر دیا اَور دیودار کو دامن کوہِ کے گُولر کے درختوں کو اَنجیر کے درختوں کی طرح فراواں کر دیا۔ شُلومونؔ کے گھوڑے مِصر اَور کِلکِیؔہ سے درآمد کئے جاتے تھے۔ شاہی سوداگر اُنہیں کِلکِیؔہ سے مَوجُودہ قیمت پر خریدتے تھے۔ وہ مِصر سے ایک رتھ چاندی کے چھ سَو ثاقل میں اَور ایک گھوڑا ایک سَو پچاس ثاقل میں مِصر سے درآمد کرتے تھے اَور اُنہیں حِتّیوں اَور ارامیوں کے تمام بادشاہوں کو بھی برآمد کرتے تھے۔ (2 تواریخ 1:14-17)
یَاہوِہ آپ کے خُدا کی سِتائش ہو جو آپ سے اَیسا راضی ہُوئے کہ آپ کو اَپنے تخت پر تخت نشین کیا تاکہ آپ یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف سے بادشاہ ہوں۔ چونکہ آپ کے خُدا کو بنی اِسرائیل سے مَحَبّت تھی کہ اُنہیں ہمیشہ کے لیٔے قائِم کریں، اِس لیٔے اُنہُوں نے آپ کو اُن کا بادشاہ بنایا تاک آپ عدل اَور راستی کو بحال رکھیں۔“ پھر ملِکہ شیبا نے بادشاہ کو ایک سَو بیس تالنت سونا، بڑی مقدار میں مَسالے اَور جواہرات تحفہ میں دئیے اَورجو مَسالے ملِکہ شیبا نے شُلومونؔ کو دئیے وہ اُنہیں پہلے کبھی مُیسّر نہ ہُوئے تھے۔ (اَور اِس کے علاوہ حِیرامؔ کے مُلازمین اَور شُلومونؔ کے مُلازمین اوفیرؔ سے سونا لایٔے اَور وہ وہاں سے لال صندل کی لکڑی اَور جواہرات بھی لایٔے۔ اَور بادشاہ نے صندل کی لکڑی سے یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کے لیٔے اَور اَپنے محل کے لیٔے چبُوترے اَور موسیقاروں کے لیٔے بربط اَور سِتار تیّار کروائے؛ اَور اَیسی چیزیں یہُوداہؔ کے مُلک میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھیں۔) پھر شُلومونؔ بادشاہ نے ملِکہ شیبا کو جو کچھ اُس نے خواہش کی اَور مانگا، اُس سے زِیادہ جو وہ بادشاہ کے لئے لائی تھی مُہیّا کیا، تَب وہ اَپنے قافلے کے ساتھ اَپنے مُلک کو واپس چلی گئی۔ اُس سونے کا وزن جو شُلومونؔ کو ہر سال دستیاب ہوتا تھا جو چھ سَو چھیاسٹھ تالنت تھا۔ اَور یہ اُس کے علاوہ تھا جو تاجر اَور سوداگر لاتے تھے۔ اَور عربؔ کے سَب بادشاہ اَور مُلک کے حاکم بھی شُلومونؔ کے پاس سونا اَور چاندی لاتے تھے۔ اَور شُلومونؔ بادشاہ نے گڑھے ہویٔے سونے کی دو سَو بڑی ڈھالیں بنوائیں۔ ایک ایک ڈھال میں چھ سَو ثاقل گھڑا ہُوا سونا لگا تھا۔ اَور اُس نے گڑھے ہویٔے سونے کی تین سَو چُھوٹی ڈھالیں بھی بنوائیں۔ اَور ہر ایک ڈھال میں تقریباً ساڑھے تین کِلو سونا لگا تھا۔ اَور بادشاہ نے اُنہیں اَپنے لبانونؔ کے جنگل کے محل میں رکھوا دیا۔ پھر بادشاہ نے ہاتھی دانت کا ایک بڑا تخت بنوایا اَور اُس پر خالص سونا منڈھوایا۔ اَور اِس تخت کی چھ سیڑھیاں تھیں اَور سونے کا ایک پائدان بھی تخت سے جُڑا ہُوا تھا۔ اَور بیٹھنے کی جگہ کے دونوں طرف بازو کے لیٔے ایک ایک ٹیک بنی تھی۔ اَور اُنہیں ٹیک سے لگ کر دونوں طرف ایک ایک شیرببر گڑھے ہُوئے کھڑے تھے۔ اَور اُن چھ سِیڑھیوں کے اِدھر اُدھر بَارہ شیرببر گڑھے ہُوئے کھڑے تھے۔ اَیسا تخت کسی اَور مملکت میں کبھی نہیں تعمیر ہُوا تھا۔ اَور شُلومونؔ بادشاہ کے پینے کے سَب برتن سونے کے تھے۔ اَور لبانونؔ کے جنگل کے محل میں اِستعمال کیٔے جانے والے تمام برتن بھی خالص سونے کے تھے۔ چاندی کا کچھ بھی بنا ہُوا نہ تھا کیونکہ شُلومونؔ کے دَورِ حُکومت میں چاندی کی کویٔی قدر نہ تھی۔ بادشاہ کے پاس تجارتی جہازوں کا ایک بحری بیڑا بھی تھا جِس کے جہاز بادشاہ کوچک حِیرامؔ کے آدمی تھے۔ اَور ہر تین سال بعد ترشیشؔ کے یہ جہاز سونا، چاندی اَور ہاتھی دانت، بندر اَور لنگور لے کر آتے تھے۔ شُلومونؔ بادشاہ کو دولت اَور حِکمت کے لحاظ سے رُوئے زمین کے تمام بادشاہوں پر فوقیت حاصل تھی۔ اَور رُوئے زمین کے سَب بادشاہ شُلومونؔ کی خدمت میں شرف باریابی چاہتے تھے تاکہ وہ اُن حِکمت کی باتوں کو سُنیں جو خُدا نے اُن کے دِل میں ڈالی تھیں۔ اَور سال بسال اُن کا دیدار کرنے والے اَپنے ساتھ اَپنا اَپنا ہدیہ یعنی چاندی اَور سونے کی اَشیا، پوشاک، ہتھیار اَور مَسالے، گھوڑے اَور خچّر لے کر آیا کرتے تھے۔ اَور شُلومونؔ کے پاس گھوڑوں اَور رتھوں کے لیٔے چار ہزار اصطبل اَور بَارہ ہزار سوار تھے جنہیں بادشاہ رتھوں کے شہروں میں اَور یروشلیمؔ میں اَپنے پاس بھی رکھتے تھے۔ اَور وہ دریائے فراتؔ سے لے کر فلسطینیوں کے مُلک تک جہاں کہ مِصر کی سرحد شروع ہوتی ہے تمام بادشاہوں پر حُکمران تھے۔ اَور بادشاہ نے یروشلیمؔ میں چاندی کو پتّھروں کی مانند عام کر دیا، اَور دیودار کو دامن کوہِ کے گُولر کے درختوں کو اَنجیر کے درختوں کی طرح فراواں کر دیا۔ (2 تواریخ 9:8-27)

نبوت

صُورؔ شہر کی شہزادی تحفہ لے کر آئے گی، اُمرا آپ کی نظرِکرم کے مُحتاج ہوں گے۔ (زبُور 45:12)
حِزقیاہؔ نے سفیروں کا اِستِقبال کیا اَورجو کچھ اُس کے گوداموں میں تھا یعنی چاندی، سونا، مَسالہ اَور نفیس عطر اَور اَپنا اسلحہ خانہ اَورجو کچھ اُس کے خزانوں میں مَوجُود تھا اُنہیں دِکھایا۔ اَور اُس کے محل میں یا اُس کی تمام مملکت میں کویٔی چیز اَیسی نہ تھی جو حِزقیاہؔ نے اُنہیں نہ دِکھائی ہو۔ تَب نبی نے پُوچھا، ”اُنہُوں نے آپ کے محل میں کیا کیا دیکھا؟“ حِزقیاہؔ نے کہا، ”اُنہُوں نے وہ سَب کچھ دیکھا جو میرے محل میں ہے۔ میرے خزانوں میں اَیسی کویٔی شَے نہیں جو مَیں نے اُنہیں نہیں دِکھائی۔“ تَب یہ سُن کر یَشعیاہ نے حِزقیاہؔ سے فرمایا، ”قادرمُطلق یَاہوِہ کا کلام سُنو۔ یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ وہ دِن یقیناً آنے والے ہیں، جَب تمہارے محل کی ہر ایک چیز اَور سَب کچھ جو تمہارے آباؤاَجداد نے آج تک جمع کیا ہے، بابیل کو لے جایا جائے گا اَور یہاں کچھ بھی باقی نہ رہ جائے گا۔ (یَشعیاہ 39:2, 4-6)
تَب تُو دیکھے گی اَور خُوشی سے چمک اُٹھے گی، اَور تیرا دِل خُوشی کے مارے دھڑکنے لگے گا اَور پھُولے نہیں سمائے گا؛ کیونکہ سمُندر کی تمام دولت اَور مُختلف قوموں کا مال و زَر، تیرے پاس لایا جائے گا۔ اُونٹوں کے جھُنڈ کے جھُنڈ، جِن میں مِدیان اَور عیفاہؔ کی سانڈنیاں بھی ہُوں گی، تیرے مُلک میں ہر طرف پھیل جایٔیں گے۔ اَور شیبا کے سارے لوگ، سونا اَور لوبان لے کر یَاہوِہ کی حَمد کرتے ہُوئے آئیں گے۔ یقیناً جزیرے میری راہ دیکھیں گے؛ اَور ترشیشؔ کے بحری جہاز آگے آگے چل رہے ہیں، اَور تیرے بیٹوں کو اُن کی چاندی اَور سونے کے ساتھ، دُور سے لے آ رہے ہیں، تاکہ یَاہوِہ تیرے خُدا، اَور اِسرائیل کے قُدُّوس کا نام اُونچا ہو، کیونکہ اُس نے تُجھے شان و شوکت سے نوازا ہے۔ تیرے پھاٹک ہمیشہ کھُلے رہیں گے، وہ کبھی بند نہ ہوں گے، خواہ دِن ہو یا رات، تاکہ لوگ مُختلف قوموں کی دولت۔ اَور اُن کے بادشاہوں کو فتح کے جلوس کی شکل میں تیرے پاس لائیں۔ (یَشعیاہ 60:5-6, 9, 11)
اَور تُم یَاہوِہ کے کاہِنؔ کہلاؤگے، اَور تُم ہمارے خُدا کی خدمت میں خدمت گزار کہلاؤگے۔ تُم مُختلف قوموں کی دولت کے مزے لوگے، اَور اُن کے مال و متاع پر فخر کروگے۔ میرے لوگ اَپنی خجالت کے عوض دُگنا مال پائیں گے اَور اَپنی رُسوائی کے بدلے تُم اَپنی مِیراث میں خُوش ہو جاؤگے۔ اَور اِس طرح اَپنی سرزمین میں دوگنی مِیراث پاؤگے، تُمہیں اَبدی خُوشی حاصل ہوگی۔ (یَشعیاہ 61:6-7)
میں سَب قوموں کو ہلا دُوں گا اَور سَب قوموں کی مرغوب اَشیا آئیں گی اَور مَیں اِس بیت المُقدّس کو اَپنی جلال سے بھر دُوں گا۔‘ یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ (حگّیؔ 2:7)
”پھر بُلند آواز سے اعلان کرو، قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں، ’میرے شہر دوبارہ خُوشحالی سے معموُر ہوں گے اَور یَاہوِہ پھر صِیّونؔ کو تسلّی بخشیں گے اَور یروشلیمؔ کو قبُول فرمائیں گے۔‘ “ (زکریاؔہ 1:17)
کیا یہ وُہی کلام نہیں جو یَاہوِہ نے گذشتہ نبیوں کی مَعرفت فرمایا تھا جَب یروشلیمؔ اَور گِردونواح کے شہر پُراَمن اَور خُوشحال تھے اَور جُنوب کی سرزمین اَور نِیگیوؔ کی پہاڑیاں آباد تھیں؟‘ “ (زکریاؔہ 7:7)
تَب زمین کے بادشاہ، اُمرائے، فَوجی افسر، مالدار، زورآور اَور سارے غُلام اَور آزاد، غاروں اَور پہاڑوں کی چٹّانوں میں جا چھُپے۔ اَور پہاڑوں اَور چٹّانوں سے چِلّاکر کہنے لگے، ”ہم پر گِر پڑواَور ہمیں اُس کی نظر سے جو تخت نشین ہے اَور برّہ کے غضب سے چھُپا لو! (مُکاشفہ 6:15-16)
اُس نے چُھوٹے بڑے، اَمیر غریب، آزاد غُلام سَب لوگوں کے داہنے ہاتھ یا پیشانی پر ایک خاص نِشان لگوانے کے لیٔے مجبُور کیا، تاکہ اُن کے سِوا جِن پر اُس حَیوان کا نِشان یعنی اُس کا نام یا اُس کے نام کا عدد نہ ہو، اَور کویٔی دُوسرا خریدوفروخت نہ کر سکے۔ (مُکاشفہ 13:16-17)
وہ عورت اَرغوانی اَور قِرمزی رنگ والا لباس پہنے ہویٔے تھی اَور سونے، جواہر اَور موتیوں سے آراستہ تھی۔ اَور اُس کے ہاتھ میں ایک سونے کا پیالہ تھا جو مکرُوہ چیزوں اَور اُس کی زناکاری کی غِلاظت سے بھرا ہُوا تھا۔ (مُکاشفہ 17:4)
کیونکہ سَب قوموں نے اُس کی زناکاری کے قہر کی مَے پی ہے۔ رُوئے زمین کے بادشاہوں نے اُس کے ساتھ زنا کیا ہے، اَور دُنیا کے تاجران اُس کی بڑی عیش و عشرت کی بدولت دولتمند ہو گیٔے۔“ (مُکاشفہ 18:3)
”رُوئے زمین کے تاجران اُس پر روئیں گے اَور ماتم کریں گے کیونکہ اُن کا مال اَب کویٔی نہیں خریدتا: جو سونے، چاندی، جواہر، موتیوں اَور مہین کتانی، اَرغوانی، ریشمی اَور قِرمزی رنگ کے کپڑے، ہر طرح کی خُوشبودار لکڑیاں، ہاتھی دانت کی بنی ہُوئی چیزیں، اَور نہایت بیش قیمتی لکڑی، پیتل، لوہے اَور سنگِ مرمر کی قِسم قِسم کی چیزیں، دارچینی، مَسالوں، عُود، مُر، لوبان، مَے، زَیتُون کا تیل، بہترین مَیدہ اَور گندُم، مویشیوں، بھیڑوں، گھوڑوں، گاڑیوں، اَور اِنسانوں کو جنہیں غُلاموں کی مانند بیچا جاتا تھا، اُن کا کویٔی خریدار نہ رہا۔ ”زمین کے تاجران شہر عظیم بابیل سے کہیں گے، ’تمہارے دِل پسند میوے اَب تمہارے پاس سے دُورہو گیٔے۔ اَور تمہاری تمام شان و شوکت اَور لذیذ چیزیں تمہارے ہاتھ سے نکل گئیں۔ اَب وہ تُمہیں کبھی حاصل نہ ہوں گی۔‘ اِن چیزوں کے تاجران جو اُسے بیچ کر دولتمند بَن گیٔے تھے، اُس کے عذاب سے دہشت زدہ ہوکر دُور کھڑے ہوکر روئیں گے اَور ماتم کریں گے اَور چِلّاکر کہیں گے، ” ’افسوس، افسوس، وہ عظیم شہر، جو مہین کتانی، اَرغوانی اَور قِرمزی کپڑے پہنے ہویٔے تھا، اَور سونے، جواہر اَور موتیوں سے آراستہ تھا! گھڑی بھر میں ہی اُس کی اِتنی بڑی دولت برباد ہو گئی!‘ ”سَب بحری جہاز کے کپتان، جہازوں کے مُسافر، ملّاح اَور تمام سمُندری مزدُور سَب دُور کھڑے ہوکر، اُس شہر کے جلنے کا دُھواں دیکھیں گے اَور چِلّا چِلّاکر کہیں گے، ’کیا کبھی کویٔی اِتنا بڑا شہر اِس عظیم شہر کی مانند مَوجُود تھا؟‘ وہ اَپنے سَروں پر خاک ڈالیں گے اَور رو رو کر ماتم کریں گے اَور چِلّا چِلّاکر کہیں گے، ” ’افسوس، افسوس، اَے عظیم شہر! جِس کی دولت سے تمام بحری جہازوں کے مالک، مالدار ہو گیٔے، گھڑی ہی بھر میں وہ شہر تباہ کر دیا گیا!‘ (مُکاشفہ 18:11-19)

ترغیب کے طور پر دولت کے امکانات

تُم ہمارے درمیان بس جاؤ۔ یہ مُلک تمہارے لیٔے کھُلا ہے۔ اِس میں رہو تِجارت کرو اَور اُسی میں اَپنے لیٔے جائدادیں بناؤ۔“ شِکیمؔ نے بھی دینؔہ کے باپ اَور بھائیوں سے کہا، ”اگر مُجھ پر تمہاری نظرِکرم ہو جائے تو جو کچھ تُم مانگوگے میں تُمہیں دے دُوں گا۔ دُلہن کا مَہر اَور جہیز جِس قدر بھی تُم چاہو طے کر لو اَورجو تُم کہو گے میں اَدا کروں گا۔ بس اُس لڑکی کو بطور دُلہن مُجھے دے دیجئے۔“ (پیدائش 34:10-12)
اَور اُن سے کہنے لگے، ”یہ لوگ ہم سے دوستانہ تعلّقات رکھتے ہیں۔ اُنہیں اِس مُلک میں رہ کر تِجارت کرنے دو، اِس مُلک میں اُن کے لیٔے کافی جگہ ہے۔ ہم اُن کی بیٹیوں سے اَور وہ ہماری بیٹیوں سے بیاہ کر سکتے ہیں۔ کیا اُن کے مویشی، مال و اَسباب اَور سارے جانور ہمارے نہ ہو جایٔیں گے؟ اگر، ہم اَپنی رضامندی اُن پر ظاہر کر دیں تو وہ ہمارے درمیان بس جایٔیں گے۔“ (پیدائش 34:21, 23)
اِسرائیلی کہہ رہے تھے، ”دیکھو، یہ آدمی کیسے باہر نکل کر آتا رہتاہے؟ وہ اِسرائیلیوں کو مُقابلہ کے لیٔے للکارنے آتا ہے اَور ڈُوب مرنے کے لیٔے کہتاہے۔ جو آدمی اُسے قتل کرےگا بادشاہ اُسے بہت سِی دولت دے گا اَور اَپنی بیٹی بھی اُس سے بیاہ دے گا اَور اِسرائیل میں اُس کے باپ کے گھرانے کو محصُول سے مُستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔“ (1 شموایلؔ 17:25)