غریبوں پر ظلم نہ کرنے کا حکم
”کسی پردیسی سے بدسلُوکی نہ کرنا اَور نہ ہی اُس پر ستِم ڈھانا کیونکہ تُم بھی مِصر میں پردیسی تھے۔ ”تُم کسی بِیوہ یا یتیم کو دُکھ نہ دینا۔ اگر تُم نے اَیسا کیا اَور اُنہُوں نے مُجھ سے فریاد کی تو میں یقیناً اُن کی فریاد سُنوں گا اَور میرا قہر بھڑکے گا اَور مَیں تُمہیں تلوار سے مار ڈالوں گا اَور تمہاری بیویاں بِیوہ اَور تمہارے بچّے یتیم ہو جایٔیں گے۔ (خُروج 22:21-24)
اُن کی وجہ سے غریبوں کی پُکار خُدا تک پہُنچی، اَور اُنہُوں نے مُصیبت زدوں کی فریاد سُنی۔ (ایُّوب 34:28)
مُحتاجوں پر ظُلم ڈھانے والا حاکم اُس موسلادھار مینہ کی مانند ہے جو فصل کو باقی نہیں چھوڑتا۔ (امثال 28:3)
شریر غریبوں پر ظلم کرتے ہیں
کیونکہ احمق حماقت کی باتیں کرتا ہے، اُس کا دِل بدی کے منصُوبے باندھتا رہتاہے: وہ بے دینی کے کام کرتا ہے اَور یَاہوِہ کے خِلاف دروغ گوئی کرتا ہے؛ بھُوکے کو خالی پیٹ رکھتا ہے اَور پیاسے کو پانی نہیں پلاتا۔ بدمعاش کے ضوابط بُرے ہوتے ہیں، وہ بُرے منصُوبے باندھتا ہے تاکہ غریب کو جھُوٹی باتوں سے ہلاک کرے، جَب کہ اُس ضروُرت مند کی درخواست راستباز ہو۔ (یَشعیاہ 32:6-7)
غریبوں پر ظلم کرنے والوں کا بیان
بے یارومددگار لوگوں پر حُکومت کرنے والا اگر ظالِم ہو تو وہ گرجنے والے شیرببر اَور حملہ کرنے والے ریچھ کی مانند ہے۔ (امثال 28:15)
جِن کے دانت، تلواریں ہیں، اَور جبڑے، چھُریاں تاکہ زمین کے کنگالوں کو، اَور بنی آدمؔ میں سے مُحتاجوں کو کھا جایٔیں۔ (امثال 30:14)
غریبوں پر ظلم کرنے والوں کی عدالت
اُس کی اَولاد غریبوں سے بھیک مانگے گی؛ اُس کے اَپنے ہاتھ اُس کی دولت واپس دیں گے۔ (ایُّوب 20:10)
اُس نے جو دولت نگل رکھی ہے، اُسے اُگل دے گا؛ خُدا اُس کے پیٹ کو اُسے باہر نکالنے پر مجبُور کرےگا۔ (ایُّوب 20:15)
جو چیز اُس نے مشقّت سے حاصل کی اُسے بغیر کھائے واپس کر دے گا؛ نہ ہی وہ اَپنے کاروبار کے منافع سے مستفید ہوگا۔ کیونکہ اُس نے غریبوں پر ظُلم ڈھائے اَور اُنہیں اَور بھی کنگال بنا دیا؛ اَور اُس نے اُن گھروں پر قبضہ جمالیا جنہیں اُس نے نہیں بنایا تھا۔ ”اُس کی تمنّا ہرگز پُوری نہ ہوگی؛ اُس کی دولت اُس کے کام نہ آئے گی، (ایُّوب 20:18-20)
مُکمّل تاریکی اُس کے خزانوں پر گھات لگائے بیٹھی ہے۔ آگ بھڑکنے سے پہلے ہی اُسے بھسم کر دے گی اَور اُس کے خیمہ میں جو کچھ بچا ہوگا اُسے پھُونک ڈالے گی۔ (ایُّوب 20:26)
خُدا کے روز قہر کا تُند سیلاب، اُس کے گھر کا مال و اَسباب بہا لے جائے گا۔ (ایُّوب 20:28)
بدکار لوگ تلوار کھینچتے اَور کمان کو خم کرتے ہیں تاکہ غریبوں اَور مُحتاجوں کو گرا دیں، اَور سیدھی راہ پر چلنے والوں کو قتل کر دیں۔ لیکن اُن کی تلواریں اُن ہی کے دِلوں کو چھیدیں گی، اَور اُن کی کمانیں توڑ دی جایٔیں گی۔ (زبُور 37:14-15)
قرض خواہ اُس کا سَب کچھ چھین لے؛ اَور بیگانے اُس کی محنت کا پھل لُوٹ لیں۔ (زبُور 109:11)
کیونکہ اُس آدمی کے دِل میں ترس کرنے کا خیال کبھی نہ آیا، بَلکہ وہ مفلسوں، مُحتاجوں اَور شکستہ دِل اِنسانوں کو ستایا کرتا تاکہ وہ زندہ نہ رہیں۔ (زبُور 109:16)
جو آدمی اَپنی دولت بڑھانے کے لیٔے کنگالوں پر ظُلم ڈھاتا ہے، اَورجو دولتمندوں کو تحفے پیش کرتا ہے؛ دونوں غربت کا شِکار ہو جاتے ہیں۔ (امثال 22:16)
مسکینوں کو اُن کے مسکین ہونے کے باعث مت لُوٹو اَور نہ عدالت میں کسی مُحتاج کو دبانے کی کوشش کرو۔ کیونکہ یَاہوِہ اُن کا مُعاملہ اَپنے ہاتھ میں لیں گے اَورجو اُنہیں لُوٹتے ہیں، اُنہیں وہ لُوٹیں گے۔ (امثال 22:22-23)
یَاہوِہ اَپنے لوگوں کے بُزرگوں اَور سربراہوں کی عدالت کریں گے: ”وہ تُم ہی ہو جنہوں نے میرے تاکستان کو برباد کر دیا؛ غریبوں کا لُوٹا ہُوا مال تمہارے ہی گھروں میں رکھا ہُواہے۔ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ فرماتے ہیں: میرے لوگوں کو ستانے اَور غریبوں کے سَر کُچلنے سے آخِر تمہارا مطلب کیا ہے؟“ (یَشعیاہ 3:14-15)
افسوس اُن پرجو غَیر مُنصِفانہ قوانین بناتے ہیں، اَور اُن پر بھی جو ظالمانہ اَحکام جاری کرتے ہیں، تاکہ غریبوں کو اُن کے حُقُوق سے اَور میرے مظلوم خادِموں کو اِنصاف سے محروم رکھیں، بیواؤں کو اَپنے ظُلم کا شِکار بنائیں اَور یتیموں کو لُوٹیں۔ (یَشعیاہ 10:1-2)
یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ”شاہِ یہُودیؔہ کے محل میں جاؤ اَور وہاں یہ پیغام سُناؤ: ’اَے داویؔد کے تخت پر تخت نشین شاہِ یہُودیؔہ، تُم جو اَپنے حاکموں اَور اَپنے لوگوں کے ساتھ اِن پھاٹکوں سے داخل ہوتے ہو، یَاہوِہ کا کلام سُنو، یَاہوِہ فرماتے ہیں، اِنصاف اَور راستبازی کے کام کرو۔ مظلوم کو ظالِم کے ہاتھ سے چھُڑاؤ، اَور پردیسی، یتیم اَور بِیوہ کے ساتھ بدسلُوکی اَور ظُلم نہ کرو، اَور اِس جگہ بےگُناہ کا خُون نہ بہاؤ۔ کیونکہ اگر تُم اِن اَحکام پر احتیاط سے عَمل کروگے تو داویؔد کے تخت پر تخت نشین بادشاہ، اَپنے حاکموں اَور لوگوں کے ساتھ، رتھوں اَور گھوڑوں پر سوار ہوکر اِس محل کے پھاٹکوں سے داخل ہوں گے۔ لیکن اگر تُم اِن اَحکام کو نہ مانوگے تو یَاہوِہ فرماتے ہیں کہ میری جان کی قَسم یہ محل ویران ہو جائے گا۔‘ “ (یرمیاہؔ 22:1-5)
تُجھ میں اُنہُوں نے ماں باپ کو حقیر جانا، تُجھ میں اُنہُوں نے پردیسیوں پر ظُلم کیا اَور یتیموں اَور بیواؤں کے ساتھ بُرا سلُوک کیا۔ (حزقی ایل 22:7)
مُلک کے لوگ ستمگری سے کام لیتے ہیں، لَوٹ مار کرتے ہیں، غریب اَور مُحتاج پر ظُلم ڈھاتے ہیں اَور پردیسیوں کے ساتھ بُرا سلُوک اَور نااِنصافی کرتے ہیں۔ (حزقی ایل 22:29)
یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، بنی اِسرائیل کے تین بَلکہ چار گُناہوں کی باعث مَیں اُسے بے سزا نہ چھوڑوں گا۔ وہ چاندی کے لیٔے راستباز کو، اَور ایک جوڑی جُوتی کی خاطِر حاجت مند کو بیچ دیتے ہیں۔ وہ کنگال کے سَر کو اَیسا کُچلتے ہیں جَیسے زمین پر دُھول کو روندا جاتا ہے وہ مظلوموں کو اِنصاف نہیں دیتے۔ باپ اَور بیٹا دونوں ایک ہی لڑکی سے ہم بِستر ہوتے ہیں، اَور اَیسا کرکے وہ میرے پاک نام کو ناپاک کرتے ہیں۔ (عامُوسؔ 2:6-7)
اَے باشانؔ کی گایوں، ”تُم یہ کلام سُنو! تُم جو کوہِ سامریہؔ پر رہتی ہو، اَے عورتوں تُم جو غریبوں کو ستاتی ہو اَور ضروُرت مندوں کو کُچلتی ہو اَور اَپنے شوہروں سے کہتی ہو کہ ہماری مَے نوشی کے لیٔے کچھ لاؤ!“ یَاہوِہ قادر اَپنی پاکیزگی کی قَسم کھا کر فرماتے ہیں دیکھو، مُستقبِل میں تُم پر اَیسے دِن ضروُر آنے والے ہیں، جَب تمہاری ناک میں کانٹا پھنسا کر لے جایا جائے گا، اَور تمہاری اَولادوں کو مچھلی پکڑنے والے کانٹے میں پھنسا کر لے جایا جائے گا۔ (عامُوسؔ 4:1-2)
وہ پَلک جھپکتے ہی قلعہ کو نِیست و نابود کر دیتے ہیں، اَور فصیلدار شہر کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اَیسے لوگ ہیں جو عدالت میں اِنصاف کو قائِم کرنے والوں سے عداوت رکھتے ہیں، اَورجو سچ کہتاہے اُسے حقیر سمجھتے ہیں۔ تُم غریبوں کے بھُوسے پر بھی محصُول لیتے ہو، اَور اُن کے اناج پر بھی زبردستی محصُول لگاتے ہو۔ اِس لئے اگر تُم نے اَپنے لئے پتّھروں کے محلوں کو بھی تعمیر کیا ہو تو بھی، تُم اُس میں رہنے نہ پاؤگے؛ اگرچہ تُم نے نفیس تاکستان بھی لگائے ہوں تو بھی تُم اُن کی مَے نہ پی سکوگے۔ کیونکہ مَیں تمہاری بے شُمار خطاؤں اَور گُناہِ عظیم سے واقف ہُوں۔ تُم نیکوکار کو ستاتے ہو اَور رشوت لیتے ہو اَور اَپنی عدالت میں غریبوں کو اِنصاف سے محروم رکھتے ہو۔ (عامُوسؔ 5:9-12)
تُم جو ضروُرت مندوں کو کُچلتے رہتے ہو اَور مُلک کے مسکینوں کو مٹاتے رہتے ہو، یہ کلام سُنو۔ تُم کہتے ہو، ”نئے چاند کی عید کب گزرے گی تاکہ ہم اَپنا اناج فروخت کریں، سَبت کا دِن کب ختم ہوگا تاکہ ہم گیہُوں کے فروخت کے واسطے اَپنے کھتّے کھولیں؟“ تُم ایفہ کو چھوٹا اَور ثاقل کو ناپ میں بڑا کرتے ہو، اَور دغابازی کے ترازو سے ٹھگتے ہو، تُم مسکینوں کو رُوپیہ سے اَور حاجت مند کو ایک جوڑی جُوتے سے خریدتے ہو، اَور گیہُوں کے ساتھ پھٹکن بھی بیچتے ہو۔ (عامُوسؔ 8:4-6)
”قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، ’راستی سے عدالت کرو اَور ہر شخص دُوسرے شخص پر رحم و کرم کیا کرے۔ بیواؤں اَور یتیموں، پردیسوں اَور مسکینوں پر ظُلم نہ کرو۔ ایک دُوسرے کے خِلاف اَپنے دِل میں بُرا منصُوبہ نہ باندھو۔‘ ”لیکن اُنہُوں نے اِن باتوں پر کچھ غور نہیں کیا بَلکہ گردن کشی کرکے اَپنے کانوں کو بند کر لیا۔ اُنہُوں نے اَپنے دِلوں کو سنگِ ہیرا کی مانند سخت کر لیا تاکہ شَریعت کی باتیں یا کلام کو نہ سُنیں جسے یَاہوِہ نے گذشتہ نبیوں پر اَپنی رُوح کی مَعرفت نازل کیا تھا۔ اِس لیٔے قادرمُطلق یَاہوِہ سخت ناراض ہُوئے۔ (زکریاؔہ 7:9-12)
تَب مَیں تمہاری عدالت کے لیٔے تمہارے نزدیک آؤں گا اَور اوجھاؤں، بدکاروں اَور جھُوٹی قَسم کھانے والوں کے خِلاف اَور اُن کے خِلاف بھی جو مزدُوروں کو اُن کی مزدُوری نہیں دیتے اَور بیواؤں اَور یتیموں پر ظُلم کرتے ہیں اَور پردیسیوں کو اِنصاف سے محروم رکھتے ہیں اَور مُجھ سے نہیں ڈرتے ہیں، مَیں اُن سَب کے خِلاف فوراً گواہی دُوں گا، یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ (ملاکیؔ 3:5)
غریبوں پر ظلم کی عدالت کے لیے خداوند سے درخواست
اَے جہاں کا اِنصاف کرنے والے اُٹھیں؛ اَور مغروُروں کو بدلہ دیں جِس کے وہ مُستحق ہیں۔ (زبُور 94:2)
وہ بِیوہ اَور پردیسی کو قتل کرتے ہیں؛ اَور یتیم کو مار ڈالتے ہیں۔ (زبُور 94:6)
وہ کہتے ہیں: ”یَاہوِہ نہیں دیکھتے؛ یعقوب کے خُدا خیال نہیں کرتے۔“ (زبُور 94:7)
غریبوں پر ظلم کی مثال
تمہارے دامن پر تو بےگُناہ مسکینوں کے خُون کے نِشان پائے گئے ہیں، حالانکہ تُمہیں تو مَعلُوم ہی نہیں چلا کہ وہ تمہارے گھر میں نقب لگا کر کب گھُس گئے۔ (یرمیاہؔ 2:34)
مذہبی لوگوں کا غریبوں پر ظلم
اُنہُوں نے تعلیم دیتے، وقت یہ بھی فرمایا، ”شَریعت کے عالِموں سے خبردار رہنا۔ جو لمبے لمبے چوغے پہن کر اِدھر اُدھر چلنا پسند کرتے ہیں اَور چاہتے ہیں کہ لوگ بازاروں میں، اُنہیں اِحتراماً سلام کریں۔ وہ یہُودی عبادت گاہوں میں اعلیٰ درجہ کی کُرسیاں اَور ضیافتوں میں صدر نشینی چاہتے ہیں۔ وہ بیواؤں کے گھروں کو ہڑپ کرلیتے ہیں اَور دِکھاوے کے طور پر لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ اِن لوگوں کو سَب سے زِیادہ سزا ملے گی۔“ (مرقُس 12:38-40)
”شَریعت کے عالِموں سے خبردار رہنا۔ جو لمبے لمبے چوغے پہن کر اِدھر اُدھر چلنا پسند کرتے ہیں اَور چاہتے ہیں کہ لوگ بازاروں میں اُنہیں اِحتراماً مُبارکبادی سلام کریں وہ یہُودی عبادت گاہوں میں اعلیٰ درجہ کی کُرسیاں اَور ضیافتوں میں صدر نشینی چاہتے ہیں۔ وہ بیواؤں کے گھروں کو ہڑپ کرلیتے ہیں اَور دِکھاوے کے طور پر لمبی لمبی دعائیں کرتے ہیں۔ اِن لوگوں کو سَب سے زِیادہ سزا ملے گی۔“ (لُوقا 20:46-47)
غریبوں پر ظلم عام ہے
اگر تُم اَپنے ضلع میں غریبوں پر ظُلم ہوتے اَور عدل و اِنصاف اَور اُنہیں اُن کے حُقُوق سے محروم ہوتے دیکھو تو اُس پر تعجُّب نہ کرنا کیونکہ ایک حاکم کی ایک حاکم نگہبانی کرتا اَور اُن دونوں کے اُوپر بھی اعلیٰ حاکم ہوتے ہیں۔ (واعظ 5:8)
غریبوں اور بے بسوں کا دفاع/مدد کریں
بے زبانوں کے لیٔے اَپنا مُنہ کھولو، تاکہ بےکسوں کے حُقُوق کا تحفُّظ ہو سکے۔ اَپنا مُنہ کھولو اَور راستی سے اِنصاف کرو؛ اَور مفلسوں اَور مُحتاجوں کے حُقُوق کی حِفاظت کرو۔ (امثال 31:8-9)
بھلائی کرنا سیکھو؛ اِنصاف طلب بنو، مظلوموں کی حوصلہ اَفزائی کرو۔ یتیموں کے حُقُوق کا تحفُّظ کرو؛ اَور بیواؤں کے حامی ہو۔ (یَشعیاہ 1:17)
اَے داویؔد کے گھرانے، یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں: ” ’تُم ہر صُبح اِنصاف کرو؛ اَور مظلوم کو ظالموں کے ہاتھوں سے رِہائی بخشو، ورنہ تمہاری بدی کی وجہ سے، میرے غضب کی آگ بھڑک اُٹھے گی، اَور اَیسی شُعلہ زن ہوگی کہ کویٔی اُسے بُجھا نہ سکےگا۔ (یرمیاہؔ 21:12)
خدا ترس لوگ غریبوں کی مدد کرتے ہیں
صادق مسکینوں کے مُعاملہ کا اِنصاف چاہتاہے، لیکن بدکار کو اُس کے مُعاملہ کو جاننے کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ (امثال 29:7)
کیا میں دردمند کے لیٔے نہیں رُویا؟ کیا میری جان غریب کے لیٔے آزردہ نہیں ہُوئی؟ (ایُّوب 30:25)
خداوند غریبوں کی مدد کرنے والوں کو برکت دیتا ہے
موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔ مُبارک ہے وہ جو کمزور کا خیال رکھتا ہے؛ یَاہوِہ اُسے مُصیبت کے وقت بچاتے ہیں۔ یَاہوِہ اُس کی حِفاظت کریں گے اَور اُسے زندہ رکھیں گے؛ اَور اُسے زمین پر برکت دیں گے اَور اُسے اُس کے حریفوں کی مرضی پر نہ چھوڑیں گے۔ یَاہوِہ اُسے اُس کے بِستر علالت پر سنبھالیں گے اَور اُسے بیماری کے بِستر سے اُٹھا کھڑا کریں گے۔ (زبُور 41:1-3)
جو مسکینوں پر رحم کرتا ہے، یَاہوِہ کو قرض دیتاہے، اَور وہ اُسے اُس کے کئے کا اجر دے گا۔ (امثال 19:17)
غریبوں کی مدد کرنے والے راہنما کو برکت
جو بادشاہ مسکینوں کا راستی سے اِنصاف کرتا ہے، اُس کا تخت ہمیشہ قائِم رہتاہے۔ (امثال 29:14)
اگر تُم واقعی اَپنی روِشیں اَور اَپنے اعمال دُرست کر لو اَور ایک دُوسرے کے ساتھ اِنصاف سے پیش آؤ، اَور اگر تُم پردیسی، یتیم اَور بِیوہ پر ظُلم نہ کرو اَور اِس جگہ بےگُناہ کا خُون نہ بہاؤ اَور اگر تُم غَیر معبُودوں کی پیروی نہ کرو جِس سے تمہارا نُقصان ہو، تَب میں تُمہیں اِس جگہ اَور اِس مُلک میں جسے مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو بُودوباش کرنے کو اَبدیّت کے لیٔے دیا تھا۔ لیکن دیکھو تُم جھُوٹی باتوں پر یقین کرتے ہو جِن سے کچھ فائدہ نہیں ہو سَکتا۔ ” ’کیا تُم چوری، خُون، زنا کرکے اَور جھُوٹی قَسم کھا کر، معبُود بَعل کے لیٔے بخُور جَلا کر اَور اُن غَیر معبُودوں کی پیروی کرتے ہو جنہیں تُم نہیں جانتے تھے۔ (یرمیاہؔ 7:5-9)
غریب کو کھانا کھلائیں، خداوند بدلہ دے گا
پھر یِسوعؔ نے اَپنے میزبان سے کہا، ”جَب تو دوپہر کا یا رات کا کھانا پکوائے، تُو اَپنے دوستوں، بھائیوں یا بہنوں، رشتہ داروں یا اَمیر پڑوسیوں کو نہ بُلا؛ کیونکہ وہ بھی تُجھے بُلاکر، تیرا اِحسَان چُکا سکتے ہیں۔ بَلکہ جَب تُو ضیافت کرے تو غریبوں، ٹُنڈوں، لنگڑوں، اَور اَندھوں کو بُلا، اَور تُو برکت پایٔےگا۔ کیونکہ اُن کے پاس کُچھ نہیں جِس سے وہ تیرا اِحسَان چُکا سکیں، لیکن تُجھے اِس اِحسَان کا بدلہ راستبازوں کی قیامت کے دِن ملے گا۔“ مہمانوں میں سے ایک نے یہ باتیں سُن کر یِسوعؔ سے کہا، ”خُدا کی بادشاہی میں کھانا کھانے والا بڑا مُبارک ہوگا۔“ یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا: ”کسی شخص نے ایک بڑی ضیافت کی اَور بہت سے لوگوں کو بُلایا۔ جَب کھانے کا وقت ہو گیا تو اُس نے اَپنے خادِم کو بھیجا کہ مہمانوں سے کہے، ’آؤ اَب، سَب کُچھ تیّار ہے۔‘ ”لیکن سَب نے مِل کر بہانا بنانا شروع کر دیا۔ پہلے نے اُس سے کہا، ’مَیں نے حال ہی میں کھیت مول لیا ہے، اَور میرا اُسے دیکھنے جانا ضروُری ہے۔ میں معذرت چاہتا ہُوں۔‘ ”دُوسرے نے کہا، ’مَیں نے ابھی پانچ جوڑی بَیل خریدے ہیں، اَور مَیں اُنہیں آزمانے جا رہا ہُوں۔ میں معذرت چاہتا ہُوں۔‘ ”ایک اَور نے کہا، ’مَیں نے ابھی بیاہ کیا ہے اِس لیٔے میرا آنا ممکن نہیں۔‘ ”تَب خادِم نے واپس آکر یہ ساری باتیں اَپنے مالک کو بتائیں۔ گھر کے مالک کو بڑا غُصّہ آیا، اُس نے اَپنے خادِم کو حُکم دیا، ’جلدی کر اَور شہر کے گلی کُوچوں میں جا کر غریبوں، ٹُنڈوں، اَندھوں اَور لنگڑوں کو یہاں لے۔‘ ”خادِم نے کہا، ’اَے مالک، آپ کے کہنے کے مُطابق عَمل کیا گیا لیکن ابھی بھی جگہ خالی ہے۔‘ ”مالک نے خادِم سے کہا، ’راستوں اَور کھیتوں کی باڑوں کی طرف نکل جا اَور لوگوں کو مجبُور کر کہ وہ آئیں تاکہ میرا گھر بھر جائے۔ (لُوقا 14:12-23)
غریب کا انصاف سے فیصلہ کریں
”تُم اَپنے غریب لوگوں کے مُقدّمات میں اِنصاف کا خُون نہ ہونے دینا۔ (خُروج 23:6)
کویٔی پردیسی یا یتیم اِنصاف سے محروم نہ رہے اَور نہ کسی بِیوہ کے کپڑے رہن رکھّے جایٔیں۔ (اِستِثنا 24:17)
غریب پر رحم کریں
آپ کو لوگوں کے درمیان سے نکال دیا جائے گا اَور آپ جنگلی جانوروں کی صحبت میں رہیں گے، اَور ایک بَیل کی مانند گھاس کھائے گا اَور آسمان کی شبنم میں بھیگے گا۔ تُم پر سات سال گزر جایٔیں گے جَب تَب آپ یہ جان نہ لیں کہ حق تعالیٰ ہی اِنسانی سلطنتوں میں حُکمرانی کرتا ہے اَور اُنہیں جسے چاہتاہے اُسے دے دیتاہے۔ اَور درخت کے ٹھُنٹھ کو جڑوں کے ساتھ رہنے دینے کا جو حُکم ہُواہے اُس کا مطلب یہ ہے کہ جَب آپ جان لیں گے کہ حُکمرانی کا اِختیار آسمان پر سے ہی ہوتاہے۔ تَب تیری بادشاہت پھر سے آپ کو بحال کر دی جائے گی۔ اِس لیٔے اَے بادشاہ، میری مشورت کو بخُوشی تسلیم کر۔ صداقت کے کام کرکے اَپنے گُناہوں کو ترک کر دے اَور مظلوموں پر رحم کرکے اَپنی بدکاری چھوڑ دے۔ ممکن ہے کہ اِس سے آپ کی اِقبالمندی قائِم رہے۔“ (دانی ایل 4:25-27)
جو غریبوں کا دفاع نہیں کرتے ان کی عدالت ہوگی
جَیسے پنجرہ پرندوں سے بھرا ہوتاہے، وَیسے ہی اُن کے گھر فریب سے بھرے ہیں؛ اَور اَب وہ مالدار اَور زورآور بَن گیٔے ہیں، اَور موٹے اَور چِکنے ہو گئے ہیں۔ اُن کے بُرے کاموں کی کویٔی حَد نہیں ہوتی؛ وہ راستی سے یتیموں کا اِنصاف نہیں کرتے، نہ ہی مسکینوں کے حُقُوق کا تحفُّظ کرتے ہیں۔ کیا میں اَیسے لوگوں کو سزا نہ دُوں؟“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”کیا مَیں اَیسی قوم سے، اَپنا اِنتقام نہ لُوں؟ (یرمیاہؔ 5:27-29)
سدوم کا گناہ: غریبوں کی مدد نہ کرنا
” ’اَب تیری بہن سدُومؔ کا گُناہ یہ تھا: وہ اَور اُس کی بیٹیاں مغروُر، مست اَور بے فکر تھیں، اُنہُوں نے غریبوں اَور مُحتاجوں کی دستگیری نہ کی۔ (حزقی ایل 16:49)
غریبوں کا دفاع نہ کرنے والے راہنما کی مثال
تمہارے حُکمران سرکش ہو گئے ہیں، اَور چوروں کے ساتھی بَن گیٔے ہیں؛ اُن سَب کو رشوت عزیز ہے اَور وہ تحفوں کے پیچھے دَوڑتے ہیں۔ وہ یتیموں کے حُقُوق کا تحفُّظ نہیں کرتے؛ اَور نہ بیواؤں کی فریاد اُن تک پہُنچتی ہے۔ (یَشعیاہ 1:23)
ہم غریبوں سے جیسا سلوک کرتے ہیں وہ خداوند پر منعکس ہوتا ہے
مفلسوں پر ظُلم ڈھانے والا اُن کے خالق کی توہین کرتا ہے، لیکن جو کویٔی مُحتاجوں پر رحم کھاتا ہے وہ خُدا کی تعظیم کرتا ہے۔ (امثال 14:31)
مسکین کا مذاق اُڑانے والا اُس کے خالق کی توہین کرتا ہے؛ اَور کسی دُوسرے کی مُصیبت پر خُوش ہونے والا بے سزا نہیں چُھوٹے گا۔ (امثال 17:5)
غریبوں کے حوالے سے خدا کا حصہ
خداوند غریبوں اور محتاجوں کا رازق اور محافظ ہے
وہ یتیموں اَور بیواؤں کا اِنصاف کرتے ہیں اَور پردیسی سے اَیسی مَحَبّت رکھتے ہیں کہ اُسے کھانا اَور کپڑا مُہیّا کرتے ہیں۔ (اِستِثنا 10:18)
حاجتمندوں کو وہ اُن کی مُنہ کی تلوار سے بچاتے ہیں؛ اَور اُنہیں زبردست کے قبضے سے مخلصی بخشتے ہیں۔ (ایُّوب 5:15)
لیکن مسکین ہمیشہ کے لیٔے بھُلائے نہ جایٔیں گے؛ اَور نہ مُصیبت زدوں کی اُمّید کبھی ٹوٹے گی۔ (زبُور 9:18)
اَے خُدا، لیکن آپ شرارت اَور غم کو دیکھ رہے ہیں؛ آپ اُن کے غموں پر غور کریں اَور اِسے اَپنے ہاتھ میں لے لیں۔ بےکس خُود کو آپ کی پناہ میں دیتے ہیں؛ آپ ہی یتیموں کے مددگار ہیں۔ (زبُور 10:14)
یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”مظلوموں پر ظُلم ڈھانے کے سبب سے، اَور حاجتمندوں کے کراہنے کے باعث اَب مَیں اُٹھوں گا،“ اَور جِن پر وہ تہمت لگاتے ہیں، ”مَیں اُن کی حِفاظت کروں گا۔“ (زبُور 12:5)
اِس غریب نے پُکارا اَور یَاہوِہ نے اُس کی سُنی؛ اَور اُنہُوں نے اُسے اُس کی ساری پریشانیوں سے بچا لیا۔ (زبُور 34:6)
میرا کُل وُجُود یہ کہے گا، ”اَے یَاہوِہ، آپ کی مانند کون ہے؟ آپ غریبوں کو اُن کے ہاتھ سے جو زِیادہ زورآور ہیں، اَور مسکینوں اَور مُحتاجوں کو غارت گروں سے چُھڑاتے ہیں۔“ (زبُور 35:10)
اَے خُداوؔند، میں تو مسکین اَور مُحتاج ہُوں؛ اِس لئے مُجھ پر نظرِکرم کریں۔ آپ ہی میرے مددگار اَور میرے چھُڑانے والے ہیں؛ ”آپ میرے خُدا ہیں!“ اَب دیر نہ کریں۔ (زبُور 40:17)
خُدا تنہا اِنسان کا گھر بساتے ہیں، اَور قَیدیوں کی نغموں سے قیادت کرتے ہیں؛ لیکن باغی خشک زمین میں رہتے ہیں۔ (زبُور 68:6)
آپ کی اُمّت اُس مُلک میں بس گئی، اَور اَے خُدا، آپ نے اَپنے فیض سے، مسکینوں کی ضرورتیں پُوری کیں۔ (زبُور 68:10)
یَاہوِہ ضروُرت مندوں کی دعا کو سُنتے ہیں، اَور اَپنے اسیروں کی حقارت نہیں کرتے۔ (زبُور 69:33)
وہ بےکسوں کی دعا کا جَواب دیں گے؛ اَور اُن کی عرض کو حقیر نہ جانیں گے۔ (زبُور 102:17)
بعض لوگ بیابانوں اَور صحراؤں میں مارے مارے پھرے، لیکن بسنے کے لیٔے کسی شہر کی راہ نہ پائی۔ (زبُور 107:4)
کیونکہ یَاہوِہ مظلوموں کے داہنے ہاتھ کھڑے رہتے ہیں، تاکہ سزا کا حُکم نافذ کرنے والوں سے اُن کی جان کو بچا سکے۔ (زبُور 109:31)
وہ مسکین کو خاک پر سے اَور وہ ہی مُحتاج کو کُوڑے کے ڈھیر سے باہر نکالتے ہیں؛ (زبُور 113:7)
میں اُس کے رزق میں بڑی برکت دُوں گا؛ اَور اُس کے مسکینوں کو روٹی سے سیر کروں گا۔ (زبُور 132:15)
میں جانتا ہُوں کہ یَاہوِہ غریبوں کا اِنصاف کرتے ہیں اَور مُحتاجوں کی حمایت کرتے ہیں۔ (زبُور 140:12)
وہ مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں اَور بھُوکوں کو کھانا کھِلاتے ہیں۔ یَاہوِہ قَیدیوں کو آزاد کرتے ہیں، (زبُور 146:7)
یَاہوِہ پردیسیوں کی حِفاظت کرتے ہیں اَور یتیم اَور بِیوہ کو سنبھالتے ہیں، لیکن وہ بدکاروں کی راہوں کو کَج کر دیتے ہیں۔ (زبُور 146:9)
یَاہوِہ حلیموں کو سنبھالتے ہیں لیکن بدکاروں کو خاک میں مِلا دیتے ہیں۔ (زبُور 147:6)
یَاہوِہ مغروُر کا گھر ڈھا دیتے ہیں لیکن وہ بِیوہ کا ٹھکانہ محفوظ رکھتے ہیں۔ (امثال 15:25)
بَلکہ وہ مسکینوں کا اِنصاف راستی سے کریں گے، اَور دُنیا کے غریبوں کا فیصلہ عدل سے کریں گے۔ وہ اَپنی زبان کے عصا سے زمین کو ماریں گے اَور اَپنے لبوں کے دَم سے بدکاروں کو ہلاک کریں گے۔ (یَشعیاہ 11:4)
مسکینوں کو پیٹ بھر کھانا ملے گا، اَور مُحتاج سکون سے سوئیں گے۔ لیکن مَیں تیری جڑ قحط سے تباہ کروں گا؛ وہ تیرے بچے ہُوئے لوگوں کو قتل کریں گے۔ (یَشعیاہ 14:30)
کیونکہ آپ مسکین کے لیٔے قلعہ، اَور مُحتاج کے لیٔے پریشانی کے وقت جائے پناہ، اَور سیلاب میں محفوظ مقام اَور گرمی سے بچاؤ کے لیٔے سایہ دار جگہ۔ کیونکہ سنگدل کی سانس دیوار سے ٹکرانے والے طُوفان (یَشعیاہ 25:4)
”مسکین اَور مُحتاج پانی کی کھوج میں ہیں، پر وہ ملتا نہیں؛ اُن کی زبانیں پیاس سے خشک ہو چُکی ہیں۔ لیکن مَیں یَاہوِہ اُن کی سُنوں گا؛ میں اِسرائیل کا خُدا اُنہیں ترک نہ کروں گا۔ (یَشعیاہ 41:17)
یَاہوِہ کی مدح سرائی کرو! یَاہوِہ کی سِتائش کرو! کیونکہ اُنہُوں نے ضروُرت مند کی جان کو، بدکاروں کے ہاتھوں سے چھُڑایا ہے۔ (یرمیاہؔ 20:13)
غریبوں کی مدد کے لیے خداوند سے دعا
لوگوں میں جو مُصیبت زدہ ہیں وہ اُن کے حُقُوق کا تحفُّظ کرےگا، اَور مُحتاجوں کے بچّوں کو بچائے گا؛ اَور ظالِم کو چُورچُور کر دے گا۔ ترشیشؔ اَور دُور دراز کے جزیروں کے بادشاہ اُسے نذرانے پیش کریں گے؛ شیبا اَور سیبا کے بادشاہ اُس کے لیٔے عطیات لائیں گے۔ بادشاہ فریاد کرنے والے مُحتاجوں، اَور بے یارومددگار مُصیبت کے مارو کو چھُڑائے گا۔ وہ کمزوروں اَور مُحتاجوں پر ترس کھائے گا اَور مُحتاجوں کو موت سے بچائے گا۔ وہ اُنہیں ظُلم و تشدّد سے رِہائی بخشےگا، کیونکہ اُن کا خُون اُس کی نظر میں نہایت قیمتی ہے۔ اُس کی عمر دراز ہو! شیبا کا سونا اُسے دیا جائے۔ لوگ ہمیشہ اُس کے حق میں دعا کرتے رہیں اَور دِن بھر اُسے برکت دیتے رہیں۔ (زبُور 72:4, 10, 12-15)
مظلوم کو شرمندہ ہوکر لوٹنے نہ دیں؛ مسکین اَور مُحتاج آپ کے نام کی سِتائش کریں۔ (زبُور 74:21)
مظلوموں اَور یتیموں کی حمایت؛ مسکینوں اَور مظلوموں کے حُقُوق کی حِفاظت کرو۔ کمزوروں اَور مُحتاجوں کو بچاؤ؛ اَور اُنہیں بدکار لوگ کے ہاتھ سے چھُڑاؤ۔ (زبُور 82:3-4)
لیکن آپ اَے یَاہوِہ قادر، اَپنے نام کی خاطِر مُجھ پر اِحسَان کریں؛ اَور اَپنی شفقت و مَحَبّت کی خوبی کے مُطابق مُجھے رِہائی بخشیں۔ کیونکہ مَیں غریب اَور مُحتاج ہُوں، اَور میرا دِل میرے پہلو میں زخمی ہو چُکاہے۔ (زبُور 109:21-22)
خدا کے حصے اور غریبوں کے بارے میں انسان کا نقطۂ نظر
لوگ حُدوُد کے پتّھروں کو سرکاتے ہیں؛ وہ گلّوں کو ہانک لے جاتے ہیں اَور اُنہیں چَرانے لگتے ہیں۔ وہ یتیم کا گدھا چُرا لے جاتے ہیں اَور بِیوہ کا بَیل رہن رکھ لیتے ہیں۔ وہ مُحتاج کو راہ سے ہٹا دیتے ہیں اَور مُلک کے تمام غریب چھپتے پھرتے ہیں۔ ویرانہ کے گورخروں کی طرح، غُربا اَپنی خُوراک کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں؛ اَور بنجر زمین اُن کے بچّوں کو خُوراک بہم پہُنچاتی ہے۔ وہ کھیتوں میں سے چارا کاٹتے ہیں اَور بدکاروں کے لیٔے تاکستانوں کے انگور توڑتے ہیں۔ کپڑے نہ ہونے کے باعث وہ رات بھر ننگے پڑے رہتے ہیں؛ اَور سردی سے بچنے کے لیٔے اُن کے پاس اوڑھنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ وہ پہاڑوں کی بارش سے بھیگتے ہیں اَور کویٔی پناہ نہ مِلنے پر چٹّانوں سے لپٹ جاتے ہیں۔ یتیم کا بچّہ چھاتی سے جُدا کر دیا جاتا ہے؛ اَور غریب کا بچّہ قرض کے عوض گروی رکھ لیا جاتا ہے۔ وہ کپڑوں کے بغیر ننگے پھرتے رہتے ہیں؛ اَور پُولے ڈھوتے ہُوئے بھی بھُوکے رہتے ہیں۔ وہ تیل نکالنے کے لیٔے چٹّانوں پر زَیتُون کُچلتے ہیں؛ وہ مے کے حوضوں کے انگور روند کر اُن کا رس نکالتے ہیں لیکن خُود پیاسے رہتے ہیں۔ مرنے والوں کے کراہنے کی آوازیں شہر سے اُٹھتی ہیں، اَور زخمیوں کی جانیں دہائی دیتی ہیں۔ تو بھی خُدا کسی کو بدی کا ذمّہ دار نہیں ٹھہراتا۔ شام ہوتے ہی خُونی اُٹھ کھڑا ہوتاہے اَور غریب اَور مُحتاج کو قتل کرتا ہے؛ اَور رات کو چور کی طرح نقب لگاتاہے۔ (ایُّوب 24:2-12, 14)
غریبوں کے بارے میں خدا کا نقطۂ نظر
میں تیری مُصیبت اَور مفلسی سے واقف ہُوں لیکن تُو دولتمند ہے اَور اُن لوگوں کے لَعن طَعن سے بھی واقف ہے جو اَپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں مگر ہیں نہیں بَلکہ شیطان کی جماعت ہیں۔ (مُکاشفہ 2:9)
اَور تُو کہتاہے کہ میں دولتمند ہُوں اَور مالدار بَن گیا ہُوں اَور مُجھے کسی چیز کی حاجَت نہیں؛ مگر تُو یہ نہیں جانتا کہ تو حقیقت میں نامراد، بے چارہ، غریب، نابینا اَور ننگا ہے۔ اِس لیٔے میں تُمہیں صلاح دیتا ہُوں کہ مُجھ سے آگ میں تپایا ہُوا سونا خرید لے تاکہ دولتمند ہو جائے اَور پہننے کے لیٔے سفید پوشاک خرید کر پہن لو تاکہ تمہارے ننگے پن کی شرمندگی ظاہر نہ ہونے پایٔے اَور اَپنی آنکھوں میں ڈالنے کے لیٔے سُرمہ لے لو تاکہ تُم بینائی پاؤ۔ (مُکاشفہ 3:17-18)
خداوند نے زورآوروں کو شرمندہ کرنے کے لیے کمزوروں کو چن لیا
اَے بھائیو اَور بہنوں! غور کرو کہ جَب تُم بُلائے گیٔے تھے۔ تَب تُم کیا تھے۔ تُم میں سے بہت سے نہ تو جِسمانی لِحاظ سے دانِشور؛ بارسوخ تھے؛ اَور نہ ہی نیک۔ لیکن خُدا نے اُنہیں، جو دُنیا کی نظروں میں احمق ہیں، چُن لیا تاکہ عالِموں کو شرمندہ کرے اَور اُنہیں جو دُنیا کی نظر میں کمزور ہیں، چُن لیا تاکہ زور آوروں کو شرمندہ کرے۔ (1 کُرِنتھِیوں 1:26-27)
خداوند نے سب لوگوں کو بنایا
اَمیر اَور غریب دونوں ایک سے ہیں؛ کیونکہ یَاہوِہ ہی اُن سَب کے خالق ہیں۔ (امثال 22:2)
مسکین اَور ظالِم ایک دُوسرے سے اِس بات میں ملتے ہیں: کہ دونوں کی آنکھوں کو بینائی یَاہوِہ ہی دیتاہے۔ (امثال 29:13)
غریبوں کے بارے میں انسان کا نقطۂ نظر
دانشمند کو احمق پر کیا فضیلت ہے؟ اَور غریب کو یہ جاننے سے کیا حاصل کہ زندوں کے سامنے وہ کیسا طرزِ عَمل اِختیار کرے؟ (واعظ 6:8)
غریبوں کے مسائل اور فوائد
غریبوں کے مسائل
غریبوں کے دوست کم ہوتے ہیں
کنگالوں سے اُن کے ہمسایے بھی نفرت کرتے ہیں، لیکن دولتمندوں کے عزیز بہت ہوتے ہیں۔ (امثال 14:20)
دولت بہت سے دوست لے آتی ہے، لیکن غریب کا دوست بھی اُس سے الگ ہو جاتا ہے۔ (امثال 19:4)
جَب ایک مُفلس سے اُس کے اَپنے بھایٔی ہی دُور رہنا پسند کرتے ہیں۔ تو اُس کے دوست تو اَور بھی زِیادہ اُس سے دُور بھاگیں گے! حالانکہ وہ مَنّت سماجت کرتے ہُوئے اُن کے پیچھے جاتا ہے، لیکن وہ اُسے کہیں نہیں ملتے۔ (امثال 19:7)
غریب ناانصافی سہتے ہیں
مُفلس کا کھیت کثرت سے اناج پیدا کر سَکتا ہے، لیکن بےاِنصافی اُسے غائب کردیتی ہے۔ (امثال 13:23)
غریب امیروں سے عاجزی سے بات کرتے ہیں
مُحتاج رحم کی بھیک مانگتاہے، لیکن دولتمند سخت جَواب دیتاہے۔ (امثال 18:23)
غریب امیروں کی خدمت کرتے ہیں
اَمیر، غریب پر حُکومت کرتا ہے، اَور اُدھار لینے والا، اُدھار دینے والے کا خادِم بَن جاتا ہے۔ (امثال 22:7)
غریبوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے
کسی زمانہ میں ایک چھوٹا سا شہر تھا جِس میں تھوڑے سے لوگ تھے جِس پر ایک طاقتور بادشاہ نے چڑھائی کرکے اُسے گھیرے میں لے لیا اَور اُس کے مقابل بڑے بڑے دمدمے باندھے۔ وہاں اُس شہر میں ایک آدمی رہتا تھا جو تھا تو غریب مگر عقلمند تھا، جِس نے اَپنی حِکمت سے اُس شہر کو بچا لیا۔ لیکن کسی نے بھی اُس غریب آدمی کو یاد نہ رکھا۔ تَب مَیں نے کہا، ”حِکمت زور سے بہتر ہے۔“ لیکن غریب کی حِکمت کی تحقیر ہوتی ہے اَور اُس کی باتوں کو کویٔی نہیں سُنتا۔ (واعظ 9:14-16)
غربت
اَمیروں کی دولت اُن کا محکم شہر ہے، لیکن غریبی مُفلس کی بربادی ہے۔ (امثال 10:15)
غریب نہ ہونے کی دعا
”اَے یَاہوِہ! مَیں نے آپ سے دو چیزوں کی درخواست کی ہے؛ میرے مرنے سے پہلے، مُجھے اُن سے محروم نہ کریں: بطالت اَور دروغ گوئی کو مُجھ سے دُور رکھیں؛ مُجھے نہ مفلسی دیں اَور نہ دولت، بَلکہ مُجھے صِرف میری روز کی روٹی عطا فرمائیں۔ اَیسا نہ ہو کہ میں سیر ہوکر آپ کا اِنکار کروں اَور کہُوں، ’کون ہیں یَاہوِہ؟‘ یا مُفلس ہوکر چوری کروں، اَور اِس طرح اَپنے خُدا کے نام کی بےحُرمتی کروں۔ (امثال 30:7-9)
غریبوں کے لیے فوائد
غریبوں کو مبارک کہا گیا ہے
یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں پر نظر ڈالی، اَور فرمایا: ”مُبارک ہیں وہ جو دِل کے حلیم ہیں، کیونکہ خُدا کی بادشاہی تمہاری ہے۔ (لُوقا 6:20)
”مگر افسوس تُم پرجو دولتمند ہو، کیونکہ تُم اَپنی تسلّی پا چُکے ہو۔ (لُوقا 6:24)
غریب ایمان میں دولتمند ہیں
اَے میرے پیارے بھائیوں اَور بہنوں، سُنو! کیا خُدا نے دُنیا کی نظر میں جو غریب ہیں اُنہیں نہیں چُنا تاکہ وہ ایمان میں دولتمند اَور اُس بادشاہی کے وارِث ہو جایٔیں جِس کا اُس نے اَپنے مَحَبّت رکھنے والوں سے وعدہ کیا ہے؟ (یعقوب 2:5)
غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے
خُود مُختار یَاہوِہ قادر کا رُوح مُجھ پر ہے، کیونکہ وہ مُجھے مَسح کیا ہے تاکہ میں حلیموں غریبوں کو خُوشخبری سُناؤں۔ وہ مُجھے بھیجا ہے تاکہ میں شکستہ دِلوں کو تسلّی دُوں، میں قَیدیوں کے لیٔے رِہائی اَور اسیروں کو تاریکی سے آزادی بخشوں، (یَشعیاہ 61:1)
یُوحنّا نے، قَیدخانہ میں، المسیح کے کاموں کے بارے میں سُنا تو، اُنہُوں نے اَپنے شاگردوں کو تحقیقات کرنے بھیجا، ”کیا آنے والے المسیح آپ ہی ہیں، یا ہم کسی اَور کی راہ دیکھیں؟“ یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”جو کُچھ تُم دیکھتے اَور سُنتے ہو، جا کر یُوحنّا سے بَیان کر دو: کہ اَندھے دیکھتے ہیں، لنگڑے چلتے ہیں، اَور کوڑھی پاک صَاف کیٔے جاتے ہیں، بہرے سُنتے ہیں، مُردے زندہ کیٔے جاتے ہیں اَور غریبوں کو خُوشخبری سُنایٔی جاتی ہے۔ (متّی 11:2-5)
”خُداوؔند کا رُوح مُجھ پر ہے، اُس نے مُجھے مَسح کیا ہے تاکہ میں غریبوں کو خُوشخبری سُناؤں۔ اُس نے مُجھے بھیجا ہے تاکہ میں قَیدیوں کے لیٔے رِہائی اَور اَندھوں کو بینائی کی خبر دُوں، کُچلے ہوؤں کو آزادی بخشوں۔ (لُوقا 4:18)
اَور تَب حضرت یُوحنّا کے شاگردوں سے کہا: ”جو کُچھ تُم نے دیکھا اَور سُنا ہے جا کر حضرت یُوحنّا کو بتاؤ: اَندھے پھر سے دیکھنے لگتے ہیں، لنگڑے چلنے لگتے ہیں، کوڑھی پاک صَاف کیٔے جاتے ہیں، بہرے سُننے لگتے ہیں، مُردے زندہ کیٔے جاتے ہیں اَور غریبوں کو خُوشخبری سُنایٔی جاتی ہے۔ (لُوقا 7:22)
دولت کی خاطر غریبوں کو اغوا نہیں کیا جائے گا
اِنسان کی دولت اُس کی جان کا کفّارہ دے سکتی ہے، لیکن مُفلس کو کویٔی دھمکی سُنایٔی نہیں دیتی۔ (امثال 13:8)
خداوند کو جاننے والے غریب آسمان پر تسلی پائیں گے
”ایک بڑا اَمیر آدمی تھا جو اَرغوانی اَور نفیس قِسم کے سُوتی کپڑے اِستعمال کرتا تھا اَور ہر روز عیش و عشرت میں مگن رہتا تھا۔ ایک بھکاری آدمی جِس کا نام لعزؔر تھا، اُس کے پھاٹک پر پڑا رہتا تھا۔ اُس کا تمام جِسم پھوڑوں سے بھرا تھا۔ وہ چاہت رکھتا تھا کہ اَمیر آدمی کی میز سے گِرے ہویٔے ٹُکڑوں سے ہی اَپنا پیٹ بھر لے۔ اُس کی اَیسی حالت تھی کہ کُتّے بھی آکر اُس کے پھوڑے کو چاٹتے تھے۔ ”پھر اَیسا ہُوا کہ وقت کے مُطابق بھکاری آدمی مَر گیا اَور فرشتے اُسے اُٹھاکر حضرت اَبراہامؔ کے پاس میں پہُنچا دئیے وہ اَمیر آدمی بھی مَرا اَور دفنایا گیا۔ جَب، اُس نے عالمِ اَرواح میں عذاب میں مُبتلا ہوکر، اَپنی آنکھیں اُوپر اُٹھائیں تو دُور سے حضرت اَبراہامؔ کو دیکھا اَور یہ بھی کہ لعزؔر، اَبراہامؔ کے پاس میں ہے۔ اُس نے چِلّاکر کہا، ’اَے باپ اَبراہامؔ، مُجھ پر رحم کر اَور لعزؔر کو بھیج تاکہ وہ اَپنی اُنگلی کا سِرا پانی سے تر کرکے میری زبان کو ٹھنڈک پہُنچائے کیونکہ مَیں اِس آگ میں تڑپ رہا ہُوں۔‘ ”لیکن اَبراہامؔ نے کہا، ’بیٹا، یاد کر کہ تو اَپنی زندگی میں اَچھّی چیزیں حاصل کر چُکاہے اَور اِسی طرح لعزؔر بُری چیزیں، لیکن اَب وہ یہاں آرام سے ہے اَور تُم تڑپ رہے ہو۔ (لُوقا 16:19-25)
غریب خدا کے فرزند ہونے پر فخر کر سکتے ہیں
جو مُومِنین پست حالی میں ہیں اُنہیں اَپنے اعلیٰ مرتبہ پر فخر کرنا چاہئے۔ مگر دولتمند کو اَپنے ادنیٰ مرتبہ پر فخر کرنا چاہئے کیونکہ دولتمند جنگلی پھُول کی طرح مُرجھا کر ختم ہو جایٔےگا۔ (یعقوب 1:9-10)
اسرائیل کی بحالی کے وقت غریبوں کو فائدہ ہوگا
ایک بار پھر حلیم لوگ یَاہوِہ میں شادمان ہوں گے؛ اَور مُحتاج اِسرائیل کے قُدُّوس میں مسرُور ہوں گے۔ (یَشعیاہ 29:19)
غریب مگر دانا شخص امیر کو پرکھ لیتا ہے
دولتمند اَپنی نگاہ میں دانِشور ہے، لیکن صاحبِ فہم مسکین، اُسے مَعلُوم کر لیتا ہے۔ (امثال 28:11)
وہ چیزیں جن سے غربت بہتر ہے
ایک مُفلس آدمی جو سیدھی راہ چلتا ہے، اُس احمق سے بہتر ہے جو ہمیشہ جھُوٹ بولتا ہے۔ (امثال 19:1)
آدمی کو اِحسَان کی تمنّا رہتی ہے؛ مُفلس ہونا فریبی ہونے سے بہتر ہوتاہے۔ (امثال 19:22)
کجرو دولتمند سے راست رَو مُفلس بہتر ہے۔ (امثال 28:6)
غریبوں کی مثالیں
شاؤل کے خادِموں نے یہ تمام باتیں داویؔد کے پاس جا کر دہرائیں۔ لیکن داویؔد نے کہا، ”بادشاہ کا داماد بننے کو کیا تُم کویٔی چُھوٹی سِی بات سمجھتے ہو؟ میں تو محض ایک مسکین اَور غَیر معروف آدمی ہُوں۔“ (1 شموایلؔ 18:23)
لیکن مَیں تو مسکین اَور مُحتاج ہُوں؛ اَے خُدا میرے پاس جلد آئیں، آپ ہی میرے مددگار اَور میرے چھُڑانے والے ہیں؛ اَے یَاہوِہ، اَب دیر نہ کریں۔ (زبُور 70:5)
داویؔد کی دعا۔ اَے یَاہوِہ، میری دعا سُنیں اَور مُجھے جَواب دیں، کیونکہ مَیں مسکین اَور مُحتاج ہُوں۔ (زبُور 86:1)
اُس کے تمام باشِندے روٹی کی تلاش میں کراہتے ہیں؛ اَور اَپنی جان بچانے کے لیٔے اَپنی قیمتی چیزیں روٹی کے عوض دے ڈالتے ہیں۔ ”دیکھو اَے یَاہوِہ، مُجھ پر نظر کریں، کیونکہ مَیں ذِلّت کا شِکار ہُوں۔“ (نوحہ 1:11)
جَب حضرت مَوشہ کی شَریعت کے مُطابق اُن کے پاک ہونے کے دِن پُورے ہو گئے تو یُوسیفؔ اَور مریمؔ اُسے یروشلیمؔ لے گیٔے تاکہ اُسے خُداوؔند کو پیش کریں (جَیسا کہ خُداوؔند کی شَریعت میں لِکھّا ہُواہے، ”ہر پہلوٹھا خُداوؔند کے لیٔے مُقدّس ٹھہرے گا“)، اَور خُداوؔند کی شَریعت کے مُطابق، ”قُمرِیوں کا ایک جوڑا یا کبُوتر کے دو بچّے قُربانی کے لیٔے لائیں۔“ (لُوقا 2:22-24)
ہم اِس وقت تک بھُوکے پیاسے ہیں، چیتھڑے پہنتے ہیں، مُکّے کھاتے اَور مارے مارے پھرتے، ہم بے گھر ہیں۔ ہم اَپنے ہاتھوں سے سخت محنت کرتے ہیں۔ لوگ ہمیں بُرا کہتے ہیں اَور ہم اُنہیں برکت دیتے ہیں۔ جَب ہم ستائے جاتے ہیں تو صبر سے کام لیتے ہیں۔ (1 کُرِنتھِیوں 4:11-12)
بَلکہ ہر بات سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم خُدا کے خادِم ہیں: ہم نے بڑے صبر سے مُصیبت؛ اِحتیاج اَور تنگی کا سامنا کیا؛ کوڑے کھائے، قَید ہویٔے، ہنگاموں سے دوچار ہویٔے، مشقّت کی، اَپنی نیند حرام کی، بھُوکے رہے؛ غمگینوں کی مانِند ہیں، مگر ہمیشہ خُوش رہتے ہیں؛ کنگال دِکھائی دیتے ہیں مگر بہتیروں کو دولتمند بنا دیتے ہیں؛ ناداروں کی مانِند ہیں مگر سَب کچھ رکھتے ہیں۔ (2 کُرِنتھِیوں 6:4-5, 10)
مَیں نے محنت کی ہے، مشقّت سے کام لیا ہے، اکثر نیند کے بغیر رہا ہُوں؛ مَیں نے بھُوک پیاس برداشت کرکے اکثر فاقہ کیا؛ مَیں نے سردی میں بغیر کپڑوں کے گزارا کیا ہے۔ (2 کُرِنتھِیوں 11:27)
میں یہ اِس لئے نہیں کہہ رہا ہُوں کہ مُحتاج ہُوں، کیونکہ مَیں نے کسی بھی حالات میں راضی رہنا سیکھ لیا ہے۔ مَیں نے ناداری اَور فراوانی کے دِن بھی دیکھے ہیں، چاہے فاقہ کشی ہو یا آسودگی اَور کثرت ہو یا قِلّت ہر حالت میں مطمئن رہنا سیکھ لیا ہے۔ جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس کی مدد سے میں سَب کچھ کر سَکتا ہُوں۔ تو بھی تُم نے اَچھّا کیا کہ میری مُصیبت میں شریک ہویٔے۔ (فِلپّیوں 4:11-14)
کلیسیا میں غریب/امیر
پہلی بات تو یہ ہے کہ جَب تمہاری جماعت جمع ہوتی ہے تو مَیں نے سُنا ہے کہ تمہارے درمیان تِفرقے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ میں اِس بات کو کسی حَد تک قابل یقین سمجھتا ہُوں۔ تُم لوگوں میں بِدعتوں کا پایا جانا لازمی ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ تمہاری جماعت میں کون سے لوگ راہ راست پر ہیں۔ کیونکہ جَب تُم جمع ہوتے ہو تو تمہارا کھانا عِشائے خُداوندی نہیں ہو سَکتا۔ اِس لیٔے کہ ہر ایک دُوسروں سے پہلے ہی اَپنا کھانا کھا لیتا ہے۔ کویٔی تو بھُوکا رہ جاتا ہے اَور کسی کو نشہ بھی ہو جاتا ہے۔ کیا کھانے اَور پینے کے لیٔے تمہارے گھر مَوجُود نہیں؟ یا پھر خُدا کی جماعت کی تمہارے نزدیک کویٔی اہمیّت نہیں اَور جِن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا اُنہیں شرمندہ کرتے ہو؟ میں کہُوں بھی تو کیا کہُوں؟ کیا تمہاری تعریف کروں؟ نہیں میں اِس مُعاملہ میں تو تمہاری تعریف نہیں کر سَکتا! (1 کُرِنتھِیوں 11:18-22)
غریبوں کو دینا
زمین کی واپسی
پچاسواں بَرس تمہارے لیٔے یوویلؔ کا سال ہو؛ اِس سال تُم نہ تو کچھ بیج بونا، اَور نہ اَپنے آپ پیدا ہوئی فصل کاٹنا اَور نہ بِنا چھٹی تاکوں کے انگور جمع کرنا۔ کیونکہ یہ یوویلؔ کا سال ہے۔ یہ تمہارے لیٔے مُقدّس ٹھہرایا گیا ہے۔ تُم صِرف کھیتوں کی خُودرَو پیداوار پر گُزارا کرنا۔ ” ’اِس یوویلؔ کے سال میں ہر ایک اَپنی اَپنی خاندانی مِلکیّت کو پھر سے لَوٹ جایٔے۔ (اَحبار 25:11-13)
غریبوں کے غلام بننے سے متعلق قوانین
” ’اگر تمہارے درمیان تمہارا ایک اِسرائیلی ہم وطن مُفلس ہو جائے اَور خُود کو تمہارے ہاتھ میں بیچ دے تو اُس سے غُلام کی مانند خدمت نہ لینا۔ بَلکہ وہ تمہارے ساتھ ایک مزدُور یا مُسافر کی طرح تمہارے درمیان رہے۔ اَور وہ یوویلؔ کے سال تک تمہاری خدمت کرتا رہے۔ پھر سالِ یوویلؔ کے بعد اُسے اَور اُس کے بچّوں کے ساتھ آزاد کردینا تاکہ وہ اَپنی برادری کے پاس اَور اَپنے آباؤاَجداد کی مِلکیّت کی جگہ واپس چلا جائے۔ کیونکہ بنی اِسرائیل میرے خادِم ہیں جنہیں میں مِصر سے نکال کر لایاتھا، لہٰذا اُن کو بطور غُلام ہرگز نہ بیچا جائے۔ اَور تُم اُن پر سختی سے حُکمرانی نہ کرنا بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرتے رہنا۔ ” ’تمہارے غُلام اَور تمہاری لونڈیاں اُن قوموں میں سے ہُوں جو تمہارے چَوگرد رہتی ہیں؛ اُن ہی میں سے تُم غُلام اَور لونڈی خریدا کرنا۔ اِن کے سِوا تمہارے درمیان عارضی مُسافر اَور اُن کی برادریوں کے اُن افراد میں سے بھی جو تمہارے مُلک میں پیدا ہویٔے ہیں اَور تمہارے ساتھ رہتے ہیں اُن میں سے کچھ کو خرید سکتے ہو اَور وہ تمہاری مِلکیّت ہو سکتے ہیں۔ اَور تُم اُنہیں مِیراث کے طور پر اَپنی اَولاد کے نام کر سکتے ہو؛ اَور یُوں اُنہیں عمر بھرکے لیٔے غُلام بنا سکتے ہو لیکن تُم اَپنے اِسرائیلی ہم وطنوں پر سختی سے حُکمرانی نہ کرنا۔ ” ’اَور اگر تمہارے درمیان کویٔی پردیسی یا عارضی باشِندہ دولتمند ہو جائے اَور تمہارا کویٔی اِسرائیلی بھایٔی مُفلس اَور خُود کو اُس پردیسی یا عارضی باشِندے یا اُس پردیسی کی برادری والوں کے ہاتھ بیچ دے، تو بیچے جانے کے بعد بھی وہ چھُڑایا جا سَکتا ہے اَور اُس کے رشتہ داروں میں سے کویٔی اُسے چھُڑا سَکتا ہے، اُس کا چچا یا چچیرا بھایٔی یا اُس کے گھرانے کا کویٔی قریبی برادری والا اُسے چھُڑا سَکتا ہے یا اگر وہ خُود مالدار ہو جائے تو وہ اَپنے آپ کو چھُڑا سَکتا ہے۔ وہ اَپنے خریدار کے ساتھ اَپنے کو فروخت کر دینے کے سال سے لے کر سالِ یوویلؔ تک کی مُدّت کا شُمار کرے؛ اُس کی رِہائی کی قیمت اُن سالوں کے لیٔے کسی مزدُور کو اَدا کی گئی مزدُوری کی شرح کے حِساب سے طے ہو۔ اگر سالِ یوویلؔ تک ابھی بہت سال باقی ہُوں تو اَپنے چھُڑائے جانے کے لیٔے قیمت کا ایک بڑا حِصّہ اَدا کرنا ہوگا۔ اَور اگر سالِ یوویلؔ کے آنے میں تھوڑے سال ہی باقی رہ گیٔے ہُوں تو وہ اَپنے مالک کے ساتھ اِن کی گِنتی کرے اَور اُن سالوں کے مُطابق اَپنے چھُڑانے کی قیمت اُسے لَوٹا دے۔ اَور وہ اَپنے مالک کے ساتھ کسی مزدُور کی طرح رہے جِس کی اُجرت سال بسال ٹھہرائی جاتی ہو، اَور تُم اِس بات کا ضروُر خیال رکھنا کہ اُس کا مالک اُس پر سختی سے حُکمرانی نہ کرے۔ ” ’اَور اگر وہ اِن طریقوں میں سے کسی طریقہ سے چھُڑایا نہیں گیا، تو بھی وہ اَور اُس کے بچّے سالِ یوویلؔ میں آزاد کر دئیے جایٔیں گے۔ (اَحبار 25:39-54)
قوانین کی نافرمانی کا نتیجہ عدالت تھی
”یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا کا یہ فرمان ہے: جِس وقت میں تمہارے آباؤاَجداد کو غُلامی کے مُلک یعنی مِصر سے باہر نکال لایاتھا، اُس وقت مَیں نے اُن سے یہ کہہ کر ایک عہد باندھا تھا، ہر ساتویں سال تُمہیں لازمی ہے کہ اَپنے عِبرانی بھایٔی بہن کو جِس نے اَپنے آپ کو تُمہیں بیچ دیا ہو آزاد کردینا۔ جَب وہ مسلسل چھ سال تک تمہاری خدمت کر چُکے تو اُسے لازمی طور پر آزاد کردینا۔ لیکن تمہارے آباؤاَجداد نے نہ تو میری سُنی اَور نہ میرے حُکموں کو مانا۔ حال ہی میں تُم نے تَوبہ کی اَور وُہی کام کیا جو میری نگاہ میں صحیح ہے۔ تُم میں سے ہر ایک نے اَپنے ہم وطنوں کے لیٔے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اَور تُم نے میرے حُضُور میں اُس گھر میں جو میرا کہلاتا ہے عہد بھی باندھا تھا۔ لیکن اَب تُم نے برگشتہ ہوکر میرے نام کی بےحُرمتی کی۔ اَور ہر ایک نے اَپنے اُن غُلاموں اَور لونڈیوں کو جنہیں تُم نے آزاد کر دیا تھا تاکہ وہ جہاں چاہیں وہاں چلے جایٔیں، لیکن تُم نے اُنہیں پھر سے اَپنا غُلام بننے پر مجبُور کیا ہے۔ ”لہٰذا یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، تُم نے میرا حُکم نہ مانا؛ تُم نے اَپنے ہم وطنوں کے لیٔے آزادی کا اعلان نہیں کیا۔ اِس لیٔے یَاہوِہ فرماتے ہیں، سُنو، مَیں تمہاری آزادی کا اعلان کرتا ہُوں، مَیں تُمہیں تلوار، وَبا اَور قحط کے حوالے ہونے کی آزادی دے رہا ہوں۔ میں تُمہیں دُنیا کی تمام سلطنتوں کی نظر میں نفرت اَنگیز بنا دُوں گا۔ (یرمیاہؔ 34:13-17)
متفرق
وہ چیزیں جو انسان کو غریب بناتی ہیں
تربّیت کو نظرانداز کرنے والا مفلسی اَور شرمندگی سے دوچار ہوتاہے، لیکن جو اِصلاح کو مانتا ہے اُس کا اِحترام کیا جاتا ہے۔ (امثال 13:18)
نیند کا عزیز نہ ہو ورنہ تُم مُفلس ہو جاؤگے؛ اَپنی آنکھیں کھُلی رکھو، اَور تمہارے پاس ضروُرت سے زائد خُوراک ہوگی۔ (امثال 20:13)
عیش و عشرت کو پسند کرنے والا مُفلس بَن جائے گا؛ اَور مَے اَور روغن کا شوقین دولتمند نہ ہوگا۔ (امثال 21:17)
شرابیوں اَور کبابیوں کی صحبت سے دُور رہنا، کیونکہ متوالوں اَور پیٹو مُفلس ہو جایٔیں گے، اَور نیند اُنہیں چیتھڑے پہنائے گی۔ (امثال 23:20-21)
اگر لوگ پوری طرح فرمانبرداری کرتے تو ملک میں کوئی غریب نہ ہوتا
مگر تمہارے درمیان کویٔی کنگال نہ رہے کیونکہ جِس مُلک کو یَاہوِہ تمہارے خُدا مِیراث کے طور پر تمہارے قبضہ میں دے رہے ہیں اُس میں وہ تُمہیں بہت برکت بخشیں گے، بشرطیکہ تُم پُورے طور سے یَاہوِہ اَپنے خُدا کی بات مان کر اُن تمام اَحکام پرجو میں آج تُمہیں دے رہا ہُوں نہایت احتیاط کے ساتھ عَمل کرو۔ (اِستِثنا 15:4-5)
شکست خوردہ ملک میں صرف غریب ہی باقی رہ گئے
اَور نبوکدنضرؔ نے اَپنے ساتھ پُورے یروشلیمؔ کو یعنی تمام سرداروں اَور جنگجو مَردوں، تمام دستکاروں اَور کاریگروں کو جِن کا شُمار مِلا کر دس ہزار تھا اُنہیں اسیر کرکے لے گیا۔ چنانچہ مُلک میں صرف کنگالوں کے سِوا اَور کویٔی باقی نہ رہا۔ (2 سلاطین 24:14)
مگر شَہنشاہی مُحافظ دستے کے سپہ سالار نے مُلک کے کنگالوں کو تاکستان اَور کھیتوں میں کام کرنے کے لیٔے وہیں چھوڑ دیا۔ (2 سلاطین 25:12)
لیکن شاہی پہرےداروں کے سردار نبوزرادانؔ نے یہُودیؔہ کے مُلک میں چند غریب لوگوں کو جِن کے پاس کچھ بھی نہ تھا اُنہیں مُلک میں رہنے دیا اَور اُس نے اُنہیں انگوری باغ اَور کھیت سُپرد کئے۔ (یرمیاہؔ 39:10)
جَب تمام لشکر کے افسروں اَور اُن کے فَوجیوں نے جو اَب تک دیہاتوں میں تھے یہ سُنا کہ شاہِ بابیل نے گِدلیاہؔ بِن احیقامؔ کو مُلک کا حاکم مُقرّر کیا ہے اَور مُلک کے غریب مَردوں، عورتوں اَور بچّوں کو، جنہیں جَلاوطن کرکے بابیل نہیں لے جایا گیا تھا اُسے سُپرد کر دیا ہے، (یرمیاہؔ 40:7)
تَب شاہی پہرےداروں کا سردار، نبوزرادانؔ، نے قوم میں سے چند مُحتاجوں کو اَور شہر میں بچے ہُوئے لوگوں کو، دستکاروں اَور اُن لوگوں کو جنہوں نے خُود کو شاہِ بابیل کے تابع ہو گئے تھے، اُنہیں اَپنے ساتھ جَلاوطن کرکے لے گیا۔ (یرمیاہؔ 52:15)